تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادبفکشن

فکشن اور تاریخ کا سچ ——- محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 11/10/2019
written by محمد حمید شاہد 11/10/2019
118

وہ سر والٹر سکاٹ ’کا ناول ’دی طلسمان“ تھا، جسے پڑھ کر عبدالحلیم شرر کے تن من میں آگ لگ گئی تھی، اُن کی مذہبی غیرت نے جوش مارا اور ایسے ناول لکھنے کی ٹھان لی جن میں اسلام کی تاریخ کا بول بالا ہو اور کافروں کے خوب لتے لیے جائیں کہتے ہیں۔ بس اسی نیک جذبے سے اردو میں تاریخی ناول نگاری کی بنیاد پڑی۔ شرر صاحب کو طیش میں لانے والےوالٹر سکاٹ صاحب کا ناول 1825میں چھپا تھا اور یہ ”دی سٹوری آف کروسیڈرز“ کے سلسلے کا دوسرا ناول تھا۔ ابھی اس سلسلے کا پہلا ناول ”ریڈگونٹلیٹ“ تکمیل کو نہ پہنچا تھا کہ ان صاحب کوسوجھ گیا تھا یہ سلسلہ یہاں رکنے والا نہیں آگے بھی چلے گا۔ تاریخ چیز ہی ایسی ہے کہ اس کی لسی میں جتنا پانی ڈالتے جائیں اتنا ہی بڑھتی جاتی ہے۔ طلسمان کا زمانہ تیسری صلیبی جنگ کے اختتام والا تھا اور اس کا محل وقوع فلسطین میں صلیبی کیمپ تھے۔ عبد الحلیم شرر کو طیش یوں آیا تھا کہ اس ناول میں مسلمانوں کے صلاح الدین ایوبی کے کردار کوخوب بگاڑکر پیش کیا گیا تھا۔ ایسے میں عبدالحلیم شرر کے قلم سے جو ناول نکلا وہی اردو کا پہلا تاریخی ناول کہلایا۔ جی، وہ ناول ہے”ملک العزیز ورجنا“۔ یہ 1888 میں چھپا تھا اور اس کا موضوع بھی صلاح الدین ایوبی اور رچرڈ اول ہوئے تھے۔ اسکاٹ نے اپنے ناول طلسمان میں بتایا تھا کہ صلاح الدین ایوبی، ایک کافر حسینہ جوڈتھ کا عاشق ہوگیا تھا جو رچرڈ اول کی ایک لحاظ سے بہن لگتی تھی جب کہ عبدالحلیم شرر نے اپنے تئیں تاریخ درست کرتے ہوئے اپنے ناول میں رچرڈ اول کی بھتیجی کا عشق صلاح الدین ایوبی کے بیٹے ملک العزیز سے کروا دیا۔ صرف عشق نہیں، شادی بھی کہ تاریخی ناول میں چٹ پٹا مصالحہ ڈالنے کے لیے سکاٹ صاحب ہوں یا شر ر صاحب دونوں کو ایسے واقعات چاہئیں تھے، سو گھڑ لیے گئے۔ وہاں سے ایم اسلم اور نسیم حجازی تک چلے آئیں، آپ دیکھیں گے کہ اردو کی تاریخی فکشن نگاری کا یہی چلن رہا ہے۔

عبدالحلیم شرر سے نسیم حجازی تک کایہ قصہ میں یوں لے بیٹھا ہوں کہ اسلام آباد لٹریچر فیسٹول کی انتظامیہ نے اس بار ہمارے لیے ”تاریخی فکشن نگاری“ کا موضوع چنا تھا تاہم جب مکمل موضوع پڑھا تو میں الجھن میں پڑ گیا تھا۔ کیوں؟ اس کی وضاحت کے لیے مجھے لگتا ہے محض مکمل موضوع لکھ دینا ہی کافی ہوگا۔ ایک نظر اس پر ڈال لیجئے: ”اردو میں تاریخی فکشن نگاری:قرۃالعین، عبد اللہ حسین اور انتظار حسین“۔

میری الجھن یہ تھی کہ جن تین فکشن نگاروں کے نام موضوع کے آخر میں ٹانک کر موضوع کی تحدید کی گئی تھی وہ تاریخی فکشن نہیں لکھتے تھے۔ میں نے بار بار موضوع کو دیکھا تینوں کے افسانوں اور ناولوں کو دھیان میں لایا یہاں کام کرنے والا تاریخی شعور تو نظر آتا تھا مگر ان کی تخلیقات پر تاریخی فکشن کا ٹیگ لگادوں اس پر دل نہ ٹھکتا تھا۔ خیر، ڈاکٹر نجیبہ عارف کی نقابت میں مکالمہ شروع ہوا بات تاریخ اور فکشن کے اپنے اپنے لوازم اور امتیازات سے چلی، عارفہ سیدہ زہرہ، ناصر عباس نیر، عرفان احمد عرفی اور میں نے اپنی اپنی باری پر اپنا اپنا حصہ ڈالا اور لگ بھگ سب اس پر متفق نظر آئے کہ بہ ظاہر دونوں کا تعلق واقعات سے ہے مگر دونوں کا بیانیہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ عارفہ سیدہ زہرہ نے جب یہ کہا کہ تاریخ میں سال، مہینے، تاریخیں، مقامات اور افراد کے نام سچ ہوتے ہیں باقی سب جھوٹ ہوتا ہے جب کہ فکشن میں تاریخ مقام اور نام کے سوا سب سچ ہوتا ہے تو مجھے اورحان پامک کی ایک صفحے کی وہ کہانی یاد آگئی تھی جو ہمارے دوست آصف فرخی نے ترجمہ کرکے اپنی کتاب ”ناول کا نیا فن“ کا حصہ بنائی تھی۔ میں نے وہ کہانی وہیں اپنے لفظوں میں سنادی۔ جی، سولہویں صدی کے استنبول کی کہانی۔ اس کہانی میں بتایا گیا تھا کہ فاخر شاہ نے فتح پاکر صلاح الدین خاں کو مارڈالنے کے بعد پہلاکام یہ کیا تھا کہ کتب خانے میں پہنچ کر نئی تاریخ لکھوائے۔ جلدیں اکھڑوائی گئیں جہاں جہاں پہلے بادشاہ کا نام تھا وہ اوراق اس کے نام سے لکھوائے گئے اور پھر سے کتابوں کی جلد بندی ہوئی۔ اب مقتول شاہ کے سارے کارنامے فاتح فاخرشاہ کے ہو گئے تھے۔اس زمانے میں مصور کتابوں کا رواج تھا، اور یہیں سے اس کہانی میں موڑ آتا ہے۔ ایک کتاب میں شاہی حرم کی سب سے خوب صورت عورت نریمن مقتول شاہ کے ساتھ موجود تھی۔ فاخر شاہ اس تصویر کو وہاں سے نکلوانا چاہتا تھا اور اس حسینہ کا دل بھی ہتھیانا چاہتا تھا مگرنریمن بہ ضد تھی کہ اس کا دل درکار ہے تو تصویر، محض ایک تصویر سلامت وہیں رہنے دی جائے۔ فاخر شاہ نے سوچا سودا مہنگا نہیں۔ اس کے بدلے میں نریمن کا وصل کثیر پایا مگر رات سونے لگا تو بار بار وہی تصویر آنکھوں کے سامنے آتی تھی۔ چپکے سے اٹھا، چوروں کی طرح کتب خانے میں گھسا، اور رنگ برش اٹھائے، کتاب میں سے مقتول شاہ اور نریمن کی تصویر والا صفحہ نکالا اورچوں کہ وہ اُس عہد کے ہر بادشاہ کی طرح اتائی مصور بھی تھا لہٰذا صلاح الدین خاں کے چہرے پر اپنا چہرہ بنا ڈالا۔ صبح یہ راز کھلا کہ وہ چہرہ فاخر شاہ کا اپنا نہیں اس کے جانی دشمن عبداللہ شاہ کا بن گیا تھا جو کتب خانے میں داخل ہو کر پھر تاریخ کی جلدیں اکھڑوا رہا تھا۔

یہ کہانی سنا کر میں نے اضافہ کیا کہ میری نظر میں تاریخ کی حقیقت اس سے بہتر بیان نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہی تاریخ کا سچ ہے جابروں کا لکھوایا ہوا۔ پہلے فاتحین اور حکمران تاریخ لکھوایا کرتے تھے جب کہ اب جوکچھ تاریخ کے اوراق کے لیے مواد تیار ہو رہا ہے وہ جابراور جارح قوتوں کےتشکیل اور رواج دیئے گئے خاص بیانیے کے زیر اثر مرتب ہورہا ہے۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ اس نئے زمانے میں دانشوروں کی دانش چوری ہو گئی ہے اور المیہ یہ ہے کہ انہیں اس کی خبر ہی نہیں، سچ ہی تو کہا ہے۔ نئے بیانے کی ترتیب کی فضا بندی کے لیے ایک خاص رُخ پر ہنکایا ہوا میڈیا موجود ہے۔ میرا کہنا تھا کہ اس جھوٹ کی دھول میں گم ہو جانا فکشن کا وتیرانہیں ہے کہ فکشن تو حالات چاہے جیسے بھی ہوں انسانی وجود کی سچائیوں سے جڑ کر تاریخ کے اس مکر کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

ناصر عباس نیر کے نزدیک بائنریز میں سوچنے پر ہمیں ہمارا کلچر مجبور کرتا ہے۔ تاریخ اور فکشن کے حوالے سے سچ اور جھوٹ کی بحث بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ اس سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ دو انتہاوں پر سوچتے ہوئے ہم ایک کو کمتر اور دوسری کو برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ تاریخ کو اسی سوچ کے تحت سچ اور فکشن کو جھوٹ سمجھا گیا حالاں کہ فکشن جھوٹ نہیں ہے۔فکشن کا ایک مطلب گھڑی ہوئی کہانی ہے، درست مگر گھڑی ہوئی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ جھوٹی بھی ہے۔ تاریخ اور فکشن کا فرق سچ جھوٹ کا نہیں دائرہ کار کا ہے۔ تاریخ ماضی تک محدود رہتی ہے، ہو چکے واقعات کو رپورٹ کرتی ہے جب کہ فکشن اس تاریخ کو پرکھ سکتا ہے اور متبادل حقیقت یا چھوٹ جانے والی حقیقتوں کا کھوج لگاتاہے اور اسے عصر حاضر سے جوڑ کر دیکھنے کی راہ سجھاتاہے۔ اس میں تاریخ کے مقابلے میں امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ناصر عباس نیر نے بھی مکالمے کے عنوان کو مس لیڈنگ قرار دیا اور پہلے ہو چکی گفتگو کی تائید میں کہا کہ یہ تینوں فکشن نگار جن پر یہاں مکالمہ ہونا تاریخی فکشن نگار نہیں ہیں۔ان کے فکشن میں تاریخ ضرور موجود ہے مگر وہ بھی مختلف ہے۔ عبداللہ حسین کے ہاں سیاسی تاریخ ہے جب کہ قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین کے ہاں تہذیبی تاریخ ہے اور ان دونوں کا تہذیبی تصور بھی الگ ہے۔ انتظار حسین کے ہاں تہذیب کا تصور قرۃ العین حیدر کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے۔

گفتگو کا دوسرا دور انہی تین فکشن نگاروں کے حوالے سے تھا جس کو ناصر عباس نیر آغاز دے چکے تھے۔ عرفان عرفی کا کہنا تھا کہ لکھنے والا اپنے عہد کی نمائندگی کرتا ہے جو کچھ ہو چکا ہوتا ہے یا ہو رہا ہوتا ہے وہ اس کی نظر میں ہوتا ہے۔ فکشن لکھنے والے شعوری طور پر تاریخ نہیں لکھ رہے ہوتے مگر اس سے کترا کر گزر بھی نہیں سکتے۔ تاریخ کا فکشن میں درآنا ناگزیر ہوتا ہے تاہم ان تینوں کوتاریخی فکشن نگار نہیں کہا جاسکتا۔ عارفہ سید زہرا نے اضافہ کیا کہ جب ہم خود کو بہت چھوٹا اور مجبور پاتے ہیں تو ماضی میں دیکھنے لگتے ہیں اور وہاں سے ہیروز تلاش کر لاتے ہیں۔ نسیم حجازی جیسے تاریخی ناول نگاروں نے یہی کام کیا۔ فکشن میں تاریخ کو عمل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان تینوں فکشن نگاروں نے تقسیم کی تاریخ بھی لکھی ہے ایسی تاریخ جسے پڑھ کر رگوں میں خون جمنے لگتا ہے۔

انتظار حسین پر بات چلی تو تقسیم، ہجرت، انسانی صورت حال اور انسانی وجود پر اس کے اثرات کو جس طرح انہوں نے دیکھا، محسوس کیا اورکہانی میں بیان کر دیا اس کے باب میں کہا گیا کہ یہ سب کچھ تاریخ نویسی کے محدود دائرہ کار میں نہیں تھا۔ تاریخ نویسی کی اپنی محدودات ہیں۔ بات تاریخ سے فکشن پر آئی تو لطف دینے لگی تھی اور میں ”چاند گہن“ کے ایک ایک کردار کی بابت سوچ رہاتھا۔ بوجی، ان کا بیٹا سبطین، کالے خان، فیاض نمبردار۔ یہ سب حسن پور، یوپی کے باسی تھے اور تقسیم کے عمل میں ہندو مسلم فساد کی وجہ سے وہاں سے اکھڑگئے تھے۔ وضع داریوں کا ختم ہونا، پہلے دلی پھر لاہور ہجرت اور یہاں کی آپا دھاپی اور لوٹ مار یا زندگی کی بے معنویت اور گٹھن، یہ سب تاریخ ہو کر بھی تاریخ سے بڑی حقیقت ہو جاتی ہے کہ فکشن کا بنیادی کام انسانی وجود میں ہونے والی اتھل پتھل بھی ہے۔ ایسے میں عبداللہ حسین کے ناول ”اداس نسلیں“ کے نعیم اور عذرا کےعلاوہ علی اور عائشہ کے کردار بھی یاد آئے جو سارا سیاسی اور تاریخی عمل سجھارہے تھے۔ اور ”باگھ“ کے کردار بھی، کہ اس ناول میں پاک بھارت جنگ کا تناظرموجود ہے۔ اسد اور حکیم کی بیٹی یاسمین کی محبت کی کہانی میں کشمیر میں مجاہدین کی مدد کا قضیہ پھر ریاستی جبر اور اس میں ایک ایسے باگھ کا آجانا جو انسانوں کو ڈراتا ہے نظر نہیں آتا۔

عرفان عرفی نے کہا کہ تاریخ لکھنے والا سب کچھ جاننے کا دعویٰ رکھنے کے بعد لکھتا ہے جب کہ فکشن نگار کے سامنے کچھ سوال ہوتے ہیں وہ ان کے جواب کی تلاش میں تخلیقی عمل میں داخل ہوتا ہے یہی تلاش فکشن نگار کے سامنے امکانات کھول دیتی ہے۔ سلیم سہیل حاضرین میں سے مکالمے میں داخل ہوئے اوراضافہ کیا، یہی کہ تاریخ میں جھوٹ کا امکان ہو سکتا فکشن میں نہیں۔ ادب میں جھوٹ کا لفظ ہوتا ہی نہیں ہے۔ خیال کی دنیا حقیقت کی دنیا بہت بڑی ہے۔ حقیقت کی دنیا ایک ہے اور اس کی مجبوری یہ ہے کہ اس کے تعین قدر کے لیے کوئی اور دنیا نہیں ہے۔

اس مرحلے پر کشور ناہید جو سامنے بیٹھی سارا مکالمہ سن رہی تھیں، کہا، عبداللہ حسین، قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین پر جتنی بات ہونی چاہیے تھی، تاریخ کی اس بحث میں نہ ہو سکی۔ موضوع اگر نادرست تھا تو اسے ایک طرف رکھ دینا چاہیے تھا اور ہم اس متبادل تاریخ پر بات کرتے جسے یہ فکشن نگار مرتب کر رہے تھے تاہم نجیبہ عارف نے کہا کہ تاریخ اور فکشن کی یہ بحث اس لیے مفید رہی کہ ہم نے ان تینوں بڑے فکشن نگاروں کو تاریخ سے جڑ کر سمجھنا چاہا ہے اور یہ بھی کہ تاریخ سے کٹ کر فکشن کو درست طور پر سمجھا نہیں جاسکتا۔

جب ہم گفتگو ختم کر رہے تھے تو مجھے کسی کا کہا ہوا یہ جملہ یاد آرہا تھا کہ تاریخ ایسا فکشن ہے جسے ہم سچ سمجھ کر پڑھ رہے ہوتے ہیں اور فکشن ایسی تاریخ جو تاریخ کی کتابوں سے باہر ہوتاہے اور میں توہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہوں کہ تاریخ کی کتابوں سے باہر رہ کر اس کے رخنوں کو پاٹنے والا فکشن کا یہ سچ عام زندگی کے سچ سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔

Facebook Comments Box
اردو فکشناردو ناولعارفہ سیدہ زہرہعرفان عرفیفکشنمحمد حمید شاہدناصر عباس نیرنجیبہ عارف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
طلاق کی نئی وجہ: آزاد، خود مختار اور منفرد عورت ——— خرم شہزاد
next post
ناصر شیخ کا قاتل کون؟ —– فرحان کامرانی

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.