تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینشاعریعلم و ادب

افتخار عارف: ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ ——– محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 08/10/2019
written by محمد حمید شاہد 08/10/2019
129

ذرا تصور کیجئے ایک ایسے بچے کا جو ایک ہی وقت میں قسمت کے وہیل چکر کا کچلا ہوا بھی ہے اور اسی قسمت کے کندھوں کا سوار بھی۔ قیام پاکستان سے تین سال پہلے ایک ایسی ماں کی گود میں اُترتے والا بچہ جس کے بارے میں قرۃ العین حیدر نے ’’کار جہاں دراز ہے‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’وہ لکھنوی تہذیب کی شریں سخن نمائندہ تھی‘‘ اور ساتھ ہی اس تکلیف دہ حقیقت کا بھی گماں باندھیے کہ اس بچے کے والدین میں علیحدگی ہو جاتی ہے اور بچے کی تربیت نانا کے ہاں ہونے لگتی ہے۔ جی، وہ ناناجو سگے نہ تھے۔ یہی نانا اس بچے کے لیے وسیلہ خیر ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسا گھر جس میں بجلی نہ تھی، چراغ کی روشنی میں تب تک یہ بچہ کتابیں پڑھتا رہتا جب تک دیے میں تیل ہو تا۔ اور تیل بھی اتنا کہاں میسر ہوتا تھا کہ دیا ساری رات جل پاتا۔ شعلہ پھڑپھڑا کر بجھ جاتا، دیا سو جاتا مگروہ بچہ جاگتا رہتا تھا۔ کیسے سوتاکہ اس کو پڑھنے کی تاہنگ جگائے رکھتی تھی۔ وہ اندھیرے کا لحاف اوڑھے اوڑھے سبق دہراتا رہتا یہاں تک کہ نیند خود آگے بڑھ کر اسے اپنی گود میں لے لیتی تھی۔ والد کی شفقت سے محروم اس بچے کے بارے میں ممتاز مفتی نے لکھا تھا: ’’لکھنو کا لاوارث، مفلس، ٹوٹا ہوا بچہ جس میں چشمہ خریدنے کی توفیق نہ تھی، کتابیں خریدنے کی استطاعت نہ تھی۔‘‘ یہ بچہ جن حالات میں بڑا ہوتا ہے، جدید اردو شاعری کی توانا آواز بنتا ہے، ریڈیو ٹی وی سے ہوتا برطانیہ کے اردو مرکز مرکز پہنچتا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان، نیشنل بک فاونڈیشن، مقتدرہ قومی زبان جیسے اداروں کا سربراہ بنتا ہے۔ ایران میں ایکو کے ثقافتی شعبے کا نگران ہو کرپاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، پرائیڈ آف پرفارمنس ایک ایک کرکے سب ایوارڈ لے لیتا ہے۔ اس کی بھی عجب کہانی ہے۔ یقیناً آپ جان گئے ہوں گے کہ یہ عجب کہانی کسی اور کی نہیں افتخار عارف کی ہے۔ افتخار عارف کی کہانی کا ایک اور رُخ بھی ہے اور وہ یہ کہ جیسے جیسے انہیں عروج ملتا گیا، وہ اپنے دشمنوں میں ایک معقول تعداد کا اضافہ بھی کرتے گئے۔ اس سارے صورت حال کا انہیں بھی ادراک رہا اور شاید وہ اس ساری صورت حال سے لطف بھی لیتے رہے ہیں۔ تب ہی تو وہ کہہ رہے ہیں :

جس دن سے ہم بلند نشانوں میں آئے ہیں
ترکش کے سارے تیر کمانوں میں آئے ہیں

واقعہ یہ ہے کہ دوست ہو یا دشمن سب افتخار عارف کی قسمت پر رشک کرتے ہیں ان کی صلاحیتوں کو مانتے ہیں۔ جی وہ بھی جن کے ترکش کے سارے تیر انہیں دیکھتے ہی کمانوں میں آجاتے ہیں، وہ بھی۔ لطف یہ ہے کہ اس سارے عرصے میں کتاب سے، اور لفظ سے، زمین سے اور اپنے ایمان سے وہ جڑے رہتے ہیں۔ افتخار عارف کا کہنا ہے

ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد جو کچھ ہے وہ افسانہ ہے

کتاب، چراغ، امید کے اثاثے کی بات اور زندگی کا سارا افسانہ سننے کے لیے افتخار عارف کی عمر کے پچھتر سال مکمل ہونے پر آکسفورڈ پریس والوں نے اپنے اسلام آباد لٹریچر فیسٹول میں جس نشست کا اہتمام کیا، اس میں مجھے اُن سے مکالمہ کرنا تھا اور میری مدد کو جو موجود تھے وہ سب افتخار عارف کو محبوب رکھنے والے تھے؛اینا سووروا، ڈاکٹر وفا یزدان منش اور حارث خلیق۔ جب افتخار عارف لندن میں تھے۔ تب ان کی ۳۳ نظموں کے انگریزی تراجم پر مشتمل کتاب ’’بارہواں کھلاڑی‘‘ (The Twelfth Man) آئی تھی۔ اس کتاب میں اینا سووروا کا بھی ایک نوٹ شامل ہے۔ افتخار عارف کی نظموں کا یہ ترجمہ برونڈا واکر نے کیا تھا۔ جب کتاب آئی تب اینا سووروا اکیڈمی آف سائنس ماسکو کے انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل سٹڈیز میں پروفیسر تھیں۔ آج کل اینا وہاں ایشین لٹریچر کی ہیڈ ہیں۔ برصغیر ہند و پاک میں اردو ادب اور آرٹ کی روایت سے خوب آگاہ ہیں اور دنیا بھر کے مختلف فورمز پر اس موضوع پر گفتگو کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر بہت لکھا بھی ہے۔ مثنوی اورصوفیانہ روایت ان کے پسندید موضوعات ہیں جن پر ان کی کتب شائع ہو چکی ہیں منٹو، قرۃ العین حیدر سے افتخار عارف تک رشین لینگویج میں تراجم کیے اور حکومت پاکستان نے انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز دے رکھا ہے۔ افتخار عارف پر بات کرتے ہوئے لگ بھگ انہوں نے وہی باتیں دہرائیں جو وہ اپنے نوٹ میں بتا چکی تھیں اور میں سمجھتا ہوں یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جو افتخار عارف کی شاعری کا اسلوب ڈھالتی ہیں۔ یہی کہ افتخار عارف کی شاعری اکہری نہیں تہ دار ہے، اپنی تہذیبی روایت اور بہ طور خاص کربلا کا استعار ہ ان کے ہاں زندگی کی گہری معنویت پاکر نئے زمانے سے جڑ جاتا ہے اور یہ بھی کہ بارہواں کھلاڑی کی نظم ایک خاص صورت حال میں پڑے نئے عہد کے نئے آدمی کا المیہ ہے۔ اینا سووروا جب اپنی بات کر رہی تھیں تو رہ رہ کر میرا دھیان ان تہذیبی حوالوں کی طرف جا رہا تھا جن سے ان کی شاعری بامعنی ہوتی ہے اور مختلف بھی۔ اتنی مختلف کہ وہ اپنے ہم عصروں میں سب سے الگ دھج رکھنے لگتے ہیں۔ میںغزل کوتہذیبی صنف سمجھتا ہوں اور غلط یا صحیح اس بات پر ایقان رکھتا ہوں کہ اس صنف کی ایسے بے توفیق شاعروں سے بنتی ہی نہیں ہے جو اپنے تہذیبی حوالوں سے پچھڑ گئے ہوتے ہیں۔ ستر کی دہائی کے جن شاعروں کے ساتھ افتخار عارف نے اپنا سفر آغاز کیا تھا ان میں سے جو بچ رہے ہیں وہ سب وہی ہیں جنہوں نے اپنے تہذیبی ‘فکری اور جمالیاتی ورثے سے دست کش ہونا گورا نہیں کیا۔ افتخار عارف کی ’’مہر دونیم‘‘ سے ’ ’حرف باریاب‘‘، ’’جہان معلوم ‘‘ اور ’’دین و دنیا‘‘ میں مجتمع ہونے والی شاعری میری نگاہ میں ہے وہ جس وضع کی فضا میں اپنے تخلیقی وجودکو رکھتے رہے ہیں، اس نے اردو شاعری میں مذہبی استعاروں کے حرکی تصور کے لیے فضا باندھ کر رکھ دی ہے:

خلق نے اک منظر نہیں دیکھا بہت دنوں سے
نوکِ سناں پر سر نہیں دیکھا بہت دنوں سے

اپنے اپنے زاویے سے اپنے اپنے ڈھنگ سے
ایک عالم لکھ رہا تھا داستان کربلا

ہزار بار مجھے لے گیا ہے مقتل میں
وہ ایک قطرہ خوں جو رگ گلو میں ہے

دل اس کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ
یہ سلسلہ بھی بہت ابتدا کا لگتا ہے

بات چل نکلی تو میں نے افتخار عارف کے تخلیقی وجود کے دوسرے اہم حوالے ہجرت کو بھی یاد کیا۔ ہجرت یا دربدری کا احساس۔ مجھے پوچھنا پڑا تھا کہ افتخار عارف صاحب ! آپ کے ہاں ہجرت کا وہ احساس کیوں نہیں ہے جو انتظار حسین کے ہاں تھا؟ اس مرحلے پر میں نے انتظار حسین کی اس گفتگو کی جانب توجہ چاہی تھی جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ انہوں نے اپنی ہجرت کو بڑے معنی پہنانے کے لیے اپنی تاریخ کی اس مقدس ہجرت کی طرف دیکھا تھا اور اس سے جوڑ کر اپنی ہجرت کو سمجھنا چاہا تھا۔ میرا پوچھنا تھا کہ آپ کی ہجرت دربدری کیوں ہو گئی؟ پھر یہ نان و نمک کی طلب میں مارے مارے پھرنے کی ذلت اور اذیت سے جڑ کر اور بھی شدید تر لگتی ہے۔ یہ سوال میرے ذہن میں یوں آیا تھا کہ افتخار عارف کی نظم ’’یاسریع الرضااغفرلمن لا یملک الالدعا‘‘ کا ایک ٹکڑا میرے ذہن میں گونجنے لگا تھا :

’’ یہ دنیا اک سور کے گوشت کی ہڈی کی صورت
کوڑھیوں کے ہاتھ میں ہے
اور میں نان و نمک کی جستجومیں در بدر قریہ بہ قریہ مارا مارا پھر رہا ہوں
ذرا سی دیر کی جھوٹی فضیلت کے لیے
ٹھوکر پہ ٹھوکر کھا رہا ہوں ‘ہرقدم پر منزل عزو شرف
سے گر رہا ہوں۔ ‘‘

یہیں دھیان افتخار عارف کے ضرب المثل بن جانے والا شعر کی طرف گیا تھا :

میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

افتخار عارف نے اس باب میں جو کہا وہ بھی سمجھ میں آنے والا ہے۔ وہ جب پاکستان آئے تو بہت کچھ بدل چکا تھا۔ پاکستان بنتے وقت وہ اتنے چھوٹے تھے کہ اکیلے نہیں آسکتے تھے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۱۹۶۵ء میں جب وہ پاکستان پہنچے تویہاں لوگوں کے سارے روشن خواب دھندلے پڑ رہے تھے۔ تاہم وہ ان خوابوں سے افتخار عارف جڑے رہنا چاہتے تھے۔ انہوں نے میرے سوال کے جواب میں کہا تھا:

’’یہ جو گھر کا مسئلہ ہے اس کی کئی جہتیں ہیں۔ میں لکھنو سے کراچی آیا تھا اور پھر کراچی سے لندن چلا گیا۔ یہ دو بالکل مختلف تجربے ہیں۔ لکھنو سے کراچی آنا اور یہاں سے لندن جانا یہ ہجرت کا تجربہ بھی ہے اور دربدری کا تجربہ بھی۔ ‘‘

اسی مرحلے پر انہوں نے یہ اضافہ بھی کیا تھا کہ

’’ ہجرت محض ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف جانے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک نظریے سے دوسرے نظریے کی طرف جانے کا بھی نام ہے۔ تارکین وطن میں اور مہاجروں میں فرق ہوتا ہے۔ مہاجر کسی مقصد کے تحت نکلتا ہے کسی آدرش کے تحت جاتا ہے۔ چراگاہوں کی تلاش میں جانے والے لوگ کسی اور طرح کے ہوتے ہیں۔ ‘‘

حارث خلیق اردو انگریزی کے شاعر ہیں اور نئی نسل کے نمایاں ترین نظم نگاروں میں شمار ہوتے ہیں، انہیں مکالمہ کرنا خوب آتا ہے انگریزی اخبارات میں مسلسل کالم لکھتے ہیں اور سیکرٹری ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ہیں۔ میں اُن کی

’’ڈومنی‘‘، ’’ عشق کی تقویم ‘‘، ’’انیائے‘‘، ’’ورلڈ بنک‘‘، ’’رضیہ سلطانہ کورنگی ’کے ‘ایریا‘‘ جیسی نظموں کا اس لیے عاشق ہوں کہ وہ اپنی نظموں کو کرداری کہانی بنا کر جو کہنا چاہتے ہیں، یوں کہتے ہیں کہ ساری کہانی پڑھنے والے کے لہو میں گونجنے لگتی ہے۔ حارث کا کہنا تھا کہ افتخار عارف کے ہاں محض کربلا نہیں ہے عید غدیر بھی ہے۔ ان کے ہاں علم کا اور انقلاب کا ایک جشن بھی ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی یہ کہتے تھے۔ کربلا سے معاملہ محض ماتم گساری کا نہیں ہے بلکہ انقلاب کا ہے اور افتخارعارف کے ہاں یہی ہوا ہے۔ ‘‘

تاہم حارث خلیق نے تاہم کہہ کر یہ اضافہ بھی کیا :

’’میرے خیال میں افتخار عارف کی شاعری نظریاتی شاعری نہیں ہے۔ یہ تہذیبی شاعر کی شاعری ہے۔ اور اس میں تفریق کرنا بہت ضروری ہے۔ کچھ شاعر جمالیاتی ہوتے ہیںجن کے لیے جمالیات کی اہمیت نظریے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور واقعہ یہ ہے کہ جمالیات کے بغیر شاعری ہوتی بھی نہیں۔ مگر کچھ لوگ ہوتے ہیں جو جمالیات اور نظریات کا ایک مرکب بنا کر ہمارے سامنے لے آتے ہیں۔ ایک نظریاتی شاعری بھی ہوتی ہے۔ یہ لمحاتی شاعری ہو کر بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ مگر ایک سولائزیشنل پوئٹ ہوتا جس کے ہاں روایت اور تہذیب سے استعاہ جنم لیتا ہے اور افتخار عارف ایک تہذیبی شاعر ہونے کی اس عہد میں روشن ترین مثال ہیں۔ یہ آپ کو کہیں اور بہت کم نظر آئے گا کہ لوگ اس منزل پر پہنچنے سے پہلے رک جاتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ ان کے ہاں کوئی معذرت خواہانہ رویہ نہیں ہے، جو ان کا ایمان ہے، جو ان کی فکر ہے وہ اسی طرح آپ کے سامنے آتی ہے جیسے کہ وہ ہے۔‘‘

حارث خلیق کا تجزیہ میرے دل کو لگا تاہم جب وہ افتخار عارف کی شاعری کو نظریاتی شاعری ماننے سے انکار کر رہے تھے تو مجھے ان کی اوپر کہی گئی دوسری بات کے علاوہ شاعری بھی یاد آرہی تھی جس میں ایک نظریہ اور ایک فکر بولتی ہے۔ یہ سب کچھ زبان کی تہذیب کے اندر اور ایک خاص قرینے سے ہوتا ہے۔ یہ ایسا قرینہ ہے جو صرف افتخار عارف سے مختص ہے۔ یہ قرینہ یا اسلوب بامعنی تراکیب سازی کے ہنر سے تجسیم پاتاہے۔ لفظوں کی نشست کو دھیان میں رکھ کر اصوات کے نظام کی تعمیر اور مصرع بناکر اس میں ایک عجب اور تازگی بپا کر دینے کی توفیق نے اسلوب میں اور نکھار پیدا کیا ہے۔ جمالیاتی چھوٹ کے ہمراہ معنیاتی دبازت اور مابعد کے مصرع سے اس کے زندہ اتصال و انسلاک سے ایک ہی وقت میں خیال کی احساس کی سطح پرترتیب اور محسوسات سے فکریات کے تھرکتے ہوئے نکلنا افتخار عارف سے منسوب اسلوب کا خاصہ ہوگئے ہیں۔ مجھے یاد آتا ہے فیض احمد فیض نے افتخار عارف کا پہلا دیوان ’’مہر دونیم‘‘ دوبارہ پڑھنے کے بعد کہاتھا: ’ جس طرح صحیح انصاف کے لیے لازم ہے کہ وہ منصفانہ ہو اور نظر بھی آئے شاعرانہ تجربے کے لیے لازم ہے کہ وہ شاعرانہ ہو اور شعریت نظر بھی آئے۔‘‘ تو یوں ہے کہ شعریت کی لپک ان کے ہاں اپنی فکر اوراثر انگیزی کے وصف کے ساتھ محسوس کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر وفا یزدان منش تہران یونیورسٹی ایران کے اردو ڈیپارٹمنٹ میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ فر فر اردو بولتی ہیں کہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ہی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ فارسی سے اردو اور اردو سے فارسی میں تراجم کرتی رہتی ہیں۔ جب افتخار عارف، ایکو سے منسلک ہو کر ایران میں تھے تو وفا یزدان کی ان سے ملاقاتیں رہتی تھیں۔ انہوں نے اس زمانے کو یاد کیااوربتایا تھا کہ افتخار عارف کی شاعری وہاں فارسی میں ترجمہ ہو کر مقبول ہوئی اور یہ بھی کہ ان کی علمی گفتگو سننے کو لوگ اپنی سماعتیں بچھائے رکھتے تھے۔

مارگلہ ہوٹل اسلام آباد کاپورا ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ افتخار عارف گفتگو کر رہے تھے غزلیں اور نظمیں سنا رہے تھے اور لوگ اپنی سماعتیں بچھائے ہوئے تھے اوربہ قول حارث خلیق ایک تہذیبی شاعر کی تہذیبی شاعری کو سیلی بریٹ کر رہے تھے۔

Facebook Comments Box
اردو ادبافتخار عارفحارث خلیقحمید شاہدشاعری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
دوسری تدفین —— حمید قیصر
next post
علم اور عقل کیا ہیں؟ ——– مجیب الحق حقّی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.