تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

جنگیں کبھی امن نہیں لاتیں‎ ——– سمیع احمد کلیہ

by Editor2 05/10/2019
written by Editor2 05/10/2019
121

آرٹیکل 370 کی منسوخی اور کشمیر میں لاک ڈاؤن:
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے کہا ہے کہ آج کشمیر میں ہر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ کیا بٹوارے کے بعد انڈیا سے جا ملنے کا فیصلہ درست تھا یا نہیں؟ انڈیا کی جانب سے جموں اور کشمیر کے علاقوں سے آرٹیکل 370 کی منسوخی اور لاک ڈاؤن کو تقریباً دو ماہ ہو گئے ہیں۔ انڈیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ اقدام کشمیر کی ترقی کے لیے کیا ہے۔

آرٹیکل 370 اور ترقی کا آپس میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن کیونکہ اب یہ دنیا بھر میں جواز پیش کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ترقی کا بول رہے ہیں۔ آپ کو ابھی تک کیا روک رہا تھا؟ جموں اور کشمیر میں ترقیاتی پیمانے جیسے شرحِ خواندگی، یا غربت کو دیکھیں۔ ۔ ۔ ریاست بہار سے لوگ یہاں مزدوری کے لیے آتے ہیں کیونکہ یہاں انھیں بہتر اجرت ملتی ہے۔

آج کل کشمیر کے حالات سب کے سامنے ہیں ہے۔ اور ماضی کی ان تمام ظلم و جبر کی داستانوں کو جو ہمارے بڑے ہمیں سنایا کرتے تھے کو تازہ کیا جا رہا ہے جو جنت نظیر کشمیر اور اس کی مظلوم عوام نے سہے ہیں۔ آج انسانیت کا درد رکھنے والے ہر بندے کی آنکھ نم ہوتی ہے۔ یہ سالوں پہ پھیلا کیسا ظلم ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا؟ مشرقی تیمور الگ ملک بن گیا، جنوبی سوڈان خود مختار ہو گیا لیکن یہ کشمیر ہی ہے جہاں آج بھی انسانیت سسک رہی ہے اور مقتدر بین الاقوامی اداروں کی نااہلی اور ناکامی کی دُہائی دے رہی ہے؟

برصغیر 1857ء کے بعد مکمل طور پہ انگریز تسلط میں چلا گیا تھا۔ ٹھیک 90 سال بعد بھارت اور پاکستان کو آزادی کی نعمت مل گئی۔ لیکن کشمیر 1846ء میں انگریز غلامی سے 75 لاکھ میں ڈوگرہ راج کی غلامی میں ایسا گیا کہ آج تک مالک ہی بدلا ہے، مملوک کی حالت میں بال برابر تبدیلی نہیں آئی۔ اوپر سے ظلم در ظلم یہ کہ ڈوگرہ راج انگریز سے بدتر مالک ثابت ہوا اور ہندو بنیے نے تو چنگیز خان اور ہٹلر کی روحوں کو تڑپا دیا ہو گا۔

آج کشمیر کا ذرہ ذرہ غلامی کی سیاہ وادیوں میں سسکتے ہوئے جدید دنیا کے دوہرے معیار کی دُہائی دیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ کشمیر تقسیم ہند کا نا مکمل ایجنڈا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام جبر و استبداد کے باوجود یہ مکمل ہوکے رہے گا۔ آج بھارت کے اندر سے معتدل اور لبرل حلقے یہ آواز اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ہر سال مختلف سیاسی پارٹیاں اور خودحکومت بھی کشمیری عوام کی تحریک آزادی سے اظہار یک جہتی کے لیے جلسے جلوس، ریلیاں اور دوسرے پروگرام تشکیل دیتی ہیں۔ اخبارات میں مضامین شائع ہوتے ہیں۔ ٹی وی پر دستاویزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ اس روز جلسے جلوس سیمینارزکا انعقاد ہوتا ہے، میلوں لمبی انسانی زنجیریں بنائی جاتی ہیں، بھارتی بر بریت، سفاکانہ مظالم اور کشمیریوں کے بہیمانہ قتل و غارت گری کے خلاف قرا ر دادیں منظور کی جاتی ہیں جوبس صفحات تک ہی رہتی ہیں۔

اگر ہم تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان روز اول سے پائی جانے والی تلخی کی اہم وجہ کشمیر ہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اسی پر تین باقاعدہ جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔ بے قاعدہ جنگیں ہرروز سرحد پر فائرنگ کی شکل میں ہوتی ہے۔ اسی مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی دو ڑلگی ہوئی ہے۔ بنیادی طور پر اسی مسئلہ کے باعث دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف ہائی ٹیک ہتھیاروں کا انبار جمع کرتا چلا جارہا ہیں۔ انہی خطرناک ہتھیاروں کے سبب اس خطے کے ڈیڑھ ارب باشندوں کی زندگی بھی خطرے میں ہے۔

پاکستان کی نظر میں کشمیر شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے تو ہندوستان اسے اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے۔ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اتنا مشہور ہوچکا ہے کہ جب کسی ناممکن مسئلہ کے حل کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت اسے مسئلہ کشمیر کہ کر ٹال دیا جاتا ہے مطلب یہ کہ اس کا حل کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کے سیاسی گلیاروں میں سب سے اہم کشمیر کا ایشو مانا جاتا ہے۔ اقتدار تک رسائی حاصل کرنے میں وہ پارٹی زیادہ کامیاب ہوتی ہے جو ان کے گمان کے مطابق کشمیر کو ہندوستان سے آزاد کرانے کے لیے سب سے زیادہ پرعزم ہوتی ہے اور عوام سے یہ وعدہ کرتی ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر کسی بھی صورت میں ہندوستان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کشمیر کو ہندوستان سے آزادکرانے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان کی سیاست کا اصل ایجنڈا مسئلہ کشمیر ہوتا ہے۔ وہ لیڈرا تناہی زیادہ مقبول ہوتا جو مسئلہ کشمیر اور ہندوستان کے خلاف جتنازیادہ بولتا ہے۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گی مسئلہ کشمیر کے حل کی بارہا کوششیں کئی گئی ہیں لیکن کبھی بھی کامیابی نہیں ملی ہے۔ پاکستان اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ میں چاہتا ہے جب کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ یہ ہندوستان اور پاکستان کا آپسی مسئلہ ہے اس میں کسی دوسرے کو مداخلت کا موقع دیئے بغیر دونوں ملکوں کو آپس میں مل کر مذاکرات کے ذریعہ حل کرنا چاہیے۔ ہندوستان اس لیے بھی اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں نہیں چھیڑنا چاہتا ہے کہ 2 جولائی 1972ء میں پاکستان نے اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لے جائے بغیر آپس میں مل کر حل کرنے پر اتفاق کیا تھاجو شملہ معاہدہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ۔ پاکستان کا یہ دعویٰ ہے کہ قرارداد پاکستان 1948ء اور اقوام متحدہ کشمیر کمیشن برائے ہندوپاک مجریہ 31 اگست 1948ء اور جنوری 1949ء کے تحت مذکورہ کونسل کی نگرانی میں ہونے والی رائے شماری کے ذریعہ تمام جموں وکشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن ہندوستان نے کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس پر فوجی طاقت کے ذریعہ غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے۔ جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ کشمیر پر جب پڑوسی ملک سے قبائلیوں نے حملہ کیا تھا تو اس وقت کے یہاں کے راجہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے مدد طلب کی تھی اور اس کے بعد مکمل طور پر ہندوستان کے ساتھ انہوں نے ریاست جموں وکشمیر کا الحاق کرلیا تھا۔

ایک بات ہم کو ذہن میں رکھنا ہی ہو گی کہ جنگیں کبھی امن اورترقی نہیں لاتیں۔ دونوں ملکوں کی ترقی اور امن وسلامتی کے فروغ کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ کشمیری عوام بھی اس مسئلہ کا حل چاہتے ہیں، بارہا مذاکرات کا اسٹیج بھی سجایا گیا ہے لیکن کبھی بھی کامیابی نہیں ملی۔ یہ کوئی سرحدی تنازع نہیں، ایک کروڑ بیس لاکھ انسانوں کی زندگی وموت کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلانے کے لیے ویسی کوششیں ہونی چاہئیں جیسی کرنے کا حق ہے۔ جب تک پاک بھارت بات چیت کا عمل بحال نہیں ہوتا، تب تک اس اہم ترین مسئلے کے حل کی جانب پہلا قدم اٹھنا بھی ممکن نہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔

مصنف سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز، قائد اعظم لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی اور سابق لیکچرر پولیٹیکل سائنس گورنمنٹ دیال سنگھ کالج، لاہور اور آج کل پولیس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

Facebook Comments Box
آزاد کشمیرپاک بھارتپاک بھارت جنگجنگکشمیرکشمیر جنگ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
کالم نویس اور ادیب امیر نواز نیازی سے گفتگو —- عبدالستار اعوان
next post
سوچتا ہوں —— محمد مدثر احمد

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.