تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

وزیر اعظم آزاد کشمیر کی سنسرڈ تقریر اور آزادی کے لالی پاپ — خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 30/09/2019
written by دانش ڈیسک 30/09/2019
163

پچھلے دنوں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی ایک تقریر کے بارے مجاہدین سوشل میڈیا کا کہنا تھا کہ اس تقریر میں سے چند جملوں کو سنسر کیا گیا۔ سنسر شدہ جملے ہر خبر، مکھی اور مچھر پر نظر رکھنے والوں کے ہاتھ لگ گئے اور انہوں نے بطور تبرک اسے بانٹنا اور پاکستان، پاکستانیوں، پاک فوج اور وزیر اعظم عمران خان کو کوسنا شروع کر دیا۔ بقول سوشل میڈیائی مجاہدین کے مذکورہ تقریر میں راجہ فاروق حیدر صاحب کہہ رہے تھے کہ ہر روز صبح سری نگر کی خواتین دروازہ کھولتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ پاکستان کی فوج آ گئی کیا؟ اس سنہرے جملے کے بعد وہ پوچھتے ہیں کہ بتاو پاکستانیو ہمارا سودا کر کے تم کتنے ڈالر کما لو گے اور ان ڈالروں کا تم کیا کرو گے؟ اب اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ ان دو سوالوں کا جواب براہ راست راجہ فاروق حیدر صاحب کی خدمت میں پیش کروں یا پھر سوشل میڈیائی مجاہدین کے سامنے بین بجاوں کہ انہیں شائد جذباتی ابال سے پرے حقائق دیکھنے کی عادت نہیں یا پھر ریٹنگ کے چکر میں کوئی اچھی بات نہ کہنا مجبوری ہے۔ آئیے ان دونوں باتوں کا جواب تلاش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بات کہاں کی کہاں جاتی ہے۔

سب سے پہلے راجہ صاحب سے پوچھنا تھا کہ کشمیری خواتین روز صبح دروازہ کھول کر پاکستانی فوج کا کس لیے پوچھتی ہیں؟ کیا کسی نے باقاعدہ پاکستانی فوج کو مدد کے لیے درخواست دی تھی کہ پاکستانی فوج ان کی مدد کو آئے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر کس وجہ اور خیال سے روز صبح یہ پوچھنا ضروری ہو جاتا ہے؟ میری کمزور یاداشت یہ بتاتی ہے کہ ایک بار انہی کشمیریوں کی مدد کے لیے پاکستان کی فوج پہنچی تھی اور پاکستانی پالیسی سازوں کا خیال یہی تھا کہ کشمیری جیسے ہماری مدد کے منتظر بیٹھے ہوں گے، ہمیں خوش آمدید کہیں گے اور ہمارے ساتھ مل کر بھارت کا وہ حشر کریں گے کہ دنیا کو سمجھ نہیں آئے گی کہ اب لڈیاں ڈالنی ہیں یا ماتم کرنا ہے۔ پاکستانی فوج چوکیوں اور چوٹیوں پر قابض ہوتی چلی گئی لیکن افسوس یہ ہوا کہ کشمیریوں نے الٹا پوچھنا شروع کر دیا کہ یہ کون لوگ ہیں اور یہاں کیوں آئے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ آپریشن ناکام ہوا اور نتیجے میں پاکستان کو سترہ روزہ جنگ کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

خیر پاکستانی فوج کی بات چھوڑتے ہوئے مجھے یہ تو بتایا جائے کہ اہل کشمیر نے جنگ کا راستہ اختیار کب سے کیا ہے؟ ستر سال سے یو این میں قرارداد جمع کروا کر ہر دوسرے تیسرے دن ہڑتالیں کرنے والے اہلیان کشمیر کا انداز تو یہ بتاتا ہے کہ وہ بس یو این کی قرار داد پر عمل درآمد چاہتے ہیں جس میں مسئلہ کشمیر باہمی افہام و تفہیم سے حل ہو جائے اور کشمیر کو آزادی مل جائے۔ اس بات کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ اہلیان کشمیر جنگ کے بجائے مذاکرات کے حامی ہیں اور وہ جنگ کو کسی مسئلے کا حل نہیں سمجھتے، اسی لیے ستر سال سے وہ یو این میں قرار داد یں جمع کروا رہے ہیں، ہڑتالیں کر رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں لیکن مسلح جدوجہد نہیں کر رہے۔ تو پھر اب جنگ کی راہ کیوں اور کس لیے اختیار کی جا رہی ہے؟ بھلا کوئی یہ تو بتائے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے بجائے جنگ کی پالیسی کس کشمیری راہنما کی طرف سے دی گئی ہے یا پھر سوشل میڈیائی مجاہدین اپنی طرف سے ہی دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے سامنے لا کر چسکے لینے کے خواہش مند ہیں؟ ویسے پوچھنا یہ بھی تھا کہ اگر پاکستان کی فوج کشمیر میں داخل ہو جاتی ہے تو اسے مقامی طور پر کیا مدد مل سکے گی؟ کیا کشمیری نوجوان کسی مسلح تصادم کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے ہتھیار جمع کئے ہوئے ہیں؟ اور اگر وہ سب مسلح تصادم کے لیے تیار ہیں تو پھر نکی نکی ڈھولکی کیوں نہیں بج رہی یعنی کشمیر کی ہر گلی، بازار اور سڑک پر ہندوستانی فوج کو پریشانی کا سامنا کیوں نہیں ہے؟ کیوں جنگ کا ماحول اور منظر نامہ نظر نہیں آ رہا جس کا فائدہ اٹھا کر پاکستانی فوج کشمیریوں کی مدد کے لیے سرحد پار کر جائے بالکل جیسے سن اکہتر میں ہندوستان نے مکتی باہنیوں کے ذریعے بنگلہ دیش میں ماحول بنایا اور پھر ان لوگوں کی مدد کے لیے ہندوستانی فوج کو سرحدپار کرنے میں کوئی دشورای کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ افغانستان میں داخل ہونے والی روسی افواج بھی کئی ماہ تک تیار صرف ماحول بننے کی منتظر تھیں اور جب ماحول بن گیا تو دنیا نے کیا کیا دیکھا یہ دنیا خوب جانتی ہے۔۔۔ تو سوال یہی ہے کہ کشمیر میں وہ ماحول کب بنے گا؟ بنے گا بھی کہ نہیں یا پھر کشمیری صرف اپنی قربانیوں سے ہی غرض رکھیں گے، صلے کی انہیں کوئی تمنا نہیں؟ امید ہے راجہ صاحب اور ان کے سارے ہمدردوں کو پہلے سوال کا جواب مل گیا ہو گا۔

اپنے دوسرے سوال میں راجہ صاحب اور ان کے ہمدرد پاکستان، پاکستانیوں، پاک افواج اور عمران خان صاحب سے پوچھتے ہیں کہ تم نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے اور اب ہمارے بدلے میں ڈالر کما رہے ہو، بتاو کہ ان ڈالروں کا کیا کرو گے؟ اس خوبصورت سوال کے جواب میں دل تو کرتا ہے کہ انہیں بتاوں کہ ان ڈالروں سے وہ بل ادا کئے جائیں گے جو آزاد کشمیر کے پرانے وزراء اعظم لندن کے شراب خانوں میں شراب پی کر ادائیگی کے لیے چھوڑ آئے تھے اورشراب خانے والوں نے وہ بل پاکستانی سفارت خانے کو بھجوا دئیے تھے۔ ان ڈالروں سے کشمیری راہنماوں کے بیرون ملک چلنے والے کاروبارکو مزید ترقی دینے کے لیے بھی مدد کی جا سکے گی اور جو ڈالر بچ جائیں گے تو اس سے کشمیری راہنماوں کی دنیا بھر کی سیر کا انتظام کیا جائے گا۔ ہم نے آپ کا جو سودا کیا اس کے ڈالروں کا حساب تو دے دیا لیکن مجھے راجہ صاحب اور تمام سوشل میڈیائی مجاہدین اپنا پورا زور لگا کرستر سال میں وہ تین بیرون ملک کے دورے بتا دیں جس میں کشمیری قیادت نے دنیا کے کسی قابل ذکر راہنما سے ملاقات کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اجاگر نہیں کیا بلکہ پورا کیس تیار کر کے لے گئے اور پیش کیا۔ ستر سال میں صرف دو بین الاقوامی راہنماوں کا بیان دیکھا دیں جو کشمیر کے حق میں انہوں نے کسی کشمیری راہنما کے ساتھ بیٹھ کر دیا ہو؟

افسوس کہ پچھلے ستر سالوں میں کشمیری راہنما اقتدار، حکومت، مراعات اور فراغت کے مزے لوٹ رہے ہیں اور بے چارہ یاسین ملک اور بوڑھا شیخ سید علی گیلانی ان لوگوں کے پیچھے اپنی عمریں اور جوانیاں لٹا بیٹھے۔ بھڑکیں مارنا، سوال کرنا اور الزام دینا ہمارے ہاں دنیا کا سب سے آسان کام ہے لیکن اگر کوئی جواب دے تو اپنا چہرہ آئینے میں ضرور دیکھنا چاہیے کہ پتہ چلے ہمارا اصلی چہرہ کون سا ہے۔ میرے خیال سے نہ تو کشمیری قیادت آزادی کے لیے سنجیدہ ہے اور نہ ہی کشمیری خود ہندوستان سے آزادی چاہتے ہیں۔ یہ سبھی کھوکھلے نعرے لگاتے اور ایک دوسرے کو آزادی کے لالی پاپ کھلا کر خوش ہوتے رہتے ہیں، دو نسلیں گزر چکی تیسری بھی جی رہی ہے اور اس ماحول میں بے چارہ یاسین ملک، بوڑھا شیخ سید علی گیلانی اور اب عمران خان اپنی عمریں اور صلاحیتیں مفت میں لٹا رہے ہیں۔

Facebook Comments Box
AJKKashmirآزادی کشمیرکشمیرکشمیریمقبوضہ کشمیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عالمی فورم پر وزیر اعظم عمران خان کا شاندار خطاب ——– ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
next post
جامعات میں دم توڑتی طلبہ سوسائٹیز ——– شبیر حُسین لدھڑ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.