تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرعلم و ادبعلمیکالم

جامعات میں دم توڑتی طلبہ سوسائٹیز ——– شبیر حُسین لدھڑ

by Editor2 30/09/2019
written by Editor2 30/09/2019
83

پاکستان کی جامعات میں 80 کی دہائی میں طلبہ یونین پر پابندی کے بعد جامعات میں فرقہ ورانہ، قوم پرست اور مزہبی فسادات نے سر اٹھانا شروع کیا جو اب تک جاری ہے۔ ملک کی بڑی جامعات میں اب تک مزہبی اور فرقہ ورانہ فسادات میں کئ طلبہ کی جانیں بھی ضائع ہوچکی ہیں۔ طلبہ یونین پر پابندی کے بعد دارومدار طلبہ سوسائٹیز پر آگیا جو کہ جامعات میں ڈیپارٹمینٹل اور یونیورسٹی سطح پر موجود تھیں تاہم گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ طلبہ سوسائٹیز کا غیرفعال ہونا اور یونیورسٹی انتظامیہ کی سوسائٹیز کی جانب عدم توجہ سوسائٹیز کے بےجان ہونے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔

اگر پاکستان میں جامعات کے اعدادشمار پر نظر ڈالی جائے تو ملک بھر میں منظور شدہ جامعات کی تعداد 206 ہے جن میں سے 124 کا تعلق سرکاری شعبہ سے ہے اور ان کے زیلی کیمپسز کی تعداد 79 ہے۔ جبکہ پرائیویٹ سیکٹر جامعات کی تعداد 82 ہے۔ کم و بیش ہر یونیورسٹی میں کیمپس کی سطح پر طلبہ سوسائٹیز موجود ہوتی ہیں جن میں ڈرامہ، میوزک، میڈیا، آرٹس، شاعری سمیت ہر فن اور ٹلینٹ کو برآمد کرنے کے لئے سوسائٹیز کام کررہی ہیں مگر ان سوسائٹیز کو اس طرح سے فعال نہیں کیا جاتا جس طرح کرنے کی ضرورت ہے۔ بیرون ملک دنیا کی بہترین جامعات میں طلبہ سوسائٹیز کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ ان سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ کو معاوضہ اور وضائف بھی دیے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک کی بڑی جامعات میں سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ کو بھگوڑے، نکمے یا ایسے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے جس سے اُن طلبہ کو پڑھائی سے بھاگنے والا تصور کیا جائے۔ سوسائٹیز جامعات کا روشن چہرہ ہوتی ہیں جو کیمپس میں مثبت اور غیر نصابی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے طلبہ کو جوڑے رکھتی ہیں۔دراصل سوسائٹیز ہی کسی جامعہ کی بہترین ترجمان ہوتی ہیں مگر بدقسمتی سے اول تو جامعات میں سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ کو حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے دوئم اگر وہ کام کرنا چاہیں بھی تو کیمپس کی سطح پر سوسائٹیز کو درپیش فنڈنگ، سیاسی و مزہبی پُشت پناہی کے حامل طلبہ گروپ کی طرف سے پیدا کردہ مسائل اُن کے راستے کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ جہاں کیمپس سے باہر ہونے والے مقابلہ جات میں اپنی جامعہ کی نمائندگی کررہے ہوتے ہیں وہیں پر ان کی پروفیشنل کی ٹریننگ بھی ہورہی ہوتی ہے۔ ڈگری مکمل کرنے کے بعد وہ جس بھی شعبے جانا چاہتے ہیں وہ دراصل اس کی ٹریننگ کررہے ہوتے ہیں۔ ایسے طلبہ تھیٹر پلے، سنگیت کی دنیا، فن تقریر اور بڑی NGOs میں ملک و ملت کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں بلکہ سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ ہمیں باقی طلبہ سے منظم اور منفرد نظر آتے ہیں، وہ بہترین انسان دوست ہوتے ہیں۔

سوسائٹیز کا غیر فعال ہوجانا جامعات میں نسل پرستی، جھگڑوں، اور فرقہ روانہ فسادات کو جنم دیتا ہے جبکہ سرگرم سوسائٹیز ایسے تمام واقعات کے سامنے اس لیے دیوار بن سکتی ہیں کیونکہ وہ کیمپس کے اندر اور باہر طلبہ کو انگیج رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

پاکستان میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو سوسائٹیز کی ماں تصور کیا جاتا ہے جس میں ایسی بےشمار سوسائٹیز موجود ہیں جو طلبہ کی ذہنی، فکری، علمی اور عملی پرورش کرتی ہیں ملک کے بڑے بڑے شاعر، ادیب ، لکھاری، سیاست دان، مقرر اور دانشور اسی گورنمنٹ کالج کی سوسائٹیز میں کام کر کے گزرے ہیں۔

ادب کو فروغ دینے، امن کو بڑھانے اور طلبہ میں سماجی کاموں کو فروغ دینے میں طلبہ سوسائٹیز ہی وہ واحد پیلٹ فارم ہیں جہاں کوئی بھی طالب علم اپنی دلچسپی کی سوسائٹی چُن کر اپنے فن کا عملی مظاہرہ کرسکتا ہے۔ پاکستان کی بڑی جامعات جن میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، پنجاب یونیورسٹی لاہور، بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، یونیورسٹی آف لاہور، یونیورسٹی آف کراچی، پشاور یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، یونیورسٹی آف بلوچستان، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن سمیت دیگر جامعات میں طلبہ سوسائٹیز بہترین طریقے سے کام کرتی نظر آتی ہیں۔ مگر جامعات میں ان سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ کو دوران امتحانات اس لیے فیل کردیا جاتا ہے کیونکہ وہ سوسائٹیز کے سرگرم کارکن تھے تاہم اس کے برعکس ایسے طلبہ کو صرف اس لیے پاس کردیا جاتا ہے کہ وہ کسی طلبہ سوسائٹی کے رُکن تو نہ تھے مگر کسی ایسے طلبہ گروپ کے رکن ضرور تھے جس نے کسی مزہبی، سیاسی یا قوم پرست جماعت کی حمایت میں جامعات میں دنگا فساد میں اہم کردار ادا کیا۔ انتظامی سطح پر ایسے طلبہ سے ڈرتے ہوئے ان کو امتحانات اور کلاس کی حاضری میں ریلیف مل جانا جب کہ جامعات کی ترجمانی کرنے والی، طلبہ کے ٹیلنٹ کو ظاہر کرنے والی اور غیرنصابی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے والی سوسائٹیز کے طلبہ کو کلاس حاضری کم ہونے پر کمرہ امتحان سے نکال دینا جامعات میں درپیش امن عامہ کے مسائل کی بڑی وجہ ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ سوسائٹیز کے لیے ایک مخصوص فنڈنگ رکھی جاتی ہے جس کے بعد طلبہ اپنی مدد آپ کے تحت ایونٹس کا انعقاد کرتے ہیں۔فنڈنگ کے مسائل کی وجہ سے بہت سی سوسائٹیز اپنے ایونٹس سے دستربردار ہو جاتی ہیں ان ایونٹس میں کھیل کے پروگرامز، تقاریری مقابلے، شاعری کے مقابلے، تھیٹر ڈرامہ، سمیت سیمنارز اور کانفرنسز کا انعقاد بھی شامل ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سوسائٹیز میں کام کرنے والے طلبہ و طالبات کو ہر طرح کے مسائل سے لڑنا پڑتا ہے جس سے ان کی پڑھائی کا حرج بھی ہوتا ہے اور ان کے گریڈز بہت کم آتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یونیورسٹی سطح پر طلبہ سوسائٹیز اور ان کے ممبران کو کسی گنتی میں نہیں رکھا جاتا۔

ہائر ایجوکمیشن پاکستان اور جامعات کے وائس چانسلرز کو چاہیے کہ وہ طلبہ سوسائٹیز کو فعال کرنے میں ہنگامی سفارشات مرتب کریں، سوسائٹیز کی فنڈنگز کو بڑھایا جائے اور سوسائٹیز و یونیورسٹی کے لیے بہترین کام کرنے والے طلبہ و طالبات کو یونیورسٹی کے کانووکیشن میں ڈگری کے ساتھ اعزازی رول آف آنر سے بھی نوازا جائے اور ایسے طلبہ کو ایک حد تک کلاس میں حاضری سے استشنیٰ دیا جائے۔ دراصل موجودہ دور میں جامعات اور کیمپس کی سطح پر طلبہ سوسائٹیز کا کردار بہت اہم ہوچکا ہے۔طلبہ سوسائٹیز کو مکمل طور پر آزادی سے کام کرنے دیا جائے اور ہر یونیورسٹی میں ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹس افئیرز کے شعبے کو مضبوط کیا جائے۔ پاکستان میں جامعات کی سطح پر طلبہ سوسائٹیز کو مضبوط کرنے کی آواز نہ کسی میڈیا چینل پر سنائی دیتی ہے اور نہ کسی میٹنگ میں اس کو ڈسکس کیا جاتا ہے۔ اس وقت 52 پاکستانی جامعات پر مشتمل انٹر یونیورسٹیز کنسورشیم فار دی پرموشن آف سوشل سائنسز کے پلیٹ فارم سے پاکستان بھر میں جامعات اور کیمپس میں طلبہ سوسائٹیز کو فعال کرنے اور مختلف جامعات کی طلبہ سوسائٹیز کو ایک جگہ پر اکھٹے جمع کرکے اُن کے درمیان غیر نصابی سرگرمیوں کی مقابلہ بازی اور فیس ٹو فیس ڈائیلاگز کروانے کے عمل پر کام شروع ہے اور اس سلسلے میں اب تک دو بین الااقوامی طلبہ کنونشن کا انعقاد بھی کیا گیا ہے جبکہ تیسرے بین الااقوامی طلبہ کنونشن کو 26 سے 29 اکتوبر کو کراچی میں کروانے کی تیاریاں بھی شروع ہیں جہاں ملک بھر کی جامعات کی طلبہ سوسائٹیز کے سرگرم طلبہ شریک ہونگے جبکہ بین الاقوامی مندوبین اور طلبہ بھی شریک ہونگے اس موقع پر کئ بڑی جامعات کے وائس چانسلرز کو بھی مدعو کیا گیا ہے جہاں طلبہ سوسائٹیز کو فعال کرنے پر بات چیت عمل میں لائ جائے گی۔

ان تمام عوامل سے کیمپس میں موجود طلبہ ایک دوسرے سے انگیج ہونگے اور جامعات کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔طلبہ سوسائٹیز کسی بھی جامعہ کی پہچان ہوتی ہیں اور ان کا دم توڑنا دراصل جامعات کے دم توڑنے کے مترادف ہے۔طلبہ اور نوجوانوں کے امور پر کام کرنے والی تنظیموں کو اس بارے سوچ بچار کی ضرورت ہے۔چئیرمین آل پاکستان وائس چانسلرز کمیٹی و وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر محمد علی سے جب اس بارے بات چیت کی گئ تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ طلبہ سوسائٹیز کو فعال کرنے اور اس عمل میں درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے تمام سفارشات کو جامعات کے وائس چانسلرز کے سامنے رکھوں گا جبکہ طلبہ امور پر کام کرنے والے محمد مرتضیٰ نور، نیشنل کورآڈینٹر IUCPSS اس بارے پر امید ہیں کہ بہت جلد مختلف جامعات کی طلبہ سوسائٹیز کے لیے نیشنل سطح پر ورکشاپ اور کانفرنس کا انعقاد کریں گے جس میں سوسائٹیز کے صدور کو مدعو کرکے طلبہ کی بہتری کے لیے ورکشاپس ہونگی۔ کچھ ایسا ہی ملتا جلتا موقف ڈاکٹر سہیل یوسف، صدر فیڈریشن آف آل پاکستان ایکڈیمیک سٹاف ایسوسی ایشن، کا ہے ان سے جب اس بارے بات ہوئی تو ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طلبہ سوسائٹیز کی بہتری کے لیے سفارشات کو پورے پاکستان کی فکیلٹی کے سامنے رکھیں گے۔

Facebook Comments Box
ادببہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتانپاکستانپشاور یونیورسٹیپنجاب یونیورسٹی لاہورجامعاتزرعی یونیورسٹی فیصل آبادطلبہ تنظیمیںطلبہ سوسائیٹیطلبہ یونینقائداعظم یونیورسٹی اسلام آبادگورنمنٹ کالج کی سوسائٹیزگورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آبادگورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہوریونیورسٹی آف بلوچستانیونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب اور یونیورسٹی آف ایجوکیشنیونیورسٹی آف کراچییونیورسٹی آف لاہور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
وزیر اعظم آزاد کشمیر کی سنسرڈ تقریر اور آزادی کے لالی پاپ — خرم شہزاد
next post
تخلیقی و فکری یتیم نسلیں ——– عاطف جاوید

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.