تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

میڈیا کورٹس مسترد : میڈیا کا محسن کون؟ —- ایس کے نیازی

by دانش ڈیسک 23/09/2019
written by دانش ڈیسک 23/09/2019
74

صحافتی حلقوں میں یہ بحث بڑے زوروں پر ہے کہ میڈیا عدالتوں کے قیام کا فیصلہ ہو رہا ہے تو کیا یہ اچھا فیصلہ ہے اور اس پر اتفاق رائے ہے کہ یہ فیصلہ مناسب نہیں ہے۔ کل روز نیوز کے پروگرام میں مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ سی پی این ای کے نائب صدر بھی ہیں تو آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ آپ لکھ لیں ایسی کوئی عدالت نہیں بن رہی۔ حکومت میں سے کوئی اگر بلاوجہ کا ایک الجھاو چاہتا بھی ہے تب بھی نہیں بن رہیں کیونکہ ملک میں ایسے ادارے موجود ہیں جو معاملات کو سمجھتے ہیں، جانتے ہیں، بصیرت بھی رکھتے ہیں، اشو اور نان اشوز کی تفریق سے بھی کماحقہ آگاہ ہیں۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں حکومتی وزراء اس فیصلے پر عمل کر لیں۔ کرنے کے اور بہت سارے کام ہیں شگوفے چھوڑنے کی بجائے وہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ عدالتیں ہر گز نہیں بن پائیں گی۔ وزیر اعظم کے بارے میں اب بھی میرا یہ ہی خیال ہے کہ وہ قائد اعظم کا وژن لے کر چلنا چاہتے ہیں تاہم انہیں اپنے ارد گرد ایسے لوگوں پر نظر رکھنا ہوگی جو اُن کی جدو جہد کے ثمرات ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

میں نے کہا ذرا معلوم تو کریں کس نے کہاں یہ درخواست کی ہے اور کس نے کسے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا تاکہ آپ صحافیوں کو بھی معلوم تو ہو کہ آپ کو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا وہاں سے آیا ہے جن کو چلتے پھرتے کہنی مارنا اور جن سے گلے کرنا ہماری عادت ہے۔ کیا پتہ وہی محسن ہوں میڈیا کے۔ سوال جواب کافی ہو گئے تو میں نے کہا اچھا میں آپ کو بتا ہی دیتا ہوں کہ کہیں کوئی ڈنر تھا جہاں میں بھی تھا، میرے ساتھ ڈان گروپ کے حمیدہارون، دنیا گروپ کے میاں عامر محمود، جنگ گروپ کے ابراہیم، ایکسپریس کے سلطان لاکھانی، ہم نیوز کے درید اور عبد الرحمان، میاں حنیف، محسن نقوی، آفتاب اقبال و دیگر ہمارے دوست بھی موجود تھے۔ وہاں میں نے کسی سے درخواست کی کہ سی پی این ای کے اجلاس میں جو برادرم عارف نظامی کی سربراہی میں ہوا اس فیصلے پر بے چینی ہے اور کسی نے ہمیں یقین دلایا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ اسی کھانے پر میں نے میڈیا ٹربیونل بارے بات کی اور میزبان نے تسلی دی کہ نیازی صاحب ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا۔ میٹنگ کے بعد ہیڈ ٹیبل پر جب بات ہوئی تو وہاں پر میرے دوست میاں عامر محمود، حمید ہارون، سلطان لاکھانی، ابراہیم، اور درید میرے ساتھ موجود تھے، یہاں بھی میڈیا کورٹس کا موضوع ہی زیر بحث رہا اور میزبان نے یہاں بھی مجھے یقین دہانی کرائی کہ میڈیا کورٹس نہیں بنیں گی۔ اب باقی کا کام میڈیا خود کرلے کہ معاملہ کیا ہے۔

صحافیوں کو بھی معلوم تو ہو کہ آپ کو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا وہاں سے آیا ہے جن کو چلتے پھرتے کہنی مارنا اور گلے کرنا ہماری عادت ہے۔ کیا پتہ وہی محسن ہوں میڈیا کے۔

کس نے میڈیا ٹربیونل بارے بات کی اور کس نے میڈیا ٹربیونل نہ بننے کی یقین دہانی کرائی، جس نے بچایا وہی محسن ہے، ہو سکتا ہے کہ میڈیا اسی محسن کے بارے میں سب سے زیادہ اشارے کنایوں میں اور براہ راست گلے شکوے کرتا ہو، اس واقعہ کے بعد میڈیا اور ہمیں پتہ چلنا چاہیے کہ حقیقت کیا ہے اور پر سیپشن کیا ہے، بعض اوقات ہم لوگ پرسیپشن پر جارہے ہوتے ہیں حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ میڈیا مالکان کو بھی محسوس ہو گیا ہو گا کہ پرسیپشن کچھ اور تھی اور حقیقت کچھ اور ہے۔ حقیقت یہ ہی ہے جو ہم نے دیکھی اور سنی نیز فردوس عاشق اعوان جو بولنے پر مجبو ر ہوئیں۔

پروگرام میں دوسرا سوال تھا کہ کیا میڈیا والے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ اگر باقی سب کا احتساب ہو سکتا ہے تو آپ کا کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس کے جواب میں، میں نے کہا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے نئے قانون یا نئی عدالتوں کی کیا ضرورت۔ کیا پہلے کوئی قانون یا عدالت موجود نہیں جو میڈیا کا احتساب کر سکے؟ یہاں معمولی سی کوتاہی ہو جائے تو اس پر پیمرا کی طرف سے لاکھوں کے جرمانے عائد کر دیے جاتے ہیں گویا چینلز میں درختوں پر ہیرے جواہرات لگتے ہوں۔ اور لاکھوں روپے تو کوئی بات ہی نہ ہو۔ تعزیرات پاکستان کے تحت سنگین سے سنگین جرم میں اتنا جرمانہ شاید نہ ہو جتنا جرمانہ پیمرا کے ہمارے مہربان کسی کی شادی کی خبر چلانے پر کر دیتے ہیں۔ بہت سے قوانین پہلے ہی موجود ہیں اور عدالتیں بھی کام کر رہی ہیں۔ نئی عدالتوں کا انتظامی بوجھ کس لیے پیدا کیا جا رہا ہے؟ ججز کی تعداد پہلے ہی کم ہے اور نئی عدالتیں بنا کر کیا مزید بحران پیدا کرنا ہے؟ بہت سے مزید تحفظات بھی ہیں اس لیے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایسے شوشے چھوڑے تو جاسکتے ہین لیکن ان پر عمل نہیں ہو سکتا۔

پاکستان میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میڈیا کے لیے کوئی قانون نہیں تو وہ غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے قانون موجود ہیں۔ پیمرا آرڈیننس 2002 ہے، پیمرا کے 2009 کے رولز ہیں، پیمرا رولز 2010 کے تحت کونسل آف کمپلیٹس ہے، 2008 کی پیمرا ریگولیشنز ہیں، 2012 کی پیمرا کنٹینٹ ریگولیشنز ہیں، 2012 کی براڈ کاسٹ سٹیشن آپریشن ریگولیشنز ہیں، 2011 کی ڈسٹری بیوشن ریگولیشنز ہیں، اور تعزیرات پاکستان کی جملہ دفعات بھی ساتھ ہی موجود ہیں۔ جن کا میڈیا پر اسی طرح اطلاق ہوتا جیسے کسی اور پر۔

اس کے ساتھ ساتھ ان ڈیسنٹ ایڈورٹزمنٹ کی ممانعت کا 1963 کا ایکٹ موجود ہے جو ناشائستہ اشتہارات اور کمرشلز کو بھی روکتا ہے اور خلاف ورزی پر کارروائی ہوتی ہے۔ پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسی رجسٹریشن ایکٹ 2002 موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسی رجسٹریشن رولز 2009 موجود ہیں، 2002 کا پریس کونسل آف پاکستان آرڈیننس موجود ہے، نیوز پرنٹ کنٹرول آرڈیننس ہے، کنٹرول آف ایڈ ورٹزمنٹ ریگولیشنز موجود ہیں، لاء رپورٹس ایکٹ ہے، ہتک عزت کا قانون موجود ہے، اس میں دیوانی اور فوجداری دونوں کارروائیوں کی گنجائش موجود ہے، توہین عدالت کا قانون ہے، سیکورٹی آف پاکستان ایکٹ ہے، کاپی رائٹ آرڈیننس، کاپی رائٹ رولز اور انٹر نیشنل کاپی رائٹ آرڈر موجود ہے، نیوز پیپرز ایمپلائز ایکٹ موجود ہے، آئی ٹی این ای کے رولز موجود ہیں، 1960کے ورکنگ جرنلسٹ رولز موجود ہیں۔ ان سب کے علاوہ صوبائی سطح پر بھی قوانین موجود ہیں۔

حکومتی مشینری اگر ان معاملات کو نہیں سمجھتی تو ریاست میں ایسے لوگ ہیں جو ان معاملات کو سمجھتے ہیں۔ جب میں نے ان کے سامنے معاملہ رکھا تو وہ یہ سب جانتے تھے تبھی تو یقین دہانی کروائی کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ ابھی میں اس شو میں رائے دے کر نکلا ہی تھا کہ ٹی وی پر فردوس عاشق اعوان صاحبہ کہہ رہی تھیں کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ وزیر صاحبہ درست کہہ رہی ہیں۔ اچھی بات کر رہی ہیں لیکن شکریہ تو محسن ہی کا ادا کرنا چاہیے۔ جس نے یہ کروایا ہے۔

Facebook Comments Box
featuredMedia CourtsRoze TVSK Niaziاخباراتالیکٹرانک میڈیاایس کے نیازیمیڈیامیڈیا کورٹس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پردے کے پردے میں —- سجاد میر
next post
عسکری نگر کا باشندہ: عزیز ابن الحسن —- قاضی حسین

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.