تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

 دُنیا کی سرمستی اور آصف فرخی کا تخلیقی وفور  —– محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 03/06/2019
written by محمد حمید شاہد 03/06/2019
256

آصف فرخی کی شخصیت اور فن پر رُخسانہ پروین کا تحقیقی اور تنقیدی کام ’’آصف فرخی کی کہانی: جہانِ معنی‘‘ میرے سامنے ہے اور میرا دھیان اُن کے افسانوں کے مجموعے’’میرے دن گزر رہے ہیں‘‘ کے انتساب کی عبارت کی طرف چلا گیا ہے۔ جی چاہتا ہے یہاں وہ عبارت عین مین مقتبس کردوں:

’’صاحبِ کشف افسانہ نگار فرانز کافکا کے نام : جس نے تپ دق میں مبتلا ہونے کے بعد ایک صحت افزا مقام پر آٹھ مہینے گزارنے کے دوران اپنی بیاض میں آخری اندراج یوں کیا تھا: ’’یہ ضروری نہیں ہے کہ تم گھر چھوڑ دو۔ اپنی میز کے سامنے بیٹھے رہو اور سنتے رہو۔ سنو بھی نہیں، بس انتظار کرو۔ انتظار نہ بھی کرو، بس ساکت رہو اور تنہا۔ پوری دنیا اپنے آپ کو تمہارے سپرد کر دے گی کہ اسے بے نقاب کرو۔ وہ اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔ وہ تمہارے سامنے سرمستی میں تڑپنے لگے گی۔‘‘

آصف کی والدہ ڈپٹی نذیر احمد کی پڑپوتی اور شاہد احمد دہلوی کی بھتیجی ہیں۔ ایسے میں سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اگر دنیا کی سرمستی کو آنکنے پر وہ قادر ہو گئے ہیں تو مختلف بات ضرور ہے،

کافکا آصف فرخی کے محبوب لکھنے والوں میں سے ایک ہو سکتے ہیں؛ جب ہی تو اُنہوں نے اپنی کتاب اُنہیں منسوب کی ہے۔ تاہم میرا یہاں کافکا کو یاد کرنے کا سبب وہ بہت قیمتی مشورہ ہے، جس نے آصف فرخی کا دھیان کچھ یوں بٹورا کہ وہ انتساب کا حصہ ہو گیا ہے۔ جی، دم سادھے اپنی لکھنے والی میز کے سامنے بیٹھ جانے کا مشورہ؛یوں جیسے کوئی شکاری پانی میں کانٹا پھینک، دم سادھ کر بیٹھ رہتا ہے۔ میں نے آصف فرخی کی لگ بھگ سب تحریریں پڑھ رکھی ہیں، اور بہ سہولت ایسی تحریریں ( بہ طور خاص افسانے) نشان زد کر سکتا ہوں جہاں پوری دنیا کی سرمستی اُن کے تخلیقی وفور کے سپرد ہوئی ہے مگر اپنے عہد کی نہایت فعال ادبی شخصیت، افسانہ نگار، تنقید نگار، مترجم، منتظم، اور ’’دنیا زاد‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں وقار پانے والے آصف فرخی کے بارے میں یہ گمان باندھنا کہ وہ ٹک کر کہیں بیٹھے رہتے ہوں گے، میرے لیے بہت مشکل ہو گیاہے۔ اِس مشکل کو سلجھانے کے لیے رُخسانہ پروین نے اس خاندانی پس منظر اور تہذیبی فضا کو عین آغاز میں بیان کر دیا ہے جس میں وہ پلے بڑھے۔ یوں اس کا گمان باندھنا ممکن ہو گیا ہے کیسے، ان کے ہاں ادب اور زندگی کے دوسرے معمولات بہم ہو کر اُنہیں الگ سا بناتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر اسلم فرخی اور محترمہ تاج بیگم کے اس فرزند کی گھٹی میں ادب سے محبت پڑی ہوئی ہے اور یہ کہ ادب صرف اور محض ان کے والدین کی روزی روٹی کا مسئلہ نہ تھا، یہ تو ان کی زندگی کی ترجیحات میں رہا۔ آصف فرخی کے دادا محمد احسن بھی ادیب تھے اور چچا انور احسن صدیقی بھی۔ ــآصف کی والدہ ڈپٹی نذیر احمد کی پڑپوتی اور شاہد احمد دہلوی کی بھتیجی ہیں۔ ایسے میں سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اگر دنیا کی سرمستی کو آنکنے پر وہ قادر ہو گئے ہیں تو مختلف بات ضرور ہے، انہونی نہیں ہے۔ ہوا یہ ہے کہ آصف فرخی بہ ظاہر بہت سے کاموں سے نبٹتے نظر آتے ہیں، جی ایسے کاموں سے جن کا تعلق وجود سے باہر رواں دواں زندگی سے ہے مگر عین اسی لمحے وہ اپنے بھیتر میں بھی غوطے لگاتے رہے ہیں اور تخلیق کے موتی چن چن کر سامنے لاتے رہے ہیں۔

ڈائو میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کیا، ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے ماسٹرز کی ڈگری لی، آغا خان یونیورسٹی کراچی، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف اور حبیب یونیورسٹی کراچی میں عملی زندگی کی جدوجہد میں حصہ لیا، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس والوں کے لیے ادبی میلوں کا اہتمام کیا، ملکی و غیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت کی، ادبی جریدے ’’دنیا زاد‘‘ کی ادارت اور ایک اشاعتی ادارے’’ شہرزاد‘‘ کی انتظامی ذمہ داریوں کو بہ خوبی نبھایا اور ساتھ ہی ساتھ افسانے لکھے، تراجم کئے، تنقید کی، اخبارات میں کالم لکھے، حتیٰ کہ شاعری بھی کر ڈالی؛ یاالہی یہ آدمی ہے یا جن؟ اتنے بکھیڑوں میں پڑے ہوئے شخص کے بارے میں ایسا سوچا جا سکتا ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ زندگی کے جس شعبے میں بھی انہوں نے قدم رکھا پوری کمٹ منٹ سے رکھا اور ہر فرض اخلاص نیت سے سر انجام دیا۔ یہی سبب ہے کہ کامیابی ہر بار اُن کے قدم چومتی رہی ہے۔

’’ آتش فشاں پر کھِلے گلاب‘‘، ’’اِسم اعظم کی تلاش‘‘، ’’چیزیں اور لوگ‘‘، ’’شہربیتی‘‘، ’’شہر ماجرا‘‘، ’’میں شاخ سے کیوں ٹوٹا‘‘، ’’اِیک آدمی کی کمی اور’’میرے دِن گزررہے ہیں‘‘ آصف فرخی کے افسانوں نے مجموعے ہیں اور ’’عالم ایجاد‘‘ اور ’’نگاہ آئینہ سازمیں‘‘ تنقیدی مضامین کی کتب۔ اُنہوں نے نہ صرف آئن رینڈ، ہرمن ہیس، گریش کرناڈ، ستیہ جیت رائے، اگنارزیو سلونے، ساتو کی زاکی، ارنستو سباتو، عمر ریوابیلا، نجیب محفوظ، ارون دھتی رائے، رفیق شامی اور کئی دوسرے اہم لکھنے والوں کے انگریزی متون ترجمہ کرکے اُردو کی جھولی میں ڈالے ہیں، انگریزی میں بھی مسلسل لکھا ہے۔ انہوں نے اپنے ہاں کے ادب کے کئی اہم موضوعاتی انتخاب مرتب کیے ہیں۔ ممتاز شیریں کے تنقیدی مضامین ’’منٹو نوری نہ ناری‘ فسادات کے افسانوں پر مشتمل کتاب‘ ’’ظلمتِ نیم روز‘‘ اور’’ منٹو کا آدمی نامہ ‘ ‘ کے علاوہ دیگر متعدد کتب، ان کے اسی باب میں قابل رشک ادبی کارنامے ہیں۔ رُخسانہ پروین نے آصف فرخی کی سب ادبی جہات کا بہت سنجیدگی کے مطالعہ کیا ہے، اُن پر ہونے والی تنقید کو پڑھا ہے، اُن کے ہم عصروں سے مکالمہ کرکے انہیں سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اس سب کو بہت سلیقے سے اپنی کتاب کا متن بنایا ہے۔

آصف فرخی کے افسانوں پر بات کرتے ہوئے وہ ان کے افسانوں کے مجموعوں کے ناموں کی معنویت کو کھنگالتی ہیں اور متن کی معنویت کو بھی اس سے جوڑ کر دیکھتی ہیں۔ اُنہوں نے کن کن موضوعات کو برتا اور کس اسلوب سے برتا اس کا تجزیہ بھی لائق مطالعہ ہوگیا ہے۔ مصنفہ نے بجا طور پر اخذ کیا ہے :

’’آصف فرخی کے افسانوں میں اس بات کا شدید قلق ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو ورثے میں گھٹن، محرومی، اضطراب اور زندگی کی بے معنویت عطا کی ہے اور یہ سب کچھ عصری حالات کی وجہ سے ہے جسے ایک حساس تخلیق کا ر نے اپنے افسانوں میں سمودیا ہے کراچی آصف فرخی کا جنم بھوم ہے وہاں کی زندگی میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اِن کی زندگی میں اضطراب کا ایک طوفان برپا کر دیتا ہے۔‘‘

اور یہ بھی کہ۔ ۔ ۔ ۔

’’آصف فرخی کے ہاں عہد نامے، قرآن، دیگر مذہبیات، قصے، حکایات اور داستانوں سے استفادہ ملتاہے۔ وہ ان سے حوالے لے کر عہد حاضر کے مطابق ایک بڑا تہذیبی اور تخلیقی منظر نامہ پیش کرتے ہیں ’’اصحاب کہف‘‘ اور ’’حکایت نیند سے واپس آنے والوں کی‘‘ زندگی کے باریک اور سنجیدہ مسائل سے تشکیل پاتے ہیں یہاں انہوں نے اپنے عہد کے خالی پن کو ظاہر کیا جہاں افراد کی زندگی بے کیف اور بے رنگ ہے اس میں کوئی جاذبیت نہیں کوئی کشش یا نیا پن موجود نہیں اور فرد اس بے کیف زندگی کوجھیل رہا ہے۔‘‘

میں مصنفہ کی اِس رائے سے پوری طرح متفق ہوں کہ آصف فرخی اُن تخلیق کاروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کے آشوب کو لکھا ہے، اور آشوب کو لکھنے سے پہلے اس کا بہت گہرائی میں جاکر مطالعہ کیا ہے۔ اُنہوں نے عصری علوم کو سمجھا ہے اور جدید عہد کے انسان کے سماجی اور ذہنی رویوں کو آنک کر پھر کہیں اس سب کو تخلیقی متن کا حصہ بنایا ہے۔ مصنفہ نے یہ بھی بجا طور پر شناخت کیا ہے کہ آصف فرخی کے ہاں کردار نگاری میں زیادہ تنوع نہیں ہے اور یہ کہ صیغہ واحد متکلم یا بے نام کرداراُنہیں محبوب ہیں مگر یہ بھی تو ہوا ہے کہ ’’پاڈا ‘‘ اور’’ بودلو‘‘ جیسے افسانوں میں ’’مرشد‘‘ کا کردار بہت مختلف ہوگیا ہے۔ مصنفہ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کے تمام افسانے ایک تکنیک میں نہیں ہیں اور یہی قرینہ ان کرداروں کو کامیابی سے ہمکنار کردیتا ہے۔ افسانوں کے اسلوب کا تجزیہ کرتے ہوئے زبان و بیان کی خوبیوں کو بھی نشان زد کیا گیا ہے جو آصف فرخی کے ہاں ایک اور نمایاں وصف ہو کر سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے کئی افسانوں کے ایسے ٹکڑے مقتبس کیے ہیں جن میں جذبات اور کیفیات کو بیانیہ کا حصہ بنانے کے لیے تشبیہات اور استعارات کو برتا گیا ہے یا بیانیے میں لطف اور تحرک کے لیے مترنم الفاظ استعمال کرتے ہوئے ایک صوتی آہنگ پیدا کر لیا گیا ہے۔ اُنہوں نے بجا طور پر نتیجہ اخذ کیا ہے:

’’آصف فرخی نے افسانوں میں جوزبان استعمال کی اور جن محاورات اور ضرب المثال اور کہہ مکرنیاں کو افسانوی اسلوب کا حصہ بنایا انھوں نے ان کے افسانوں میں نیا پن اور معنوی تہہ داری پیدا کر دی ہے۔ وہ کسی بندھے ٹکے اصولوں کے مطابق کام نہیں کرتے بلکہ ان کے وسیع مطالعہ اور زبان کے اپنے پیرائے نے ان کے افسانوں میں فطر ی حسن پیدا کر دیا ہے۔‘‘

رُخسانہ پروین اس نتیجے پر بھی پہنچی ہیں کہ آصف فرخی نے جہاں جہاں اپنے افسانوں میں داستانوں، مذہبی قصوں، تلمیحات، اساطیر یا حکایات کو برتا ہے، انہیں علامتی جہت عطا کر دی ہے۔ کہیں کہیں ایک تاثر کو افسانہ بنالیا گیا ہے اور کہیں منظر کہانی میں ڈھل جاتا ہے تاہم میں مصنفہ کے اس بیان سے ایک حد تک ہی اتفاق کر سکتا ہوں کہ ’’آصف فرخی بنیادی طور پر ایک علامتی افسانہ نگار ہیں۔‘‘ اس کا سبب یہ ہے کہ علامتی افسانے کی اصطلاع گزشتہ صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں جس نوع کے افسانوں کے لیے برتی جاتی رہی، آصف فرخی کے افسانوں کا اس نوع سے کوئی علاقہ نہیں ہے۔ تاہم یہ بات یوں قبول کی جاسکتی ہے کہ ہر فن پارہ اپنی تکمیل کے بعد کسی صورت حال یا کسی انسانی گروہ کی علامت بن جایا کرتا ہے۔ آصف فرخی کے ہاں بھی ایسا ہوا ہے۔ بہ طور خاص وہاں جہاں مجموعی صورت حال سے وہ جڑتے ہیں اور اُن لوگوں کو افسانے میں کھینچ لاتے ہیں جوکہانی کے راوی کے ساتھ اس صورت حال کو بھگت رہے ہوتے ہیں۔

رُخسانہ پروین نے گزشتہ تین عشروں کے دوران سامنے آنے والے افسانہ نگاروں کی اکثریت کے بارے میں لکھا ہے کہ اُن کے ہاں بیانیہ اور حقیقت پسندانہ عناصر زیادہ نظر آتے ہیں۔ کہیں کہیں علامتی اسلوب برتا گیا ہے تاہم یہ سب قرینے تخلیقی ذائقے کالطف دیتے ہیں۔ ان عشروں میں لکھنے والوں نے ہجرتوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کو لکھا اور اخلاقی، تہذیبی اور روحانی اقدار کی شکست و ریخت، گمشدگی سے دوچار شناخت اور عصری صورتحال کو بھی موضوع بنایا۔ تاہم مصنفہ نے آصف فرخی کو اپنے ہم عصروں سے الگ کرکے ایک ایسے افسانہ نگار کے طور پر بھی دکھا دیا ہے جو اپنے عصر سے جڑا ہوا بھی ہے اور افسانے کی پوری روایت کو بھی محترم جانتا ہے۔ یوں مصنفہ کے نزدیک آصف فرخی کتھا اور داستان سے رشتہ جوڑ کر نئے عہد کا افسانہ لکھنے والا تخلیق کار ہو گیا ہے۔ رُخسانہ پروین نے روایت سے اس تعلق کو آصف فرخی کی ایک خوبی کے طور پرنہ صرف شناخت کیا ہے کہ انہیں ایک ایسے فن کار کے طور پر دکھایا ہے جس کے ہاں یہ ساراعمل محض تقلید نہیں رہتا، تخلیقی تجربے کا حصہ بنتا نظر آتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب یوں اہم ہے کہ اس کے مطالعہ سے نہ صرف آصف فرخی کی شخصیت اور فن کو سمجھا جا سکتا ہے، اُردو افسانے کے مجموعی سرمائے اور اس سرمائے میں آصف فرخی کے ہم عصروں کے تخلیقی حصے کو بھی درست طور پر دیکھا جا سکتاہے۔ آصف فرخی کے ایک ادبی شخصیت کے طور پر محترم ہو جانے اور ایک افسانہ نگار کا اپنے ہم عصروں سے مختلف ہو جانا بھی اسی تناظر میں درست درست آنکا جاسکتا ہے۔ میں رُخسانہ پروین کو اس اہم تصنیف پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کی زندگی کے ہر ہر مرحلے پر شاندار کامیابیوں کے لیے دعا گو ہوں۔

Facebook Comments Box
asif farrukhifeaturedhameed shahidaآصف فرخیمحمد حمید شاہد، featured
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
عصمت چغتائی. روایت شکنی سے روایت سازی تک —- محمد تیمور
next post
فرائیڈ اور اقبال کے نقطۂ نظر میں شخصیت پر خودی کے اثرات —- شہباز بیابانی

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.