تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

سراج منیر: چند یادیں ——– شاہد کامرانی

by Editor2 18/03/2019
written by Editor2 18/03/2019
127

معروف براڈ کاسٹر اور مصنف شاہد کامرانی مرحوم کی خود نوشت ’میری کہانی‘ سے سراج منیر مرحوم کا خوبصورت تذکرہ۔ چند دہائیوں قبل لکھی گئی ایک تحریر۔


جنوری 1971ء کی ایک شام کا ذکر ہے۔ میں وطن کے دفتر میں بیٹھا کوئی کام کر رہا تھا۔ وہ طالب علم شاعر صباح الدین صبا کے ساتھ آئے۔ کہنے لگے۔ ’’میں صحافت سیکھنا چاہتا ہوں۔ کوئی صورت یہاں نکل سکتی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’بھئی آپ اس وقت آنرس کے طالب علم ہیں، وہ بھی انگریزی کے۔ سخت محنت کرنا ہو گی۔ ڈیسک پر آپ کس طرح کام کریں گے؟ کہنے لگے ’’میں کسی طرح انتظام کر لوں گا کہ تعلیم کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘‘ میں مسکرایا۔ ’’میں جانتا ہوں کہ آپ بہت اچھے طالب علم ہیں لیکن ڈیسک کا کام آٹھ نو گھنٹے کا متقاضی ہو گا، اس لیے میرا مشورہ ذرا مختلف ہے۔‘‘ وہ ہمہ تن گوش تھے کہنے لگے۔ ’’پھر آپ کیا چاہیں گے؟‘‘ میں نے میز پر سے ایک ناول اٹھایا۔

’’آپ اس کا ترجمہ کریں انشاء اللہ اچھا معاوضہ دلوا دوں گا۔‘‘ ان کے چہرے پر ایک صحت مند رنگ آیا۔ ’’ہاں یہ بہت اچھا رہے گا۔‘‘ میں نے انہیں سمجھایا۔ ’’اس کا ایک باب کر کے جب ممکن ہو سکے لے آئیے۔ پھر آگے بڑھنے کی ہدایت دوں گا۔‘‘ دوسری مرتبہ آئے تو میں کاپی تیار کرا رہا تھا، فرصت بالکل نہ تھی لیکن ترجمہ کا معیار دیکھنا بھی ضروری تھا، سو میں نے کہا ’’آپ پڑھتے جائیں، میں کام کے ساتھ ساتھ اسے بھی سنتا رہوں گا‘‘ انہوں نے شاید ایک ہی پیرا پڑھا ہو گا کہ میں نے رکنے کا اشارہ کیا، ان کے چہرے پر اچانک کئی رنگ آ کر گزر گئے۔ ’’آپ خبریں پڑھیں گے ریڈیو سے؟‘‘ میں نے پوچھا تو آنکھوں میں عجیب سی چمک لہرا گئی ’’میں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں۔‘‘ مختصر سا جواب تھا۔ ’’سوچا نہیں ہو گا پر آپ پڑھ لیں۔‘‘ میں نے کہا اور ایک کاغذ پر چھوٹا سا رقعہ لکھ دیا۔

سمیع صاحب! حامل رقعہ دو ایک دن خبریں پڑھنے کا موقع دے دیں۔ میں نے آڈیشن لے لیا ہے۔ اگر گنجائش نہ ہو تو میرے دن دے دیں ۔۔۔۔۔۔کامرانی۔‘‘

میں نے رقعہ تھما کر کہا۔ ’’سمیع صاحب اے آر ڈی ہیں ریڈیو میں اور اردو پروگرام ان کے ہی ذمے ہیں۔ آپ کل چلے جائیں۔‘‘ وہ میری طرف عجیب نظروں سے دیکھتے رہے۔ ’’اور ترجمہ؟‘‘ بہت مختصر سا سوال کیا۔ ’’بالکل ٹھیک ہے، سلسلہ جاری رکھیں، شاید مجھے اپنا قلم زیادہ نہ لگانا پڑے، بہت رواں ہے، شستہ اور بہت ہی اچھا۔‘‘ میں نے تھپکی دی۔ اگلی بار وہ آئے تو مژدہ لائے کہ انہیں خبریں پڑھنے کا شیڈول مل گیا ہے۔ پھر کہنے لگے ’’میں پامسٹری پر بھی آپ کو کچھ دینا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا ’’پامسٹری؟‘‘ میرے لہجے میں استعجاب تھا۔ ’’جی مجھے اچھی آتی ہے۔‘‘ میں نے حامی بھر لی۔ دو تین دن بعد آئے تو کالم ان کے ساتھ تھا بہت اچھا تھا میں نے کہا۔ ’’لیکن اس میں نام کیوں نہیں لکھا؟‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بولے ’’اس میں نام مختلف ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔ پروفیسر خیام۔‘‘ میں نے وجہ دریافت کی ’’آخر نام بدلنے کی ضرورت کیا ہے؟‘‘ کہنے لگے ’’فی الحال میں ابّا پر اس کا اظہار مناسب نہیں سمجھتا، اگرچہ سیکھا سب کچھ ان سے ہی ہے۔‘‘ پھر انہوں نے میرا ہاتھ لیا اور برملا کہا۔ ’’ڈیڑھ دو ماہ میں آپ مشرقی پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیں گے۔‘‘ میں حیران ہوا۔ ’’کون میں؟‘‘ جواب آیا ’’جی آپ، میں یہی دیکھ رہا ہوں۔‘‘ میں بپھر اٹھا۔ ’’نہیں ایسا نہیں ہو سکتا، ایسا نہیں ہو سکتا بھائی۔‘‘ وہ گویا ہوئے ’’لیکن اب ایسا ہو کر رہے گا، آپ ڈیڑھ دو ماہ میں، بلکہ حد سے حد ڈیڑھ ماہ میں فیصلہ کر لینگے۔‘‘ میں خاصا پریشان ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ان کا کہا پورا ہوا۔ 27 مارچ 1971ء کو جب کرفیو ختم ہوا اور محمد پور سے بنگالیوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ بے سرو سامانی کے عالم میں بھاگتے نظر آئے تو میں یہ فیصلہ کرچکا تھا۔ ’’اب ہم بنگال میں نہیں رہ سکتے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پروفیسر خیام کون تھے؟ اس وقت بی اے آنرس میں پڑھنے والے اور آج کے ممتاز کمپیئر، مقرر، ادیب، دانشور، شاعر اور ادارئہ ثقافتِ اسلامیہ لاہور کے ڈائریکٹر سراج منیر ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو آج بھی اسی خلوص سے ملتے ہیں جس طرح کل ملتے تھے۔

یہ بھی پڑھئیے:  سراج منیر: ایک یادگار انٹرویو ۔۔ـــــــ۔۔ ڈاکٹر طاہر مسعود (حصہ اول)
Facebook Comments Box
featuredSiraj Munirسراج منیرشاہد کامرانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
اسلامو فوبیا ——— علی عبداللہ
next post
جھوٹی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ نجیبہ عارف

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.