تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبلسانیات

نیولوجزم ——– علی عبداللہ

by علی عبداللہ 14/03/2019
written by علی عبداللہ 14/03/2019
89

کسی بھی زبان میں نئے الفاظ، نئی اصطلاح یا نیا جملہ وضع کرنا نیولوجزم کہلاتا ہے۔ یہ وہ الفاظ ہوتے ہیں جو عمومی سطح پر کسی مصنف، شاعر یا جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے متعارف ہوتے ہیں، لیکن باقاعدہ زبان کا حصہ تب بن پاتے ہیں جب تک وہ زبان عام نہ ہو جائیں۔ نیولوجزم یونانی لفظ “Neo” یعنی نیا اور “Logos” یعنی لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق نیولوجزم پہلی دفعہ 1772 میں استعمال ہوا۔ نیولوجزم لسانیات کے ان اہم عناصر میں شامل ہے جو کسی بھی زبان کو زندہ رکھ کر انہیں معدوم ہونے سے بچاتے ہیں۔ کوئی بھی زبان پتھر پر نقش نہیں ہوا کرتی کہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جائے، بلکہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ ڈھلتی اور بدلتی رہتی ہے۔ کسے معلوم تھا کہ اپنی ذاتی تصویر سمارٹ فون پر اتارنے کو “سیلفی” کہا جائے گا۔ لیکن جیسے جیسے خود کی تصویریں لینے کا رجحان بڑھا، لفظ “سیلفی” بھی پروان چڑھتا چلا گیا اور اب یہ انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی اپنی پہچان بنا چکا ہے۔ زبانیں بدلتی رہتی ہیں، کئی الفاظ متروک ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ چند نئے الفاظ شامل ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی زبان میں نئے اور بہترین الفاظ کا اضافہ اکثر مصنفین اور شعراء کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔

انگریزی زبان کی بات کریں تو اس میں کئی الفاظ متروک ہوئے اور بے شمار نئے الفاظ نے جنم لیا۔ یہ وہ الفاظ تھے جو آغاز میں کسی ایک شخص یا حلقے کی جانب سے استعمال ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انگریزی زبان کا حصہ بن گئے۔ ولیم شیکسپئیر نے تقریباً 300 سے زائد الفاظ متعارف کروائے جو کہ صرف سابقہ استعمال کرنے سے وجود میں آئے۔ لفظ unaware، uncomfortable, unreal, پہلی دفعہ شیکسپئیر نے ہی استعمال کیے۔ اسی طرح سیموئل کالرج نے soul۔mate, actualize, selfless اور intensify جیسے الفاظ کا استعمال کر کے انگریزی زبان کو مزید نئے الفاظ سے آشنا کروایا۔ چارلس ڈکنز کی بات کریں تو لفظ “boredom”, doormat وغیرہ کا استعمال اسی نے ہی کیا۔ ایلس ان ونڈر لینڈ میں بھی کئی نئے اور غیر مروجہ الفاظ موجود ہیں۔ سموگ، ویبینار، ایڈورٹوریل اور بریگزٹ وغیرہ موجودہ دور میں استعمال ہونے والے زبان عام الفاظ ہیں۔ علاوہ ازیں “unkeyboardinated” یعنی جو بنا غلطی کیے ٹائپ نہ کر سکے, “chairdrobe” یعنی وہ کرسی جس پر کوئی اپنے کپڑے پھینکے یا رکھے، اور “textpectation” یعنی وہ احساسات جو کسی ایس ایم ایس کے جواب کے انتظار میں پیدا ہوں وغیرہ وہ الفاظ ہیں جو کسی انگریزی ڈکشنری میں تو موجود نہیں لیکن آج کل یہ عام استعمال کیے جاتے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ کچھ عرصے بعد یہی الفاظ زبان کا باقاعدہ حصہ ہوں اور لغات میں بھی شامل کر دیے جائیں۔

لفظ “پریس ٹیٹیوٹ” ان صحافیوں کے لیے بولا جاتا ہے جنہیں لفافہ چھاپ بھی کہا جاتا ہے۔

چند سال پہلے تک اخبارات، فلم انڈسٹری، ٹیلی ویژن اور ادبی تحاریر نیولوجزم کا بہترین ذریعہ تھے لیکن اب سوشل میڈیا نے انگریزی، اردو، ہندی، ترک اور دیگر کئی زبانوں میں نئی اصطلاحات اور الفاظ کا اضافہ کیا ہے جنہیں لاتعداد لوگ استعمال کر رہے ہیں۔ مثلاً ہندوستان میں سوشل میڈیا اور علاقائی سطح پر لفظ “آپٹارڈ” کافی مقبول ہے۔ یہ اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو عام آدمی پارٹی کا دیوانگی کی حد تک سپورٹر ہو۔ ایک اور لفظ “chrislamcommie” جو کہ کرسچئین اسلامک کمیونسٹ کا ملاپ ہے، سوشل میڈیا پر اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ “گودی میڈیا” کی اصطلاح حکومت نواز چینلز اور اخبارات کے لیے زبان عام ہے۔ لفظ “لو جہاد” بھی ہندوستان میں مقبول عام ہے جو کہ love اور جہاد کا ملاپ ہے۔ یہ اس شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی کو شادی یا محبت کا جھانسہ دے کر مذہب کی تبدیلی کا باعث بنے۔ “مودیاپہ” یہ مودی کے سپورٹر کی طرف سے کیے جانے والے پروپگنڈا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح لفظ “پریس ٹیٹیوٹ” ان صحافیوں کے لیے بولا جاتا ہے جنہیں لفافہ چھاپ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ نئے الفاظ ہیں جو ہندی زبان میں بولے جاتے ہیں مگر کسی لغت کا باقاعدہ حصہ نہیں ہیں۔

اردو کی بات کریں تو اردو پاکستان کی قومی زبان ہے لیکن اس میں بھی اردو، پنجابی اور انگریزی الفاظ کے ملاپ سے کئی نئے الفاظ وجود میں آئے ہیں جو باقاعدہ اردو زبان کا حصہ نہیں اور نہ ہی لغت میں موجود ہیں۔ خالص عربی لفظ جیسے غافل، فتوی، اطراف، ترک الفاظ جیسے اردو، بیگم، باجی، یلغار، فارسی الفاظ جیسے، آب و ہوا، آشیانہ، بہار، بد تر، پرتگالی الفاظ جیسے چابی، تمباکو، انگریز، پگار وغیرہ تو باقاعدہ اردو زبان کا حصہ ہیں ہی، لیکن یہ نئے وضع کردہ الفاظ میڈیا اور عام عوام میں استعمال ہوتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً چہرے کی فٹنس، راجو راکٹ، سستا ڈرائی فروٹ، لکی تھپڑ، اعلی ریسلر، اچھا کویسچن، گوشت سپلائر، اردو اکیڈمی، سیکورٹی دستے، سائبر مجرم وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو یا تو انگریزی زبان کے ملاپ سے وجود میں آئے ہیں یا کسی دوسری زبان کا ترجمہ ہیں جیسے “ماہی پروری” جو کہ ہندی لفظ مچھلی پالن سے لیا گیا ہے۔ اسی طرح سٹیج ڈرامے میں ایک لفظ “سائیں بچیچی” بولا گیا جس کا مطلب جسمانی طور پر کمزور اور ناتواں شخص کے ہیں۔ گو کہ یہ لفظ اردو میں مستعمل نہیں لیکن پنجاب میں مقامی سننے والے اسے فوراً پہچان جاتے ہیں۔ ایسے مزید الفاظ ہماری مادری زبانوں میں استعمال ہو رہے ہیں جن کا باقاعدہ کوئی معنی نہیں اور نہ ہی وہ علاقائی و قومی زبانوں کی لغت میں موجود ہیں، مگر عام لوگ اسے موقع کی مناسبت سے جب استعمال کرتے ہیں تو سننے والے فوراً سمجھ جاتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئے الفاظ کو معدوم ہونے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے ان الفاظ کا زیادہ سے زیادہ استعمال نہایت ضروری ہے۔ جب موجودہ الفاظ کا استعمال متروک کیا جانے لگے تو آہستہ آہستہ وہ لفظ مکمل طور پر معدوم ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا زبان کو فروغ دینے اور نئے الفاظ کو مستحکم بنانے کے لیے نہایت بہترین پلیٹ فارم ہے۔ لہذا جب تک لوگ ان نئے الفاظ کو حسب ضرورت استعمال کرتے رہیں گے زبان کی چاشنی اور وسعت برقرار رہے گی اور نئے آنے والے الفاظ زبان کا ایک اہم حصہ بنتے چلے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیئے:  اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں کی ہم آہنگی —– نجیبہ عارف
Facebook Comments Box
actualizefeaturedmateselflessunawareuncomfortableunreal
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
علی عبداللہ

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

previous post
مڈل کلاس اور اخلاقیات کا زعم —– فرحان کامرانی
next post
آئن سٹائن، خُدا اور وحدت الوجود: دلچسپ مُماثلات‎ —– گُل ساج

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.