تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالم

مڈل کلاس اور اخلاقیات کا زعم —– فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 14/03/2019
written by دانش ڈیسک 14/03/2019
154

پیسہ ہونا اور پیسہ نہ ہونا دونوں ہی بڑے عجیب تجربات ہوتے ہیں۔ آپ کی جیب میں اربوں روپے پڑے ہیں تو جیب بھاری ہو جائے گی اور اس کے وزن سے غالباً آپ بھی۔ مگر جیب بالکل خالی ہو تو بھی زندگی بڑی بھاری ہو جاتی ہے۔ مگر ایک بات اہم ہے وہ یہ کہ جن کی جیب نوٹوں سے بھاری ہے اور جن کی زندگی جیب کے خالی ہونے سے بھاری ہے ان دونوں ہی طبقات کے پاس زندگی کے بڑے واضح اور مضبوط تجربات ہوتے ہیں۔ یہ دونوں ہی طبقات یعنی امیر اور غریب، اخلاقیات کے امتحان سے ہر لمحہ ہر پل گزرتے ہیں۔ دولت بھی اخلاقیات کا امتحان ہوتی ہے اور غربت و افلاس بھی۔

مگر ایک طبقہ ان دو طبقات کے درمیان بھی ہے۔ وہی طبقہ جسے مڈل کلاس کہا جاتا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جسے غریب غرباء کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ امیر ہے اور امراء کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ غریب ہے۔ بالاصل یہ طبقہ نہ تو غریب ہے نہ امیر، بلکہ اپنی نہاد میں ذہنی مریض ہے۔ مگر ہمارے اس دعوے کی دلیل ہے کیا؟

ذرا غور تو کیجئے کہ امیر کے مسائل کیا ہیں؟ امیر کے مسائل کا تعلق یا تو لالچ سے ہوتا ہے یا رشتوں کی بے ثباتی سے۔ ہر صورت میں دولت اپنی اوقات دکھا دیتی ہے اور انسان کو بتا دیتی ہے کہ دولت اور طاقت ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ دولت کیا کیا کر سکتی ہے، کیا کیا خرید سکتی ہے، یہ دولت والوں کے تجربے میں ہوتا ہے۔

پھر غریب کا تجربہ بھی خالص ہوتا ہے۔ وہ رشتوں کی اہمیت کو جانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس دولت تو نہیں مگر رشتے ہیں۔ وہ رشتوں کی قدر کرتا ہے اور اگر ضروری ہو تو اپنی جان اور اخلاقیات سب کچھ رشتوں پر قربان کر دیتا ہے۔ امیر اور غریب دونوں ہی کی اخلاقیات اصلی ہوتی ہے، یا تو ان میں اخلاقیات ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ امیر اور غریب دونوں کو ہی اخلاقیات کا ڈھونگ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ برنارڈ شا کے کردار مسٹر ڈولٹل نے بڑے مزے سے کہا تھا کہ وہ اخلاقیات کو afford نہیں کر سکتا۔ مگر تیسرا طبقہ یعنی مڈل کلاس؟

مڈل کلاس کے لئے اخلاقی امتحانات، دوراہے، آزمائشیں کم ہی آتی ہیں۔ مڈل کلاسیے کی زندگی عموماً واقعات سے خالی ہوتی ہے۔ بس پیدا ہوئے، پڑھائی کی، نوکری کی، شادی کی، بچے پیدا کئے، ان کی شادیاں کیں، پھر شوگر، دل کی بیماری، ہیپاٹائٹس وغیرہ وغیرہ میں مر گئے۔ پنشن ملی تو کھالی، خود نہ کھا سکے تو بیوی بچوں کے کام آ گئی۔ سب سے بڑے گناہ، گندی فلمیں دیکھنا، بجلی چوری، امتحان میں نقل وغیرہ۔ سب سے بڑی نیکیاں، رمضان میں روزے رکھنا اور رمضان میں نماز کی پابندی وغیرہ وغیرہ۔ غریب آدمی کی حیات میں بھی خواہشات موجود ہوتی ہیں مگر ظاہر ہے کہ نہ اس کی زندگی میں اس طرح کا توازن ہوتا ہے جو مڈکل کلاسیے کو میسر ہوتا ہے نہ ہی اس کی حیات میں اس کا آدھا بھی تحفظ ہوتا ہے، اسی لئے غریب آدمی کبھی بھی پٹری پر چلنے والی ریل گاڑی نہیں بنتا جب کہ مڈکل کلاسیہ ہوتا ہی ریل گاڑی ہے کہ جس کی پٹڑی بڑی طے شدہ ہوتی ہے۔ مگر مڈل کلاسیے کو سب سے بڑا زعم تو اپنی اخلاقیات پر ہی ہے۔ وہ خود کو اکثراخلاقیات کا توپ خانہ سمجھتا ہے اور ہر وقت اپنے ہاتھ میں ایک ترازو اٹھا کر بڑے بڑے اخلاقی محاکمے جاری کرتا رہتا ہے۔

 کوئی مڈل کلاسیا اچانک امیر یا اچانک غریب ہو جائیں تو عام طور سے اُس کی اخلاقیات کی قلعی اسی وقت کھل جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اُس نے بعض انسانوں کو مڈل کلاسیہ بنا کر اُن کی عزت رکھ لی۔

مڈل کلاسیے بڑے غرور سے یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سب سے اعلیٰ اخلاقیات تو بس مڈل کلاس کے ہی پاس ہوتی ہے، یہ بات جتنی عام ہے اور جس شدت سے اس کی گردان کی جاتی ہے، یہ اتنی ہی غلط ہے۔ اخلاقیات کا حقیقی امتحان تو طاقت دے کر لیا جاتا ہے یا غربت دے کر۔ ورنہ گھر بیٹھ کر بڑے بڑے مفروضوں پر مبنی باتیں کرنا تو بہت آسان کام ہے، اس موضوع پر ندا فاضلی نے کیا خوب کہا ہے کہ

میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے
وقت بدلا تو تیرے رائے بدل جائے گی

مگر 99 فیصد مڈل کلاسیوں کا وقت کبھی بدلتا نہیں۔ اسی لئے ان کی اخلاقیات کا کبھی صحیح امتحان ہو ہی نہیں پاتا۔ وہ اس لئے کم گناہ کر پاتے ہیں کیوں کہ قدرت ان کے ہاتھ باندھ کر رکھتی ہے اور وہ ہاتھ بندھے بندھے ہی پنشنر ہو کر مر جاتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔ مڈل کلاسیوں کی اخلاقیات ان کی 55، 60 سال کی زندگی (اوسط) کے دورانیے میں بس ان کے منہ سے نکلی ہوئی بڑی بڑی باتوں کی صورت میں ہی ظاہر ہو پاتی ہے۔

ویسے تو قدرت کبھی اپنے اصول بدلتی نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر کبھی قسمت کی چرخی پلٹا کھا جائے اور کوئی مڈل کلاسیا اچانک امیر یا اچانک غریب ہو جائیں تو عام طور سے اُس کی اخلاقیات کی قلعی اسی وقت کھل جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اُس نے بعض انسانوں کو مڈل کلاسیہ بنا کر اُن کی عزت رکھ لی۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اخلاقی طور پر سب سے کمزور ہیں۔ دباؤ میں فوراً ٹوٹنے والے، لالچ پر فوراً لپکنے والے ہیں۔ اللہ نے انہیں مڈل کلاسیہ بنایا تا کہ یہ کوئی گناہ کر ہی نہ سکیں، بس اٹکے رہیں، نو من تیل اور لکڑی کے چکر میں چلتے رہیں۔ اللہ کسی نفس پر اس کی ہمت سے بڑا بوجھ نہیں ڈالتا۔ مڈل کلاسیہ وہ ہے جو نہ غربت کا بوجھ اٹھانے کی اہلیت رکھتاہے نہ امارت کا بوجھ اٹھانے کی۔ اس کے لئے تو اخلاقیات بھی محض ایک مجبوری اور منہ چلانے، اخلاقی جگالی کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور کچھ نہیں۔ یہ ہے وہ طبقہ جو اپنے زعم کے باوصف ایک طرفہ تماشا ہے، ایک اضحوکہ، ایک مذاق۔ مگر اس کا شعور بھی مڈل کلاسیوں کو ہے؟

یہ بھی دیکھئے: من کہ مسمی مطالعہ پاکستان —— ملک آفتاب اعوان
Facebook Comments Box
EthicsfeaturedMiddle ClassMiddle Class MoralityMoralityاخلاقیاتامیردرمیانہ طبقہغریبلوئر کلاسلوئر مڈل کلاسمڈل کلاسمڈل کلاس کی اخلاقیاتمڈل کلاسئیے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
علمی ادارے بوجھ نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اورنگزیب نیازی
next post
نیولوجزم ——– علی عبداللہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.