تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلم و ادبکالممزاح

فیس بک لکھاریوں کی کیٹ واک —— لالہ صحرائی

by لالہ صحرائی 16/02/2019
written by لالہ صحرائی 16/02/2019
101

ہر دو تین ماہ بعد کسی نہ کسی کو لکھاریوں کا مقابلۂ حسن کرانے کی چیونٹی کاٹ جاتی ہے، بندہ چھانٹنے والا ہو تو اس کام کیلئے میٹیریل بھی کافی مل جاتا ہے۔

اس کھیل کے منتظمین کچھ کچے پکے کہانی کار، انتخابیئے، گوگلیئے، کٹ پیسٹیئے اور کچھ سیاسی تنقید نگار پھٹے پہ لگا کے بیٹھ جاتے ہیں اور ایسی ممتا بگھارتے ہیں جیسے انہیں گود لینا چاہ رہے ہوں، تجزیئے کی بجائے لگتا یوں ہے جیسے ان کے گال تھپتھپا کے میرا گگلو مگلو شا کاکا کہا گیا ہو۔

پھر لکھاریوں کی کیٹ واک شروع ہو جاتی ہے، ایک کے بعد ایک کا نام ٹیگ ہوتا چلا جاتا ہے، مارے مروت کے ہر لکھاری بیچارا اس ماڈلنگ ریمپ پہ چلتا ہوا آخری کنارے پہ آکے کولہے پہ ہاتھ رکھ کے کھڑا ہوجاتا ہے، لو جی…! آداب و تسلیمات کیساتھ فدوی حاضر ہے۔

کچا پکا کلاکار پپو سے بچے کی طرح شرماتا لجاتا ہوا آتا ہے کہ مجھے کہاں بڑے لوگوں میں ٹیگ کر دیا، لیکن اب ٹیگ کر ہی دیا ہے تو آئیندہ میں اس سے بھی اچھا لکھنے کی کوشش کروں گا اور اپنے قارئین کو مایوس نہیں کروں گا، اس طرح کا عہد و پیمان باندھ کے، حیرت اور پھولی ہوئی سانس کا مارا، یہ غریب نکل لیتا ہے تو کوئی دوسرا آگے آجاتا ہے۔

bay_b_girl betty gilpin nude Bay_B_Girl_قدرے پختہ کار بندہ ایک گول مٹول سے فٹبالر کی طرح آتا ہے جیسے مخالف ٹیم کے ہاں گول کرنے جا رہا ہو، یہ اس ریمپ کے کنارے پہ کھڑا ہو کے ایک لمبا سا کومنٹ پھینکتا ہے جس کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ آپ کا تجزیہ حقیقت کے قریب تو نہیں البتہ کسی حد تک ٹھیک ہے، مطلب یہ کہ اس کا نام جس رینک پہ ڈال دیا گیا ہے وہ بھی غنیمت ہے مگر شروع کے دو تین ناموں میں شمار کیا ہوتا تو یہ تجزیہ حقیقت کے قریب ہوجانا تھا۔

اس کے بعد شائقین کی باری آتی ہے، باقی کا لُچ وہ آکے تلتے ہیں، دیکھیں جی آپ نے جو لکھا وہ بھی ٹھیک ہے مگر ان سب سے بہترین لکھاری تو ارجمند خان ہے لیکن میں ذاتی طور پہ عبدالقدوس کو زیادہ پسند کرتا ہوں البتہ غور سے دیکھا جائے تو شیدا پاپڑی عبدالقدوس سے بھی اچھا لکھتا ہے۔

ارجمند خان، عبدالقدوس اور شیدا پاپڑی تینوں پریشان ہو جاتے ہیں کہ تعریف اصل میں کس کی ہوئی ہے، یہ تینوں غریب الدیار، مجروح الوقار و حواس الخوار مصنفین اگر کھینچ تان کے اپنے حق میں کوئی نتیجہ نکالنے کی کوشش کر بھی لیں تو بھی لاحاصل ہی رہتی ہے کیونکہ اسی کمنٹ کے جواب میں کسی نے گھاس منڈی والے عبدالشکور کے بارے میں لکھا ہوتا ہے کہ اس کا ایک افسانہ “گھاس کی آزمائش” ان تینوں پر بھاری ہے، نیز یہ کہ شکور بھائی لکھتا بہت کم ہے، اگر لکھنے پہ آجائے تو باقی سب کی چُھٹی کرادے، شکور بھائی کا افسانہ “سرسوں کی آگ” بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

پھر دو مدرسے والے بھائی برہانِ قاطع مولوی ابوالعدیم، ابوالفضل قاری قطب القدیم اور خضرِ راہ مولانا ابوالمنانہ کو لے آتے ہیں کہ ان سے بہتر کوئی نہیں لکھتا اور یہ بھی بتا جاتے ہیں کہ البتہ باقیوں کو ہم نے پڑھا ہی نہیں کیونکہ ان تین حضرات کو پڑھنے کے بعد کسی اور کو پڑھنے کی حاجت ہی باقی نہیں رہتی۔

ان کے بعد وہ آتے ہیں جو بذات خود پرنس ہوتے ہیں اور ان کے دل بے بی ڈالز، پرنسیس تانیہ، محترمہ فروزاں اور آنسہ جاوداں کی نوکِ قلم پر دن رات رقص کناں رہتے ہیں۔

ان برگروں کے منہ سے قلم و قرطاس پر مہیلاؤں کی دسترس کا بیان سُن کے ان کی وال دیکھیں تو وہاں 536 لائیکس، 274 کومنٹس اور 164 شئیرز کے ساتھ کچھ اس طرح کا اسٹیٹس کھڑا منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔

“میں آٹا گوندھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ جب ایک پرات آٹے سے 15 پیڑے بنائے جا سکتے ہیں تو کائنات میں پھیلے رازِ دروں کا بھار اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں سوائے انسان کے جو گندم کو اس حال تک پہنچا کیلئے خلیفۃ الارض واقع ہوا ہے، میں روٹی پر توے کے گہرے نقوش دیکھ کر سوچتی ہوں کہ خلا میں پھیلے کتنے ستارے اور کہکشائیں انسان کے فانی ہونے پر بین کرتی ہیں، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب روٹی اپنے آپ نہیں پک سکتی اور کھانے والے سڑی ہوئی روٹی پر کچھ نہیں بول سکتے تو اتنی بڑی کائنات کے پیچھے کوئی نہ ہو یہ ایک ملحد کیسے بول سکتا ہے، چنانچہ میں الحاد کی آخری سانسیں پی کر کہتی ہوں بخدا ابھی بھی وقت ہے ان پیڑوں کے روٹیوں میں ڈھل کے امر ہو جانے کی طرح انسان کو بھی اپنی فنا سے پہلے بقا کا جام پی جانا چاہئے کیونکہ ہمارے حضرت حکیم طیب گل صاحب فرماتے ہیں کہ تصوف کی غلام گردشوں میں بندۂ آخرت بین مبارک بندہ ایست کہلاتا ہے مگر حقیقی غلامی بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے، سو لو ویو گائیز، اپنا اپنا خیال رکھنا”۔

ان مہیلاؤں میں کچھ سِلمہ۔ستارہ ہر تین ماہ بعد طلوع ہوتی ہیں اور آناً فاناً نمیرہ احمد وغیرہ بننا یا ان کے جیسی مشہور ہونا چاہتی ہیں، یہ فیس بک پر ایسے سوار ہوتی ہیں جیسے کراچی کی بسوں میں ڈاکو سوار ہوتے ہیں کہ چلو بھئی سب اپنا اپنا کیش اور موبائل نکال دو، بہت برت لیا تم، اب ہماری باری ہے۔

ایسی محترمہ فیس بک پر چڑھ کے صرف ون لائینر آرڈر جاری کرتی ہے کہ کوئی اچھا سا رائٹر ہے تو بتاؤ بھئی مجھے ایڈ کرنا ہے، ساتھ میں دس پندرہ علوم کی لسٹ بھی دیں گی کہ یہ سب کچھ اسے آتا ہوا ہو۔

اس کے بعد لکیر کے فقیر اس ایک لائن کے پیچھے خاصی لمبی لائن بنا لیتے ہیں اور رائٹرز اٹھا اٹھا کے اس کے آگے پھینکنے لگتے ہیں جیسے کپڑے والا رنگ برنگے تھان کھول کھول کے پھینکتا ہے، باجی یہ دیکھ لو، باجی وہ دیکھ لو، باجی نے لینا دینا ککھ نہیں ہوتا، ایویں ڈیڑھ سو تھان کھلوا لیتی ہے، پسند پھر بھی کوئی نہیں آتا، لوگوں کو مشقت کرانے کے بعد اپنے سوا کسی کی پوسٹ پر وہ کبھی نظر بھی نہیں آتی کیونکہ اپنے رش سے فرصت ہی نہیں ملتی تو جائے کہاں غریب۔

بیچ بیچ میں کئی جھانواں بیچنے والوں کی طرح ماٹھے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کٹ پیسٹیوں کو رائٹر سمجھ کے لگے ہوتے ہیں، ان کی آواز بھی علیحدہ ہی ہوتی ہے، باجی اتنا مہنگا اسٹیل کا جھانواں کیا کرنا ہے، ٹخنے مانجھنے کیلئے مٹی کا جھانواں ہی بہتر رہتا ہے، بڑے لوگوں کے نخرے ہی بڑے ہوتے ہیں اسلئے باقی سب کو چھوڑ کے آپ بقراط لہوری کو ایڈ کرلو۔

بعض لوگوں کو پتا چلتا ہے کہ لڑکی نے مشورہ مانگ لیا ہے تو سواری گھیرنے والے رکشوں کی طرح ایک کے پیچھے ایک چلا آتا ہے، باجی دس کم دے دینا، میں چھوڑ کے آتا ہوں، ایسے لوگ اپنے کسی دوست یا پسندیدہ بندے یا اپنی ہی فیک آئیڈی کو بحیثیت بڑا رائٹر ایڈ کروانے کی تگ و دو میں لگے ہوتے ہیں اور ان کے پیش کئے گئے دوست اسی وقت سے حساب کتاب لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ ایڈ ہونے کے بعد بی۔بی کو کیا کیا سمجھانا ہے، بعض اتنے خوش فہم ہوتے ہیں کہ رومینٹک ڈائلاگز بھی گھڑنا شروع کر لیتے ہیں کہ لڑکی ممنون ہوکے پتا نہیں کب ڈیٹ مارنے تک آجائے۔

یار کہہ کے بات کرنیوالی مہیلاؤں کی پوسٹوں پر یار لوگ رات کے آخری پہر تک پہرہ دیتے ہیں اور صبح اٹھ کے پھر اس کی پوسٹ پر ایک ایسا کمنٹ جڑ دیتے ہیں کہ وہ دوبارہ یار کہنے پر مجبور ہو جاتی ہے

اس گھسیٹا گھساٹی میں بعض لوگ جو اپنا حلقۂ دانش اور مطالعہ ذرا وسیع کرکے ظاہر کرنا چاہتے ہیں وہ تین بڑے نام، دو گوگلیئے، دو انتخابیئے اور دو کٹ پیسٹیے ملا کر نو کا ایک سیٹ بنا کے پیش کرتے ہیں۔

اس کے بعد ان نو میں سے اصلی تین چھوڑ کے باقی چھ کے چھ بیچارے جابجا ہاتھ پاؤں جوڑ رہے ہوتے ہیں، اووو بھائی میں کہاں رائٹر ہوں یار، اووو بھائی مجھے کہاں لکھنا آتا ہے یار، اووو یار مجھے کہاں ان بڑے لوگوں کے ساتھ ملا رہے ہو بھائی، اور اندر سے چونکہ خوش ہوتے ہیں اسلئے ساتھ ہی ساتھ اپنے پیشکار کو یہ بھی کہتے جاتے ہیں، شکریہ بھائی تو نے مجھے اس قابل سمجھا، میں تیرا یہ احسان کبھی نہ بھولوں گا۔

محترمہ کی ایک لائن پر لائنیں لگی ہوئی دیکھ کے بندہ سوچتا ہے یار کوئی بہت ہی علم کی پیاسی ہے زرا اس کی وال کا بھی ایک جائزہ ہو جائے لیکن اس کی وال دیکھ کے احساس ہو جاتا ہے کہ علم کی پیاس والی کوئی گل نہیں، اسے محض جمپ چاہئے یا جمپ پیڈ کے طور پر دو چار بڑے نام چاہئیں جو اس کی پوسٹوں پر واہ جی واہ، بلے جی بلے، کمال کر دیا جی لکھ جایا کریں تو عام لوگ اسے بھی بڑی رائٹر سمجھنے لگیں گے جہاں بڑے بڑے رائیٹر تعریف کئے بنا نہیں رہ پاتے۔

بعض بیبیاں ایک دم توجہ پانے کے لئے بھی ایسا سٹنٹ پیل جاتی ہیں ورنہ جس طرح کی دیوار رنگ کے بیٹھی ہوتی ہیں اس کے حساب سے تو وہ بذات خود علم کی ٹونٹی لگتی ہیں۔
ان کی وال پر تینوں وقت تازہ آٹا گوندھ کے رکھا ہوتا ہے، تازہ پکاتی ہیں، تازہ کھلاتی ہیں، مگر کھانے والے کچی پکی، جلی کٹی، آڑھی ترچھی سب کھا پی جاتے ہیں، اوپر سے لمبا لمبا ڈکارتے بھی ہیں۔

یار کہہ کے بات کرنیوالی مہیلاؤں کی پوسٹوں پر یار لوگ رات کے آخری پہر تک پہرہ دیتے ہیں اور صبح اٹھ کے پھر اس کی پوسٹ پر ایک ایسا کمنٹ جڑ دیتے ہیں کہ وہ دوبارہ یار کہنے پر مجبور ہو جاتی ہے، اس زرا سی محنت سے بندے کا سارا دن اسی نشے میں مست گزرتا ہے کہ وہ مجھے یار کہتی ہے، اس ایک لفظ سے بعض کی تو ایسی مت ماری جاتی ہے کہ اسے گرم مصالحہ ہی سمجھ لیتے ہیں مگر انبوکس میں جاکے پتا چلتا ہے کہ وہ صرف دماغ کی گرم ہے۔

جنہیں اپنے بارے میں بہترین لکھاری ہونے کا پکا یقین ہوتا ہے وہ اس بزم خرد یا خراد ورکشاپ میں دو دن بعد ایک ادائے بے نیازی کیساتھ آتے ہیں اور آداب تسلیم تشکر مشکور مشکر ممنونم بسیار سلامتی نمود وغیرہ لکھ کے کلٹی مار جاتے ہیں۔

دو اڑھائی دن بعد یہ فنکشن ماند ضرور پڑ جاتا ہے لیکن ختم نہیں ہوتا کیونکہ اس کے بعد یہ دو چار دوسرے لوگوں کی وال پر شفٹ ہو جاتا ہے تاکہ جو کمی رہ گئی ہے وہ ان کے ہاں پوری ہو جائے۔

اس کے بعد ایک دو فنکشن وہ ہوتے ہیں جہاں ان حقداروں کیساتھ انصاف کیا جاتا ہے جن کیساتھ پہلے والے فنکشنز میں ناانصافی کی گئی ہوتی ہے۔

اس ایوارڈ شو کا حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا، بیسٹ رائیٹرز ایوارڈ گوز ٹو گو کی تکرار لگی رہتی ہے لیکن جاتا کسی کو نہیں کیونکہ عین فیصلہ کن لمحات میں ایک نیا بندہ آکے اپنی پسند کیمطابق ایک نیا لُچ تل دیتا ہے۔

سات اعشاریہ چھ درجے کے اس بھونچال کے بعد تین مہینے سکون سے نکل جاتے ہیں، مقابلہ کرانیوالی مہیلا اور مہیلو بذات خود ایسے معزز ہوجاتے ہیں کہ اب لنڈے کا مال بھی چھاپ دیں تو نایاب لگتا ہے کیونکہ اس پر ان تمام بڑے رائیٹرز کی آشیرواد فٹک کرکے آجاتی ہے جو اس رائٹر مار مہم کے دوران پکڑے گئے ہوتے ہیں، ان میں سے کسی ایک دھانسو کو استاد کا درجہ بھی دے لیتے ہیں تاکہ اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں، باقی رائیٹرز اپنی مدح سرائی پر اتنا ممنون ہوچکے ہوتے ہیں کہ آتے جاتے لنڈے کے مال کو بھی چھوٹی موٹی لَیس لگا جاتے ہیں، یوں انجمنِ اسرارِ باہمی کا ایک ایسا کلوز سرکٹ بن جاتا ہے جس میں اختلاف کرنا بھی پڑے تو ہر کسی کو پیشگی معذرت اختیار کرنا پڑتی ہے۔

اس جوڑی کا کیرئیر بن جائے تو تین ماہ کے بعد رائیٹرز کیلئے پھر سے ایک نئے مہیلو کی ممتا جاگ جاتی ہے، اور ساتھ ہی کوئی نئی مہیلا بھی میدان میں آجاتی ہے، چلو بھئی مجھے کوئی اچھے اچھے رائیٹرز بتاؤ میں نے ایڈ کرنے ہیں۔

Facebook Comments Box
featuredسوشل میڈیا لکھاریفیس بکفیس بک رائٹرفیس بک لکھاریلکھاریمزاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
دین اور موجودہ سوشل سائنسز ——– احمد جاوید
next post
متاع شام سفر: کتاب اور صاحب کتاب —– شاہد اعوان

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.