تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینمنتخب کالم

ہندوستان سے دوستی: کیا ہم غلطی پر ہیں؟ —- ایاز امیر

by دانش ڈیسک 22/12/2018
written by دانش ڈیسک 22/12/2018
103

ہم میں سے بہت برصغیر کا نقشہ صحیح طور پہ نہیں دیکھتے۔ ہندوستان ہمیں نظر آتا ہے‘ کشمیر کو ہم بھول جاتے ہیں۔ اور جب ہندوستان سے دوستی کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہنوں سے کشمیر یکسر نکل جاتا ہے۔

اب تو مغربی میڈیا بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینے لگ پڑا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں کشمیر پہ ایسے مضمون لکھے جا چکے ہیں جو پاکستانی اخبارات میں نہیں ملتے۔ کشمیر میں جو صورتحال چل رہی ہے وہ پاکستان یا اُس کی کسی ایجنسی کی پیدا کردہ نہیں۔ موجودہ شکل کشمیری مزاحمت کی ایک بالکل نئی چیز ہے۔ بندوق اُٹھانے والے جنگجوؤں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اُن کی تعداد لگ بھگ 250 ہے۔ لیکن اُن کے پیچھے کشمیر کی پوری مسلمان آبادی کھڑی ہے۔ 1989ء میں جب مقبوضہ کشمیر میں بغاوت اُٹھی تو جنگجو حملے کرتے اور پھر آبادی میں غائب ہو جاتے تھے۔ مسلم آبادی سہمی رہتی۔ لیکن اَب صورتحال یہ ہے کہ کہیں کسی گاؤں میں ہندوستانی فوج اطلاع ملنے پہ کسی جنگجو کے پیچھے آئے اور اُس اکیلے کو یا اُس کے گروہ کو گھیرے میں لے لے تو آس پاس کی آبادی مدد کو آن پہنچتی ہے اور گولیوں کی بوچھاڑ سے بے نیاز ہو کر ہندوستانی فوج اور جنگجوؤں کے درمیان آن کھڑی ہوتی ہے۔ ہندوستانی فوج کو گولی کا حکم ہے اور وہ گولی چلانے سے قطعاً جھجکتی نہیں۔ لیکن نہتے سویلین گولیوں کی پروا کیے بغیر وہاں کھڑے رہتے ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ ایک نئی صورتحال ہے۔ اَب تک ہندوستانی فوج اِس کا کوئی علاج نہیں ڈھونڈ سکی۔

وہ جو ایک زمانے کی بات تھی کہ الزام لگتا کہ جنگجوؤں کو امداد پاکستان سے آتی ہے‘ وہ تبدیل ہو چکی ہے۔ اَب دنیا بھی مان رہی ہے کہ جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے‘ یہ مقامی بغاوت ہے اور پاکستان سے اِس کا کوئی تعلق نہیں۔ اِس بغاوت کو کچلنے کیلئے ہندوستان نے تمام حربے استعمال کیے۔ نہتی آبادی پہ سیدھا منہ کی طرف کر کے 12 بور بندوقوں سے گولیاں چلائی گئیں جس سے اَن گنت بچوں اور نوجوانوں کی بینائی جاتی رہی۔ گولی سے کوئی بڑا حربہ ہو نہیں سکتا اور اُس کا کُھلم کُھلا استعمال روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہا ہے لیکن ٹوٹنے کی بجائے کشمیری آبادی کی ہمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایسے میں پاکستان کیا کرے؟ جب مقبوضہ کشمیر میں یہ خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے‘ تو ہم کیا اچھے لگتے ہیں کہ بار بار ہندوستان سے مذاکرات کی بات کریں؟ ہندوستان کی موجودہ حکومت ایک ہی رَٹ لگائے رکھتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسئلہ دہشت گردی کا ہے اور اُس دہشت گردی کی جڑیں پاکستان سے جا ملتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں اِس استدلال سے ہٹ کر کوئی اور دلیل یا جواب ہندوستان کے پاس نہیں۔ لیکن حقیقت اِس کے برعکس ہے۔ جس بغاوت کے شعلے وہاں اُٹھ رہے ہیں‘ کشمیری سرزمین کی پیداوار ہے۔ پاکستان اُس کا کچھ نہیں کر سکتا۔ اس لئے دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال میں پاکستان اور ہندوستان میں بات چیت کا ماحول بن ہی نہیں سکتا۔ ہم نہ چاہیں‘ تب بھی کشمیر کی بات کرنا پڑے گی۔ ہندوستان کیلئے کشمیر کے ذکر سے زیادہ کوئی اور نا خوشگوار بات نہیں۔

اس لئے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں جو جمود آ چکا ہے وہ ایک قدرتی اَمر ہے‘ اور ٹھیک بھی ہے۔ جیسا چل رہا ہے سو ایسے ہی چلے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں تبدیلی کے بغیر پاکستان ہندوستان مذاکرات جچتے ہی نہیں۔ ہم کیا بات کریں گے اور ہندوستان کیا سُنے گا اور کشمیریوں کے لئے کون سی آسانیاں پیدا ہوں گی؟

ہم جیسے جو یہ بات کرتے آئے ہیں کہ لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کو اپنی روایتی سرگرمیاں ترک کرنی چاہئیں، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں شاید غلطی پہ ہیں۔ ہندوستان نے اپنی روش بدلنی ہے تو پھر یہ بات دہرائی جائے، لیکن اگر کشمیر میں اُس نے نہتے شہریوں پہ گولی کا استعمال کرنا ہے تو ہم خواہ مخواہ کے اِتنے اَمن پسند کیوں بنیں؟ یہ درست ہے کہ فضول کی حماقتیں نہ ہوں۔ ممبئی جیسے واقعات تو بالکل نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ پاکستان کو بین الاقوامی فائرنگ لائن پہ لے آتے ہیں۔ اس لئے اِن کا نقصان ہی نقصان ہے‘ لیکن جب تک وادی میں ہندوستان فوج کشی کرتا رہے، تو کم از کم اخلاقی امداد کے حوالے سے ایسی تنظیموں کے وجود میں رہنے کا جواز بنتا ہے۔ امریکا لگاتا رہے اِن پہ پابندیاں، یہ اُس کی صوابدید ہے، لیکن ہمیں وہ کرنا چاہیے جو ہمارے اور کشمیریوں کے مفاد میں ہو۔

پاکستان نے کشمیر کی صورتحال بگاڑی نہیں۔ یہ ہندوستان ہے جو کشمیر کے معاملات صحیح طور پہ ہینڈل نہیں کر سکا۔ 1973ء کے شملہ معاہدے کے 17-18 سال بعد تک پاکستان نے کسی بھی بین الاقوامی فورم پر کشمیر کا ذکر نہ کیا۔ اِس عرصے میں ہندوستان دانائی اور حکمت کا مظاہرہ کرتا تو کشمیر میں بغاوت کی صورتحال نہ پیدا ہوتی۔ لیکن ہندوستان نے کشمیر میں کٹھ پتلیوں سے کام چلانا چاہا اور کشمیری آبادی کے ساتھ جو انصاف کرنا چاہیے تھا‘ نہ کر سکا۔ اس لئے وہاں نوجوانوں نے بندوق تھامنے کو ترجیح دی۔ پاکستان کی تب غلطی یہ تھی کہ اُس نے مقامی بغاوت کو ٹیک اوور کرنے کی کوشش کی۔ ہماری ایجنسیوں کا رول نمایاں ہو گیا اور کشمیریت پیچھے چلی گئی۔ لیکن اَب صورتحال یکسر مختلف ہے۔ اِس میں کسی بیرونی قوت یا مداخلت کا کوئی حصہ نہیں۔ موجودہ مزاحمت سَراسر اصلی کشمیریت کا مظاہرہ ہے۔ بہت سا کریڈٹ برہان وانی شہید کو جاتا ہے‘ جس نے کشمیری نوجوانوں میں ایک نیا ولولہ اُجاگر کیا۔ اُن کی شہادت کے بعد یہ دیکھنے میں آیا کہ کشمیری عوام بے دھڑک ہندوستانی فوج کے سامنے کھڑے ہونے لگے۔ جو نئے جنگجو مزاحمت کی صفوں میں آ رہے ہیں اُن کا ماڈل برہان وانی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مزاحمت کی کوئی میعاد نہیں ہوتی۔ ویت نامیوں نے اپنی جدوجہد کتنے سال جاری رکھی۔ اُن کی داستان پڑھیں تو یقین نہیں آتا کہ انسان اِتنی مصیبتیں جھیل سکتا ہے اور اِتنی قربانیاںکوئی قوم دے سکتی ہے۔ پڑوس میں افغانستان کو ہی دیکھ لیں۔ طالبان کی پالیسیوں سے آدمی لاکھ اختلاف کرے‘ لیکن اِن کی ہمت کو داد دینا پڑتی ہے۔ اُنہوں نے امریکا کی یہ لمبی ترین جنگ بنا دی ہے۔ سترہ سال سے امریکی لگے ہوئے ہیں لیکن طالبان کو کریش نہیں کر سکے۔ جن کو امریکی بین الاقوامی دہشت گرد کہتے تھے‘ اَب اُن سے مذاکرات کرنے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔

مزاحمت کی شرط البتہ یہ ہے کہ لوگوں کے دِلوں میں اُس کا جذبہ پیدا ہو اور مزاحمت کی قیادت بے دھڑک ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں ایسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ قیادت کل کے بوڑھوں کی بجائے نوجوانوں کے ہاتھ میں جا چکی ہے۔ اُن کے بے دھڑک ہونے میں تو کوئی کلام نہیں۔ جتنی ہندوستان کی فوج مقبوضہ کشمیر میں جھونک دی گئی ہے‘ اُس سے زیادہ تو اُس کی تعداد بڑھائی نہیں جا سکتی۔ جس انداز کے مظالم وہاں ڈھائے جا رہے ہیں اُن سے زیادہ کچھ ہو نہیں سکتا۔ مطلب یہ کہ وہاں صورتحال ہندوستان نے انتہا کو پہنچا دی ہے۔ اِس سے زیادہ کچھ کرنے کو رہا نہیں۔ کشمیری مزاحمت کتنا عرصہ رہتی ہے ہم کہہ نہیں سکتے۔ لیکن کشمیریوں نے خود ثابت کر دیا ہے کہ یہ مزاحمت جلد ختم ہونے والی نہیں۔

ایسے میں پاکستان کو دو ہی چیزیں کرنی ہیں۔ ایک تو ہندوستان کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ ترک کیا جائے۔ اُس نے بات کرنی ہے تو کرے۔ ہمیں یہ سلسلہ بند کرنا چاہیے کہ ہر موقع پہ مذاکرات کی دعوت دیتے پھریں۔ دوئم یہ کہ اپنی حالت کچھ ٹھیک کریں۔ ماضی کی بیماریوں سے نجات پائیں اور آگے کی طرف بڑھیں۔ یہ کشمیریوں کی سب سے بڑی امداد ہو گی کہ پاکستان کی حالت بہتر ہو جائے اور کسی طریقے سے وہ اپنا لوہے کا کشکول توڑ سکے۔

Facebook Comments Box
featuredایاز امیربھارتپاک بھارتپاک بھارت دوستیہندوستانہندوستان سے دوستی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مغرب کے تصور تاریخ کا اختتام؟ —- عمر ابراہیم
next post
قارئین و مصنفینِ دانش کے نام —– لالہ صحرائی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.