تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

اپنی شناخت پر شرمندہ دیسی انڈے —– اورنگ زیب نیازی

by دانش ڈیسک 04/12/2018
written by دانش ڈیسک 04/12/2018
73

نوآبادیاتی عہد کی تاریخ ہمیشہ ظلم سے عبارت ہوتی ہے۔ نو آبادکار اپنی اقدار کے تسلط اور اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کرتا ہے جو اس کے عزایم کی بارآوری کے لیے معاون ہو۔ یہ مقامی باشندوں کی شناخت کو نہ صرف مسخ کرتا ہے بلکہ انھیں اپنی شناخت پر شرمندہ کرنے کے حیلے تراشتا ہے؛ یہ ان کے مذہب کو توہم پرستی، ان کے علوم کو فرسودہ، ان کے ادب کو قابل سوختنی اور ان کی زبان کو گھٹیا باور کراتا ہے۔ ہم نے خود سو سال برطانیہ کی غلامی میں گزارے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ نو آبادیاتی عہد بہ ظاہر ختم ہو کر بھی ختم نہیں ہوا۔ لکھنے والے نے ہمارے مقدر میں سحر لکھی ہی نہیں تھی، جو لکھی اس کا دامن تار تار اور اجالا داغ داغ تھا۔ استعمار کا ظلم حکومت پر قبضے اور سرمایے کی منتقلی تک محدود رہتا تو کوئی بات نہ تھی، اس نے تو ہم سے ہمارے ہونے کا احساس، اپنی زبان میں اظہار کا سلیقہ اور ہماری یادداشت بھی چھین لی۔ ہمیں جو بھول کر آگے بڑھنا تھا، ہم اس پر ٹھہرے رہے، جسے یاد رکھنا تھا وہ بھول گئے۔ ہمیں ریل کی پٹریاں اور چند عمارتوں کی مضبوطی تو یاد رہی مگر دہلی کے چاندنی چوک میں دار پر جھولتی لاشیں بھول گئیں۔ ہمیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ انھوں نے ہمارے لباس کو جنگلیوں کا لباس کہا تھا۔ ہم بھول گئے کہ انھوں نے ہمیں بندروں کی طرح چوتڑوں کے بل زمین پر بیٹھنے والے غیر مہذب لوگ کہا تھا، اور تو اور جب اپنا نظام تعلیم ہم پر مسلط کیا تواپنے لوگوں کے بر عکس ہمارے لیے پاسنگ مارکس 65 بجائے 32.5 مقرر کیے کیونکہ ان کے نزدیک ہمارے دماغ انگریزوں کے مقابلے میں آدھے ہوتے ہیں۔ بھلا ہو ان مابعد نو آبادیاتی مفکرین کا جنھوں نے استعمار کی ریشہ دوانیوں کا پردہ چاک کیا اور ہمیں یہ بتایا کہ ریلوے کا جال خام مال کی برطانیہ منتقلی کے لیے تھا؛ انگریزوں کی آمد سے پہلے ہندوستان میں شرح خواندگی 80 فی صد تھی اور ان کے جانے کے بعد آج تک 60 فی صد سے اوپر نہیں جاسکی؛ عالمگیری عہد تک عالمی معیشت میں ہندوستان کا حصہ 25 فی صد ہوتا تھا اور جب انگریز نے ہندوستان چھوڑا تو یہ تناسب 3 فی صد سے بھی کم رہ گیا تھا۔

ہمیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ انھوں نے ہمارے لباس کو جنگلیوں کا لباس کہا تھا۔ ہم بھول گئے کہ انھوں نے ہمیں بندروں کی طرح چوتڑوں کے بل زمین پر بیٹھنے والے غیر مہذب لوگ کہا تھا،

شکر ہے کہ ستر سال بعد کسی نے حقیقت بتا دی ورنہ تو ہماری گردنیں ریل کی پٹریوں کے بوجھ تلے دوہری ہوئی جاتی تھیں۔ انھوں نے خود کو بر تر اور ہمیں کم تر ثابت کرنے کے لیے ہماری تاریخ، مذہب، ثقافت، ادب، زبان سمیت ہماری مقامی شناخت کے ہر مظہر کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ فورٹ ولیم کالج، کلکتہ میں قائم ہوا جس کا ظاہری مقصد مشرقی علوم کی کلاسیکی کتب کو مقامی زبانوں میں منتقل کرنے تھا۔ اسی کوشش کے نتیجے میں ہمیں ’’باغ و بہار‘‘ جیسا شاہکار نصیب ہوا جو اردو نثر کی تاریخ میں اہم سنگ میل ثابت ہوا لیکن یاد رہے کہ نو آباد کار مقصد مشرقی علوم کی ترویج و ترقی نہیں تھا۔ وہ در حقیقت مقامی زبانوں کے ذریعے ہماری سماجی اور ثقافتی روح تک رسائی چاہتے تھے۔ انھوں نے زبان کا ایک ثقافتی تصور تشکیل دیا۔ وہ زبان کی طاقت سے آشنا تھے۔ انھوں نے زبان کے ذریعے ہمارے سماج کی روح تک رسائی حاصل کی اور پھر ہماری سماجی ساخت کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نو آبادیاتی عہد کے بہ ظاہر خاتمے کے بعد بھی اپنی مقامی شناخت کے ہر مظہر بالخصوص اپنی زبان پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم دیہات کی غریب عورتوں کو مالی امداد دیں گے تاکہ وہ ’’کٹے‘‘اور دیسی مرغیاں پال کر اپنا گزارہ کر سکے تو اپنی شناخت پر شرمندہ ہمارا ’’روسیاہ دانشور‘‘ اس پر طنز کے ترکش خالی کرتا ہے، رزق حلال کمانے والی ہماری غریب دیہاتی مائوں کی توہین کرتا ہے۔ اور جب کوئی یہی بات استعمار کی زبان میں یوں کرتا ہے کہ ہم مائیکرو فنانسنگ کے ذریعے دیہاتی خواتین کو پولٹری اور ڈیری فارمنگ کے لیے سپورٹ کریں گے تاکہ ہم ڈیری پراڈکٹس ایکسپورٹ کر کے زرمبادلہ کما سکیں تو ’’بندروں کی طرح چوتڑوں کے بل زمین پر بیٹھنے والے‘‘ ہمارے دانشور اس پر بغلیں بجاتے ہیں۔

زوال و ادبار کی جدید صورت اتنی مضحکہ خیز ہے کہ متاثر فریق اس پہ فخر کرتا اور اتراتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ اپنے اس عمل پہ دوسروں سے داد طلب بھی رہتا ہے۔

Facebook Comments Box
featuredاحساس کمتریاورنگ زیب نیازیدیسی انڈےدیسی لبرل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
حمد و نعت: روایت سے عصرِ حاضر تک — یگانہ نجمی
next post
خصوصی افراد کا عالمی دن اور پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔ راجہ محمد اویس

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.