تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

حمد و نعت: روایت سے عصرِ حاضر تک — یگانہ نجمی

by دانش ڈیسک 02/12/2018
written by دانش ڈیسک 02/12/2018
93

حمد عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اللہ کی تعریف کے ہیں لغت میں اور دوسرے مفاہیم بھی موجود ہیں۔مگر وہ اس کے معنی کی توسیع کے لیے ہیں ۔جیسے بزرگ و برتر ذوالجلال اکرام اس کی شانِ عظمت اس کی ستا ئش و سپاس گزاری اور ثناء گوئی وغیرہ ساتھ ہی حمد نویسوں نے یہ بھی لکھاہے کہ حمد کا لفظ کسی غیر اللہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

حمد چونکہ کوئی مشاہداتی صنف نہیں ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ نے قرانِ مجید کا مطالعہ کیا ہو اور چونکہ خدا کی ستائش اور مذہب میں بھی موجود ہے تو ضروری یہ ہے کہ آپ ان مذہبی کتابوں سے بھی واقف ہوں۔ تاہم اسلام نے صرف ایک خدا کی پرستش کا حکم دیا ہے اور تصور پیش کیا ہے اس لیے اس میں کسی اور کو شریک گناہِ کبیرہ ہے۔ قرآنی مفہوم میں حمد کا آغاز عربی سے ہوا۔ اور وہاں سے اس کا مضمون فارسی میں آیا۔ اور فارسی سے اہلِ اردو میں نے اخذ کیا اور یوں ابتدا ء ہی سے حمد اردو شاعری کا لازمی حصہ بن گئی مثنوی کا آغاز حمدیہ اشعار سے کیا جاتا۔ اور بعض شعراء نے تو واوین غزلیات کی ابتداء ہی حمد سے کی ہے۔ بہت سی حمد ایسی ہیں جس میں اللہ کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسے قہاری و غفاری، رحیم و کریم، رافت ورحمت سے اس کی عظمت کو بیان کیا ہے۔

اس ستائش کے ساتھ ساتھ صوفیہ کا تصورِ خدا بھی ہے جس میں وہ ہر شے میں اللہ کا ظہور دیکھتے ہیں اور ان کے نزدیک ساری کا ئنات اللہ کے ظِل کا عکس ہے۔ اسے دیکھنے والے کی آنکھ چاہیے۔ مثنوی مولانا روم کا ابتدائی حصہ اسی موضوع پر ہے۔

حمد کی ایک شکل مناجات کی ہے جس میں اللہ سے مشکل حالات میں مدد اور دکھ و پریشانیوں سے نجات کی دعا مانگی جاتی ہے۔ چونکہ مناجات میں حمد بھی اللہ کی تعریف بھی کی جاتی ہے اس لیے بھی حمد کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔

اردو میں حمد کی ابتداء میں شمالی ہند سے ہوئی۔ مگراس کی ابتدائی نمونہ کو مستند نہیں مانا جاتا تاہم یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس کی ابتداء دکن سے ہوئی تھی۔ اسلامی تصوف اس کی بنیادی حصہ ہیں بہیمنی دور میں اس مثنوی کا آغاز حمدیہ اشعار سے کیا ۔ میر سودا اور درد کے دور میں بھی اس روایت کا خیال رکھا گیا اور ان کے دیوان کا آغاز بھی حمد سے کیا گیا۔

تھا مستعار حسن سے اس کا جو نور تھا
خورشید میں بھی اْس کا ہی ظہور تھا
(میر)
مقدور ہمیں کب تیرے وصفوں کی رقم کا
حقا کہ خدا وند ہے تو لوح وقلم کا
(میردرد)

اس کے علاوہ شمالی ہند کے سرِ فہرست شعراء میں جن میں نظیر اکبر آبادی کا کلیاتِ اکبر آبادی میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں ان کے ذرابعدمیں دبیر و انیس کا نام آتا ہے جنھوں نے بہت عمدہ اشعار کہے۔ بیسویں صدی میں اقبال اور ظفر علی خان کا نام آتا ہے۔

اقبال کے ہاں حمدیہ شاعری کی ابتداء بانگِ درا سے ہوتی ہے ۔جس میں انھوں نے بچے کی دعا کے عنوان سے حمد لکھی۔

میرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اسی راہ پہ چلانا مجھ کو

اس میں سورئہ فاتحہ کا رنگ نمایاں ہے۔ بعد کے اشعا رمیں وحدت الوجود ی تصور ہے۔

مولانا ظفر علی خان
مولانا ظفر علی کا شمار ممتاز نعت گو شعراء میں ہوتا ہے لیکن انھوں نے حمدیہ اشعار بھی بہت کہے کیوں کہ حمد و نعت باہم مربوط ہیں اس لیے وہ فرماتے ہیں۔

خدا کی حمد پیغمبر کی نعت اسلام کے قصے
میرے مضمون ہیں جب سے شعر کہنے کا شعور آیا

مولانا محمد علی جوہر بھی معاصرینِ مولانا ظفر میں شمار ہوتے ہیں ۔مولانا محمد علی جوہر نے بہت عمدہ شاعری کی مگر وہ اپنی سیاسی مصروفیات کی وجہ سے اس قدر مصروف رہے کہ شاعری پر توجہ دینے کا موقع نہیں ملا ان کے مختصر دیوان میں حمدیہ اشعار ملتے ہیں جو خدا پر شاکر وقانع شخص کے ہی ہوسکتے ہیں۔

ہر رنگ میں راضی بہ رضا ہو تو مزا دیکھ
دنیا میں بیٹھے ہوئے جنت کی فضا دیکھ

خدا کی عظمت ورفعت ،شان،ہیبت ،لطف وشان اور دیگر صفات ہیں ۔لیکن حمد پڑھتے ہوئے کچھ تنگ دامانی کا احساس ہوتا ہے اور بہت تکرار ِ مضامین کا تاثر پیدا ہوتا ہے اور ان کا تنقیدی جائزے سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ شعراء کی مزید توجہ سے اس کا دامن اور وسیع ہوسکتا ہے۔

خدا کا ذکر کریں ذکرِ مصطفیﷺنہ کریں
ہماری منھ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے

نعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تعریف وتوصیف کے ہیں اس کی حرمت و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عربی شعراء ادب کے علاوہ فارسی اور اردو میں بھی کسی بھی دوسری ذات یا شخصیت کے لیے اس کا استعمال نہیں ہوا ۔بلکہ صرف اور صرف یہ مدحہ سرائی آنحضور ﷺکی ہستی کے لیے ہے محققین کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں جگہ جگہ آنحضور کی صفات کا تذکرہ آتاہے اور آپ پر درود وسلام بھیجا گیا ہے۔

لغت گوئی ایک مشکل فن ہے اور کہا جاتا ہے کہ بال سے باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے کیوں کہ اگر اس کے لیے عام مدحیہ اختیار کیا گیا تویہ آنحضور کی شخصیت سے فروتر ہے اور اگر بڑھا بڑھا بیان کیا گیا تو کہیں شرک کے زمرے میں نہ آجائے۔

آنحضور کی بعثت کے بعد ہی نعت گوئی کا آغاز ہوا تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ پہلے نعت گو شاعر تھے؟ مگر عربی کے نعت نگاروں میں حسان بن ثابت ؓ،حضرت کعب بن زبیرؓکے نام قابلِ ذکر ہیں۔ فارسی کے مشہور نعت گو شعراء میں جامی، ستائی عطار اور رومی کے نام آتے ہیں۔

اردو میں نعت گوئی کی ابتداء دکن سے ہوئی مثنوی کدم رائو میں نظامی نے حمدیہ نعت کے بعد بیس اشعار نعت کے بھی کہے ہیں اس دور کے بعد میر، سودا اور درد کا دور ہے جن میں سودا کا خاصہ میلان نعت کی طرف نظر آتا ہے میر کے ہاں غزل کی ہیئت میں نعتیہ اشعارملتے ہیں ۔ بعد کے شعراء لکھنو میں میر حسن ،میر اثر نے مثنوی میں حمدکے بعد نعتیہ اشعار لکھے ۔

کلاسیکی شعراء میں کرامت علی شہیدی کا نام قابلِ ذکر ہے ان کے بعد امیر مینائی اور داغ کے ہاں نعتیہ اشعار کی خاصی تعداد ملتی ہے خصوصََا امیر مینائی کو اس میں نمایاں مقام حاصل ہے۔انیسویں صدی کے ربع آخر میں الطاف حسین حالی اور اکبر الہ آبادی کا نعتیہ کلام سامنے آتا ہے۔

آنے والے دور میں احمد رضا خاں بریلوی جنھوں نے عشق ِرسول میں نعتیں لکھیں اورخوب لکھیں انھوں نے قرآن و حدیث سے استعفادہ کر کے متنوع موضوعات پر نعتیہ اشعار کہے۔

مصطفی جانِ رحمت پر لاکھوں سلام
شمع بزم رسالت پر لاکھوں سلام

ان کے علاوہ موجودہ دور میں احسان دانش، بہزاد لکھنوی، اقبال عظیم، احمد ندیم قاسمی غرض ہر شاعرنے دینی والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار نعت کے ذریعے کیا۔

ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے قلبِ حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی،خم اسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
(بہزاد لکھنوی)

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
لوگ کہتے ہیں کہ سایا تیرے پیکر کا نہ تھا میں تو کہتا ہوں، جہاں بھر پہ ہے سایا تیرا
(احمد ندیم قاسمی)

ان ہی شعراء میں سلیم طاہر صاحب کا نام بھی آتا ہے جن کے تمام اشعار تلمیحی ہیں جس کی روایت آج سے پہلے نہیں ملتی۔

ششدر طلسم آئینہ خانہ پڑا ہوا دیکھا ہے ان کے در پہ ز مانہ پڑا ہوا
رد کردئیے رسولﷺ نے سورج بھی چاند بھی ٹھکرا دیا ہر اک خزانہ پڑا ہوا
پردے گرادئیے گئے آنکھوں پہ عقل پہ اور غارِثور میں تھا خزانہ پڑا ہوا
(سلیم طاہر)

امید کی جاسکتی ہے کہ جو شعراء بھی نعت کہہ رہے ہیں وہ اس کے مضامین میں وسعت پیدا کریں گے اورفن ِ نعت گوئی کا بھی لحاظ رکھیں گے۔

Facebook Comments Box
حمدنعتیگانہ نجمی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اردو میں ’’مصور اور مصوری‘‘ پر منفرد کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن
next post
اپنی شناخت پر شرمندہ دیسی انڈے —– اورنگ زیب نیازی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.