تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
اداریہسماجیسیاسیکالم

“دانش” کیا کرے؟ خورشید ندیم

by خورشید ندیم 23/02/2017
written by خورشید ندیم 23/02/2017
242

’دانش‘ سے میری توقعات کیا ہیں؟اس سوال کے جلو میں چند اور سوالات بھی چلے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر معاشرتی ارتقا میں ذرائع ابلاغ کا کردار کیا ہے؟ یا ذرائع ابلاغ کے وظائف میں، کیا ایک وظیفہ معاشرتی تعلیم بھی ہے؟ میرا جواب ان سب سوالات کو بیک وقت مخاطب بناتا ہے۔

تعلیم کے ذمے دو کام ہیں۔ ایک یہ کہ وہ سماج کی ساخت کو سامنے رکھتے ہوئے، ایسی شخصیات تیار کرے جو اس سماج کے نظام ِاقدار کی محافظ ہوں۔ ہر سماج ایک نظام ِاقدار پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کی بقا کے لیے لازم ہے کہ وہ اقدار ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتی رہیں، تاہم یہ کام ’نظر بندی‘ کے ساتھ نہیں، کھلی آنکھوں سے ہونا چاہیے۔ اس سے ایک سماج، روایت سے وابستہ رہتے ہوئے بھی ارتقائی مراحل طے کرتا رہتا ہے۔بالفاظِ دیگر،جدید تقاضوں کو روایت کا حصہ بنادیتاہے۔ تعلیم کا دوسرا وظیفہ ماہرین کی تیاری ہے۔ ہر معاشرے کو زندگی کا تسلسل برقرا ررکھنے کے لیے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے طبیب، جیسے تاجر، جیسے انجینئر۔ تعلیم اس کا اہتمام کرتی ہے کہ معاشرے کی یہ ضرورت پوری ہوتی رہے۔ اسے ہر دور میں اتنے ڈاکٹر ضرور میسر ہوں جو معاشرے کی صحت کے لیے ضمانت بن سکیں۔ یہ بات البتہ طے ہے کہ یہ ڈاکٹر ہو یا انجینئر اسے بہر حال ایک اچھا شہری ضرور بننا چاہیے۔ اچھا شہری وہی ہوتا ہے جو نظام اقدار سے وابستہ ہو۔

اچھے شہری میں دو خصوصیات لازم ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عقلی منہج ِفکر (Rational thinking) رکھتا ہو۔ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو عقل سے نوازا ہے تو یہ بے مصرف نہیں ہے۔اللہ کادین تو غیر عاقل کو معزور سمجھتا اوراسے اپنامخاطب قرارنہیں دیتا۔ یہ عقل کا استعمال ہی ہے جو تسخیر کائنات کے دروازے کھولتا اور مادی ارتقا ترقی کو ممکن بناتا ہے۔ اچھے شہری کی دوسری خصوصیت اس کا جمالیاتی ذوق (Aesthetics) ہے۔ جمالیاتی حس اس کے وجود کی لطافت کو برقرا رکھتی اور اس کو جلا بخشتی ہے۔ یہی اس میں اخلاقی پاکیزگی بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ مزاج کی لطافت ہے جو محبت جیسے لطیف جذبے کی تحسین کرتی ہے۔ اس سے رشتوں میں مٹھاس اور انسانوں کے مابین تعلقات میں لطف وکرم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ جمالیاتی ذوق کی آبیاری فنون لطیفہ سے ہوتی ہے۔ شاعری، موسیقی، مصوری، یہ سب انسان کے جمالیاتی وجود کو زندہ رکھتے ہیں۔ جس معاشرے میں انسانوں کا جمالیاتی وجود کمزور پڑ جائے، اس معاشرے میں رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔ انسان دوسروں کے دکھ کو محسوس نہیں کر سکتا۔ مزید یہ کہ وہ جان ومال اور عزت و آبرو کی حرمت سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانی معاشرے اور جنگل کا فرق مٹ جاتا ہے۔

عقلی منہج ِفکر فلسفے کی تعلیم سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ فلسفہ ہے جو انسانوں کو منطق اور استدلال کے ساتھ کسی بات کو ماننے کی تعلیم دیتا ہے اور اسی بنیاد پرکسی خیال اور فکر کو رد کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ فلسفے کی تعلیم کے بغیر ایک عقلی شخصیت کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح فنون لطیفہ کی تعلیم کے بغیر جمالیاتی ذوق کی آب یاری ممکن نہیں۔ میرے علم میں اس کے علاوہ کوئی ایسی صورت ممکن نہیں جس سے انسان کے جمالیاتی وجود کی بقا یا ارتقاء کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان کا نظامِ تعلیم اس وقت فلسفے کی تعلیم دے رہا ہے نہ فنون لطیفہ کی۔ دینی تعلیم ہو یا دنیاوی ، مقلد پیدا کیے جاتے ہیں یا مشین کے پرزے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم بحیثیت مجموعی جذباتی فیصلے کرتی ہے یا پھر افراد ذاتی سو و زیاں کو معیار بنا لیتے ہیں۔اجتماعی مفاد بالعموم کسی کے پیش نظر نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا ہے تو ایک جذباتی تفہیم کے ساتھ، جس کا نتیجہ اجتماعی تخریب کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

معاشرے کو آج وہ تعلیم چاہیے جو اس میں عقلی منہج ِفکر پیدا کرے اور ساتھ ہی اس کے جمالیاتی ذوق کی آب یاری کرے۔ معاشرے کی تعلیم کا یہ کام رسمی طور پر تعلیمی ادارے کرتے ہیں اور غیر رسمی سطح پر سماجی ادارے۔ سماجی ادارے دو طرح کے ہیں: ایک وہ جو قدیم اور روایتی ہیں۔ جیسے خاندان، مکتب۔ اور دوسرے جدید ہیں، جن میں سر فہرست میڈیا ہے۔

ذرائع ابلاغ معاشرتی ترقی اور ارتقا، دوسرے لفظوں میں معاشرے کی تعلیم میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لوگ اکثر ذکر کرتے ہیں کہ بچے میڈیا سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔ اس بات میں بڑی حد تک صداقت ہے۔ ذرائع ابلاغ کی حیثیت سماجی اساتذہ کی ہے۔ اگر یہ مقدمہ درست ہے

تو ’دانش‘ بھی ایک استاد ہے۔ اس کا معاشرتی وظیفہ یہ ہے کہ وہ سماج میں عقلی اندازِ فکر پیدا کرے اور ساتھ ہی لوگوں کے لیے جمالیاتی ذوق کو بہتر بنائے۔ میری ’دانش‘ سے یہی توقع ہے۔

یہ کیسے ہو گا؟ اس کا ذکر پھر کبھی۔۔۔۔۔یار زندہ صحبت باقی!

Facebook Comments Box
daanishKhursheed Nadimخورشید ندیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
خورشید ندیم

previous post
غیر اندراج شدہ مدارس: ایک ٹائم بم ۔۔۔ تحقیقی رپورٹ
next post
میرے پیارے اباجی کی یاد میں ۔۔۔۔۔ اسلم خان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.