تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ڈیم فنڈ کے لیے کچھ اور تجاویز ۔۔۔۔۔۔۔۔ خرم شہزاد

by دانش ڈیسک 02/10/2018
written by دانش ڈیسک 02/10/2018
59

ڈیم فنڈ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع ہے اور تقریبا تمام طبقہ فکر اس پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوگوں کی سیاسی بنیادوں پر تقسیم ایک ایسا عمل ہے جو پاکستان میں ہمیشہ سے کسی بھی اچھے کام کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔ یہاں ایک دوسرے کی مخالفت کرنا اس لیے بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ حمایت کا مطلب اپنی انا کی توہین سمجھا جاتا ہے۔ لہذا مخالفت ضروری ہے، بھلے اس مخالفت میں اپنے پلے کچھ نہ رہے لیکن انا کی تسکین تو بہرحال ہو گی اور وہی سب سے زیادہ ضروری بات ہے۔ جہاں تک ملک کی معاشی صورت حال کی بات ہے، یقینا حکومت معاشی طور پر اتنی مضبوط نہیں کہ ڈیم کی تعمیر جیسے کسی بڑے منصوبے کو اپنے طور پر پورا کر سکے۔ پچھلی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور صوبوں کے درمیان موجود سیاسی نفرت کی وجہ سے بھی پاکستان عالمی برادری میں وہ مقام نہیں رکھتا جہاں کوئی ان کی مدد کو آ سکے۔ ایسے میں عوام سے ڈیم کے لیے مدد مانگنا ہی ایک ایسا آپشن رہ جاتا ہے جسے اختیار کرنا حکومت کی نہ صرف مجبوری بلکہ وقت کا تقاضہ بھی تھا۔لیکن یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ صرف امداد یا چندے پر انحصار ڈیم فنڈ کی مہم میں موجود جوش کو کچھ عرصے بعد ٹھنڈا کر سکتا ہے لہذایہاں ہم کچھ دوسرے آپشنز پر غور کرنے کی کوشش کریں گے جس سے ڈیم کے لیے مستقل بنیادوں پر فنڈز کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی۔

ڈیم یقینی طور پر ایک دو ارب روپے سے تعمیر نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے کسی سو ارب روپے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے خود سے مہیا کرنا ایک مشکل امر ہے۔ ایسی صورت میں بھی جب کہ آپ کا بجٹ اور تجارتی خسارہ بھی کئی ارب روپے پر مشتمل ہو اور ملک میں پی آئی اے، ریلوے، اسٹیل مل سمیت کئی ادارے بھی سفید ہاتھی کی صورت معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہوں تو عالمی اداروں کی طرف دیکھنا ایک مجبوری بن جاتی ہے۔یہ مجبوری اس وقت اور شدت اختیار کر لیتی ہے جب آپ کی موٹرویز، ٹیلی ویژن اور ریڈیو اسٹیشن کی عمارتیں بھی پچھلے قرضوں میں صرف چند کروڑ کی مالیت قراردے کر رہن رکھ دی گئی ہوں۔اب ایسی صورت حال سے نکلنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عالمی اداروں اور دوست ممالک سے مدد مانگی جائے اور کسی بھی طرح کے معاملات طے کرتے ہوئے ملکی مفاد اور اپنی آنے والی نسلوں کا خیال سب سے بڑھ کر ہو۔ کک بیکس اور کمیشن کی عادت یقینا ایک آدھ گھرانے کی آسودگی کا باعث تو ہو سکتی ہے لیکن اس سے ملک کے کروڑوں افراد ایک ایسے بھیانک مستقبل کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے نجات کے لیے برسوں کی محنت درکار ہو گی۔

راقم کو پاکستان میں سب سے پہلے اردو میں وینچر کیپٹل پر لکھنے کا اعزاز حاصل ہے اور اسی تحقیق کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم وینچر کپیٹل کی صورت عالمی برادری اور دوست ممالک کو اس منصوبے میں حصہ داری کے لیے دعوت دیں تو مناسب فنڈز ملنے کا امکان موجود ہے۔ یہاں منصوبے میں حصہ داری کی بات ہو رہی ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب آپ کے اپنے پاس بھی حصہ ڈالنے کے لیے فنڈز کی ایک اچھی مقدار موجود ہو۔ جو یقینا اس وقت ڈیم فنڈز کی صورت جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کے پاس ایسے قابل افراد بھی موجود ہونا ضروری ہے جو کسی بھی منصوبے کو چلاتے ہوئے دوسرے سرمایہ کاروں کا نہ صرف اعتماد بحال رکھ سکیں بلکہ منصوبہ اپنے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی پیچیدگی اور مشکل کا شکار نہ ہو۔

یاد رہے کہ معاشی مسائل کا حل صرف اعداد کے گورکھ دھندو ں میں پوشیدہ نہیں ہوتا بلکہ بہت سے معاشی مسائل کے حل کے لیے صرف درست معاشی طریقہ کار اختیار کرنا بھی حل میں بڑی پیش قدمی ہو سکتا ہے۔

دوسرا آپشن ڈیمز کو ایک کمپنی کی صورت دے کر شیئرز، بانڈز اور سرٹیفکیٹس کے ذریعے عوام سے پیسہ جمع کرنا ہے۔ چندہ اور خیرات ایک حد اور وقت تک دئی جا سکتی ہے لیکن یہ سلسلہ مستقل جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ حکومت اپنی پالیسیوں میں ڈیم شیئرز، بانڈز اور سرٹیفکیٹس کے حاملین کو تحفظ فراہم کرئے اور حکومت بدلنے کی صورت میں شیئرز نہ ڈوبنے کی گارنٹی دیتے ہوئے یہ طریقہ کار اپنا سکتی ہے۔ اس طریقہ کار کا یہ فائدہ ہو گا کہ بہت سے لوگ پاکستان اور اپنے مستقبل پر سرمایہ کاری کر سکیں گے اور یقیناً اس کا فائدہ بھی حکومت اٹھا سکتی ہے۔

تیسرا طریقہ جس میں سب سے زیادہ بہتری کی ضرورت ہے وہ فارن ریزرو بڑھانا ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس فارن ریزرو خاطر خواہ تعداد میں موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے ہمارے روپے کو بھی ہر وقت دباو کا شکار رہنا پڑتا ہے اور ملکی قرضے بھی اپنے حجم میں بڑھتے جاتے ہیں۔ حکومت نے اگرچہ تمام پردیسیوں سے ایک ہزار ڈالر ڈیم فنڈ میں جمع کروانے کی اپیل کی ہے لیکن اس سے فارن ریزرو کی وہ مقدار حاصل نہیں کی جا سکتی جو کہ آزاد معاشی پالیسی کی تشکیل میں مدد فراہم کرئے۔ ہمارے معاشی ماہرین ایک غلطی ہر بار کرتے ہیں کہ براہ راست سب کچھ حکومتی فنڈ میں چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ماضی میں بھی لوگوں کے فارن کرنسی اکاونٹ بلاک کئے جاتے رہے ہیں تاکہ حکومت کے پاس فارن کرنسی کی ایک قابل قدر مقدار موجود رہے لیکن پھر ایک دو روز کے لیے یہ پابندی ہٹائی جاتی، بڑے لوگ اپنے اکاونٹس سے بیرون ملک زرمبادلہ بھیجتے اور پابندی دوبارہ لگا دی جاتی۔ ایسے اقدامات بیرون ملک رہنے والوں کے جذبوں میں کمی پیدا کرتے ہیں۔

اس وقت بھی حکومت ڈیم فند میں ہزار ڈالر کے عطیات کے ساتھ ساتھ ایسی معاشی پالیسیاں اپنائے جس سے بیرون ملک رہنے والوں کو دعوت دی جائے کہ وہ پاکستانی بینکوںمیں اپنے فارن کرنسی اکاونٹس کھلوا کر ان میں فارن کرنسی رکھیں۔ یہ سرمایہ کاری بھی ملک میں فارن ریزرو کے بڑھنے کا باعث ہو سکتی ہے کیونکہ نفسیاتی طور پر بھی انسان دوسروں کی مدد ایک حد تک ہی کرتا ہے اور اپنی دولت کو محفوظ اور اپنے پاس دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اگر سرمایہ کاروں کو یہ تحفظ دیا جائے کہ ان کے اکاونٹس بلاک نہیں کئے جائیں گے اور پاکستان میں اپنا سرمایہ رکھنے پر انہیں سہولیات ملیں گی تو بہت سے سرمایہ کار اور بیرون ملک رہنے والے پاکستان میں اپنے اکاونٹس کھلوا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی اپنی سحر انگیز شخصیت میں ایسی کشش یقیناً موجود ہے کہ جسے مناسب پالیسیوں کے ساتھ کیش کروایا جائے تو ملک کی معاشی ترقی کی راہ بڑی حد تک ہموار ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ معاشی مسائل کا حل صرف اعداد کے گورکھ دھندو ں میں پوشیدہ نہیں ہوتا بلکہ بہت سے معاشی مسائل کے حل کے لیے صرف درست معاشی طریقہ کار اختیار کرنا بھی حل میں بڑی پیش قدمی ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے معاشی مسائل اتنے زیادہ نہیں جتنے بتلائے اور جتلائے جاتے ہیں، یہاں صرف درست معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے اور ایسے صاف کردار لوگوں کی جن پر عوام اعتماد کر سکیں۔ اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ لوگوں کو کیسا معاشی منصوبہ دیتے ہیں کیونکہ اس حکومت نے اپنی ابتدا میں ہی بڑے وعدے کرنے شروع کر دئیے تھے اور بڑے منصوبوں کا اعلان بھی کر دیا تھا جن کی تکمیل کے لیے اب ہر پاکستانی ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔

Facebook Comments Box
اسٹیل ملپاکستانپاکستانی ڈیمپی آئی اےچندہ مہمدیامر بھاشا ڈیمڈیمڈیم چندہڈیم فنڈزریلوےکالا باغ ڈیممہمند ڈیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
منزل ہے کہاں تیری اے لالہء صحرائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد اقبال
next post
’’ دماغ ‘‘ کائنات کی پیچیدہ تخلیق ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن تیمور جھکڑ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.