تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

گدھا، گھوڑا اور لیڈر ——– فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 28/08/2018
written by دانش ڈیسک 28/08/2018
92

جارج اورویل نے دو ناول کمال کے لکھے۔ 1984اور اینیمل فارم۔ مگر اس کی یہ دونوں ہی تخلیقات اتنی عظیم ہیں کہ دنیائے ادب میں اس کا نام ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔ یہ اورویل کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اس کا تخلیق کردہ ادب اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی دنیا کے لئے اتنا متعلق، اتنا اہم ہے۔ اورویل کے دونوں ہی ناول طویل نہیں ہیں۔ اینیمل فارم تو بہت چھوٹا سا ناول ہے مگر اینیمل فارم ایسا ناول ہے کہ اس کا پاکستان کی ہر زبان میں ترجمہ کر کے سب کو بار بار پڑھایا جانا چاہیے مگر ایسا کیا ہے اس ناول میں؟ ایک جانوروں کا باڑا تھا جہاں گدھے، گھوڑے، بیل، سور وغیرہ پلے ہوئے تھے۔ سب جانور باڑے کے مالک، یعنی انسان کے ظلم و جبر سے تنگ تھے۔ جانور انقلابی تحریک چلاتے ہیں اور انسان کو مار بھگاتے ہیں۔ یعنی عرف عام میں ’’اسٹیٹس کو‘‘ کو ہٹا کر نئی طاقت اقتدار میں آ جاتی ہے،اب اس باڑے کی دیوار پر یہ سنہری جملہ لکھ دیا جاتا ہے: ’’ All animals are equal‘‘
یعنی سب جانور برابر ہیں مگر پھر رفتہ رفتہ گدھوں، گھوڑوں اور دیگر جانوروں پر سور اپنی فطری کمینگی کے باعث غالب آ جاتے ہیں، اب ظلم و جبر اس سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے کہ جتنا انسان کے دور اقتدار میں تھا۔ آئین میں ایک حسین سطر کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

’’All animals are equal but some animals are more equal‘‘

یعنی سب جانور برابر ہیں مگر کچھ جانور زیادہ برابر ہیں، بس سمجھ لیجئے کہ یہ بڑی حد تک عالمی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ جو قوت ظلم و جبر کو مٹانے آتی ہے، بعد میں وہ ویسی ہی جابر و ظالم قوت بن جاتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ جب لیبیا میں شہنشاہ سنیوسی کو اقتدار سے ہٹا کر کرنل قذافی اقتدار میں آیا تھا تب لوگوں نے جشن منایا تھا کہ جبر کا دور ختم ہوا۔ جب روس میں رومانوف شاہ کو اقتدار سے دستبردار کرایا گیا تھا تب بھی عوام سمجھے تھے کہ اب برابری اور اور آزادی کا دور شروع۔ صدام کی حکومت کے خاتمے پر بھی ایک طبقہ بڑا ناچا تھا کہ اب بس جمہوریت اور آزادی کا سورج طلوع۔ مگر جو بھی لوگ آزادی، برابری، مساوات یا دیگر نعروں کو استعمال کر کے اقتدار میں آتے ہیں وہ کرتے کیا ہیں اور دیتے کیا ہیں؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ خود شاہی کا رتبہ اختیار کر لیتے ہیں اور ان کی اپنی نسلیں سنور جاتی ہیں جب کہ اکثریت بس دھکے اور ذلتیں ہی کھاتی رہ جاتی ہے۔ کیونکہ بقول اورویل، سب جانور برابر ہیں مگر کچھ جانور زیادہ برابر ہیں۔ ہم اور آپ وہی جانور ہیں جو زیادہ برابر ہیں۔ روس میں جو لوگ زار کو ہٹا کر حاکم بنے تھے وہ کتنے جابر تھے، سب جانتے ہیں مگر اس اشتراکی انتظام کو ہٹا کر جو لوگ جمہوریت کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے (بورس یلسن اور پوٹن وغیرہ) انہوں نے کون سی جمہوریت سے دی؟

آپ دنیا کا کوئی بھی نعرہ لگا دیجئے؟ اچھے سے اچھا منشور دیجئے، انقلاب لائیے یا جمہوریت سے اقتدار میں آئیے، آخر میں ہو گا وہی جو اینیمل فارم میں ہوا۔ اقتدار چند ہاتھوں میں گھومتا رہتا ہے اور وہ ہاتھ سب سے قوی سب سے طاقتور ہاتھ بن جاتے ہیں۔ رابرٹ موگابے کے انقلاب کے بعد کیا ہوا؟ اور جنہوں نے اسے ہٹایا وہ کیا کر رہے ہیں؟ کرنل معمر القذافی کو ہٹانے کے بعد ابھی لیبیا کے مقتدر مارشل خلیفہ حفطر کے رویوں میں کون سی جمہوریت ہے؟ انگریز کے برصغیر سے جانے کے بعد سے اس خطے میں قائم تینوں ملکوں کے حکمران طبقات کے استحصال میں انگریز کے استحصال سے فرق کیا ہے؟ تب برصغیر کی دولت برطانیہ جاتی تھی اب سوئٹزر لینڈ اور پاناما جاتی ہے۔

آکسفیم (Oxfarm) کے 2017ء کے سروے کے مطابق دنیا کی دولت کا 82 فیصد صرف 1 فیصد افراد کے پاس ہے۔ باقی سارے انسان، یعنی 99 فیصد اس دنیا کے باسی صرف و محض 12 فیصد دولت کے مالک ہیں۔ مگر یہ ایک فیصد کون ہیں؟ دنیا کے شاہی خاندان، کئی نسلوں تک اقتدار میں رہنے والے سیاست دان خاندان، بڑے بڑے سرمایہ دار، بدعنوان فوجی جنرل، والٹائر نے کہا تھا کہ ہر عظیم دولت کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے۔ یہ 99 فیصد غریب و متوسط طبقے کے لوگ اگر کبھی اس ایک فیصد طبقے کے خلاف اٹھے ہیں تو انہی میں سے کسی نے اس ایک فیصد کی دولت، طاقت پر قبضہ کر کے اسی کا کردار اور شدت سے اختیار کیا ہے اور بس۔ یہ وہی تاریخی سبق ہے کہ جس کے سیکھ لینے کے بعد انسان دنیا کے نظام کو سمجھ جاتا ہے۔

پھر رضا شاہ، خامنہ ای، صدام، مالکی، اوباما، ٹرمپ، نواز شریف، عمران خان، واجپائی، من موہن سنگھ صرف نام ہیں۔ ورنہ حقیقت میں ان سب میں کوئی فرق نہیں۔ طاقتور کو ظلم کرنا کوئی اور نہیں، اس کی طاقت سکھا دیتی ہے۔ کیونکہ طاقت خود بڑی ظالم استاد ہے۔ پھر بیوقوف عوام ہیں جو تبدیلی کے خواب دیکھتے ہیں اور تبدیلی پر رقص کرتے ہیں، امیدیں باندھ لیتے ہیں، خواب دیکھنے لگتے ہیں، خوش ہو جاتے ہیں، لڑتے ہیں اور مر جاتے ہیں، اس لئے کہ:

’’All animals are equal but some animals are more equal‘‘

یعنی
روک سکو تو روک لو، تبدیلی آئی ہے
تبدیلی آئی ہے
تبدیلی آئی ہے
چلو میاں منگو کوچوان، ہوش میں آو! تمہارے شب و روز میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔

Facebook Comments Box
انقلابتبدیلیجارج آرویل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اقبال اور علم کلام: علی عباس جلالپوری —– احمد جاوید
next post
ہم بدترین میڈیا کے دور میں زندہ ہیں —– اظہر سید

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.