تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبفلسفہ

اقبال اور علم کلام: علی عباس جلالپوری —– احمد جاوید

by دانش ڈیسک 28/08/2018
written by دانش ڈیسک 28/08/2018
206

اعتراض:
اہل تصوف کی اہم شخصیات امام غزالی، مولانا روم اور علامہ ابن عربی نے عقل کے اوپر وجدان کو فوقیت دی جس کی وجہ سے مسلمانوں میں فکری سوچ کی حوصلہ شکنی ھوئی اور مسلمان زوال کی جانب بڑھتے گئے علامہ اقبال بھی ان حضرات کی پیروی میں عقل کو ثانوی حیثیت دیتے تھے اور وجدان کی برتری کے قائل تھے۔ جب کے اس کے مقابل اہل مغرب نے عقل کو فوقیت دی تو وہ علم کے امام بن گئے۔ ۔ لہزا فکر اقبال کسی طرح بھی مسلم زوال سے نجات نہیں دلا سکتی۔ بحوالہ: “اقبال اور علم کلام” از علی عباس جلالپوری

جواب:
١- علی عباس جلالپوری صاحب کی شاید تمام تحریریں دیکھ لینے کے بعد میری ان کے بارے میں یہ رائے بنی ہے کہ وہ تاریخ فلسفہ کے اچھے طالب علم تھے لیکن کسی فلسفے کی گہرائیوں میں اترے بغیر اس پر صحیح یا غلط ہونے کا حکم لگا دیتے تھے۔ اس رویے کی وجہ سے ان کی رائے اکثر سطحی مگر تحکمانہ ہو جاتی تھی۔ “اقبال کا علم الکلام” کتابی شکل میں آنے سے پہلے “فنون” رسالے میں قسط وار شائع ہوئی تھی۔ اس کی ہر قسط کا بشیر احمد ڈار صاحب نے جواب دیا، وہ جوابات بھی اسی رسالے میں ساتھ ساتھ چھپتے رہے۔ آپ ایک نظر اس مباحثے پر ڈال سکیں تو امید ہے کہ کئی مسائل میں ذہن صاف ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ “فنون” ہی میں جلالپوری صاحب کا ایک مباحثہ محمد ارشاد صاحب کے ساتھ بھی ہوا تھا جو خاص طور پر دیکھنے کی چیز ہے۔ ارشاد صاحب نے انھیں بالکل بے بس کر کے رکھ دیا تھا۔ بہرحال، اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ جلالپوری صاحب کے علم اور مزاج کی محدودیت اور شدت بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔

٢- اقبال نے وجدان اور عقل کو دو جداگانہ قوتیں سمجھ یا مان کر وجدان کو عقل پر ایسی ترجیح نہیں دی جس کے نتیجے میں عقل کی تردید یا تحقیر ہوتی ہو۔ اقبال، وجدان کو عقل ہی کی ایک زیادہ کامل اور ترقی یافتہ صورت سمجھتے ہیں۔ اس مسئلے پر اقبال کی بات کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ عقل جب خود اپنا عرفان حاصل کر لیتی ہے تو وجدان بن جاتی ہے، اور اس سطح پر حقیقت یا مابعدالطبیعی حقائق کے ساتھ ایک علمی نسبت پیدا کرنے کی صلاحیت فراہم کر لیتی ہے۔ ہم اس تصور عقل /وجدان سے اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن اسے اقبال کی عقل دشمنی قرار دینا بے انصافی اور کم فہمی ہے۔ یہ تو اقبال بھی بار بار کہتے ہیں کہ ہمارے زوال کا بہت بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم نے عقل کے محسوساتی یا سائنسی کردار سے خود کو لا تعلق کر لیا جس کی وجہ سے مغرب ہم سے آگے نکل گیا۔ تاہم مغرب کی علمی برتری کی بات اتنی سادہ بھی نہیں ہے کہ ان کے نظریہء علم وعقل پر ایمان لانا ضروری ہو جائے۔ جس نظام علم سے خدا خارج ہو جائے اور کائنات کی مابعدالطبیعی اساس واہمہ بن کر رہ جائے، اس نظام کو عقل کے بہترین استعمال کا نمونہ سمجھنا عقل مندی نہ ہو گا۔ ہاں اس میں کیا شبہ ہے کہ کائنات اور انسان کے mechanics کے تجزیے میں مغرب نے جو بے مثال کامیابیاں حاصل کر دکھائی ہیں، ان کی نظیر پوری تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتی۔ اور یہ سب کچھ محسوس و مشہود دنیا کو اہمیت دینے کے نتیجے میں ہوا جو ہم نہ دے سکے۔ اقبال بھی یہی کہتے ہیں۔

٣- ہماری روایت میں وجدان، شعور کی اس حالت کو کہتے ہیں جو حقائق، یعنی ماوراء حس و مشاہدہ امور کے غیر ارادی انکشاف سے تشکیل پاتی ہے۔ لیکن یہ وجدان کی متفقہ تعریف نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ وجدان، عقل ہی کی ایک صورت ہے۔ تیسری تعریف یہ ہے کہ شعور میں کچھ چیزیں تجربے اور تعقل سے پہلے موجود ہوتی ہیں، جیسے زمان و مکاں، اعداد، حقیقت وغیرہ کے تصورات جو ذہن میں کہیں سے سیکھے بغیر موجود ہیں۔ انھیں وجدانات کہا جاتا ہے۔ یعنی وجدان، تعقل کا بنیادی مادہ ہے۔ غرض وجدان اپنے ہر معنی میں سب لوگوں کو صلاحیت کے طور پر حاصل ہے، اور اس کی بیداری اور ترقی کا عمل عقل، ارادے اور جذبے کی مشترکہ یکسوئی سے ہوتا ہے۔

(راجہ قاسم محمود کے جواب میں)

Facebook Comments Box
featuredابن عربیاحمد جاویداقبالتصوفتعقلعقلعقلیتعلی عباس جلالپوریغزالیفلسفہمابعدالطبیعیوجدان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
لوٹی گئی دولت: بیرون ملک منتقلی اور واپسی کا مخمصہ —- ارشد محمود
next post
گدھا، گھوڑا اور لیڈر ——– فرحان کامرانی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.