تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبمزاح

سب ٹھیک ہو جائے گا —- عابد آفریدی

by دانش ڈیسک 03/07/2018
written by دانش ڈیسک 03/07/2018
124

ایک آزاد امیدوار مولانا صاحب کا فون آیا، کہا “میں نے الیکشن مہم کا آغاز کرلیا ہے اور آج علاقے (اورنگی) کا دورہ کرونگا اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ چلو”۔

مولانا صاحب انتہائی خوش اخلاق, نفیس طبع انسان ہیں۔ مریدین کا حلقہ رکھتے ہیں, لوگ ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔ مگر نجانے وہ کیسے اس بات سے انجان رہ گئے کہ کراچی اورنگی کے لوگ پیاس، کچرا، ٹھوٹ پھوٹ و دیگر محرومیوں کی وجہ سے اسقدر مشتعل ہیں کہ سیاسی امیدواروں کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے۔ بلکہ علاقے میں داخل ہونے والے سیاسی امیدوار کا استقبال انڈوں، ٹماٹروں اور پتھروں سے کرتے ہیں۔ اب ایسے میں مولانا صاحب کا انتخابی مہم کے تحت ان مخدوش علاقوں میں جانا کسی صورت مناسب اور خطرے سے خالی نہ تھا۔

ہم نے کہا “مولانا صاحب ہمیں اپنی نہیں آپ کی عزت بہت عزیز ہے”۔ خدانخواستہ کسی نے کوئی ایسی ویسی حرکت کردی ہم تو آپ کی تقدیس پر اپنی جان قربان کردیں گے!

آپ نے نہایت مشفقانہ انداز میں جواب دیا “ارے نہیں بیٹا ایسی کوئی بات نہیں ہم سابق حکمران یا سیاسی لٹیرے تھوڑی نا ہیں کہ لوگ ہم پر پتھر برسائیں گے، بے فکر ہوجاو، سب ٹھیک ہوجائے گا”۔

ہم نے مولانا صاحب کی بات مان لی۔ ان کے گھر پہنچے تو مزید پروٹوکول دینے کے لئے ہم سے پہلے ان کے چند مرید بھی موجود تھے۔

روانگی سے قبل باجماعت دعا ہوئی! کہ اللہ عوام کو شعور عطا فرما۔ راست سوچ عطا فرما تاکہ وہ درست لوگوں کو چنے آمین ثم آمین۔ (حیران کن امر ہے کہ تمام سیاسی لیڈران ہمیشہ عوام کے شعور و راستی کی ہی دعا مانگتے ہیں، اگر یہ لیڈران کبھی اپنے حق بھی یہ دعا مانگ لیں تو بڑے بڑے معاملات حل ہوجائیں)۔

پانچ موٹر سائیکلوں اور دو گاڑیوں پر مشتمل قافلے کی صورت ہم اورنگی پونے تین میں داخل ہوئے جہاں کچرے کے ڈھیر، گٹر کا پانی اور ڈسکنکٹڈ پی ایم ٹیز دیکھ کر میری نظریں شرم سے جھک گئیں۔

عالمی ماہرین نے کراچی کو گندا ترین شہر قرار دیے جانے کے وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا “دوسرے شہروں میں کچرے کے ڈھیر کچرا کنڈی میں پڑے نظر آتے ہیں۔ جبکہ کراچی میں کچرا کنڈی کا کام سڑکوں اور سرکاری اسکولوں سے لیا جاتا ہے”۔

مولانا صاحب نے گاڑی رکوائی کہا “اب پیدل مارچ کریں گے” گاڑیوں سے اتر کر مریدین نے آپ کے حق میں نعرے لگائے۔ مولانا صاحب نے علاقہ مکین، جو ہماری اس اچانک انٹری و ہمت پر حیران و ششدر کھڑے تھے، کی جانب ہاتھ لہرا کر سب کو بلند آواز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا:

“وطن عزیز کے سپوتوں!!!! ” سب ٹھیک ہوجائے گا”۔

جواب میں لوگوں نے ان کو دور سے ہی واپس جانے کے اشارے کیے۔ مجھ سمیت مریدین نے مولانا صاحب کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جس پر آپ نے جواب دیا۔

“کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا”

گلی میں داخل ہوکر ایک گھر کا دروازہ بجایا۔ دروازہ کھلا اس سے پہلے کہ مولانا صاحب ان سے بھی فرماتے کہ سب ٹھیک ہوجائے گا، گھر والوں نے ہمیں سنے بنا ہی دروازہ زور سے بند کر دیا۔ ایک آدھ نے تو دروازہ بند کرنے سے قبل ایسی لکھنوی و دہلوی گالیاں دیں جن کے معانی جاننے کے لئے باقاعدہ لغت کی ضرورت تھی۔

جب کئی گھروں کے دروازے ہم پر بند کر دیئے گئے تو مولانا صاحب خود ہی بلا سوال و تشویش کے کھوئے ہوئے انداز میں بول اٹھے۔

سب ٹھیک!!!! ہوجائے،،،،،،،، گا۔۔۔۔۔۔ یارا”

مولانا صاحب کی امید و استقامت اپنی جگہ مگر ہم نے خطرات کو بھانپ لیا۔ گلی کے اگلے سرے پر لوگ جمع ہونا شروع ہوئے۔ ان کے تیور و عزائم دور سے ہی منفی دکھائی دے رہے تھے۔

دروازے بجاتے بجاتے ہم بھی اپنی گاڑیوں سے اتنے دور آگئے تھے کہ حالات کشیدہ ہونے کی صورت میں بھاری نقصان صرف ہمیں ہی اٹھانا پڑتا۔ اچانک نامعلوم سمت سے ایک سنسناتا پتھر آکر ہمارے قریب زمین پر لگ کر یوں بکھر گیا جیسے اولے گر کر بکھرتے ہیں۔ ابھی ہم آنے والے پتھر کی سمت معلوم کررہے تھے کہ اچانک علاقے کے سارے کھمبے بجنا شروع ہو گئے۔

کھمبوں کا بجنا تھا کہ خواتین گھروں کی چھتوں پر سے خراب سبزیاں، پرانی چپلیں لئے برآمد ہوگئیں۔ اس سے پہلے کہ یہ سب دیکھ کر مولانا صاحب ہم سے کہتے کہ “سب ٹھیک ہوجائے گا” لوگوں نے مارو مارو کا ایک کہرام برپا کردیا۔ ہم سب پر اندھا دھند بوچھاڑ شروع ہوگئی۔

اس سے قبل کہ ہم دعوی کے مطابق مولانا صاحب کو سیکورٹی فراہم کرتے” ان کی ڈھال بنتے، ان پر اپنی جان نچاور کرتے، ان تمام اقدامات سے قبل ہی آپ مدظلہ علیہ امامہ بغل میں داب کر براق بن گئے۔

جب ہم باقی ماندہ نے اپنے سپاہ سالار کو میدان سے یوں رنگی ٹانگوں فرار ہوتے دیکھا تو ہماری صف بھی منتشر ہوگئی جسے جو رخ سمجھ میں آیا اس جانب دوڑ لگادی۔

ہم نے بھی ایک ہاتھ سر پر اور ایک جیب پر رکھتے ہوئے مولانا صاحب کے پیچھے دوڑ لگائی۔ دوڑتے ہوئے جس انداز میں مولانا صاحب مزید قوت و رفتار پکڑنے کے لئے ہاتھ چلارہے تھے ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے باگیں تھامے گھوڑے پر سوار ہوں اور گھوڑا بھی عام گھوڑا نہیں بلکہ عربی گھوڑا ہو۔

الحمد اللہ ہم اسپورٹس شوز پہن کر گئے تھے کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ یہ سب ہونا ہے۔ مولانا سے چند ہی قدم پیچھے ہم بھی ان کے ساتھ محو رفتار تھے۔

ہر دس قدم بعد مولانا صاحب کے ماتھے پر اوسط ایک انڈا لگ کر بکھرتا رہا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی مگر جب اچانک ایک پتلی گلی سے چڈی بنیان پہنے ایک لڑکا ہاتھ میں گوبر کا گولہ پکڑے نمودار ہوا تو ہماری رفتار ڈانوا ڈول ہونے لگی۔ مولانا کبڈی کے کسی شاطر کھلاڑی کی طرح ان کو ڈاج دینے کے لئے ادھر ادھر ہوئے مگر اس اورنگی کے جونٹی روڈز نے ایسا مستند تھرو مارا کہ وہ گولہ سیدھا اپ کے رخ انور سے لگ کر پاش پاش ہوگیا۔ اس ڈائرکٹ ہٹ پر مولانا صاحب قدرے بے قابو ضرور ہوئے مگر رفتار و پرواز میں کوتاہی پھر بھی نہ ہوئی۔ بس ایک نظر پھیر کر ہمیں انتہائی پرشکوہ نظروں سے دیکھا جیسے کہنا چارہے ہوں:

“بیٹا فون پر تو بڑے ہماری تقدیس پر قربان ہونے کی بات کر رہے تھے اب کیا گوبر کے بعد بم سے مارے جانے کے انتظار میں ہو؟”

بلاخر ایک دو راہے پر پہنچ کر ہم نے مولانا صاحب کو “رب راکھا” کہہ کر ان سے اپنا راستہ جدا کرلیا۔

محلے میں پہنچ کر نائی کا رخ کیا۔ دیکھا تو ہم سے پہلے مولانا صاحب بیسن کے آگے بنا چپلوں کے کھڑے چہرے پر پانی ماررہے تھے۔ اپنی داڑھی سے انڈے کا مایا پونچھتے اور عربی لبادے میں لپٹی ایسی تناور گالیاں نکالتے کہ اگر کوئی کافر سن لیتا ان کی موسیقیت کی سحر میں آکر اسلام قبول کرلیتا۔

ہم پر نظر پڑی تو آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ منہ دوسری جانب پھیر لیا۔ جیسے یہ سب کچھ ہمارا کیا دھرا ہو۔ ہم نے آپ کو فورا گلے لگایا، کی کمر سہلاتے ہوئے تسلیاں دیں۔ کان میں دھیمے سے یہ کہہ دیا۔

“سب ٹھیک ہوجائے گا” مولانا صاحب!!!

اپنے استاد بہاولدین بھاوا کو جب ہم نے یہ واقعہ سنایا تو مسکراتے ہوئے بولے؛

“چلو مولانا صاحب نے اپنے حلقے کے لوگوں کے لئے شعور کی جو دعا مانگی وہ تو کم از کم قبول ہوگئی۔یہ پتھراو شعور ہی تو ہے۔

Facebook Comments Box
featuredسیاستسیاسی مزاحمزاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
استنبول ٹریولنگ ٹپس : ظہیر تاج (قسط نمبر 2)
next post
خطرناک مذہبی سیاست —– مظفر الحق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.