تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدسماجیعلم و ادبعلمیکالم

جدید علمِ عمرانیات : ایک تعارف — اسامہ ثالث

by دانش ڈیسک 15/06/2018
written by دانش ڈیسک 15/06/2018
147

پیچیدگی تہذیب مغرب کا خاصہ ہے۔ کپارٹمینٹل آئزیشن آف نالج کی وجہ سے کسی بھی علم کی حقیقت و ماہیت پہ بات کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گیا ہے۔ ایسے میں عمرانیات کے تعارف پہ بات کرتے ہوئے ایک طالب علم یا محقق کے لئے اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ بات کہاں سے شروع کرے۔ ہمارے خیال میں مغرب کی تمام سوشل سائنسز بشمول سوشیالوجی/عمرانیات کی جڑیں ماضی قریب کے دو اہم فلسفیوں، ایمانوئیل کانٹ اور جارج ہیگل کے افکارات میں پیوست ہیں۔ کانٹ اور ہیگل ایک خاص قسم کی معاشرت، جس کی تعمیر مغرب میں گزشتہ تقریبا ساڑھے تین سو سال سے ہو رہی تھی، کو مکمل کرتے ہیں۔ بظاہر انکے افکار میں ایک تضاد پایا جاتا ہے مگر اپنی حقیقت میں یہ  ایک دوسرے کا تکملہ کرنےوالے ہیں۔ ہماری نظر میں جدید عمرانیات کے دو اہم ستون کارل مارکس اور میکس ویبر ہیں۔ نظری اعتبار سے مارکس ہیگیلین اور ویبر کانٹین پیراڈائم کا آدمی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں کے افکار میں جو جوہری فرق پایا جاتا ہے، جدید ریاستی ڈھانچہ اور سول سوسائٹی اس کو کمال خوبصورتی کے ساتھ گڈمڈ کرکے کر اختلاف کو باعث رحمت بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

نظری اور عملی عمرانیات میں جو فرق ہے، مغرب نے اس کو بھی جدید طریقہ ہائے تدریس/ طاقت کے دیومالائی میکنزم کے ذریعے مبہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ تقریبا ایک سو سال سے عمرانیات، پیچیدہ فلسفیانہ مباحث کو عام جنتا میں پھیلانے کے لئے ادب کو مات دے گیا ہے۔ جدید عمرانیات کو اگر ہم فلسفہ کی تلچھٹ کہیں تو یہ بےجا نہ ہوگا۔ صدیوں سے فلسفہ کے جو اہم مباحث رہے ہیں ایک حد تک عمرانیات نے اس کو عوامی بنادیا ہے۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ تقریبا ایک سو سال سے عمرانیات، پیچیدہ فلسفیانہ مباحث کو عام جنتا میں پھیلانے کے لئے ادب کو مات دے گیا ہے۔

نظری عمرانیات کے اہم مباحث میں سے ایک سماجی تبدیلی (جو با لعموم ارتقاء کے ہم معنی سمجھی جاتی ہے) ہے، نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر دعویٰ کیا کہ جدید عمرانیات کے باوائے آدم مارکس اور ویبر ہیں، یہ دونوں ماہر عمرانیات(اگر یہ اصطلاح ان کے لئے مناسب ہے تو، ورنہ ہمارے خیال میں پیچیدگی کے اس دور میں عمرانیات کی علمی درماندگی کی یہ انتہاء ہے کہ اس کو ایسے دو بڑے آدمی نہیں ملے جو مکمل طور پر اس علم کو اوون کرتے ہوں، ہمارے اس دعویٰ پہ یقیناََ بہت سے لوگوں کو اعتراض ہو گا، لیکن ہماری گزارش ہے کہ نظری عمرانیات میں مارکس اور ویبر سے بڑا/ اہم کوئی دوسرا آدمی نہیں ہوا۔ اس پر ہم مضمون کے دوسرے حصہ میں بات کریں گے) ہماری نظر میں اس لئے اہم اور حقیقی ماہر عمرانیات ہیں کیونکہ سماجی تبدیلی پہ ان سے بہتر اور مربوط انداز میں کسی اور نے بات نہیں کی۔ مغرب میں معاشرہ جس عظیم سماجی تبدیلی کی لپیٹ میں آیا جسے ہم سرمایہ داریت/ مارکیٹ سوسائٹی/ سول سوسائٹی کے نام سے پکارتے ہیں (اس کی وجوہات پہ ہم آگے چل کر بات کریں گے) اس کا مفصل تجزیہ صرف انہی دو ماہر عمرانیات کے ہاں ملتا ہے۔ عمرانیات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ صرف مارکس اور ویبر ہی ایسے دو آدمی ہوگزرے ہیں جو عظیم سماجی تبدیلی (سرمایہ داریت/مارکیٹ سوسائٹی/سول سوسایٹی) سے پہلے کی کسی معاشرت پہ نہ صرف نظری و عملی یقین رکھتے ہیں بلکہ سرمایہ داریت کے بعد کے بھی کسی نظم معاشرت کے منکر نہیں۔  مارکس و ویبر کے علاوہ باقی تمام ماہر عمرانیات نہ صرف سرمایہ داریت سے پہلے کے کسی بھی طرح کے نظم معاشرت پہ بس نظری/خیالی قسم کا یقین رکھتے ہیں (اور ایک حد تک ان کی تحقیر کے مرتکب ہوتے ہیں) بلکہ سرمایہ داریت کے بعد کی کسی معاشرت کا خیال کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم واقع ہوئے ہیں۔ میکس ویبر کیپٹل ازم کو ایک حادثہ جانتا ہے، اس کے خیال میں جیسے معاشرہ سرمایہ دارانہ معاشرت میں تبدیل ہوا بالکل ویسے ہی کبھی یہ کسی اور شکل میں بھی ڈھل سکتا ہے۔ ویبر، سرمایہ دارانہ معاشرت کو حرف آخر/ انسانی سماج کی آخری ترقی یافتہ شکل نہیں سمجھتا۔ بالکل ایسے ہی مارکس بھی سرمایہ دارانہ معاشرت سے پہلے کسی معاشرتی صف بندی کی موجودگی کا قائل ہے اور سرمایہ داریت کے ختم ہونے کے بعد کسی دوسرے معاشرتی ڈھانچے پہ بھی نہ صرف مکمل یقین رکھتا ہے بلکہ اس کے لئے عملی جدوجہد بھی کرتا رہا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جدیدیت، سرمایہ داری اور فرد کی انانیت —- زید سرفراز

 

ان دو بڑے مفکرین کی فکر کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جدید عمرانیات صرف ماڈرن سوسائٹی کے مطالعہ کا نام ہے۔ ان دونوں مفکرین نے صرف سرمایہ دارانہ معاشرت کا مطالعہ کیا اور اس کی ترکیب، ساخت وغیرہ پہ بات کی۔ اس کے بعد آنےوالے ماہر عمرانیات بھی صرف اور صرف “سرمایہ دارانہ معاشرت” کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن افسوس! اس علم یعنی علم العمرانیات کی بابت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ “معاشرہ” کو سمجھنے کی سائنس ہے یعنی یہ وہ علم ہے جو “معاشرے” کی بناوٹ، ساخت، ارتقاء و دیگر خصوصیات سے بحث کرتا ہے۔ ہم نے یہ سلسلہ عمرانیات کی تفہیم کے لئے شروع کیا ہے۔ اس کی کوئی خاص ترتیب تو نہیں ہو گی البتہ ہماری کوشش ہو گی کہ مبادیاتِ عمرانیات پہ گفتگو کرنے کے بعد عمرانیات کےنظری مباحث مانند سوشل تھیوری  پہ سیر حاصل گفتگو کر لی جائے۔ اختلافِ رائے  کا احترام، مکالمہ کے بنیادی لوازمات میں سے ہے لیکن گزارش ہے کہ بحث کو موضوع تک محدود رکھا جائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس کام کو احسن طریقہ سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔  

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

Facebook Comments Box
Sociologyایمانوئیل کانٹجدید عمرانیاتسماجسماجیاتعمرانیاتمارکسہیگل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عید کہانیاں ——- اے وسیم خٹک
next post
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم: سید فرقان حیدر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.