تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

شریکِ مطالعہ —– نعیم الرحمٰن

by دانش ڈیسک 11/07/2018
written by دانش ڈیسک 11/07/2018
99

عرفان جاوید اردو کے نوجوان قلمکار ہیں۔ انہوں نے بہت کم وقت میں اپنے پراثر، سادہ اور دلنشین اسلوب کا سکہ جما دیا ہے۔ عرفان جاوید کی تخلیقات ملک کے مستند ادبی جرائد ’’فنون‘‘، ’’سویرا‘‘، ’’دنیا زاد‘‘، ’’معاصر‘‘ ’’نقاط‘‘ اور ’’سمبل‘‘ میں شائع ہو کر معروف اہل قلم سے داد حاصل کر چکی ہیں۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’’کافی ہاؤس‘‘ نے قارئین کو چونکا دیا تھا۔ پھر آصف فرخی اور محمد الیاس کے افسانوں کا انتخاب اور تنقیدی تعارف پر مبنی دو کتابیں ’’سمندر کی چوری‘‘ اور’’مورتیں‘‘ شائع ہوئی۔ عرفان جاوید نے افسانے سے خاکہ نگاری کی جانب رجوع کیا۔ ان کے خاکوں کی کتاب ’’دروازے‘‘ سنگ میل نے شائع کی ہے۔ بڑے سائز کے دو سو چھپن صفحات کی کتاب کی قیمت بارہ سو روپے مناسب ہے۔ کتاب کے چند خاکے معاصر اردو روزنامے کے سنڈے ایڈیشن میں شائع ہو کر قارئین کی داد حاصل کرچکے ہیں۔

مشہور ادیب، شاعر، ہدایت کار، فلم ساز اور دانشور گلزار کا کہنا ہے کہ

’’عرفان صاحب خوب لکھتے ہیں۔ کچھ لوگ یاد رہتے ہیں اپنی تہذیب کی وجہ سے اور کچھ تہذیبیں اور تمدن یاد رہ جاتی ہیں کچھ لوگوں کی وجہ سے! اس باب میں ایک پوری کی پوری تہذیب زندہ ہو جاتی ہے عرفان صاحب کے بیان سے۔ افسوس کہ وہ لوگ نہ رہے لیکن تغیر کو کون روکے۔ نہ لوگ رُکتے ہیں، نہ وقت رُکتا ہے، نہ تہذیبیں، نہ تمدن۔ تغیر لازمی ہے۔

بھارتی ادیب، تنقید نگار، مستند مدیر اور دانشور شمس الرحمان فاروقی کا کہنا ہے کہ ’’عرفان جاوید کی یہ تحریریں اصطلاحی معنی میں خاکے نہیں ہیں، بلکہ مصنف کی اپنی شخصیت کی بھرپور آمیزش، صاحبِ خاکہ کے بارے میں دوسروں کے بھی تاثرات کی عکاسی کی بنا پر یہ تحریریں افسانوی رنگ رکھتی ہیں۔

نامور ناول نگار مرحوم عبداللہ حسین نے عرفان جاوید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ

’’حیرت ہے کہ اس کم عمری عرفان جاوید نے اتنا طویل تجربہ حاصل کر لیا کہ اپنے سے کہیں سینئر ادیبوں پر کمند پھینک کر ان کے برابر جا کھڑے ہوئے ہیں اور ان کے ورق ورق کو الٹ کر ان کے کام اور زندگی کو منظر عام پر لا رہے ہیں۔ نصیر کوی صاحب کی روداد نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ تنگ دستی میں گزارا کرتے رہے، صلہ کچھ طلب نہ کیا، عقیدہ کسی حالت میں ترک نہ کیا، اور آخر میں گم نامی کی موت مرے۔ ایک معمولی آدمی کو نام ور لوگوں کے برابر کھڑا کر کے عرفان جاوید نے انسان دوستی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘

مصنف، ناول نگار، کالم نگار، اداکار اور نہ جانے کیا کیا مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں کہ

’’عرفان ایک بھٹکی ہوئی خود سر اور بے چین روح ہے اور روحوں کا کچھ پتا نہیں ہوتا کہ وہ بھٹک کر کہاں نکل جائیں۔ وہ افسانے کے کوچے میں تو بھٹکتا ہی ہے لیکن جب کبھی خاکہ نگاری کی گلی میں آ نکلتا ہے تو اپنی جادوگری سے ہم سب کو متحیر کر دیتا ہے۔ وہ اُس ادبی شخصیت کو صرف بیان ہی نہیں کرتا بلکہ اُ س کے رگ و پے میں حرکت کرتا اُس کا ایک حصہ بن جاتا ہے کہ کچھ خبر نہیں ہوتی کہ ان میں ہیر کون اور رانجھا کون ہے۔ عرفان جاوید کے یہ خاکے کبھی خاک نہیں ہوں گے۔‘‘

بھارتی ادیب، تنقید نگار، مستند مدیر اور دانشور شمس الرحمان فاروقی کا کہنا ہے کہ

’’عرفان جاوید کی یہ تحریریں اصطلاحی معنی میں خاکے نہیں ہیں، بلکہ مصنف کی اپنی شخصیت کی بھرپور آمیزش، صاحبِ خاکہ کے بارے میں دوسروں کے بھی تاثرات کی عکاسی کی بنا پر یہ تحریریں افسانوی رنگ رکھتی ہیں۔ یعنی یہ افسانے ہیں، سچے افسانے، اس کتاب کو پڑھتے وقت میں کبھی اس کے انداز تحریر میں کھو گیا تو کبھی اس کے بیان کردہ واقعات اور حقائق کا تماشائی بن گیا۔ ایسی کتابیں کم ہوتی ہیں۔‘‘

دروازے میں بارہ طویل شخصی خاکے ہیں۔ جن کے عنوان سے ہی شخصیت کا روپ قاری کی نظر میں پھر جاتا ہے۔ دراصل یہ خاکے خاکوں سے کچھ بڑھ کر شخصیت نامہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کے خاکے کو ’’پارس‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ عنوان ہی سے قاسمی صاحب کے ادبی جریدے فنون اور اس کے ذریعے متعارف ہونے والے بے شمار ادیب و شعراء کے نام نظر میں پھر جاتے ہیں۔ بلاشبہ احمد ندیم قاسمی کے لئے پارس ایک بہترین عنوان ہے۔

اس بے مثال کتاب کو پڑھنے کے بعد عرفان جاوید کی آئندہ کتاب کا بے چینی سے انتظار ہے۔ وہ مزید خاکے ’’سرخاب ‘‘ کے نام سے لکھ رہے ہیں۔

مرحوم ادیب اے حمید کے خاکے کو ’’بارش، خوشبو اور سماوار‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے بارے میں انتظار حسین کا کہنا ہے کہ ’’اے حمید کا خوب تذکرہ ہے، وہ اپنے سارے رومانی مزاج کے ساتھ یہاں چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔‘‘

دورِ حاضر کے مقبول ترین شاعر احمد فراز کے خاکے کا عنوان ہے ’’شریر‘‘ اور اس ایک لفظ سے فراز مجسم ہو کر قاری کی نظر میں آ جاتے ہیں۔ خاکے کا آغاز ملا حظہ کریں۔ ’’فراز صاحب نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میری شہرت اچھے شاعر کی ہے لیکن میرا اصل کمال شاعری نہیں کچھ اور ہے۔‘‘ وہ کیا؟میں نے اشتیاق سے پوچھا۔ ’’حصص اور پلاٹوں میں بہترین سرمایہ کاری! اسی لئے میں شاعروں میں سب سے امیر شاعر ہوں۔‘‘ کیا اس کے بعد قاری اس خاکے کو ادھورا چھوڑ سکتا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ کا خاکہ ’’کاہن‘‘ کے نام سے ہے۔ عرفان جاوید خاکے میں لکھتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ ہزاروں خالی صفحات میں رنگ بھرنے والا تاڑر اپنے مزاج کی شوخی اور انداز کی برجستگی کو برقرار رکھے ہے۔ عام زندگی میں بہت نارمل اور بے تکلف تارڑ اپنے ماحول کی جزئیات پر ایسی نظر رکھتا ہے جیسی چوٹی پر بیٹھا عقاب وادی میں بہتے دریا کے کنارے بیٹھے شکار پر رکھتا ہے۔

عبداللہ حسین کے خاکے کا عنوان ’’باگھ‘‘ اور احمد بشیر کے خاکے کا ’’کامریڈ‘‘ اور عطاء الحق قاسمی کے خاکے کا ’’کھلکھلاتا آدمی‘‘ ہے۔ ان عنوانات سے صاحب ِ خاکہ سامنے آ جاتا ہے۔

سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیر اور صاحب طرز ادیب شکیل عادل زادہ کا طویل خاکہ ان کی مشہور زمانہ سلسلہ وار ناول ’’بازی گر‘‘ کے نام سے ہے۔ یہ ایک بہت دلچسپ اور منفرد تحریر ہے۔ جس میں شکیل عادل زادہ کی شخصیت کے کئی پوشیدہ گوشے عیاں ہوتے ہیں۔ خاکہ ابتدا ہی سے قاری کو جکڑ لیتا ہے۔ ’’نوجوان شکیل عادل زادہ، عظیم اداکارہ مینا کماری کی زندگی میں ایک جانب سے داخل ہوتے ہیں چند دن گزرتے ہیں، کچھ مکالمات بوتے ہیں اور دوسری جانب سے نکل جاتے ہیں۔ اُس وقت شکیل عادل زادہ کون ہیں اور مینا کماری کون، ایک سننے کی کہانی ہے۔ ‘‘قاری کا تجسس اس آغاز ہی سے اسے اختتام تک پڑھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

تصدق سہیل کا خاکہ ’’نانگا پربت‘‘ اور نصیر کوی جس کی تعریف عبداللہ حسین نے بھی کی ہے’’ٹلاجوگیاں کا مصلی‘‘ کے زیرِ عنوان ہے۔ کالم نگار اور اینکرجاوید چوہدری کا خاکہ ’’دوسراآدمی ‘‘ اور کتاب کا آخری خاکہ محمد عاصم بٹ کا ’’دھندلاآدمی ‘‘ کے نام سے ہے۔ اس بے مثال کتاب کو پڑھنے کے بعد عرفان جاوید کی آئندہ کتاب کا بے چینی سے انتظار ہے۔ وہ مزید خاکے ’’سرخاب ‘‘ کے نام سے لکھ رہے ہیں۔


فہیم اسلام انصاری ادب کی زیر ادارت تابندہ روایات کا ترجمان انتہائی خوبصورت ادبی کتابی سلسلہ ’’اجمال‘‘ کئی سال سے اشاعت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اجمال کا تیرہواں شمارہ حال ہی شائع ہوا ہے۔ جس میں حسب سابق نظم و نثر کی مختلف اصناف کے عمدہ تحریریں شامل ہیں۔ بہترین سفید کاغذ پر دو سو چالیس صفحات کے اس کتابی سلسلہ کی قیمت پانچ سو روپے بہت مناسب ہے۔ اور اس کا صوری اور معنوی حسن فہیم انصاری کو صاحب ِ ذوق بھی ثابت کرتا ہے۔ اداریہ فہیم انصاری صاحب نے جامعہ کراچی میں منعقدہ سر سید کانفرنس پر تحریر کیا ہے۔ جس میں کئی فکر انگیز سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے بعد نسیم سحر اور ریاض ندیم نیازی کی خوبصورت نعتیں ہیں۔

مصنف، ناول نگار، کالم نگار، اداکار اور نہ جانے کیا کیا مستنصر حسین تارڑ کہتے ہیں کہ ’’عرفان ایک بھٹکی ہوئی خود سر اور بے چین روح ہے اور روحوں کا کچھ پتا نہیں ہوتا کہ وہ بھٹک کر کہاں نکل جائیں۔ وہ افسانے کے کوچے میں تو بھٹکتا ہی ہے لیکن جب کبھی خاکہ نگاری کی گلی میں آ نکلتا ہے تو اپنی جادوگری سے ہم سب کو متحیر کر دیتا ہے

مضامین میں ڈاکٹر ضیاء الحسن نے ’’اردو ادب کا عالمی تناظر‘‘ میں جائزہ لیا ہے۔ پانچ صفحات پر مبنی تحریر میں ڈاکٹر صاحب نے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ’’قدیم اردو غزل کے عناصر خمسہ‘‘ کے زیر عنوان خاور اعجاز، ’’ما بعد جدیدیت ‘‘، اور خرم سہیل نے ’’پاکستان کے شعر و ادب میں علمی دہشت گردی ‘‘ کے منفرد موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔

کتاب اور صاحبِ کتاب میں صبا اکرام نے ’’جو گندرپال کے افسانے‘‘، اے خیام نے ’’صبا اکرام ایک شفاف روح‘‘، اجمل اعجاز نے ’’ہمہ جہت تخلیق کار‘‘ کے عنوان سے اچھے مضامین تحریر کئے ہیں۔ ا س حصے کے دیگر مضامین بھی عمدہ ہیں۔
حصہ غزل میں احمد صغیر صدیقی، حمیدہ شاہین، اکبر معصوم اور کاشف حسین غائر کی غزلوں کا جواب نہیں۔ احمد سعید، فیض آبادی اور بشیر بدر کی ہم قافیہ غزلیں بھی منفرد انتخاب ہیں۔

افسانوں میں اجمل اعجاز کا ’’نیلی آنکھیں نیلی جھیل‘‘ اور آغا گل کا ’’نیا جرنیل‘‘ دونوں موضوع اور ٹریٹمنٹ میں مختلف ہونے کے باوجود انصاف، قانون اور کرپشن کے حوالے سے عمومی تصورات کو عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔ نجیب عمر کا افسانہ ’’یادوں کا البم‘‘ شاکر انور کا ’’اڈیالہ جیل کا قیدی‘‘ کے علاوہ دیگر افسانے بھی اچھے ہیں۔ اس پرچے میں ایک اچھا تجربہ افسانہ اور اس کا انگریزی تجربہ بھی کیا گیا ہے۔ شاکر انور کے افسانے ’’جمیرا بیچ‘‘ اور اس کا انگلش ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔

نظموں میں شفیق احمد شفیق کی نظر ’’آرمی اسکول کے شہداء کے نام‘‘ نے آنکھیں نم کر دیں۔ کاوش عباسی،عطاء الرحمٰن قاضی اور وجیہہ وارثی کی نظمیں بھی اچھی ہیں۔

آخر میں ماضی سے انتخاب میں جسٹس رانا بھگوان داس کی خوبصورت نعت، جان ایلیا اور عبیداللہ علیم کی غزلین اور اپندر ناتھ اشک کی تحریر ’’بینگن کا پودا‘‘ نے ماضی کی یادوں کو تازہ کیا ہے۔ اجمال ایک بہت عمدہ ادبی کتابی سلسلہ ہے۔ جس کی مسلسل اشاعت پر فہیم اسلام انصاری مبارکباد کے مستحق ہیں۔

Facebook Comments Box
اردو ادباردو کتابیںخاکہخاکہ نگاریعرفان جاویدکتابوں پر تبصرےمختلف شخصیات کے خاکےنوجوان قلمکار
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مظلوم، معصوم بچے اور والدین —- رقیہ اکبر
next post
پرامن احتجاج تو حق ہے —– آصف محمود

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.