تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

امریکی سفارتکار، قتل، استثنا، قانون اور لبرل سوچ : آصف محمود

by دانش ڈیسک 08/04/2018
written by دانش ڈیسک 08/04/2018
90

امریکہ ملٹری اتاشی نے ریڈ سگنل توڑتے ہوئے ایک نوجوان کو قتل کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
کیا اس کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے؟ انٹر نیشنل لاء کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہے۔
البتہ دو اور آپشنز موجود ہیں۔

1۔ امریکہ سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کو حاصل سفارتی استثناء ختم کیا جائے تا کہ اس پر مقدمہ قائم کیا جا سکے اور جب تک یہ معاملہ طے نہیں ہوتا اسے ملک چھوڑ کر نکل جانے کی اجازت ہر گز۔ نہ دی جائے۔ اگر چہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ امریکہ یہ سفارتی استثناء ختم کرے گا تا ہم اس کے باوجود مطالبہ ضرور کرنا چاہیے اور پوری شدت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ کوئی بد بخت ٹیڑھے سر والا ہمارے قانون کو پامال کر کے پولیس وین پر چڑھ جاتا ہے اور کوئی بد بخت ریڈ سگنل کے باوجود ایک نوجوان پر گاڑی چڑھاتا ہے۔ یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ پاکستان کے قانون اور شہریوں کے۔ جان و مال کی اہمیت ہے۔

2۔ دوسری صورت میں اس کے خلاف امریکہ میں مقدمہ چلایا جائے اور ریاست خود ایک فریق کا کردار ادا کرے۔

3 تیسرا آپشن سرکاری اور عوامی سطح پر بھرپور احتجاج کا ہے۔ یہ انسانی جان کی۔ حرمت کا سوال ہے۔ امریکیوں سے بھرپور احتجاج کیا جائے۔ حکومت اور دفتر خارجہ اپنے انداز میں اور سوشل میڈیا اپنے انداز میں۔ دفتر خارجہ کم از کم اتنا تو امریکہ سے پوچھ ہی سکتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم قانون کے نام پر تمہارے ہاتھوں بے عزت ہو سکتا ہے تو امریکہ کا ایک ملٹری اتاشی ہمارے قانون کو کیسے اور کیوں پامال کر دیتا ہے؟ کیا اس نے کبھی امریکہ میں بھی قانون اس طرح پامال کرنے کی ہمت کی؟ پاکستان کیا ایک بنانا ری پبلک ہے؟

سفارتی قانون کی پیچیدگیاں اپنی جگہ تاہم جو جو آپشن دستیاب یو اسے بھرپور طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے۔ چین کے انجینئرز کے خلاف بھی مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے۔ بعد میں چین اگر درخواست کرتا ہے تو معافی دے کر ملک بدر کرنے کا آپشن موجود ہے لیکن مقدمے کا اندراج بہت ضروری ہے۔ ملک کو کسی گورے یا کسی پھینے کا راجواڑہ مت بنائیں۔


امریکی ملٹری اتاشی کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کا ایک پہلو بہت اہم ہے۔

قانون میں اگر چہ سفارتی عملے کو استثناء حاصل ہے مگر اس کے اپنے ملک میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
اس کا کیا مطلب ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کے خلاف پاکستان میں مقدمہ تو نہیں چلا سکتے لیکن ابتدائی تحقیقات کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر آپ اس کے خلاف امریکہ میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں جب یہ مقدمہ چلے گا تو کسی ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر چلے گا۔

تو کیا پولیس نے ابتدائی تحقیقات کیں اور وہ شواہد اکٹھے کیے جو مقدمے میں کام آنے تھے؟
کیا اس امریکی اہلکار کا میڈیکل ٹیسٹ ہوا کہ یہ نشے میں تھا کہ نہیں؟
کیا اس سے کوئی بیان لیا گیا؟
کیا اسلام آباد پولیس کے پاس کوئی ایس او پیز ہیں کہ سفارتکار جرم کرے تو ابتدائی تحقیقات کیسے کرنی ہیں؟ کیا اس کو سفارتی استثناء دینے کا فیصلہ متعلقہ وزارت کو کرنے دینا ہے یا پیس اہلکار نے سڑک پر کھڑے کھڑے استثناء دے کر ملزم۔ کو روانہ کر دینا ہے۔

ملزم کو چند گھنٹے تحویل میں رکھ کرمیڈیکل وغیرہ کرانا ہے یا سیلوٹ مار کر کہنا ہے کہ جناب آپ سفارت کار ہیں آپ کو سات خون معاف آپ سفارت خانے تشریف لے جائیں؟
ان سوالات کا جواب ضروری ہے۔ تاکہ اسلام آباد میں رہنے والوں کو علم ہو وہ ایک مہذب شہر میں رہ رہے ہیں یا ڈینجر زون میں جہاں کسی وقت بھی کوئی بد مست اور مدہوش سفارتی اہلکار انہیں کچل سکتا ہے۔
جن گھروں میں کتے ہوتے ہیں وہاں لکھا جاتا ہے Beware۔ Dogs I side۔
تو کیا ہم بے بس شہری اب یہ مطالبہ کریں کہ چونکہ سینکڑوں سفارت خانوں کی گاڑیوں میں سے اس طرح کے واقعات صرف امریکی سفارت خانے کی گاڑیاں کرتی ہیں تو ان پر بڑے سے حروف میں لکھ دیا جائے کہ
Beware۔ US diplomat inside۔
تاکہ اس گاڑی کو آتے دیکھ کر لوگ کونے کھرروں میں چھپ کر جان تو بچا لیں۔


حسن ظن تو خیر کبھی بھی نہ تھا لیکن یہ امید نہ تھی کہ پاکستانی لبرلز اپنے تعصب میں اس حد تک بھی گر سکتے ہیں۔

امریکی ملٹری اتاشی کے ہاتھوں ایک نوجوان مارا گیا تو میں نے لکھا کہ اسے سفارتی استثناء تو حاصل ہے لیکن اس کے اپنے ملک مین اس جرم کے خلاف چونکہ مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے اس لیے پولیس کے لیے ضروری تھا کہ وہ ابتدائی تفتیش مکمل کرتی اور اس کا میڈیکل ٹیسٹ وغیرہ کیا جا تا۔ اس کے بعد بھی اسے چھوڑنا پولیس کا کام نہ تھا بلکہ اس کا ایک باقاعدہ طریق کار تھااور اسی کے مطابق فیصلہ ہونا تھا۔

اس تحریرنے کچھ دوستوں کو بد مزہ کر دیا اور وہ کہنے لگے کہ اس امریکی اتاشی کے خلاف امریکہ میں بھی اس جرم پر کوئی مقدمہ قائم نہیں ہو سکتا۔ معلوم نہیں یہ قانون سے جہالت کی علامت تھی یا شعوری پستی کا اظہار تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ ان کا موقف بالکل غلط ہے۔ یہ لوگ اصل میں کہنا یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ جو کرتا ہے ٹھیک کرتا ہے۔

حقیقت مگر اس کے برعکس ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ انٹر نیشنل لاء کے جس ضابطے کے تحت سفارتی عملے کو استثناء حاصل ہے اسی میں یہ کہا گیا ہے کہ اس ملزم کے خلاف البتہ اس کے اپنے ملک میں مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایسے درجنوں امریکی موجود ہیں جنہوں نے امریکہ سے باہر جرائم کیے اور انہیں امریکہ میں تیس تیس سال تک سزائیں ملیں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز والے ہرس اک اہتمام سے وارننگ جاری کرتے ہیں کہ امریکہ سے باہر جا کر جرم کرتے وقت یہ مت سمجھیے کہ آپ امریکہ سے دور ہیں بلکہ یقین رکھیے کہ ایسے کسی بھی جرم پر امریکہ کا قانون آپ کو لامی طور پر گرفت میں لے گا۔

پانچویں بات یہ ہے کہ 2005 میں رومانیہ میں امریکی فوجی کرسٹوفر گوتھم نے نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے، ٹریفک سگنل کوتوڑا اور ٹیکسی میں جا ٹکرایا جس سے ایک آدمی مر گیا۔ رومانیہ نے امریکہ سے کہا اس کا استثناء ختم کیا جائے۔ امریکہ نے ایسا نہیں کیا اورا س دوران وہ رومانیہ سے بھاگ کر امریکہ چلا گیا۔ امریکہ میں اس کے خلاف مقدمہ وائم ہوا اور اسے سزا ملی۔

سیکولر احباب یقیناًاس قانونی نکتے سے لاعلم نہیں۔ ان کا معاملہ جہالت نہیں، ان کا مسئلہ کچھ اور ہے۔ انہیں ہر حال میں اور ہر قیمت پر امریکیوں کے حق میں بولنا ہے اور ہمارے اجتماعی شعور کی توہین کرنا ہے۔ معاملہ اگر لاعلمی کا ہوتا تو میں کی لاعلمی دور کرنے کے لے مزید تفصیل سے اس مسئلے پر روشنی ڈالتا۔ ان کا معاملہ مگر کچھ اور ہے جس کا میرے پاس علاج نہیں ہے۔


امریکی سابق اٹارنی جنرل کیتھرین وینفری کا کہنا ہے:

Diplomatic immunity is a shield۔ Not a sword۔

یہ انہوں نے کب کہا؟
یہ اس وقت کہا جب جارجیا کے ایک ڈپلومیٹ نے اپنی کار تلے امریکہ کی ایک بیس سالہ لڑکی کو کچل دیا۔
اس کا استثناء امریکہ نے جارجیا سے ختم کروایا اور اسے سات سال قید کی سزا دی گئی۔
جب اسے سزا سنائی گئی تو امریکہ اٹارنی جنرل نے کہا : یہ سزا دے کر ہم نے ایک مثال قائم کر دی ہے آئندہ کوی بھی سفارت کار نشے کی حالت میں گاڑی چلانے سے پہلے دو مرتبہ سوچے گا”

https://www.facebook.com/etribune/videos/2277324418951238/

Facebook Comments Box
featuredامریکی سفارتکارامریکی سفارتکار قاتلسفارتکار کا استثنا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
علماء اور سیاست : احمد الیاس
next post
شادی کرلو: اسمارٹ فون محبت کی میں مبتلا نوجوانوں سے —– فواد رضا

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.