تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالممذہبی

علماء اور سیاست : احمد الیاس

by دانش ڈیسک 08/04/2018
written by دانش ڈیسک 08/04/2018
113

ہمارے کمزور سیاسی نظام کو کئی سوالات درپیش ہیں۔ علمائے دین کا سیاسی کردار ان میں سے ایک پرانا سوال ہے۔ یہ سوال قیام پاکستان سے بھی پہلے سے چلا آرہا ہے۔ علامہ اقبال کے چھٹے خطبے میں بھی اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے بعد تحریک پاکستان کے دوران علماء کے کردار نے بھی اس حوالے سے کئی تحفظات کو جنم دیا۔ ختمِ نبوت تحریک، جسٹس منیر رپورٹ، ضیاء آمریت میں مذہبی جماعتوں کا کردار، مسلکی کشیدگی، متحدہ مجلسِ عمل اور حال ہی میں توہین رسالت کے مسئلے پر سیاست ۔۔پاکستانی سیاست کا یہ عنصر متعدد نشیب و فراز سے عبارت ہے۔ کئی افراطی و تفریطی رویے ستر سال تک اس حوالے سے دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔

اس مسئلے کو دو زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلا زاویہ مذہبی اور دوسرا سیاسی۔

مذہبی زاویے سے ہم یہ طے کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسلام میں علماء کا سیاسی اختیار اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ اور سیاسی نکتہ نظر سے اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ موجودہ سیاسی و سماجی ڈھانچے میں علماء اس اختیار اور ذمہ داری کو کیسے نبھا سکتے ہیں۔

اسلامی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو معاشرے کے دیگر طبقات کی طرح علماء بھی سیاست کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ مگر مذہبی پیشوائی اور سیاست کو گڈمڈ کرنا کم از کم سنیّ اسلام کی رو سے غلط ہے۔ مذہبی عالم ہونے کے ناطے حِق قیادت نہیں جتایا جاسکتا۔

اہلسنت کے ہاں نظامِ حکومت کی شرعی اساس کم از کم اصول کی حد تک ہمیشہ سے شوریِٰ عام رہی ہے۔ شوریٰ کے اس عمل میں علماء بطور مشیر و ناصح تو شریک ہوسکتے ہیں مگر عامۃ الناس کے لیے فیصلہ لینے کا کوئی خداداد شرعی اختیار وہ نہیں رکھتے۔ کیونکہ خلیفۃ اللہ کوئی ایک فرد، خاندان یا طبقہ نہیں بلکہ بنی نوع انسان ہے اور ختمِ نبوت کے بعد پوری امتِ مسلمہ اس خلافت پر شاہد۔

البتہ اہل تشیع میں اس حوالے سے دو نکتہ ہائے نظر موجود ہیں۔ ایک جانب ولایتِ فقیہ کا نظریہ ہے جس کی رو سے علماء کو حکومت کی مکمل نگرانی کا اختیار حاصل ہے اور دوسرا ولایتِ جمہور کا نظریہ جس کی رو سے غیبتِ مہدی کے دوران اختیارات جمہور ہی کو حاصل ہیں اور علماء فقط جمہور کے مشیر۔

عالمِ مسیحیت میں پہلی صدی عیسوی ہی کے دوران اسرائیلی شریعت کو منسوخ کردئیے جانے کے باعث مسیحی برادی کے مذہبی معاملات کا دنیاوی یا خارجی پہلو کلیسا کے اختیار میں آگیا۔ اس کے برعکس اسلام میں کبھی بھی شریعت منسوخ نہیں ہوئی اور علماء کو کبھی کلیسا بننے کا موقع نہیں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں سیکولر ازم کی ہر تحریک ناکامی سے دوچار ہوجاتی ہے کیونکہ یہاں سیکولر ازم کا مطلب علماء کی ریاست سے جدائی نہیں بلکہ قرآن کی ریاست سے جدائی ہوتا ہے۔

ہاں مگر قوم کی سیاسی تربیت اور قومی پالیسی سازی میں اثر و رسوخ بنائے رکھنا علماء کا منصب بھی ہے اور انہیں کرنا بھی چاہیے۔ مگر یہ اسلام یا مسلک کے نام پر جماعتیں بنائے بغیر، عام سیاسی جماعتوں اور سیاسی دانشوروں میں فکری اثر و رسوخ قائم کر کے کیا جائے تو کہیں زیادہ بہتر اور موثر ہوگا۔

لہذا اسلام میں بنیادی حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے ناکہ کلیسا یا علماء کو۔ اسی لیے مسلم اکثریتی ریاست میں اسلام کو خالصتاً سیاسی فکر کے طور پر رکھنا چاہیے، سیاسی شناخت کے طور پر نہیں۔ جب کوئی فیصلہ کرنا ہو تو براہ راست تعلیمات قرآن و صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لیں مگر سیاسی فائدے کے لیے اسلام کا ڈھول گلے میں ڈال کر پھرنا کسی طبقے کے لیے جائز نہیں۔ گویا سیاست مذہبی تعلیمات کے تحت رہے نہ کہ مذہبی طبقات کے۔ مذہب کسی طبقے کے سیاسی مفاد کے حصول کا ذریعہ نہ بنے بلکہ مذہبی طبقہ اسلام کے مقاصد کے حصول کا فقط ایک پرزہ بن کر رہے۔

عملی و سیاسی زاویے سے معاملے کو دیکھا جائے تو ایران اور مصر جیسے قدرے خالص شیعہ یا خالص سنّی مسلم معاشروں میں علماء نے بہت مثبت قائدانہ سیاسی کردار بھی ادا کیا۔ مگر ہمارے جنوبی ایشیائی مسلم معاشرے میں مسلکی تنوع بہت زیادہ ہے۔ خود اہلسنت بے مقصد قسم کی لمبی چوڑی فرقہ بندیوں کا شکار ہیں۔ ہر عالم کی کوئی نہ کوئی مسلکی شناخت ہے۔ لہزا سیاسی پیشوائی سے مذہبی رہنماؤں کو علیحدہ ہی رہنا چاہیے کیونکہ ان کی سیاست کو بہرحال اصولوں کی نہیں بلکہ شناخت اور مسلک کی سیاست کے طور پر لیا جاتا ہے جو منفی شئے ہے۔

اس امر کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب بھی یہی مسلکی تنوع ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی شکل میں تمام مسالک کے علماء کا متحد محاذ موجود ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہر مکتب فکر اندرونی طور پر بھی بہت سے دھڑے رکھتا ہے۔ دیوبندی مکتب فکر میں اگر فضل الرحمٰن گروپ موجود ہے تو وہیں سمیع الحق فیکٹر موجود ہے۔ بریلوی مکتب فکر کی نمایندگی صرف جمعیت علمائے پاکستان نہیں کرتی بلکہ سنی تحریک، سنی اتحاد کونسل اور تحریک لبیک کے دو دھڑے موجود ہیں۔ اہلحدیث صرف جمعیت اہلحدیث کے ساتھ نہیں بلکہ بڑی تعداد میں جماعت الدعوة کا بھی حامی ہے۔ شیعہ سیاست کا چہرہ فقط تحریکِ جعفریہ نہیں بلکہ مجلس وحدت المسلمین بھی ہے۔ گویا علماء کا سیاست میں بہ طور علماء اور اسلامی فکر کی بجائے اسلامی شناخت کے ساتھ حصہ لینا فقط تقسیم در تقسیم کا راستہ ہموار کرتا اور اسلامی تحریک کی ناکامی کا باعث بنتا ہے۔

ہاں مگر قوم کی سیاسی تربیت اور قومی پالیسی سازی میں اثر و رسوخ بنائے رکھنا علماء کا منصب بھی ہے اور انہیں کرنا بھی چاہیے۔ مگر یہ اسلام یا مسلک کے نام پر جماعتیں بنائے بغیر، عام سیاسی جماعتوں اور سیاسی دانشوروں میں فکری اثر و رسوخ قائم کر کے کیا جائے تو کہیں زیادہ بہتر اور موثر ہوگا۔ عالمی سطح پر تیونس کی النہضہ پارٹی سے ترکی کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی، مصر میں اخوان کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی سے انڈونشیاء کی بیداری پارٹی تک۔۔ اسلامی جمہوری تحریک کا عمومی طریقہ کار یہی رہا ہے۔

Facebook Comments Box
اسلاماسلامی سیاستدینی جماعتیںسیاستعلمامتحدہ مجلس عملمذھبی سیاست
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
افتخار عارف : زندگی، فن اور افکار —– ایک بھرپور انٹرویو (1)
next post
امریکی سفارتکار، قتل، استثنا، قانون اور لبرل سوچ : آصف محمود

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.