جام ساقی کی زندگی کا پیمانہ خالی ہو گیا۔ آخری گھونٹ، آخری ہچکی۔ یہ ایک آدرش کی موت ہے یا زندگی کرنے کی مثال؟ جدوجہد کا المناک انجام یا جاوداں پیہم رواں زندگی کا سبق؟

نامعلوم کیا وجہ رہی کہ اپنی فکر اور نظریات کے برعکس یا مختلف سوچ رکھنے والے مخلص اور وفادار لوگوں کی شخصیت نے مجھے ہمیشہ اپیل کیا۔ کیسے ممکن ہے کہ ایک نظریاتی و رومانوی وجود –اختلاف سے ماورا– دوسرے کے نظریات اور رومان کی عزت نہ کرسکے۔ ایک عاشق صادق ہی کسی عاشق کا احترام کرسکتا ہے۔ مجاوروں کی بات اور ہے۔
میں کسی نادیدہ رومانوی خواب کے اس منظر میں اکثر کھویا رھتا ہوں جس کے پس منظر میں ریل کی دو متوازی پٹڑیاں اور پیش منظر میں سبز اور سرخ جھنڈے سفر کا مکمل استعارہ ھیں۔ جی، سرخ اور سبز۔ غیر متصادم۔ لازم و ملزوم۔
وہ جو فیض نے رقیب کی توصیف کی تھی، بلاسبب تو نہ تھی۔ ایک سچائی دوسری صداقت کو خوب پہچانتی ھے۔ اپنے وجود کی قیمت دیے بغیر۔ کسی لکیر کے دو اطراف کھڑے لوگوں میں تعلق کا عنوان مخاصمت یا مبارزت ضروری تو نہیں۔ زندگی کی خوبصورتی تنوع میں ہے، رنگارنگی سے ہے، یہی مشیت ہے۔
عاصمہ اور ساقی سے کرداروں سے خالی ھوتا یہ سماج ھمیں ان جعلی، کھوکھلے، اتھلے، مصنوعی اور پستہ قد ملمع سازوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ رھا ھے جن سے دوستی کجا لڑنا بھی خود اپنی توھین ھے۔ میں خدا سے اپنی تکمیل کے لئے ایسے سچے لوگ مانگتا ہوں جن سے اختلاف اور پیکار مجھے میرے ہونے کا اعتبار دے۔
بچپن اور لڑکپن کے دن اپنے ارد گرد جام ساقی کا تذکرہ سنا، انکی سیاسی جدوجھد کو دیکھا، انکی بھاری بھرکم شخصیت کو موجود پایا اور انکے نعروں سے در و دیوار کو رنگین دیکھا۔ ہتھکڑی اور سرخ گلاب ھی انکے جسم پہ نظر آئے۔ کبھی جیل اور کبھی اسٹیج پہ زندگی گزارنے والا یہ سرخ راہنما اپنی تگ و تاز کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ سماج کی نچلی سطح سے جنم لے کر نمو پانے والا یہ کردار اپنی زندگی میں سندھ کے سیاسی منظر میں مظلوموں، غریبوں اور سماج سدھار کا آدرش رکھنے والوں کی بلند ترین آواز تھا، جدوجہد کا سرنامہ تھا۔
فیض تو اپنے مزاج کی گہرائی میں ایک رومان پرور عاشق زار تھا جو انقلاب کو بھی دھیمی آنچ پہ پکانے کا قائل تھا، جیل میں بھی اپنی انقلابیت کو رومان کے رنگ میں بھگو کر مدھر گیت لکھا کرتا مگر ہمارا جام ساقی شیخ ایاز کے گیتوں کو اپنے عمل سے گاتا رہا اور عملی جدوجہد کا میدان گرم کئے رکھا۔ آہن اور آھنگ کا انقلابی مجسم امتزاج۔
شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے
سندھ کے دور دراز گوٹھ کا سیاسی کارکن ھو یا سمندر پار کیوبا کا فیڈل کاسترو، سب نے ساقی کی وفاداری بشرط استواری کی گواہی دی۔ کمیونسٹ پارٹی کے ملکی راہنما ہوں یا مجھ سے نظریاتی مخالف، انکے بانکپن اور استقلال کے معترف رھے۔
جام ساقی سے لوگ سماج کا ضمیر اور دھرتی کا مان ہوتے ہیں۔
مسلمان گھر میں پیدا ہونے والا اور انسان کو اشرف المخلوقات سمجھنے والا ساقی، آخری عمر میں صوفی رستے سے خالق کی جانب بھی ملتفت رہا۔ کچھ دوستوں سے سنا کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ بھی خلط ملظ ہوتا رہا۔ اسکی زندگی کا یہ رنگ ایک سچی روح کا رنگ تھا۔
عاصمہ اور ساقی جیسے کرداروں سے خالی ہوتا یہ معاشرہ ہمیں ان جعلی، کھوکھلے، اتھلے، مصنوعی اور پستہ قد ملمع سازوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ رہا ھے جن سے دوستی کجا لڑنا بھی خود اپنی توہین ھے۔ ایسے میں ان اجلے کرداروں کا تذکرہ وہ توفیق ہے جو ہر اس شخص کے لئے ضروری ہے جس کے لئے زندگی مالی یافت کے سوا بھی کچھ ہے اور جس کے آنسو سچے اور الفاظ اپنے ہیں۔ میں خدا سے اپنی تکمیل کے لئے ایسے سچے لوگ مانگتا ہوں جن سے اختلاف اور پیکار مجھے میرے ہونے کا اعتبار دے، میں لڑتے لڑتے گر پڑوں تو پانی اور چھاؤں کا یقین ہو۔

اسلم ملک صاحب کے لئے جام ساقی کا آٹو گراف
یہ وقت زنجیرِ روز و شب کی
کہیں سے ٹوٹی ہوئی کڑی ہے
یہ ماتم وقت کی گھڑی ہے
ہاں آج میرا بھی دل کررہا ہے کہ میں جام ساقی کو سرخ سلام پیش کروں، کہ یہی تحفہ اس کو زیبا ھے۔
ساقی! میں نے تیرے جام سے گھونٹ تو کبھی نھیں بھرا مگر یہ تحریر اس فیض کا ثمر ہے جو بن پئے ہی مجھ تک پہنچا کہ رند اور صاحب ایمان ایک درجے میں ایک دوسرے کی تکمیل کیا کرتے ہیں۔
