تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

عاصمہ جہانگیر : توازن کہاں؟ راجہ قاسم محمود

by دانش ڈیسک 17/02/2018
written by دانش ڈیسک 17/02/2018
107

ایک چیز جو کہ میں نے پچھلے تین دنوں سے شدت سے محسوس کی ہے وہ یہ کہ ہمارے ہاں متوازن اور اور معتدل رویہ معدوم ہو چکا ہے۔ کسی بھی سماجی و تاریخی ایشو پر ہمارا نظریہ ایک انتہا پر پہنچا ہوتا ہے۔ ہم اپنے مخالف کی کسی خوبی کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اپنی کسی غلط قدم کا ایسی ڈھٹائی سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہی صرف درست قدم ہے۔

گو کہ میرا علم و فہم ناقص ہے اور مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا اور جاننا ہے لیکن کچھ باتیں مجھ جیسے ایک عام شخص کو بھی سمجھ آ جاتیں ہیں کہ وہ اتنی سفید اور سیاہ نہیں ہوتیں جیسے کہ ہمارے یہ کچھ صاحبان فہم و دانش ہمیں بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ نصابی کتابوں سے ہم تاریخ کی بابت یہ نظریہ اخذ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا ماضی انتہائی روشن اور تابناک تھا، اس کے جواب میں ہمیں صاحبان علم بتاتے ہیں کہ یہ سب تاریخی مغالطہ ہے اور مسلمانوں کی تاریخ خون، سازش اور جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ اس پر میرے جیسا عام طالب علم اس شش و پنج کا شکار ہو جاتا ہے کہ اس بارے میں سچائی کیا ہے اور جھوٹ کیا۔ تاریخ کو اگر ایک انسانی زندگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، غم اور خوشی کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے بس جو چیز ایک انسان کو دوسرے سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ اس کی زندگی کا غالب حصہ خوشی پر مشتمل تھا یا کہ دکھ پر۔ایسی ہی تاریخ بھی عروج و زوال اور روشن اور تاریک ابواب کا مجموعہ ہوتی ہے فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ اس میں کون سا باب زیادہ غالب رہا ہے۔ یوں تاریخ کی بابت میرے خیال سے اگر آپ درست نتیجے کو جاننا چاہتے ہیں تو وہ ڈاکٹر مبارک علی اور ڈاکٹر صفدر محمود کی متضاد انتہاوں کے درمیان ہی مل سکتا ہے۔

تاریخ کی بابت اگر آپ درست نتیجے کو جاننا چاہتے ہیں تو وہ ڈاکٹر مبارک علی اور ڈاکٹر صفدر محمود کی متضاد انتہاوں کے درمیان ہی مل سکتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر بھی یہ رویہ ایک دفعہ پھر محسوس ہوا جو کہ پہلے ایک دوسری جانب سے جنرل حمید گل اور بانو قدسیہ کی وفات پر اختیار کیا گیا۔ عاصمہ کے بارے میں مذہبی نقطہ نظر سے جو باتیں ہوئیں میں اپنی کم علمی اور ناسمجھی کے باعث ان پر کوئی بات نہیں کر سکتا اور مذہبی طبقات کی طرف سے ان پر جو تنقید پہلے ہوتے تھی اس ہی کا دوبارہ اعادہ کیا گیا۔ ساتھ ہی ان کے کچھ دیگر مخالفین نے بھی ان پر الزامات کی شدید بوچھاڑ کی اور اس بات کا تو بلکل ہی انکار کردیا کہ ان میں کوئی اچھائی بھی پائی جاتی تھی، ان کی دلیری اور جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ دوسری طرف ہم نے دیکھا کہ ایک اور انتہاء پر عاصمہ کو مقدس دیوی قرار دیا جاتا رہا، کچھ فیس بک کے لکھاری جو کہ نواز شریف کی محبت میں فوج سے خصوصی بغض رکھتے ہیں نے ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ہمیشہ درست جانب کھڑی عورت، گویا کہ عاصمہ جہانگیر معیار حق ہوئیں ان کے نزدیک۔ ایک اور شخصیت نے کچھ حد سے زیادہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا کہ جنازے بتائیں گے کہ کون حق پر تھا، تو اگر دوسری جانب سے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کہا جائے کہ ممتاز قادری اور جنرل ضیاء الحق کے جنازے سے مقابلہ کر لیا جائے تو ان کی منطق ان کو پریشان کر دے گی۔ پاکستان میں اسٹبلشمنٹ بالخصوص فوجی اسٹبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ مباحث کا حصہ رہا ہے اس پر سنجیدہ طریقے سے غور بھی کیا جانا چاہیے لیکن یہاں پر بھی ہم دو شدت پسند رویوں کا مشاہدہ کرتے ہیں ایک وہ جو اسٹبلشمنٹ کے ہر قدم کو غلط جبکہ ایک طرف اس کو ہمیشہ صیح قرار دیئے جانے پر زور دیا جاتا ہے، اس بارے میں حقیقت پسند نقطہ نظر میرے خیال سے عاصمہ جہانگیر اور زید زمان حامد کی دو حدود کے درمیان پایا جاتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر دبنگ، دلیر اور بڑے حوصلے والی خاتون تھی مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہم ان کو حق و باطل میں معیار تصور کرلیں۔

حقیقت پسند نقطہ نظر میرے خیال سے عاصمہ جہانگیر اور زید زمان حامد کی دو حدود کے درمیان پایا جاتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر دبنگ، دلیر اور بڑے حوصلے والی خاتون تھی مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہم ان کو حق و باطل میں معیار تصور کرلیں۔

اس وقت ارباب فہم و دانش سے گذارش ہے کہ ہم کو سیاست، معاشرت، تاریخ، سماج اور زندگی کو سمجھنے کے لیے سفید و سیاہ کے ساتھ Grey زوایہ سے سمجھنے کی طرف مائل کریں۔ یہ افراط و تفریط ہمیں کبھی بھی درست نتیجے تک نہیں پہنچنے دے رہی۔ اس سے ہمیں اپنے تعصبات کے اسیر تو ہو سکتے ہیں مگر سچائی کے طالب اور حقیقت پسندی سے دور ہو رہے ہیں۔

Facebook Comments Box
عاصمہ جہانگیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نو آبادیاتی ذہنیت اور لبرل شدت پسندی : ڈاکٹر اورنگزیب نیازی
next post
کیا علی ترین گنے کے کاشتکاروں کی نفرت کا نشانہ بنے؟ طاہر ملک

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.