تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

مہذب قوم؟ چہ معنی دارد : محمد خان قلندر

by Daanish Editor 12/01/2018
written by Daanish Editor 12/01/2018
131

ملک میں ہر جانکاہ اور عبرت انگیز حادثے کے بعد, ہمارے نو مولود ریاستی ستون میڈیا کے بزرجمہروں کی چاندی ہو جاتی ہے. خواتین و مرد اینکر پرسن اور ان کے شریک گفتگو گلا پھاڑ کے چیخنے لگتے ہیں۔ لکھاری اپنی تحریر میں چنگھاڑ تے ہیں، فوٹو گرافر حضرات سچی، جھوٹی، نئی پرانی, خون آشام تصاویر نکال لاتے ہیں، کیا اخبار، کیا ٹی وی اور کیا سوشل میڈیا، ہر جگہ ایک قیامت برپا کر دی جاتی ہے. ہر جگہ ہر کوئی ایک ہی سوال اٹھاتا ہے،” اگر یہ واقعہ کسی مہذب ملک میں ہوتا یا ہم اگر مہذب قوم ہوتے؟”

 فرض کر لیتے ہیں کہ ہم یو این او کے ممبر کے طور پر ایک نیشن ہیں تو اگلا سوال یہ بنتا ہے کیا ہم مہذب قوم ہیں؟

یہ علیحدہ بات ہے کہ حادثے کا شکار افراد، ان کے لواحقین اور پسماندگان کا کیا حشر ہوتا ہے؟ مزید برآں  پولیس اور متعلقہ ادارے اپنی نااہلی اور بدنیتی پر پردہ کیسے ڈالتے ہیں؟ حکمران اور مقتدر ہستیاں محض مذمت کرکے اپنے فرائض منصبی سے غفلت کا ازالہ کیسےکردیتے ہیں؟ میڈیا اس طوفان میں ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لئے، عوام کو ہیجان میں مبتلا رکھتا ہے. جو ازخود بد تہذیبی کا بدترین شاہکار ہے.

اس بحث سے قطع نظر کہ ہم مذہبی بنیاد پر، جغرافیائی حد بندی سے یا عمرانیات کے تاریخی اصول کے مطابق قوم ہیں بھی یا نہیں، یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ہم یو این او کے ممبر کے طور پر ایک نیشن ہیں تو اگلا سوال یہ بنتا ہے کیا ہم مہذب قوم ہیں؟

تہذیب یافتہ ایک مجمل اصطلاح ہے، جو ہر ملک کے تہذیب و تمدن کے اصولوں سے مدون ہے، آسان زبان میں اسے پرکھنے کے لئے ملک کا نظام حکومت، ریاستی بندوبست، اور آئین دیکھا جائے گا کہ عوام کے بنیادی حقوق کتنے محفوظ ہیں؟

ہمارے مروجہ آئین کے مطابق ہم پارلیمانی جمہوریت ہیں۔ اس کی اساس سیاسی جماعتیں ہیں. جن کی تعداد تین سو کے لگ بھگ ہے، جس میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے. ان میں مذہبی، سیاسی جماعتیں، فقہی تقسیم پر بنے سیاسی گروپس، لسانی اور صوبائی قومیت پر بنی جماعتیں شامل ہیں. سیاسی جماعتوں کے قانون کے مطابق اس وقت پارٹی کے سربراہ کو تمام امور پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ پارلیمان کے اندر موجود ارکان بھی پارٹی لیڈر کی مرضی و منشاء کے پابند ہیں، یوں ہماری سیاسی پارٹیاں شخصی تسلط کا شکار ہیں.

برسر اقتدار پارٹی کا سربراہ اسی بنیاد پر ملک یا صوبے کا مطلق العنان حاکم ہوتا ہے. اس کا طرز حکومت عوام کے طرز زندگی پر اثرانداز بھی ہوتا ہے اور اس پر گرفت بھی رکھتا ہے. اب جب تمام حکومتی ادارے، اس کے ماتحت ہوتے ہیں تو لامحالہ اس کی ترجیح اپنے ذاتی اقتدار کو محفوظ کرنا اور مضبوط رکھنا ہوتی ہے. کاغذی طور سے تو وہ پارلیمان یا صوبائی اسمبلی کو جواب دہ ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر اسمبلی اور پارلیمنٹ اس کی محتاج ہوتی ہیں، لہذا احتساب کا عمل مفقود ہوتا ہے. اس بندوبست کی وجہ سے سیاست شخصیت پرستی کا شکار ہے. ہر پارٹی کسی شخصیت سے منسوب ہے اور سربراہی اس کے خاندان تک محدود ہے، اور ملک میں سیاست بھی وراثت بن چکی ہے.

مہذب ہونے کا عالم یہ ہے کہ اس وقت وفاقی اور سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومتیں اس پارٹی کی ہیں، جس کے سربراہ کو سپریم کورٹ صادق اور امین نہ ہونے کی پاداش میں نااہل قرار دے کر وزارت عظمی سے معزول کرچکی ہے. احتساب عدالت میں اس شخصیت اور اسکے خاندان کے خلاف مزید مالی بد عنوانی اور کرپشن کے ریفرنس زیر سماعت ہیں.

دوسری اہم پارٹی کی اصل سربراہ ہستی کی وجہءفضیلت اگر ایک شہید کا داماد ہونا اور دوسری شہید کی زوجیت کا فخر ہے. وجہء شہرت گیارہ سال کی مالی بدعنوانی کے الزامات میں گرفتاری ہے، تیسری پارٹی کا سیکرٹری جنرل بھی مالی معاملگی کی وجہ سے نااہل ہو چکا ہے. مزید دیکھئے کہ تیسری پارٹی کے سربراہ کا ایک نکاتی منشور کسی بھی صورت میں ہر قیمت پر وزیراعظم بننا ہو.

بر سر اقتدار پارٹی کا سربراہ، بہ طور حاکم مطلق العنان اور احتساب سے بالاتر ہو تو، لامحالہ اس کی ترجیح اپنے ذاتی اقتدار کو محفوظ کرنا اور مضبوط رکھنا ہوتی ہے.

اب اگر پہلی دونوں پارٹیوں کے لیڈران کی مشکوک دولت، جائیداد، سرمایہ کاری کے مظاہر اظہر من الشمس ہوں، ایک پارٹی کا وزیر خزانہ عدالت سے مفرور ہو دوسرے کے سابق وزیراعظم اور وزراء بھی زیر تفتیش ہوں، ان کا ایجنڈا محض دولت کو ہضم کرنے اور کیسز کو ختم کرنے کے لئے اقتدار حاصل کرنا ہی ٹھہرا ہو تو کیسا انداز حکمرانی؟

ملک میں قائم حکومتیں ان سیاسی لیڈرز کے تسلط میں ہوں اور سارے سرکاری اہل کار ان کی ابرُو کے اشارے کے محتاج ہوں. ان کی مہم جوئی کے سبب بڑے سے بڑے عہدے پر متمکن کوئی اپنی تعیناتی پر لگے ذاتی عقیدے کے الزام کی وجہ سے حد درجہ محتاط ہو، کسی کے ادارے کے کئے فیصلے پر تنقید کا اتنا اثر ہو کہ یہ ہستیاں اپنی صفائی کے ثبوت پیش کرنے پے مجبور ہوں تو ایسے حالات میں تہذیب کون سنوارے گا؟ اور معاشرہ کتنا مہذب ہو سکتا ہے؟

طرفہ تماشا ہے کہ جب ایک صوبے کے انتظامی امور کا انچارج وزیر قانون، سر عام کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرے، دن دیہاڑے پولیس نہتے لوگوں پر گولی چلا کے انہیں مار دے اور وزیر قانون ہی پولیس کی نامناسب جارحیت کا دفاع کرے، ہزاروں لوگ لقمہء اجل بن جائیں، لیکن عدالتیں مجرمان کو قرار واقعی سزا نہ دے پائیں، سارے کیسز دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال دیئے جائیں، حکومتی زعماء ہر جانکاہ حادثے پر مذمتی بیان داغ کر اپنے فرض منصبی مکمل طور سے اس حد تک ضرور نبھا لیں. عشروں تک ملک کے سب سے بڑے شہر کو یرغمال بنائے رکھنے، قتل و غارت ، اغوا، بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کرنے والی پارٹی کا سابقہ سربراہ لندن میں براجمان ہو، ملک میں آئین شکنی کر کے نو سال حکومت کرنے والا آمر عدالت میں کیسز زیر سماعت ہونے کے باوجود ملک سے باہر چلا جائے،  اور زیر تفتیش وزیر خزانہ کو وزیراعظم کے جہاز پر بٹھا کر، ملک سے فرار کرا دیا جائے، اور عدالت تکنیکی موشگافیاں بروئے کار لا کر اس کے ریڈ وارنٹ معطل کر دے.

کروڑوں عوام کے ادا کردہ ٹیکسز سے لوٹے گئے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے حدیبیہ جیسے کیس کو محض اس وجہ سے ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جائے کہ نیب کے ادارے نے بروقت اپیل دائر نہی کی تھی. جبکہ عدالت کے سامنے سابقہ وزیراعظم کے کیس میں اس سے زائد مدت کی تاخیر معطل کرنے کی نظیر موجود تھی، اس کے باوجود نیب کے اہل کاروں کی غفلت یا کوتاہی پر کسی تادیبی کاروائی کا کوئی حکم تک نہ دیا جائے. تب مہذب ہونے کی بات بے لگام میڈیا پر کس برتے پر کی جاتی ہے، جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ  میڈیا مالکان سمیت سارے کارندے ان پارٹیوں میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں، جہاں جس پارٹی کی حکومت ہے، وہاں کے خزانے سے اپنے مداح اخباریوں اور میڈیا کو نوازا جاتا ہے.

اگر نواز شریف ،مریم صفدر کی اور آصف زرداری بلاول کی بطور اپنے ممکنہ جانشین رونمائی کے لئے، عمران خان اپنی متوقع شادی بارے، اور شہباز اپنے منہ اندھیرے قصور کے فوٹو سیشن کی تشہیر کے لئے اپنی اپنی حکومتوں سے میڈیا کو سرکاری اشتہار دلواتے ہیں. تب قصور جیسے شہر کی پولیس کسی واردات کے مجرم پکڑنے کے بجائے عوام پر گولی بھی چلائے گی اور اپنے اپنے خاندان کی کفالت کے لئے نہ صرف مجرموں کی پشت پناہی کرے گی بلکہ کئی بے گناہ لوگوں کو مشتبہ قرار دے کر ان سے بھی مال پانی اینٹھے گی، یہ دستور زمانہ ہے کہ ماتحت اپنے حاکموں کے طریق پر چلتے ہیں، جب ملک کے بڑوں اور میڈیا کی دال روٹی کرپشن پر چلتی ہے، تو نہ یہاں کوئی تہذیب ہو سکتی ہے نہ ہم مہذب قوم بن سکتے ہیں.

پس جہاں لگ جائے، وہاں داؤ لگائے جاؤ، نہیں تو رولا پائے جاؤ۔

Facebook Comments Box
accountabilityKasur casualtieskasur incidentmedia industryNABpolitical leadersPolitical partiesاحتساببکاو میڈیاپاکستانی سیاستتہزیبزرد صحافتشخصیت پرستی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
تکون : ثناء غوری
next post
بڑھتا ہوا جنسی ہیجان: اسباب و عوامل — فاروق بھٹی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.