تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبفکشن

تکون : ثناء غوری

by Editor2 12/01/2018
written by Editor2 12/01/2018
88

تین وجود اپنے گھٹنوں پہ سر رکھے اندھیرے میں گم کسی اور جہاں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا۔ تین جسم اورسکوت طاری۔ فقط ایک دروازہ ہے اوراُس دروازے سے باہر آتی روشنی جھانک رہی ہے۔ یہ دروازہ دنیا کی طرف کھلتا ہے۔ ایک جسم رقص کرتے ہوئے اٹھتا ہے اور رقص کرتے کرتے دنیا کے دروازے سے باہر نکل کر سڑک پر پیچ چھوراہے پر پہنچ جاتا ہے ایک دم سے ایک تیز آواز آتی ہے۔

او ہجڑے چل اپنی نوٹنکی کہیں اور جاکر دکھانا، چل ٹریفک کو چلنے دے حرام خور بد ذات کمینہ۔ ببلی فٹ باتھ پر ایک جانب سر جھکائے بیٹھ جاتا ہے۔ سگنل پھر بند ہوتا ہے۔ گاڑیاں رک جاتیں ہیں اورببلی ایک گاڑی کے شیشے بجاتا ہے۔

خدا کے لیے کچھ پیسے دے دے بھائی مکان مالک کو گھر کا کرایہ دینا ہے۔ ۔ ۔ ۔ دے دے بھائی
گاڑی میں سے آواز آتی ہے۔ ابے ہجڑے بھیگ مانگ کر کیا کرے گا کچھ اور کر کے دیکھائے گا تو پیسے مل جائے گے۔

ببلی تالی پیٹے ہوئے پھر ناچنا شروع کردیتا ہے۔ چست قمیض میں سینے کے اُبھار اور نمایاں کرنے کے لئے گلے میں پڑا دوپٹہ فٹ پاتھ پر پھنک دیتا ہے۔ ٹرفیک کا سنگنل کُھلتا ہے گاڑی والا پچاس کی نوٹ پھنک کر آگے نکل جاتا ہے۔ ببلی جھٹ سے پیسے اٹھا کر پھر فٹ پاتھ پر بیٹھ جاتا ہے۔ شام ڈھلنے والی ہے ببلی آسمان کی طرف دن اور رات کے ملاپ کودیکھتے ہوئے خود سے سوال کرتا ہے۔

آخر تیرا وجود ہے کیوں؟
کیوں تیری ذات کا نمو ہوا ہے؟
منظر اور نظارہ روح تک پہنچ کر خوبصورتی کوکُریدتے ہیں۔ لیکن ببلی خو دے مخاطب اپنی ذات کی بدصورتی ٹٹول رہا ہے۔ چھاتی پر ہاتھ رکھ کر پھر اپنے آپ سے سوال کرتا ہے۔
کیا میں نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہوگا؟
کیا میں بھی انسان ہوں؟

میری مان ڈائن ہوگی، یقینا ڈائن ہو گی۔ جو مجھے یوں سڑک پر پھنک دیا۔ ااور اگر اُس ڈائن کو مجھے پھنکنا ہی تھا تو مجھے جَن کر کھا کیوں نہ گئی۔ ببلی پھر تالی پیٹنا ہے اور تالی پیٹے پیٹے کھڑا ہو کر رقص کرتے ہوئے دنیا کے دروازے سے نکل کر اُسی اندھیرے جہاں میں آجاتا ہے اور پہلے کی طرح گھٹنوں کے اُوپر سر رکھ کر بیٹھ جاتا ہے۔

چاروں طرف تماشبین بیٹھے ہیں محفل اپنے پورے جوبن پر ہے۔ جسم پر لدے زیورات اُسے جھکا رہے ہیں۔ وہ اپنے فن میں طاق رقاصہ ہے اُس کا تڑپتا اور بھڑکتا جسم تماشبینوں کو مدہوش کررہا ہے۔

اب اُن تینوں میں سے دوسرا جسم اٹھتا ہے اور یوں ہی رقص کرتے کرتے دنیا کے دروازے کو پار و کرکے ایک کمرے میں پہنچتا ہے۔ چاروں طرف تماشبین بیٹھے ہیں محفل اپنے پورے جوبن پر ہے۔ جسم پر لدے زیورات اُسے جھکا رہے ہیں۔ وہ اپنے فن میں طاق رقاصہ ہے اُس کا تڑپتا اور بھڑکتا جسم تماشبینوں کو مدہوش کررہا ہے۔ ناچتے ناچتے وہ تھک رہی کہ ایک آواز آتی ہے، او طوائف کی اولاد تھوڑا اور جلوہ دکھا۔ قمیض کا گِھرا گلہ ذرا جھکنے سے جسم کی تمام تر چاندی چھلکا رہا ہے۔ تماشبین اُسے بانہوں میں لینے کے لیے بد مست اور بے چین ہو جاتے ہیں۔ ناچتے ناچتے وہ تھک گئی ہے۔ بے ہنگم موسقی کا شور اُسے پریشان کرہا ہے وہ ناچ رہی ہے اور تماشبین شراپ کے نشے میں چور سستی جذباتیت دکھاتے اُسے چھونے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن وہ اپنی دنیا میں مگن خود سے سوال کرتی ہے۔
کنجروں کے گھرمیں پیداہونا کیا میرا قصور تھا؟

کب تک میرے جسم کے گوشت کو یہ گدھ نوچ نوچ کر کھاتے رہے گے؟

میرا وجود حرام ہے اور میرے اُس دوسال کے بچے کا وجود بھی حرام۔

اے تخلیق کار تونے مجھے خوبصورت تخلیق کیا لیکن میری زندگی کو کیوں پیپ سے بھرے ناسور کی مانند بنایا۔

تماشبین اُس کی ذات کی رنگنیوں اور جلووں میں مخمور ہیں۔ اور وہ رقص کرتے کرتے پھر کمرے سے باہر نکل جاتی ہے اور دنیا کے دروازے سے نکل کر اُسی اندھری جگہ میں گھٹنوں پہ سر رکھ کر بیٹھ جاتی ہے۔

اے تخلیق کا رمجھے اتنا بے ڈھنگا کیوں بنایا کہ کوئی مجھے اپنانا نہیں چاہتا؟

تیسرا وجود رقص کرتے کرتے اُٹھتا ہے۔ اُس کے رقص میں قدم ڈگمگا رہے ہیں۔ اُنھیں ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ وہ دنیا کے دروازے میں داخل ہو کر ایک شادی کے تمبو میں پہنچتا ہے۔ حسن سے زیادہ ناز و نخرہ اُس کے وجود میں سمایا ہوا ہے۔ تنے ابرو اور تیکھے نقوش لیکن بھدہ جسم۔ اُس کے رقص کو دیکھ کر وہاں موجود خواتین منہ چھپاتے ہوئے ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کر رہی ہیں۔ اور محفل میں موجود جوان مرد اُس کے جسم کے انگ انگ کو ایک دوسرے سے آنکھیں چرا کر دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن وہ اپنی دھن میں مگن ناچ رہی ہے۔ ارد گرد مکمل نظارہ سجا ہوا ہے۔ دور اُسے اپنی ماں نظر آتی ہے اور اپنی ماں کو دیکھتے ہی وہ رقص کرتے کرتے اپنے دل سے باتیں کرتی ہے۔

اے تخلیق کا رمجھے اتنا بے ڈھنگا کیوں بنایا کہ کوئی مجھے اپنانا نہیں چاہتا؟
مجھ سے دس سال چھوٹی بہن کی بھی اب شادی ہوچکی ہے۔
میری ماں مجھے بوجھ سمجھتی ہے۔

یہ رقص ایک موقع ہے میرے لئے۔ شاید میرے رقص کو دیکھ کرکوئی مجھے پسند کرے۔

ایک اذیت تھی جو اُسے اند سے چھلتی جارہی تھی۔ اُس کا رقص ایک ایسا رقص تھا جس نے شرافت کی چادر اُڑھی ہوئی تھی۔ اُس نے اور تیزی سے ناچنا شروع کردیا۔ اُس کا ناچ ایسا ہی تھا جیسے وہ خود کو بیجنے کے لئے شریفوں کو دعوت دے رہی ہو۔ شاید کسی کی آنکھ اُسے خرید لے۔ وہ ناچتے ہوئے شادی کے تمبو سے باہر نکلی اور رقص کرتے کرتے دنیا کے دروازے سے باہر نکل کر اُسی اندھیرے کمرے میں آکر گھٹنو پر سر رکھ کر بیٹھ گئی جہاں ببلی، طوائف اور وہ اپنے اپنے سوال لئے جانے کب سے بیٹھے ہوئے تھے۔

Facebook Comments Box
featuredافسانہتماشبینجذباتجسمخواجہ سرادیزائنرقصسرگوشیقصورکنجروںکھسرےہجڑےہیجڑے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
جرائم کا مذہب: لالہ صحرائی
next post
مہذب قوم؟ چہ معنی دارد : محمد خان قلندر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.