تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرعلم و ادب

سلیم احمد بنام احمد جاوید : تاریخی خطوط

by دانش ڈیسک 30/12/2017
written by دانش ڈیسک 30/12/2017
288

سلیم احمد بیسویں صدی کے دیگر نصف حصہ کے سرکرده تنقید نگار اور شاعر تھے۔  وه خود نہایت جید تنقیدی اسلوب و فکر کے مالک تھے، اور بیسویں صدی میں اردو کے اہمترین جدت پسند تنقید نگار، محمد حسن عسکری، کے منفرد شاعرانہ اور تنقیدی طرزِ فکر کے وارث تھے۔ 

 سلیم احمد مرحوم کے اپنے شاگرد اور آج کے معروف دانشور، صوفی، فلسفی اور شاعر جناب احمد جاوید کے نام تاریخی خطوط۔ اھل ذوق کے لئے خاصہ کی چیز۔  . alyisia inbar lavi nude Alyisia


پیارے جاوید!
تمہیں شاید اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ نوجوانوں میں میں تمہیں کتنی اہمیت دیتا ہوں اور مجھے اس بات کی کتنی شدید خواہش ہے کہ تم کچھ لکھو اور اپنی خداداد صلاحیتوں کا اظہار کرو۔ میں تمہارے سامنے اور تمہارے پیچھے تمہاری ذہانت، قابلیت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا ذکر کرتا رہتا ہوں۔ لیکن مجھے تم سے یہ شکایت ہے کہ تم نے اب تک خود کو ضائع کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کوئی آدمی مجھ سے کچھ سیکھتا ہے یا نہیں اور میں کسی کو کچھ سکھانے کا اہل ہوں یا نہیں لیکن میں یہ ضرور چاہتا تھا کہ تم مجھ سے گفتگو کرو۔ بحث مباحثہ، اختلاف و اتفاق، تائید اور تردید جو کچھ تمہارے دل میں ہے اسے باہر نکالو۔ لیکن تم میرے پاس آتے ہو اور خاموش بیٹھ کر چلے جاتے ہو۔ اس سے میری طبیعت الجھتی ہے اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اپنی یک طرفہ بک بک کو کب تک جاری رکھوں۔

میرا خیال ہے کہ تم ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہو گئے ہو اور اس سے زیادہ ’’ذمہ دار‘‘ بننے کی کوشش میں مبتلا ہو۔ یہ بھی غرور کی ایک قسم ہے، تم انکسار ظاہر کرنا چاہتے ہو جب کہ اسی کی تم میں شدید کمی ہے۔ ارے بھئی نوجوانوں کی طرح غیر ذمہ دار ہو جاو جو سمجھ میں آئے کہو۔ جو محسوس کرتے ہو لکھو۔ کل خیال اور احساس بدل جائے تو تم بھی بدل جاو۔ اور اپنی کہی ہوئی ہر بات کی تردید کر دو۔ یہ خیال کہ جب عرفان یا نروان حاصل ہو جائے گا تب لکھیں۔ ایک بوگس خیال ہے۔ ایک غلطی کرنے والا اور غلطیاں کر کے اس کی اصلاح کرنے والا اس سے بہتر ہے جو غلطی کرنے کے ڈر سے کوئی کام ہی نہ کرے۔

تم ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہو گئے ہو اور اس سے زیادہ ’’ذمہ دار‘‘ بننے کی کوشش میں مبتلا ہو۔ یہ بھی غرور، کی ایک قسم ہے، تم انکسار ظاہر کرنا چاہتے ہو جب کہ اسی کی تم میں شدید کمی ہے۔ ارے بھئی نوجوانوں کی طرح غیر ذمہ دار ہو جائو جو سمجھ میں آئے کہو۔ جو محسوس کرتے ہو لکھو۔ کل خیال اور احساس بدل جائے تو تم بھی بدل جائو۔ اور اپنی کہی ہوئی ہر بات کی تردید کر دو۔

نقالی کا مسئلہ یہ ہے کہ نقالی کے ڈر سے آزاد ہو جائو۔ جیسا لکھا جاتا ہے ویسا لکھو خواہ اس میں نقالی ہی کیوں نہ نظر آئے۔ تم جب وہی لکھو گے جیسا لکھ سکتے ہو تو کچھ دن میں دیکھو گے کہ خود بخود تمہارا اسلوب ابھرنے لگے گا۔ نہ بالقصد نقالی کی ضرورت ہے۔ نہ نقالی کے خوف میں مبتلا رہنا کوئی اچھی بات ہے۔ بس کاغذ اور قلم اٹھائو اور فطری طور پر جو کچھ سوچتے یا محسوس کرتے ہو اسے لکھنا شروع کرو۔ اسلوب کا خیال کیے بغیر۔ البتہ نقالی، غیر شعوری نقالی اس وقت کرو جب مختلف اسالیب پر قابو پانے کا ارادہ کرو۔ مثلاً دو صفحے محمد حسین آزاد اور دو صفحے رتن ناتھ سرشار کی نقل میں لکھ کر دیکھو۔ یہ مشقیں میں نے بہت کی ہیں۔ نثر میں اور شاعری میں بھی۔ تم چاہو تو تم بھی کرو۔

پتہ نہیں تم کراچی کب تک واپس آئو گے۔ اب کی آئو تو یہ سوچ کر کہ تمہیں مجھ سے لڑنا ہے۔ جھگڑنا ہے۔ اختلاف کرنا ہے۔ یہ سب باتیں محبت اور عزت کو کم کیے بغیر ہو سکتی ہیں۔ تم نے لکھا ہے کہ تم کٹر قسم کے مقلد ہو۔ کاش کہ تم ہوتے۔

تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم بھائی


پیارے جاوید!
پرسوں تمہارا خط ملا تھا۔ جواب میں دو دن کی تاخیر ہو گئی۔ تم خط ہی ایسے لکھتے ہو جن پر غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تم نے روایت اور شعریات کے متعلق جو باتیں لکھی ہیں وہ نہ صرف درست ہیں بلکہ بہت خیال انگیز اور غور طلب بھی۔ تم اس پر اپنے خیالات جمع کر کے ضرور لکھو۔ اردو تنقید کو ایسے مضامین کی ضرورت ہے لیکن اس کا اسلوب ادبی ہونا چاہیے۔ تمہارے اسلوب میں ادبیت ذرا کم ہے گو اس کی تلافی علمیت سے ہو جاتی ہے۔ تا ہم ادبیت پر زیادہ زور دو تو مناسب ہے۔

تمہارا انتظار تو پہلے بھی تھا اب اور شدید ہو گیا ہے۔ تم آؤ تو کام شروع ہو۔ شاعری کے بارے میں شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا قول جدید شعریات کی ساری بنیادوں کو ڈھا دیتا ہے۔ میں اپنے طو رپر اسی نتیجہ پر پہنچ چکا تھا اور ’’اقبال ایک شاعر‘‘ میں اس پر کچھ لکھ بھی چکا تھا۔ اب شاہ صاحب کے حوالے سے اس بات کو سند حاصل ہو گئی۔

الفاظ اور معنی کے رشتہ پر بھی بہت غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں بھی بہت سے اوٹ پٹانگ خیالات لوگوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر ہو سکے تو اس پر کچھ لکھو۔ میرے نزدیک معنی بمنزلہ روح کے ہیں اور الفاظ بمنزلہ جسم کے۔ اور جسم پر روح کی فوقیت ظاہر ہے۔ لیکن عالم اجسام اور مرتبۂ ظہور میں الفاظ کو روح پر تقدم حاصل ہے تم اس پر کچھ لکھو گے تو میں اپنے خیالات کا تفصیل سے اظہار کروں گا۔

تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم بھائی


پیارے جاوید!
دعائیں۔ ابھی سو کر اٹھا ہوں۔ اٹھتے ہی معلوم ہوا کہ تمہارا خط آیا ہے۔ میں شدت سے اس کا انتظار کر رہا تھا خوش ہو گیا اور خط ختم کرتے ہی تمہیں جواب لکھنے بیٹھ گیا۔ کل جمال بھی آئے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ تمہارا کوئی جواب آیا ہے یا نہیں۔ وہ بھی تمہاے خط کے منتظر ہیں میری طبیعت کی طرف سے تم زیادہ فکر نہ کرو۔ اب اللہ فضل ہے ٹھیک ہوں۔ مولانا ڈاکٹر عبد الحئی صاحب کو میں جانتا ہوں اور وہ میرے کسی رشتے سے عزیز بھی ہیں۔ اب خدا نخواستہ کوئی ضرورت ہوئی تو ان کے پاس چلا جائوں گا۔

میں نے جس کتاب کے بارے میں اپنا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ وہ اصلاً غزل سے متعلق ہے جس میں روایتی غزل اور جدید غزل دونوں کا احاطہ کیا جائے گا لیکن غزل بھی بہر حال شاعری ہے۔ اس لیے شاعری کی بحث کا آنا بھی ناگزیر ہے۔ پہلا سوال تو یہی ہے کہ شاعری ہے کیا۔ اور شعر اور غیر شعر میں کیا فرق ہے۔

دوسری بحث یہ ہے کہ غزل کی شاعری کیا ہے۔ اور غزل کی ہیٔت کی روایتی معنویت کیا ہے۔ تیسری بحث غزل کے رموز و ملائم کی ہے۔ فارسی غزل اور اردو غزل کے فرق کی بحث بھی جیسا کہ تم نے لکھا ہے ضروری ہے۔ جو فرق تم نے نکالے ہیں وہ اہم ہیں لیکن صرف فرق بتانے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ بھی بتانا ہو گا کہ فرق کیوں پیدا ہوا۔ میں ان سب باتوں پر کہیں نہ کہیں کچھ بحثیں کر چکا ہوں مگر وہ صرف میرے قیاسات تھے۔ اب قیاسات سے کام نہیں چلے گا۔ مستند لوگوں کی سند چاہیے۔ اس ضمن میں تمہاری مدد یہ درکار ہے کہ ان مباحث سے متعلق جو باتیں تمہارے علم میں ہوں ان کے حوالے مجھے فراہم کرو۔ مثلاً تم نے ایک بار بتایا تھا کہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒنے نفسِ شاعری کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ اس کا حوالہ چاہیے۔ مشکل یہ ہے کہ مغربی شعریات پر تو سب کچھ مل جاتا ہے۔ روایتی شعریات اور ان کے حوالوں کا پتہ نہیں چلتا اور اصل کام یہی ہے اس میں میری جتنی مدد کر سکو کرو۔

لفظ اور معنی کی نسبت، معنی اور استحضارِ ذہنی کی نسبت سے زیادہ قوی ہے

لفظ اور معنی کی جو بحث تم نے چھیڑی ہے اور میرے کسی فقرہ کا حوالہ دیا ہے۔ مجھے بالکل یاد نہیں کہ میں نے تمہیں کیا لکھا تھا۔ پوری عبارت لکھ کر بھیجو تو پتہ چلے۔ ویسے تم نے یہ ٹھیک لکھا ہے کہ لفظ اور معنی کی نسبت، معنی اور استحضارِ ذہنی کی نسبت سے زیادہ قوی ہے۔ لیکن اس کے باوجود میرا یہ خیال بھی ہے کہ معنی ذہن میں مستحضر ہوں تو انہیں الفاظ مختلفہ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

کلیات میر کی ضرورت بھی نہیں ہے ابھی تو میں بنیادی بحثوں میں الجھا ہوا ہوں۔ انشاء اللہ جب تم آئو گے تو کلیات بھی مل جائے گی۔ کتابیں تمہیں دینا بند کرنے کا کیا سوال ہے۔ میری ساری کتابیں تمہاری ہیں۔ میں تم سے کوئی کتاب مانگتا ہوں تو اس لیے نہیں کہ وہ میری ہے بلکہ صرف اس لیے کہ اس کی ضرورت ہے۔ جواب جلد دینا۔

تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم بھائی


پیارے جاوید!
کل تمہارا بہت دلچسپ خط ملا۔ میں نے کئی دفعہ پڑھا اور پڑھ کر بڑا مزا آیا۔ چلو نہیں احساس تو ہوا کہ تم نے جو رویہ اختیار کیا تھا وہ بالکل غیر فطری اور نا درست تھا۔ اب آنا تو ہر خول اتار کر آنا۔ عزت اور محبت مجھے بھی لوگوں سے ہے۔

تعلقات کو فطری انداز میں قائم کرنا اور قائم رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔ ہم سب ایک میکانکی رویہ بنا لیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں حقیقی تعلق نہیں پیدا ہونے دیتے۔

صاحب سے میرا جو رشتہ، تعلق اور رویہ رہا ہے وہ تمہیں معلوم ہے مگر میں تو دونوں سے بات بھی کرتا تھا سوال جواب بھی کرتا تھا اور جب ضرورت پڑتی تھی تو لڑتا بھی تھا۔ تعلقات کو فطری انداز میں قائم کرنا اور قائم رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔ ہم سب ایک میکانکی رویہ بنا لیتے ہیں اور اس کے نتیجہ کے طور پر حقیقی تعلق نہیں پیدا ہونے دیتے۔ تمہیں معلوم نہیں کہ میں تمہاری ذہانت کا کتنا قائل ہوں اور اس کے ساتھ تم بہت کچھ پڑھتے بھی رہتے ہو۔ اور تمہیں جو کچھ تم پڑھتے ہو وہ مستحضر بھی رہتا ہے۔ اتنی بہت سی خوبیوں کے بعد مجھے صرف تم سے ’’خاموشی‘‘ ملی تو یہ میرے ساتھ کتنا ظلم ہے۔ مجھے امید ہے کہ اب تم آئو گے تو گھنٹوں مجھ سے باتیں کرو گے۔ اور تمہارے دل و دماغ میں جو کچھ آتا ہے وہ مجھ سے بیان کرو گے۔

میں اور جمال 19 جون کو کویت جا رہے ہیں ایک مشاعرہ میں شرکت کے لیے۔ وہاں ہفتہ عشرہ قیام رہے گا۔ اس وقت تک انشاء اللہ تمہارا جواب بھی آ جائے گا۔ لفظ اور معنی کے رشتے پر تم نے ابھی تک کچھ لکھا یا نہیں۔ جو کچھ لکھنا ہے جلدی لکھو۔ طریقہ یہ ہے کہ لکھنے بیٹھ جائو اور جو کچھ ذہن میں آئے بلکہ قلم سے ٹپکے وہ لکھتے جائو۔ جب لکھ چکو تو دیکھو کہ جو لکھا ہے وہ وہی ہے جو تم لکھنا چاہتے تھے۔ ترمیم کی ضرورت ہو تو ترمیم کر لو۔ ورنہ دوبارہ لکھو اور اس وقت تک لکھتے رہو جب تک تمہارے ذہن کی ہر بات لفظوں میں نہ آ جائے۔ اور ادھر جمال نے تین مضمون بہت اچھے لکھے ہیں۔ کاش تم، میں، جمال، شمیم اور سراج مل جل کر ایسا کام کر سکتے جو وقت کا تقاضہ ہے کہ کیا جائے۔

تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم بھائی


پیارے جاوید!
ابھی ابھی تمہارا خط ملا۔ بھئی تم بھی کمال کے آدمی ہو۔ خود ہی خوش ہو جاتے ہو خود ہی ناراض ہو جاتے ہو اور دوسرے کو کچھ پتہ بھی نہیں چلنے پاتا۔ مجھے معلوم نہیں کہ تمیں کیا شکایتیں پیدا ہو گئی تھیں اب تم نے مجھے لکھا ہے تو مجھے ہنسی آ رہی ہے کہ تمہیں شکایت تھی کہ تم نے اظہار کیوں نہیں کیا۔ میں تو تمہیں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتا ہوں اور اولاد کی طرح تمہیں عزیز سمجھتا ہوں یہ الگ بات ہے کہ تم سے مجھے جو توقعات تھیں وہ تم نے پوری نہیں کیں جس کا مجھے اکثر افسوس ہوتا رہتا ہے۔

میں صرف یہ چاہتا تھا کہ تم کچھ کام کرو۔ خدا نے تمہیں ذہانت دی۔ لکھنے کی صلاحیت دی ہے۔ پڑھنے لکھنے کا شوق دیا ہے۔ تم اس سے بہت کام لے سکتے ہو۔ دیکھو تمہارے چاروں طرف کیا ہو رہا ہے۔ تمہارا دین، تمہاری روایت، تمہاری قوم اور ملت سب خطرہ سے دوچار ہیں اور ایک بحران سے گزر رہے ہیں۔ ذرا سوچو کہ ان حالات میں تمہارا فریضہ کیا ہے۔ تم اگر کچھ کرتے تو ہم سب کو تقویت ہوتی اور فائدہ پہنچتا۔ بہرحال اس شکایت کے باوجود مایوس کبھی نہیں ہوا۔ میرا عقیدہ ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت ضرور ہے اور کوئی چیز اپنے وقت مقررہ سے نہ پہلے ہو سکتی ہے نہ بعد میں،  مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ تم سے کسی نہ کسی وقت کوئی کام ضرور لے گا۔

اقبال کے خطبات میرے پاس نہیں ہیں۔ اس لیے فی الحال میں وہ عبارتیں نہیں بھیج سکتا جن پر فتوے کی ضرورت ہے۔ مولانا حج سے واپس آ جائیں تو انشاء اللہ عبارتیں جمع کر کے انہیں بھیج دوں گا۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی کتابوں کی فہرست کا شکریہ۔ انشاء اللہ یہ کتابیں میں جلد ہی منگوا لوں گا۔

تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم بھائی


پیارے جاوید!
یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ تم دانتے، رومی اور ملٹن کا تقابلی مطالعہ کر رہے ہو۔ میرے پاس ایک کتاب ہے جس میں دانتے پر کچھ اہم مضامین ہیں۔ تم جب کراچی آئو تو یہ کتاب تمہیں مل جائے گی۔ ایک کتاب ملٹن پر بھی ہے وہ بھی تمہیں دے دوں گا۔ میرے پاس جتنی کتابیں بھی ہیں ان پر تمہیں پورا حق ہے۔ جو کتاب تم چاہو لے سکتے ہو۔ یہ خیال بھی ذہن میں نہ لائو کہ میں اس میں کسی تیر میر سے کام لوں گا۔ تمہیں معلوم ہے کہ میرے بچے تم سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ خدا تم لوگوں کے درمیان اس محبت کو ہمیشہ قائم رکھے۔ میں ہمیشہ تمہارے لیے دست بدعا رہتا ہوں۔ خدا تمہیں ہمیشہ زندہ سلامت رکھے اور زندگی اور آخرت کے حسنات عطا فرمائیے۔ آمین۔ جواب جلد دینا۔

تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم بھائی
۱۲ جولائی ۱۹۸۲


سلیم احمد کی کچھ تحاریر کے لنکس:

آزادیِء رائے کو بھونکنے دو: سلیم احمد کی یادگار تحریر

تہذیب کا جن

کاغذ کے سپاہیوں سے لشکر بنانے والا: سلیم احمد

گڈ بائی ٹو سر سیّد —— سلیم احمد

اسلامی زندگی بمعہ چھہ رنگین ناچوں کے: سلیم احمد


دانش فورم کے زیر اہتمام جناب احمد جاوید سلیم احمد کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے فکری سفر کی داستان بیان کر رہے ہیں۔ وڈیو کے لئے لنک پہ کلک کیجئے۔

Facebook Comments Box
featuredاحمد جاویدادباردو ادبتعلقجمال پانی پتیحسن عسکریخطوطسراج منیرسلیم احمدعسکریغزل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نخیلِ زیست کی چھاؤں میں نَے بہ لب تری یاد: ہمایوں مجاہد
next post
اولاد سے دوستی کیوں ضروری ہے؟ باسط حلیم

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.