تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

ہنگام ابلاغ —- محمد خان قلندر

by دانش ڈیسک 01/12/2017
written by دانش ڈیسک 01/12/2017
75

وہ دن گئے جب کسی اخبار میں تین چار سطری خبر لگنے سے سرکاری، سیاسی اور سماجی شخصیات خوش ہو جاتی تھیں۔

اب تو عدالت سے لے کر قصر اقتدار تک، افواج سے لے کر عسکریت پسندوں تک، اور مزہبی اجتماعات، سیاسی جلسے جلوس،غرض ہر شعبہ زندگی کی ہر ایکٹیوٹی تک یہ مرض پھیل چکا ہے کہ اگلے دن کے اخبارات کی ہیڈ لائن تو جب لگے گی تب لگے گی،اب تو ٹی وی چینلز پے بریکنگ نیوز سے پہلے ٹکرز چلیں، پھر نشریات روک کے نیوز کاسٹر اہم ترین خبر نشر کرے، اور سوشل میڈیا پے پوسٹس اور ٹویٹس کی ندی رواں ہوں، تو ہر اہم ہستی کو سکون ملتا ہے۔

اس ابلاغ عامہ کی متعدی بیماری کی وجہ سے تمام کاروبار زندگی،حکومت، سیاست، کھیل، وکالت، سے لے کر عام کاموں تک کے کرنے کی یہ جہت حاوی ہو گئ ہے کہ اس کی نیوز ویلیو کیسی، کتنی اور کیا ہو گی۔ ہمارے پرانے سماجی رواج اور رویے میں بھی یہ علت موجود تھی کہ ہر کام کے بارے میں یہ تشویش رہتی کہ لوگ کیا کہیں گے، رائے عامہ کی فکر اور قدر موجود تھی لیکن محدود تھی۔ اب انفارمیشن ٹیکنالوجی نے باہمی روابط لا محدود کر دیئے ہیں پبلسٹی یا تشہیر اب سب سے اہم اور بنیادی عمل بن گیا ہے، شہرت معیار زندگی ٹھہری تو مشہور خبر تو ہمیشہ وہ ہوتی ہے جو منفی انداز میں ہو۔

اب شریف فیمیلی جو کچھ بھی کر رہی ہے وہ سیاست کی مجبوری ہے کہ مثبت طریقے سے کئے کام کی پذیرائی نہیں ہوتی۔
پنامہ کیس کا ابتدائ فیصلہ جب ہوا۔میاں نواز شریف کی نااہلی ہوئ اور دیگر کے خلاف نیب عدالت میں کاروائ شروع ہوئی تو مثبت اور مہذبانہ رد عمل یہ تھا کہ میاں صاحب کے ساتھ شہباز شریف، مریم، حمزہ اور اسحاق ڈار و دیگر، وقتی طور پر سرکاری اور سیاسی عہدوں سے علیحدگی اختیار کر لیتے، اپنے خلاف تمام کیسز کی قانون کی پاسداری کرتے پیروی کرتے۔

جب انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہی نہیں تو یہ حقائق دلائل اور ثبوتوں سے عدالت میں پیش کر کے اپنی بے گناہی ثابت کر دیتے اور بری ہو کر، پہلے سے زیادہ عزت و احترام کے ساتھ عہدوں پے واپس آ جاتے، اور ان کا سیاسی قد پہلے سے بلند ہوتا لیکن اس طرح میڈیا پے نہ ہیجان پیدا ہوتا اور نہ خبر بنتی، نہ کوئ تماشہ لگتا نہ بریکنگ نیوز نہ پریس کانفرنس، نہ ٹاک شو،نہ طعنے نہ تشنیع، نہ حریف سیاسی پارٹیوں پے سر عام ہر قسم کے گندے الزام نہ اداروں پے تنقید بس پھس پھسا ماحول ہوتا۔

اس سارے قضیئے میں اہم ترین اور ناقابل فہم امر یہ ہے کہ شریفوں جیسے گھاگ کاروباری خاندان کے پاس ان کے اداروں میں سرمایہ کاری کے حساب کتاب کے کھاتے موجود نہ ہوں، مالیاتی تقویم کی عام تعلیم رکھنے والا بھی یہ حساب لگا سکتا ہے کہ اگر 1971 میں اس خاندان کے مجموعی اثاثہ جات، بشمول منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی مالیت صرف ایک کروڑ ڈالر تھی اور بنکوں کے قرضوں سمیت گردشی سرمایہ کم از کم چار کروڑ ڈالر تھا۔اس وقت ڈالر کا ریٹ دس روپے تھا تو کل مالیت پچاس کروڑ روپے بنتی ہے، قرضوں کے سود اور ٹیکسز کی ادائیگی کے بعد خالص نفع بیس فی صد سالانہ حسابی اضافہ سے جمع کیا جاتا رہے تو ہر پانچ سال کے بعد یہ مالیت دگنی ہو جائے گی۔ تیس سال میں اس عام تقویمی شرح سے، ڈالر کے موجودہ ریٹ پے جو گیارہ گنا بڑھ چکا ہے، اور افراط زر کے تناسب سے ان کے لئے اپنے اثاثے حساب کے کھاتوں کے مطابق ثابت کرنا چنداں مشکل نہ کبھی تھا اور نہ اب ہے، لیکن یہ سب کرنے میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ عام لوگوں کے سامنے یہ تاآثر جائے گاکہ ملک کا امیر ترین خاندان، طاقتور ترین حکمران سر نگوں ہو گیا،۔
ہماری سماجی روایات میں شرافت اور قانون کی پاسداری، اداروں کی عزت قابل تحسین نہیں بلکہ کمزوری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ہیرو بننے کے لئے قانون کے تابع ہونا نہیں قانون کے مقابل ہونا لازمی ہے، پنجابی کلچر میں کسی بھی قانون شکن بدمعاش کو سوسائیٹی قبول کرتی ہے اور عزت مرتبہ دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے سیاست دان عمل کرنے سے زیادہ بڑھک مارنے پے بھروسہ کرتے ہیں۔ حکمران ایسے مسئلے خود پیدا کرتے ہیں جن کو حل کرتے ہوئے ان کی طاقت اور مقتدر ہونے کا رعب بڑھے۔

سوچیئے ! اگر وزیر اعظم اور وزراا علی اپنے وزرا سمیت اسمبلیوں میں آنا شروع کر دیں۔ وہاں امور سلطنت چلانے میں بہتری کے لئے پالیسی بننے لگے ضروری قانون سازی ہو، ہر کابینہ اپنے آئینی فرائض پے توجہ دے، امن و امان قائم رکھنے والے ادارے اپنے دائرہ کار میں ڈیوٹی دیں۔ سماج دشمن عناصر کی بیخ کنی ان کی سیاسی وابستگی کی وجہ سے نہیں جرائم پر کی جائے۔

ایجنسیاں سیاست گردی کی بجائے دہشت گردی ختم کرنے پر مرتکز ہوں اور ملکی سلامتی کے خطرات کا تدارک کریں۔
دفاعی ادارے ملکی دفاع کے لئے اندرونی اور بیرونی حملہ آوروں سے نبرد آزما ہوں، محترم جج صاحبان اپنے تحریری فیصلوں اور حکم جاری کرنے سے بولیں نا کہ سیاسی ریمارکس اور تبصرے دیں۔ تو چار چھ ماہ میں ملک کی صورت حال بدل سکتی ہے

عوام میں موجود قانون شکنی، ملاوٹ، اور دیگر سماجی اور کاروباری بد عنوانیوں پے پکڑے جانے اور سزا کا ڈر پیدا ہو گا پر مصیبت یہ ہے کہ جو رونق تماشہ اور تشہیر دھرنے سے، عدالت میں شاہانہ انداز سے پیشی پے، دوسرے اداروں کی ٹانگیں کھینچنے سے ہوتی ہے اور دوسروں پے بالا دستی ثابت کرنے کا جو مزہ ہے وہ ختم ہو جائے گا۔

ہمارا خاصہ تو یہ ہے کہ تھانیدار بننے کا کیا فائدہ، اگر اپنے ضلع میں تعیناتی نہ ہو اور بندہ اپنے حریف رشتہ داروں کو تھانے میں نہ بند کر سکے نہ ان کی گالی گلوچ سے تذلیل کر سکے۔ حکمرانی کے رموز اور واجبات سے ناواقف حکمران خود اپنے کو تلف کرنے کا سبب ہوتے ہیں۔ اور ان بیماروں کا علاج ممکن نظر نہیں آتا۔ نظام کوئ بھی خراب نہیں ہوتا، بس اسے نافذ کرنے والے اور اس پے عمل کرانے والے اگر بد نیت اور نااہل ہوں تو بہترین نظم حکومت بھی ناکام ہوتا ہے۔
پاکستان میں یہ ستر سال سے ناکامی کا سفر اس کی مثال ہے، دوش کس کو دوں ہر ہم سفر لٹیرا نکلا۔۔

Facebook Comments Box
پاکستانی سیاستسیاستکرپشننواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
رحمت اللعالمین ﷺ : ڈاکٹر اصغر علی بلوچ
next post
پاکستان دُنیا سے پیچھے کیوں ہے؟ حُنین خالد

Related Posts

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

30/03/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.