تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسفرنامہعلم و ادب

کہانی یوگنڈا کے سفر کی: خبیب کیانی

by دانش ڈیسک 03/10/2017
written by دانش ڈیسک 03/10/2017
145

کہتے ہیں کہ دنیا کی بہترین کہانیاں پاسپورٹ کے صفحوں پر لکھی ہوتی ہیں۔ دل کی پوچھیں تو سچ ہی کہتے ہیں۔ سفر اور خاص طور پر بیرون ملک سفر کے دوران آپ بہت قلیل وقت میں کئی نئے تجربات سے گزرتے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ کچھ دن پہلے افریقہ میں واقع ملک یوگنڈا میں ایک تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں پاکستان، کینیا، ایتھوپیا، گھانا، برطانیہ اور یوگنڈا سے مختلف افراد کو مدعو کیا گیا۔ پاکستان میں دعوت نامہ موصول ہونے پر ہمارے افسران بالا نے باہم مشورے کے بعد ہمیں حکم صادر کیا کہ میاں۔۔ جائو تمھیں افریقہ بلا رہا ہے۔حکم ملتے ہی ضروری کاغذی کاروائی کا آغاز کیا اور ایک مشکل مرحلے سے گزرنے کے بعد بلآخر یوگنڈا کے کونصلیٹ سے سفری مہر ثبت کروا کے ہم جا بیٹھے اڑن کھٹولے میں۔ یوگنڈا سے ہماری رسمی جان پہچان پہلے سے تھی جس کی ذمہ داری پاکستان میں ہونے والے ہر کام کی طرح امریکہ بہادر پر ہی عائدہوتی ہے۔ گزرے وقتوں میں جنرل ایدی امین کے دور حکومت سے جڑی کچھ ہالی ووڈ کی فلمیں دیکھ رکھی تھیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہم یوگنڈا سے زیادہ یوگنڈا کے سابق حکمران کے بارے میں جانتے تھے او ر وہ بھی صرف اتنا جتنا امریکی چاہتے تھے۔ بہر حال،ہوا کچھ یوں کہ ہم پاکستان سے اڑ کر قطری شہزادے المعروف خطوںوالی سرکار کے ہا ں پہنچے اور وہاں چند گھنٹے قیام کے بعد یوگنڈا کے لیے روانہ ہوئے۔ سفر کی طوالت کو لے کر دل کچھ پریشان تھا لیکن قطر ائرویز کی ہوسٹسس پہ نظر پڑتے ہی یہ پریشانی جاتی رہی۔مل ملا کے کوئی پندرہ مسکراہٹوں کے تبادلوں کے بعد ایک دم یوگنڈا آگیا۔ توقع کے بر عکس ہمیں ملک پسند آیا۔ یوگنڈا کا مختصر تعارف،سیاست، معاشرت کچھ یوں ہے۔

تعارف:
۱۹۶۲ میں برطانوی تسلط سے آزاد ہونے والا یوگنڈا نسبتاایک کم آبادی والا ملک ہے۔ ۴کروڑکی آبادی والے ملک یوگنٖڈا کے ہمسایوں میں کانگو، تنزانیہ، روانڈا، سوڈان اور کینیا شامل ہیں۔ دریائے نیل کا منبع اس ملک کے شہر جنجا میں واقع ہے جس پر ایک مختصر تعارفی ویڈیو میری فیس بک کی ٹائم لائن پر موجود ہے۔ دنیا کی بڑی جھیلوں میں سے ایک وکٹوریہ جھیل کا ایک بڑا حصہ اس ملک میں واقع ہے۔ وسیع جنگلات میں چمپینزی، نایاب پرندے،شیر اور دیگر جنگلی جانور کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ عوام کی اکثریت انگریزی زبان بول لیتی ہے جبکہ سواہلی اور لوگانڈا مشہور مقامی زبانیں ہیں۔ ۶ مہینے بارش اور ۶ مہینے خشکی کی وجہ سے موسم زیادہ سخت نہیں ہوتا۔پارہ بہت بھی چڑھ جائے تو ۳۰ ڈگری تک ہی جاتا ہے۔ عیسائیت ملک کا سب سے بڑا مذہب ہے جبکہ مسلمان دوسرے نمبر پر ہیں۔ سعودی عرب اور ایران فنڈڈ فرقہ واریت ملک کی سیاست میں ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ شیعہ اور سنی راہنما صدارتی سیکیورٹی کے برابر سیکیورٹی لے کر پھرتے ہیں اور ریاست دونوں کی سیکیورٹی پر خاص توجہ دیتی ہے۔

مصنف

معاشرت:
لوگ دیکھنے میں خوش باش نظر آتے ہیں۔ مرد شوق سے افریقی پرنٹ والی شرٹ پہنتے ہیں۔عورتوں میں مغربی طرز کے لباس کو بہت مقبولیت حاصل ہے۔یہ لباس صرف ایک ہی قمیض پر مشتمل ہوتاہے جو بازو کو ڈھکے بغیر گردن سے لے کر گھٹنوں تک جسم کو ڈھانپتی ہے۔ خوش خوراکی کا قدرتی انتظام موجود ہے۔ آبادی کم ہونے کی وجہ سے زمین نسبتا سستی ہے۔ زیادہ تر خوراک گھر کے ساتھ موجود کھیت میں دالوں، سبزیوں اور پھلوں کے بیج بو کر حاصل کی جاتی ہے۔ گوشت میں مچھلی اور گائے کے گوشت کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ ملک میں ایک نہ لکھا ہوا معاشرتی قانون یہ بھی پایا جاتا ہے کہ کسی بھی جانور بکری، گائے وغیرہ کو ذبح کرنے کا کام ہمیشہ مسلمانوں سے کروایا جاتا ہے۔ اس قانون پر تمام مذاہب کے لوگ بخوشی عمل کرتے ہیں۔ نیل کے ساحل پر موجود آنکھوں میں کاشغر کے سپنے سجائے ہم نے اپنے ہوٹل میں مقامی پھلوں، سبزیوں، مچھلی اور انڈوں سے خوب لطف اٹھایا مگر خود کو گوشت کھانے کے لیے راضی نہ کر پائے۔ یوگنڈا میں خوراک سے جڑی سب اہم یاد بلاشبہ ـوہاں کے ـانناس کی رہے گی۔اسقدر رسیلا اور تروتازہ انناس کم از کم ہمیں تو زندگی میں کہیں نہیں ملا تھاسو جتنے دن وہا ں قیام رہا کھا کھا کر انناس اپنے نظام انہظام کا ستیاناس کرنے کی خوب کوشش کی گئی لیکن خوش قسمتی سے ایسا کچھ نہ ہوا۔

سیاست:
جمہوریت کو بچہ جمہورا بنانے کا جو چلن ہمارے ہاں رائج ہے وہ وہاں بھی موجود پایا۔ ملک خیر سے ایک صدر صاحب چلا رہے ہیں نام ہے ان کا یوویری مسووینی۔ ایک عدد کٹھ پتلی پارلیمنٹ بھی موجود ہے جس کے ارکان ملک کے با اثر گھرانوں کے لوگ ہیں۔ ۴۸ کے قریب قبیلے ہیں اور ہر قبیلے کا اپنا ایک بادشاہ ہے،بادشاہ لوگ ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں۔ بادشاہ صدر کے زیر اثر رہتے ہیں۔ صدر صاحب ۱۹۸۶ سے اقتدار کو جپھی مارے بیٹھے ہیں اور ملک کے آئین کا حوالہ دے کر اگر اقتدار سے الگ ہونے کا کہا جائے تو آئین میں ضروری ترامیم کر لیتے ہیں۔ آئین کا حکم تھا کہ ایک فرد ۲ ٹرمز سے زیادہ صدر نہیں بن سکتا، ۲ ٹرمز پوری ہوئیں تو آئین میں ترمیم کر کے ٹرمز کی شرط ختم کر دی۔اس وقت پانچویں ٹرم کا لطف اٹھایا جا رہا ہے۔ ان دنوں آئین کی ایک اور شق صاحب کے گلے کا طوق بنی پڑی ہے کہ صدر کی زیادہ سے زیادہ عمر ۷۵ سال ہو سکتی ہے۔ سنا ہے آئین کو ضروری کانٹ چھانٹ کے لیے صدارتی محل میں آج کل بلوایا ہوا ہے صاحب نے۔ خیر ہمیں ان سے کیا لینا دینا، اللہ ہماری ۶۳،۶۲ کی خیر کرے۔

دریائے نیل:
ہمارے یاترہ کا سب سے اہم اور یادگار لمحہ اس مقام کی سیر تھی جہاں سے دریائے نیل نکلتا ہے۔ بچپن میں سنی مختلف کہانیوں اور روایات میں نیل کا بار ہا ذکر سننے کی وجہ سے دل میں کہیں نہ کہیں اس دریا کے لیے محبت موجود رہی۔ نیل صاحب سے ملاقات کے اشتیاق کو رب یوں سبب بنا کے پورا کرے گا یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ نیل یوگنڈا کے شہر جنجا سے نکلتا ہے اور پانچ ملکوں سے گزرتے ہوئے ۶۴۰۰ کلومیٹر کم و بیش کا سفر طے کر کے بحیرہ روم سے جا ملتا ہے۔ اس سارے خطے میں زندگی کا دارومدار اسی دریا پر رہا ہے۔ صدیوں بلکہ ہزاریوں سے بہتے اور زندگی بانٹتے اس دریا پہ غروب آفتاب کے منظرکو صرف دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے بیا ن نہیں کیا جا سکتا۔

تو صاحبو ! یہ ہے ہمارے سفر کی روداد، یقینی طور پر آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سفر کی کیسی کہانی ہے جس میں نہ تو مصنف اس دور دراز ملک کی کسی حسینہ کا گرویدہ ہوا اور نہ کسی حسینہ کو اپنا اسیر کر پایا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ہم وہاں جتنے دن رہے ہمیں ایک افریقی حسینہ کی نظر التفات حاصل رہی مگر ہم اپنے بارے میں جن چند ایک باتوں کو بھر پور وثوق سے جانتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم اپنے حصے کی محبتیں کر بیٹھے ہیں جن کے نتیجے میں ہماری ایک عدد بیگم صاحبہ بھی ہیں جن سے ہم دنیا کے تمام ذہین شوہروں کی طرح خوب ڈرتے ہیں۔ اللہ میاں نے اپنے کلام میں حکم کیا ہے کہ اپنی عورتوں کے معاملے میں مجھ سے ڈرو، تو ہم نے اللہ میاں سے یہی عرض کی ہوئی ہے کہ جناب اعلی و بر تر ہم اس سلسلے میںآپ سے ہی نہیں عورتوں سے بھی ڈرتے ہیں اور بتائیں۔سو، اس افریقی حسینہ کو دعائیں، سیلفی اور چند مسکراہٹیں دے کر واپس آگئے۔ واپسی کاسفر ایک تو عید کے دن تھا اور دوسرا طویل لیکن فلائٹ اسی شش وپنج میں گزر گئی کہ قطر ائرویز کی ہوسٹس سے یہ کیسے پوچھا جائے کہ قطری والا معاملہ سچ ہے یا میاں صاحب نے خالی باتیں ہی بنائی ہوئی ہیں۔

Facebook Comments Box
Ugandaسفر نامہیوگنڈا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اختیار کی بدمعاشی کا نام آمریت ہے: ثاقب ملک
next post
حضرتِ غالب اور میاں جمہوری — ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.