تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

جہاں پڑے ہیں یہاں گرے کیسے: محمد خان قلندر

by دانش ڈیسک 22/09/2017
written by دانش ڈیسک 22/09/2017
119

آج مملکت پاکستان میں حکومت، یہاں ہے، نہیں ہے، کی حالت میں ہے۔ وزیراعظم ابھی تک خود کو پراکسی سربراہ ظاہر کر رہے ہیں، وزیر خزانہ مفرور ہیں۔ داخلہ اور خارجہ امور کے وزیر جو بیان دے رہے ہیں، وہ ان جرائم کا اعتراف ہیں جو پاکستان اور ہماری افواج کی مخالف طاقتیں ہم پر لگاتی ہیں، اس سے بڑھ کر کسی ملک میں حکومتی بے بسی کیا ہو سکتی ہے!

ہم اس حال میں اچانک نہیں پہنچے، یہ تو بتدریج ہوا ہے۔ حکومتوں کے مفلوک الحال طرز حکمرانی کا یہ نتیجہ عشروں کی بد انتظامی کا مجموعی اثر ہے۔ ستر سال قوموں کی تاریخ میں کوئ بڑی مدت نہی ہوتی۔ یہ غلط العام قول شائد اقوام کی تاریخ عالم سے ماخوذ ہو، لیکن اس کا اطلاق برصغیر کی جغرافیائی تقسیم کے بعد بننے والے ممالک پہ نہیں ہوتا، یہاں تو ہزاروں سال پرانی تہذیب اور صدیوں سے موجود قوم تھی۔

ہمارے ہاں فوجی اور سویلین آمریت باری باری آزمائی جاتی رہی لیکن حقیقت میں مارشل لاءکبھی مکمل فوجی حکومت تھی، نہ ہی کوئی سویلین حکومت مکمل جمہوری تھی، تو اس صورت حال کی ذمہ داری نہ کلی طور فوج پر ڈالی جا سکتی ہے اور نہ ہی سارا الزام سویلین یا سیاست دانوں کو دیا جا سکتا ہے، بلکہ ان دونوں طبقات کے پاس ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کی وجوہات موجود ہیں۔ یوں یہاں سب ملبہ دوسرے پے ڈال کے خود کو بری الذمہ کہتے ہیں۔ جیسے اب اپنی تیس سال کی بد ترین کارکردگی کے باوجود شریف خاندان خود کو مظلوم بنا کے پیش کر رہا ہے۔ جبکہ ان کی تو جبلت میں خود پرستی ہے،جس کا اظہار وہ ہر مرتبہ اقتدار سے محرومی کے وقت کھُل کے کرتے ہیں۔ جیسے
میں کسی کو، سُپر وزیراعظم ،، نہی مان سکتا۔
میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا ۔
میں استعفی کیوں دوں۔
میرا قصور کیا ہے ؟ مجھے کیوں نکالا !
عوامی عدالت !! سازش ـ نادیدہ ہاتھ۔

اس کیفیت کی وجہ اس خاندان کی بیک گراؤنڈ ہے۔ خاندان انسان کی پہچان اور پیشہ مہارت ہوتا ہے، لیکن برہمن سماج نے خاندان کو پیشے سے منسوب کر دیا۔ جو اب تک ہمارے ہاں بھی مروج ہے،ہر دستکار کا ہُنر اس کی ذات ہے، لوہار، کُمہار، نائی، موچی، دھوبی، جولاہا، ترکھان، وغیرہ ۔

خاندانی جنیات پر مہارت کا اثر غالب ہوتا گیا، تو پیشہ ورانہ خصائص کردار میں زیادہ مستحکم ہو گئے، اس تناظر میں جاتی اُمرا سے لہور منتقل ہونے والے ایک خاندان دستکار سے صنعتکار بننے کے بعد بھی اپنی خصوصی فطرت اور جبلی عادات سے نہیں نکل پایا جس میں ہر محکمہ ہر کاروبار اور ہر شئے پر قبضے کی لامحدود خواہشات شامل ہیں ۔

یہ خاندان تیس سال سے زائد عرصہ حکمران رہنے سے بھی ہر چیز پہ قابض ہونے کی خواہش سے چھٹکارا حاصل نہی کر سکا۔ اب اس کے ساتھ پاکستانی ریاست کی مقتدرہ ہیئت ترکیبی کو دیکھا جائے تو آئین میں اداروں کے اختیارات کی تقسیم کے مطابق، افواج اور عدلیہ کو انتظامیہ اور مقننہ کے دائرہ اثر سے باہر رکھا گیا ہے، ان کو اپنے اپنے دائرہ کار میں مکمل آزادی ہے۔
مقننہ اور انتظامیہ ایک طرف اپنی نااہلی کی وجہ سے اپنے فرائض کا ملبہ بھی ان ہر دو اداروں پے ڈالتے ہیں۔ جیسے امن و امان کے قائم رکھنے کی ذمہ داری میں فیل ہو کے سارا کام فوج کے حوالے کیا گیا ہے، اور سیاسی اختلاف کے مسائل بجائے اسمبلی کے اندر حل کرنے کے عدالت عالیہ پر ڈال دیئے گئے ہیں لیکن، ساتھ ان اداروں کی خود مختاری پر اعتراض بھی ہیں، ان کے اختیارات پر قدغن لگانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

نواز شریف ہو یا زرداری یا کوئی اور سیاستدان، ان کی سوچ جب تک یہ ہے کہ جھوٹ، بہتان تراشی، اور تضحیک کے زریعے عوام کو گمراہ کیا جا سکتا ہے اور اپنی حکومتوں کی نااہلی کو چھپانے کے لئے عدلیہ، افواج اور دیگر ریاستی اداروں کی مبینہ مداخلت کا بہانہ چل سکتا ہے تو حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔

شائد متعلقہ اداروں کے لئے بھی یہ گھڑی آ پہنچی ہے کہ وہ ریاست کی رٹ کو آئین کی روح کے مطابق خود پر مکمل نافذ کر کے، اس غیر فعال مقننہ اور انتظامیہ میں تطہیر کے لئے احتساب کے عمل کو مہمیز دیں، کہ اب مزید مصلحت کوشی، چشم پوشی، اور مصالحت کی گنجائش نہیں رہی۔

Facebook Comments Box
featuredپاکستانی سیاستزرداریقلندرنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اسلام، مشرق اور مارکس و اینگل:رفیع اللہ میاں
next post
کبھی تسلیم ِجاں ہے زندگی : لبابہ نجمی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.