تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبفلسفہ

اسلام، مشرق اور مارکس و اینگل:رفیع اللہ میاں

by دانش ڈیسک 22/09/2017
written by دانش ڈیسک 22/09/2017
109

مارکس اور اینگلز کے درمیان بہت سارے موضوعات پر خط و کتابت ہوئی۔ انہی موضوعات میں سے ایک مذہب بھی شامل ہے۔ مذہب پر خطوط میں دونوں مشاہیر نے یہودیت، عیسائیت اور اسلام پر اپنے خیالات اور مطالعات کا اظہار کیا۔ انھوں نے اسلام اور مشرق کے حوالے سے خطوط میں مختلف جگہوں پر مختصراً اظہار کیا، جسے اس مختصر تحریر میں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان خطوط کا ذریعہ ہے: ”آن ریلیجن – کارل مارکس اینڈ فریڈرک اینگلز“ (ڈوور پبلیکیشن نیویارک)۔

تاریخی اور معاشی دو ایسے پہلو ہیں جنھیں سماجیات میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مارکسی فکر کے رو سے سماجی انقلابات میں یہ دو پہلو بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب ہم ’مذہبی انقلاب‘ کی بات کرتے ہیں تو بہ ظاہر یہ سماجی انقلاب سے ہٹ کر بات معلوم ہوتی ہے لیکن مارکسی فکر میں مذہب کا معاملہ بھی سماج سے ہٹ کر جنم نہیں لیتا۔ مارکس اور اینگلز نے مذہب کو اسی تناظر میں دیکھا اور اپنے خطوط میں اس پر سیر حاصل گفتگو کی۔ لیکن اسلام پر دونوں کی گفتگو نہایت مختصر اور چند نکات پر مشتمل ہے، اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ دونوں نے اس کا مرتکز مطالعہ نہیں کیا اور اس بات کا ثبوت ایک خط میں اینگلز کی یہ بات ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

خطوط کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بہت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ مارکس اور اینگلز نے اپنے خطوط میں ظہور اسلام پر نہایت سرسری نگاہ ڈالی ہے جس کا نتیجہ چند غیر متعلقہ فکری پہلوؤں کے اظہار کی صورت میں نکلا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہودیوں اور عربوں کے درمیان رشتہ تاریخی اور نہایت قریبی ہے۔ یہودی‘ عرب بدوی قبائل ہی سے مقامی حالات اور زراعت کی وجہ سے نکل کر الگ ہوئے۔ یہودیت دراصل عیسائیت کی ابتدائی شکل تھی اور یہودیت کے پاس جو کچھ مقدس لکھا ہے وہ قدیم عرب مذہبی و قبائلی روایات کی تبدیل شدہ صورت کے سوا کچھ نہیں۔

مشرق کی تاریخ ہی ہمیشہ مذہب کی تاریخ کے طور پر سامنے آتی ہے۔ عرب بدویوں کے متواتر حملوں کے بعد انھوں نے اسیری اور بابلی سلطنتیں قایم کیں اور نینوا اور بابل جیسے بڑے شہر تیزی سے تعمیر کیے، بالکل اسی طرح جیسا کہ افغان حملوں کے ذریعے انڈیا میں آگرہ، دہلی اور لاہور۔ جنوب مغرب میں بسنے والے عرب‘ مصریوں اور اسیریوں کی طرح تہذیب یافتہ تھے جو ان کی عمارتوں سے معلوم ہوتا ہے۔ جنوب کے کتبوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وحدانیت کی عرب قومی روایت ہی غالب رہی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ محمد (ﷺ) کا مذہبی انقلاب، ہر مذہبی تحریک کی مانند، باقاعدہ طور پر ایک ردعمل تھا – یعنی قدیم اور سادہ کی طرف مراجعت۔

اینگلز نے ان خطوط میں یہ اظہار کیا تھا کہ وہ محمد (ﷺ) کی ذاتی تاریخ بھی پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پھر معلوم نہیں ہوسکا کہ اس نے اس ارادے کو عملی جامہ پہنایا یا نہیں۔

تاریخ کے آغاز ہی سے مشرقی قبائل میں ایک طرف آبادکار رہے ہیں اور دوسری طرف مستقل خانہ بدوش۔ محمد (ﷺ) کے دور میں یورپ سے ایشیا کے لیے تجارتی راستہ بہت زیادہ تبدیلیوں سے گزرا۔ عرب سرزمین کے وہ شہر جو انڈیا وغیرہ کے ساتھ تجارت میں پیش پیش تھے، تجارتی زوال کا شکار ہوگئے‘ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو تمام واقعات کے ظہور پذیر ہونے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔

اینگلز نے ان خطوط میں یہ اظہار کیا تھا کہ وہ محمد (ﷺ) کی ذاتی تاریخ بھی پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پھر معلوم نہیں ہوسکا کہ اس نے اس ارادے کو عملی جامہ پہنایا یا نہیں۔ تاہم ایک جگہ وہ عربی اور فارسی زبانوں کے بارے میں اپنے ’فطری‘ رجحان کا اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کچھ وقت کی کمی اور پھر سامی زبانوں سے پیدایشی نفرت کی وجہ سے میں عربی زبان (سیکھنا) چھوڑ رہا ہوں۔ اس کے مقابلے میں فارسی سیکھنا خالص بچوں کا کھیل ہے۔ اگر یہ منحوس عربی حروف تہجی نہ ہوتے جن میں نصف درجن دوسرے ہر نصف درجن سے مشابہ ہیں، تو میں اڑتالیس گھنٹوں میں سارا گرامر سیکھ لیتا۔ ویسے آوارہ بوڑھے حافظ کو اصل زبان (فارسی) میں پڑھنا بہت دل چسپ ہے۔

Facebook Comments Box
featuredٖFriedrich Engelsرفیع اللہ میاںفریڈرک اینگلزکاکارل مارکسمارکس
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عمرؓدی گریٹ : اعجازالحق اعجاز
next post
جہاں پڑے ہیں یہاں گرے کیسے: محمد خان قلندر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.