پدر سری نظام : فیمنزم کا فرضی دشمن ۔۔۔۔ وحید مراد

0

فیمنسٹ آئیڈیالوجی کی عمارت جن مفروضات اور اعتقادات پر قائم ہے ان میں ‘پدرسری نظام معاشرت’ سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ نسائی ماہرین کے مطابق خواتین پر ہونے والے ہر ظلم، جبر اور استحصال کی جڑیں پدرسری نظام معاشرت میں پھیلی ہیں۔ ا نکے خیال میں ‘پدرسری’ سے مراد ایک ایسا سماجی نظام ہے جو ہر شعبہ زندگی میں مردوں کی حاکمیت، ملکیت، سیاسی قیادت، اخلاقی اتھارٹی اور معاشرتی استحقاق قائم کرتا ہے۔ تاریخی طور پر ہمیں معیشت، معاشرت، تعلیم، قانون، ادب، شاعری، فنون، اور سائنس وغیرہ کی شکل میں جو کچھ بھی ورثے میں ملا، اس میں مردوں کی حاکمیت اور اجارہ داری قائم ہے۔ فیمنسٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کی عورت مردوں کے چنگل سے اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتی جب تک وہ انکے بنائے گئےمعاشرتی نظام کو تمام اجزاء سمیت مکمل طور پر مسترد نہ کر دے۔

پدرسری نظام معاشرت کا مفروضہ کیا ہے؟

پدرسری(Patriarchy) یونانی زبان کا لفظ ہے جس میں Patria کا مطلب باپ، سردار یا سرپرست اور archy کا مطلب تسلط، اختیار اور خودمختاری ہے۔ یہ اصطلاح استعمال کرتے وقت فیمنسٹ ماہرین کی مراد یہ ہوتی ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں خاندان، کنبے، اور قبیلے میں بالغ مردسربراہ کی خودمختاری اور حکمرانی ہوتی تھی اور یہ سلسلہ آج بھی ریاست اور تہذیب کے مختلف اداروں کی شکل میں قائم ہے۔ مغربی یورپ اور امریکہ میں اس اصطلاح کا استعمال بیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوا۔ اس سے قبل فیمنسٹ ماہرین اس مفہوم کیلئے مردانہ شاونزم (Male chauvinism) اور جنسی تعصب (Sexism) کی اصطلاحات استعمال کرتے تھے۔ بیل ہکس (Bell Hooks) کا استدلال ہے کہ مردانہ شائونزم اور سیکسزم سے مردوں کا وہ جبر اور تسلط مراد تھا جو صرف عورتوں سے مخصوص تھا لیکن پدرسری کی اصطلاح میں مردانہ تسلط کو عورتوں کے علاوہ دیگر اصناف(گے، لزبئین، ٹرانس جینڈر وغیرہ) تک وسیع سمجھا جاتا ہے۔

Giving Up The Patriarchy? Just How Are You Going To Do That? | by Kristin Hull, PhD | Mediumفیمنزم کی دوسری ویوو کے دوران ساٹھ اور ستر کے عشرے میں کیٹ ملیٹ (Kate Millett) اور کچھ دیگر فیمنسٹ ماہرین نے خواتین کو مردانہ تسلط سے آزاد کرانے کیلئے ‘پدرسری نظام معاشرت’ کی اصطلاح ‘پرتشدد معاشرتی تعلقات’ کے معنوں میں استعمال کی۔ اسکے بعد سے یہ اصطلاح مردوں کی حیاتیاتی قوت، طاقت اور غلبہ کے بجائے معاشرتی غلبہ کے بیان کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ Shulamith Firestone ایک ریڈیکل لبرٹیرین فیمنسٹ اسکالر ہیں جنہوں نے پدرسری نظام معاشرت میں ہونے والے ظلم اور جبر کی اصل وجہ مردوں اور عورتوں کے مابین حیاتیاتی عدم مساوات کو قرار دیا۔ مثال کے طورپر عورتیں بچے پیدا کرتی ہیں لیکن مرد ایسا نہیں کرتے۔ بچوں کی پیدائش کے وقت عورتیں تکالیف سے گزرتی ہیں لیکن مرد خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہر نیا پیدا ہونے والا مرد انکی طاقت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ فائر اسٹون کے نزدیک عورت کے تولیدی معاملات پر مردوں کا کنٹرول ہے اور جب تک عورت کو اس پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہوجاتا، نسوانی آزادی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ایلیسن جاگر (Alison Jaggar) بھی یہی سمجھتی ہیں کہ پدرسری نظام معاشرت، عورت کے جسم پر اختیارحاصل کرکے اسے اپنے ہی جسم سے بیگانہ کر دیتا ہے۔

Iris Marion Young، Heidi Hartmann اور کئی مارکسی فیمنسٹ اسکالرزکا کہنا ہے کہ پدرسری نظام کو اس وقت تک مکمل طورپر ختم نہیں کیا جا سکتا جب تک اسکی اصل جڑ اور بنیاد یعنی خاندان کے نظام کو ختم نہ کردیا جائے۔ انکے نزدیک جبر کا اصل منبع گھر اور خاندان ہے جہاں کمزور افراد خانہ (عورتیں، بچے) اور وابستگان کو اطاعت اور فرمانبرداری کی تربیت دی جاتی ہے اور پھر یہی خاندان مل کر معاشرہ اور ریاست کی تشکیل کرتے ہیں۔ خاندان کے اندر مردوں کی حکمرانی جو ایک جزو کے طورپر ہوتی وہ معاشرے، ریاست اور تہذیب کی شکل میں ہر ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ان ماہرین کے نزدیک مرد و زن کےا لگ الفاظ اور اصطلاحات بھی پدرسری نظام کے دئے ہوئے ہیں جن میں یہ مفہوم پایا جاتا ہے کہ مرد گھر کا سربراہ یا نگران ہوتا ہے جبکہ عورت اسکی خادمہ۔ لہذا ان الفاظ اور اصطلاحات کو بھی ختم کرکےانکی جگہ نیوٹرل الفاظ استعمال کئے جانے چاہیں۔

خواتین کو باور کرایا جاتا ہے کہ انکی حیثیت مردوں کی فرمانبردار، جنسی غلام اوربچے پیدا کرنے والی مشین سے زیادہ کچھ نہیں۔ امریکی فیمنسٹ بٹی فریڈن Betty Friedan نے خاندانی نظام کوحراستی کیمپ کا نام دیا، شیلا کرونن Sheila Croninنے دعویٰ کیا کہ شادی کے خاتمے کے بغیر خواتین کیلئے آزادی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ آندریا ڈورکن Andrea Dworkinنے کہا کہ نکاح بطور ادارہ عصمت دری کے عمل کی ترقی یافتہ شکل اور قانونی لائسنس ہے۔ مارلن فرانسیسی Marilyn French فرماتی ہیں کہ خاندان تو عورت کیلئے جبر کا ایک مقام ہے جہاں جنسیت کو بزور طاقت نافذ کیا جاتا ہے۔

فیمنسٹ تحریک میں نکاح کرنے والی خواتین کو فیمنزم کا غدار اور انکے مقابلے میں خاندان اور شادی کے خلاف بغاوت کرنے والی خواتین کو باشعور ہیروئین تصور کیا جاتا ہے۔ انکےمطابق پدرسری نظام میں مرد طے کرتا ہے کہ عورت کو گھر کے اندر و باہر کیسے رہنا ہے اور جنسی اعمال کس طرح سرانجام دینے ہیں۔ حالانکہ عورت اپنے جسم کی خود مالکن ہے، یہ اسکی مرضی ہے کہ وہ جنسی حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے۔ ان ماہرین کے مطابق مردوں کی طرف سے عورتوں پرکیا جانے والا ظلم اور جبر اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک مردوں کو’نسوانی مرد Feminized Men ‘بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔

پدرسری مفروضے کے فیمنسٹ ناقدین:

مغرب میں پدرسری نظام معاشرت کے حامیوں کے ساتھ کئی ایسے ماہرین ہیں جو فیمنسٹ ہوتے ہوئے بھی اس مفروضےپر سخت تنقید کرتے اور اسکی کمزوریاں بیان کرتے ہیں۔ Toni Airaksinen کا خیال ہے کہ جبر اور ظلم کے وجود سے تو انکار ممکن نہیں لیکن اسکی تلاش ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اصناف پر ہونے والے ہر قسم کے ظلم کوصرف مردوں یا کچھ اداروں تک مخصوص کرنا درست نہیں۔ Kate Millet بھی ظلم اور جبر کوصرف صنفی امتیازات کے ساتھ وابستہ نہیں سمجھتی۔ کمبرلی کرینشا (Kimberle Crenshaw) نے بھی اس تصور کو چیلنج کیا کہ جبر اور ظلم کا واحد محور صنفی امتیاز ہوتا ہے۔ اس نے صنفی امتیاز کے بجائے ظلم و ستم کا محور ‘نسل پرستی’ کو قرار دیا۔ رابرٹ ایم اسٹروزیر(Robert M Strozier) کے مطابق تاریخی تحقیق میں ابھی تک ایسا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا جس کو پدرسری نظام معاشرت کی ابتداء کہا جا سکے۔

ڈاکٹر گرڈا لرنر (Gerda Hedwig Lerner) ایک آسٹرین نژاد امریکن فیمنسٹ مورخ اور کئی کتابوں کی مصنفہ تھیں اور وہ امریکی مورخین کی آرگنائزیشن کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔ انکی مشہور کتب میں ‘عورت کی تاریخWomen’s history’ اور’پدرسری نظام کی تخلیق The Creation of Patriarchy’ ہیں۔ انہوں نے جب پدرسری کے مفروضے پر تنقید کرتے ہوئے نئی طبقاتی تھیوری پیش کی تو اس پر مارکسی فیمنسٹ ماہرین کے ساتھ بوژوا فیمنسٹ ماہرین بھی سخت نالاں تھے۔ انہیں ڈاکٹر لرنر کے تجزیے سے سخت مایوسی ہوئی جب اس نے کہا کہ اعلیٰ طبقات اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پدرسری نظام معاشرت سے بے شمار فوائد اور مراعات حاصل ہوئیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس نظام کے ساتھ خوب تعاون بھی کیا۔

ڈاکٹر لرنر اپنی کتاب پدرسری نظام کی تخلیق میں لکھتی ہیں کہ

‘تاریخی طور پر پدرسری، سماجی تنظیم کی ہی ایک شکل تھی جس میں باپ یا گھر کا کوئی بزرگ مرد پورے کنبے اور قبیلے کی سربراہی کرتا تھا۔ بعد ازاں یہ اصطلاح مروں کی حکومت اور تسلط کے معنی تک وسعت اختیار کر گئی لیکن یہ محض مردوں کا بنایا ہوا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ یہ معاشرتی نظام مردوں اور عورتوں نے مل کردانستہ طورپر تخلیق کیا تھا۔ تاریخ میں اس نظام نے کئی شکلیں اختیار کیں اور اسکے کچھ نتائج مفید اور کچھ غیر متوقع بھی نکلے۔ اگر مغربی تہذیب میں اس نظام کی وجہ سے مردوں کو زیادہ فوائد پہنچے تو اس کا یہ مطلب نکالنا درست نہیں کہ ان فوائد کے حصول کیلئے مردوں نے کوئی شیطانی سازش کی تھی۔ وہ زمانہ جب خواتین کی اوسط عمر 28 سال سے بھی کم ہوتی تھی اور بچوں کی اموات کی شرح 70 سے 75 فیصد تھی، قبیلےکے باقی رہنے کا انحصار صرف اس بات پر ہوتاتھا کہ عورتیں ہر وقت بچوں کی نگہداشت کریں اور انہیں خوب پالیں پوسیں۔ مرد اور عورت کے کاموں میں جس تخصیص کو قبول کیا گیا وہ مرد وزن دونوں کی منظوری سے قابل عمل بنی تھی’۔

ڈاکٹر لرنر کےمطابق یہ تاریخی عمل 3100 قبل مسیح سے 600 قبل مسیح کے درمیان ارتقاء پذیر رہا۔ اسکا منفی پہلو اس وقت سامنے آیا جب قبیلوں کے درمیان عورتوں کے باہمی تبادلے کی شادیاں ہوئیں اور انہوں نے نئے قبیلے کیلئے کام کرنے سے انکار کیا۔ اس سے یہ تصور ابھرا کہ شایدمردوں کو جو حقوق حاصل ہیں وہ عورتوں کو حاصل نہیں حالانکہ یہ بات عمومی طورپر درست نہیں۔ اسی طرح جنگجو قبیلوں کی طرف سے کمزور قبیلوں پر فتح کے بعد، مفتوح قبیلے کے مردوں کو قتل کرنا اور عورتوں بچوں کو غلام بنانے کے عمل میں بھی اس تصور کو مزید تقویت ملی۔ فاتح قبیلے نے ان عورتوں اور بچوں کو غلاموں کی طرح رکھا جس سے طبقاتی تقسیم اور امتیازکی نشوونما ہوئی۔ ڈاکٹر لرنر نے دیگر اسکالرز سے اس بات پر غور کرنے کی بھی امید ظاہر کی کہ اب ہمیں مغربی تہذیب کی بنیاد پر از سر نو غور کرتے ہوئے، اس میں ہر جگہ مرد کا راج اور حاکمیت تلاش کرنے اور اسے کوسنے کے بجائے ان واقعات پر بھی غور کرنا چاہیےجن کا مرکزی خیال مرد اور عورت دونوں کے گرد گھومتا ہے۔ اگر ہم سنجیدگی سے اس پر غور کریں گے تو ہماری پور ی تاریخ کا علم بدل سکتا ہے۔

Mona Eltahawy: I swear to make the patriarchy uncomfortable. And I'm proud of it.پدرسری نظام معاشرت اور طبقاتی تقسیم:

پدرسری نظام معاشرت کی تاریخ اور مارکس و اینجلز کی تاریخی مادیت میں مشابہت بہت زیادہ اور فرق معمولی ہے کیونکہ یہ مفروضہ مارکسزم سے ہی مستعار لیا گیا۔ پدرسری نظام معاشرت میں مردانہ حاکمیت اور عورتوں کے استحصال کی بات بالکل اسی طرح کی جاتی ہے جس طرح کمیونزم کی ‘طبقاتی تقسیم’ میں حاکم طبقات کو محکوم طبقات پر ظلم کرتے ہوئے دکھایاجاتا ہے۔ پدرسری نظام اور طبقاتی تقسیم، دونوں کی رو سے کمزور اصناف اور طبقات پر ظلم اور جبر کی بنیادی وجہ ایک ہی بتائی جاتی ہے کہ ذرائع پیداوار حاکم طبقات یا غالب اصناف کے قبضے میں ہوتے ہیں۔ دونوں کی رو سے خاندان، قبیلے، ریاست اور اسکے ذیلی اداروں پر قبضہ جمائے بغیر کمزور طبقات یا اصناف کا استحصال ممکن نہیں۔ اس مماثلت کے باوجود نسائی ماہرین، خواتین پر ہونے والےظلم اور طبقاتی استحصال کو دو الگ الگ مظاہر مانتے ہیں لیکن انکے درمیان فرق واضح کرنے سے قاصر ہیں۔ طبقاتی تقسیم میں اصناف کی کوئی تخصیص نہیں، بوژوا طبقے کے مقابل پرولتاریہ طبقہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پدر سری نظام میں جب اشرافیہ کے مرد اور عورتیں مل کر کمزور اصناف کا استحصال کرتے ہیں تو صنفی امتیازات اور طبقاتی تقسیم کا فرق محض لفظی ہیر پھیر نظر آتا ہے۔

مارکس نے تاریخ کی مادی تعبیر بیان کرتے ہوئے ‘باپ کی حکمرانی’ جیسے الفاظ استعمال کئے۔ اسکے مطابق گھر اور خاندان کا سربراہ مرد ہوتا ہے جو پورے کنبے کی کفالت کا ذمہ دار ہوتے ہوئے ذرائع پیداوار اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔ ہر عہد میں جس طرح کے ذرائع پیداوار ہوتے ہیں اسی طرح کی معیشت، سیاست، قانون، ادب اور آرٹ ہوتے ہیں۔ پدرسری کے مفروضے کے تحت بھی تمام سماجی ادروں پر مردانہ حاکمیت کی وجہ سے معیشت، سیاست، سائنس، ٹیکنالوجی، علم اور فنون لطیفہ میں کمزور صنف(عورت) کا کوئی رول نہیں ہوتالیکن فیمنسٹ اسکالرز اسے طبقاتی تقسیم کہنے کے بجائے مردوں کا حاکمانہ اور متعصابہ رویہ (Male Chauvinism and Sexism) قرار دیتے ہیں۔

انکے نزدیک مردوں کے اس حاکمانہ رویہ کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں پر الگ الگ کام، مشاغل اورصنفی کردار تھوپے جاتے ہیں حالانکہ دونوں ہر کام کرنے کی برابر صلاحیت رکھتے ہیں۔ صنفی کردار کے تعین میں مذہب، مذہبی ادارے و شخصیات، والدین، خاندان، گھر، محلہ، معاشرہ، اسکول، تعلیمی ادارے، ذرائع ابلاغ، کام کی جگہ، ریاست، حکومت اور سیاسی ادارے شامل ہوتے ہیں۔ نسائی ماہرین کے نزدیک پدرسری نظام معاشرت کو تبدیل کرنے کیلئے طبقاتی جنگ کی ضرورت نہیں سیاسی اور نظریاتی جدوجہد کافی ہے۔ ان کے مطابق مردانہ جبر کے خلاف عورتوں میں شعور بیدار کرنے اور مردوں کو یہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ وہ عورتوں پر زیادہ مہربان ہوں، ان پر جنسی معاملے میں جبر نہ کریں، گھر کے کاموں اور بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ میں انکا ہاتھ بٹائیں اور برابری کی سطح پر عورتوں کے کردار کو تسلیم کریں۔

مارکسزم کا مفروضہ یہ ہے کہ ذرائع پیداوار کی تبدیلی سے معاشی، سیاسی اور معاشرتی نظام بھی تبدیل ہوتا ہے لیکن پدرسری نظام کا مفروضہ سوشلسٹ تھیوری سے اخذ ہونے کے باجود ایسا جامد تصور ہے جو ہر قسم کی تبدیلی کے باجود تبدیل ہونے کا نام نہیں لیتا۔ پچھلے تین چار ہزار سال میں ذرائع پیداوار، معیشت، سیاست، قانون غرض ہر چیز ہزاروں مرتبہ تبدیل ہو چکی ہے لیکن پدرسری کا مفروضہ ہر آنے والی معاشرتی تبدیلی کے ساتھ ویسے کا ویسا موجود ہے۔ نسائی ماہرین کا استدلال ہے کہ معاشرتی نظام کی تبدیلی کے دوران آلات پیداوار تو پرانی شکل سے نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جاگیردارانہ معیشت و معاشرت سرمایہ دارانہ نظام کی شکل لے لیتے ہیں، معاشی و معاشرتی طبقات تبدیل ہونے سے نئے قسم کے تعلقات وجود میں آ تے ہیں لیکن خاندان اور کنبہ میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اس لئے خواتین کے ساتھ جبر اور ظلم اسی طرح قائم رہتا ہے۔ ان کے نزدیک خاندان کا ادارہ ختم کئے بغیر عورتوں کو ظلم و جبر سے نجات نہیں دلائی جا سکتی اس لئے انکی ساری جدوجہد خاندان اور کنبے کے خلاف ہے۔

کیا صدیوں سے خاندان کے ادارے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی؟

برطانوی سوشلسٹ فیمنسٹ شیلا روبوتھم Sheila Rowbotham کہتی ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں خاوند اور بیوی کے تعلقات اسی نوعیت کے ہوتے ہیں جس طرح مالک اور مزدور کے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں مالک اور مزدور بارگین کر سکتے ہیں لیکن جاگیر دارانہ نظام میں خدمتگار اپنے آقاکی خدمت کرنے کا پابند ہوتا ہے اور بیوی پر اپنے شوہر کی خدمت لازم ہوتی ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ خواتین نے انقلاب فرانس، انقلاب چین اور ویت نام کی جنگ میں حصہ لیا لیکن ان انقلابات سے خواتین کو آزادی حاصل نہیں ہوسکی اس لئے انقلاب کے اندر انقلاب لانا ضروری ہے۔ یعنی خاندان کے ادارے اور قانون میں تبدیلی لاتے ہوئے مردوں اور عورتوں کی ثقافتی کنڈیشننگ کرنا ضروری ہے۔ سیلی الیگزینڈر Sally Alexander (برطانوی ایکٹوسٹ) نے یہی بات ذرا دوسرے انداز میں کہی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام سے قبل، خاندان کے اندر موجود کام کی تقسیم کار، سرمایہ دارانہ نظام آنے کے بعد مارکیٹ اور مزدور کے رشتے میں منتقل ہو جاتی ہے۔

فرانسیسی فیمنسٹ و سماجی ماہر کرسٹین ڈیلفی Christine Delphy نے ‘مادیت پسند نسوانیت’ کے مکتبہ فکر کا آغاز کیا۔ جنس کو غیر فطری صنفی نظریہ کی شکل دینے میں بھی اسکا اہم کردار ہے۔ اسکے خیال میں صنف پہلے ہے جنس بعد میں حالانکہ باقی ماہرین کے مطابق جنس پہلے ہے اور صنف بعد میں۔ اسکا استدلال تھا کہ مردوں اور عورتوں کے مابین عدم مساوات کی بنیاد مادی، معاشی اور خاص طور پر پیداوری عمل کے گھریلو تعلقات میں پوشیدہ ہے اور خواتین کی اصل دشمن ریاست نہیں بلکہ اسکے خاندان کا سربراہ ہوتا ہے۔ ہرکنبے کے اندر خواتین مردوں کے ماتحت ہوتی ہیں لہذا معاشرے کے تمام خاندانوں میں مردوں کا معاندانہ رویہ عورتیں کےایک الگ طبقے کی تشکیل کرتا ہے۔ عورتوں کی آزادی کیلئے ریاست کے بجائے خاندان کے اندر انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔

مذکورہ دلائل کی کمزوری یہ ہے کہ ان میں کنبے کو تبدیل نہ ہونے والا ایک یونٹ تصور کیا گیا حالانکہ اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ صنعتی انقلاب کے دوران اور اسکے بعد مزدور طبقےکا کنبہ بالکل اسی طرح کا نہیں جیسے پہلے ہوا کرتا تھا۔ پہلے دور میں کنبہ ایک ایسا گھریلو پیداواری یونٹ تھا جہاں ذاتی ضروریات و استعمال کا سامان اور بازار میں فروخت کرنے کا سامان ایک ہی خاندان کے لوگوں کے ہاتھوں تیار ہوتا تھا۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں سرمایہ داروں نے وہ گھریلو صنعت تباہ و برباد کر دی جو مارکیٹ میں فروخت کرنے کا سامان گھروں میں تیار کرتی تھی۔ اس تباہی کے بعد گھریلو صنعت مکمل طور پر فیکٹریوں اور کارخانوں میں منتقل ہوگئی، اس سے خاندان اور کنبے کے اندر موجود پرانے معاشی اور معاشرتی تعلقات بھی تبدیل ہوئے۔ گھروں کے اندر ہاتھ سے چلائی جانی والی کھڈیاں اور چرخے فیکٹریوں میں منتقل ہو گئے جنہیں پہلے خواتین اور بچے چلایا کرتے تھے اور اب انکی شکل پاور لومز میں بدل گئی اور انہیں فیکٹریوں کے اندر مرد چلانے لگے۔

اب خاندان کا ہر فرد جسے مزدوری کے بدلےاجرت چاہیے تھی مارکیٹ پہنچ گیا اور کنبے کی پیداواری یونٹ کی حیثیت بالکل ختم ہو گئی۔ عورتیں بھی روزگار کی تلاش میں کارخانوں کے دھکے کھانے لگیں۔ کھیتی باڑی پر گزارہ کرنے والے لوگ شہروں میں منتقل ہو کر کم اجرت پر کام کرنے لگے۔ شہروں میں تنگ و تاریک رہائش اور مزدوروں کی صحت کے مسائل پیدا ہوئے۔ گھر سے بھاگنے والے بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہوا جو گھریلو زندگی کے خاتمے کی طرف بڑھنے کا ثبوت تھا۔ پھر بڑی صنعتوں کی افزائش کے ساتھ ساتھ متعدد چھوٹی صنعتیں Peripheral Industries وجود میں آئیں جہاں بچوں کی پیدائش و پرورش کے سامان سے لیکرموت کے سامان تک ہر چیز تیار ہونے لگی اور پرانے کنبے کا یونٹ سفاکانہ طور پر ختم کر دیا گیا۔

یہ بات ناقابل فہم ہے کہ کنبے اور خاندان میں بنیادی تبدیلیاں لائے بغیر اتنے بڑے معاشرتی تغیرات کیسے رونما ہو گئے؟ اس حقیقت سے کیوں انکار کیا جارہا ہے کہ جاگیر داری دور کا کنبہ سرمایہ دارانہ دور کے کنبے سے واضح طور پر الگ خصوصیات رکھتا تھا۔ اب اس کنبے کا گھر کے اندر صنعتی پیداوار سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلے دور میں گھر اور کام کی جگہ ایک ہی ہوا کرتی تھی اب یہ دونوں الگ الگ ہیں۔ اب گھر کے اندر کچھ شوقیہ پیداواری کام کئے جارہے ہوں تو دوسری بات ہے لیکن گھر عملی طور پر ایک پیداوری یونٹ نہیں۔ آج کے کنبے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ایسی صحت مند، پڑھی لکھی، تربیت یافتہ ورک فورس پیدا کرے جو سرمایہ دارانہ نظام کے کام آ سکے۔ اس لئے اب گھریلو مزدوری domestic labor بھی مردوں کی انفرادی خدمت گزاری کیلئے نہیں کی جاتی بلکہ اسکا مقصد بھی سرمایہ دارانہ نظام کی پیدا کردہ قدر فاضل Surplus value میں شراکت داری ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر کنبہ یا خاندان، پیداوار کا کوئی الگ موڈ distinct mode of production نہیں ہے بلکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہی ایک لازمی جزو ہے۔

ہارٹ مین کی متعصبانہ تعبیر:

امریکن فیمنسٹ ہیڈی ہارٹمین Heidi Hartmann کا کہنا ہے کہ ظلم و جبر کی جڑیں اس ڈویژن آف لیبر division of labour میں ہیں جس کے تحت یا تو خواتین کو معاشرتی پیداوار سے یکسر خارج کر دیا جاتا ہے یا انہیں اسکے اندر امتیازی سلوک سے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ یہ امتیازی سلوک مرد کارکنوں اور حکومت کے مابین ایک اتحاد کے ذریعے عمل پذیر ہوتا ہے۔ ہارٹ مین کے مطابق پدرسری، مادی اساس پر مبنی معاشرتی تعلقات کا ایسا مجموعہ ہے جس میں مردوں کے مابین ایک ایسی یکجہتی ہے جو انہیں خواتین پر غلبہ پانے کے قابل بناتی ہے۔ پدرسری نظام، لیبر پاور میں کنٹرول کے ذریعے خواتین کی رسائی معاشی و پیداواری وسائل تک محدود کرتا ہے اوراس طرح انکے جنسی اعمال پر پابندی برقرار رکھتا ہے۔ سرمایہ داروں اور مرد مزدور طبقے کے درمیان اتحاد اور گٹھ جوڑ، ٹریڈ یونینز کے ذریعے، قابل قدر آسامیوں تک صرف مردوں کی رسائی کو ممکن بناتا ہے۔ قانون سازی کے ذریعے مردوں کو یہ موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کیلئے لازمی اجرت کی فراہمی یقینی بنائیں اور عورت معاشی معاملات میں مرد پر انحصار کرے۔

ہارٹ مین کی یہ دلیل فیمنسٹ ڈسکورس میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے لیکن یہ درست نہیں۔ انیسویں صدی میں زیادہ تر مرد ٹریڈ یونینز کا حصہ نہیں تھے، ہنرمند افراد کی صرف ایک چھوٹی سی اقلیت ان ٹریڈ یونینز کا حصہ تھی۔ روایتی تجارتی شعبہ جات میں خواتین کے داخلے سے صورتحال خراب ہونےاور اجرتیں کم ہونے کے خدشات تھے۔ خواتین کم اجرت پراس لئے راضی ہوجاتی ہیں کہ عموماً گھر چلانے کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی اورانہیں ذاتی اخراجات کیلئے جو رقم مل جائے اسے غنیمت سمجھتی ہیں مثال کے طور انیسویں صدی کے وسط میں ایڈنبرگ میں کتابوں کی جلدیں بنانے والوں کے معاوضے، برطانیہ کے دیگر شہروں کی نسبت کم تھے کیونکہ ایڈنبرگ میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اس شعبے میں شامل ہو چکی تھی۔ اس صورتحال کی وضاحت پدرسری نظام کی بجائے کام کے حالات اور تقاضوں کے حوالے سے زیادہ بہتر طور پر ہوسکتی ہے۔

قانون سازی کے ذریعے تحفظ کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اسکے ذریعے ورکرز کی زندگی کو تحفظ دینے اورخطرناک امور کے کارخانوں اورفیکٹریوں میں بچوں اور خواتین کی مزدوری کو روکا گیا جیسے کوئلے کی کان کنی یا اس طرح کے کچھ دیگر کام وغیرہ۔ اس سے نہ مردوں کو کوئی فائدہ ہوا نہ انہیں فائدہ پہنچانا مقصود تھا کیونکہ اس میدان میں خواتین اور مردوں کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ کچھ شعبوں میں خواتین پر پابندی کا مقصد صرف اجرت کی شرح میں ناہمواری کو روکنا تھا اور اس سے ورکنگ کلاس کی فیملیز کو ہی مجموعی طور پر فائدہ ہوا۔ بالواسطہ طور پر خواتین نے بھی خاندان کا حصہ ہونے کی حیثیت سے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا چنانچہ اس کو خواتین کے خلاف بطور دلیل کیسے پیش کیا جا سکتا ہے؟

3 Ways in Which Men are Victims of Patriarchy (Without Knowing It)یہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو پدرسری کے خاتمے کے نام پر خاندان کا خاتمہ کر رہا ہے تاکہ عورت کو گھر کی قید سے رہائی دلا کر زیادہ سے زیادہ تعداد میں لیبر مارکیٹ میں فراہم کیا جا سکے۔ اس طرح سستی لیبر سے زیادہ سے زیادہ قدر زائد نچوڑی جاتی ہے۔ لہذا خواتین پر ظلم کا ہر مظہر سرمایہ دارانہ نظام سے منسلک ہے۔ خواتین کا استحصال ملازمت کی جگہوں پر بطور مزدور کیا جاتا ہے اور اسے کم اجرت دے کر کیا جاتا ہے۔ اگر خاندان کے اندر بھی عورت کا کسی قسم کا استحصال ہو رہا ہے تو وہ سرمایہ دارانہ نظام کے مضبوط ہونے کے بعد شروع ہوا جب محنت کی تجسیم روپے پیسے کی شکل میں ہوئی۔ روایتی خاندان میں اہل خانہ کی طرف سےہرفرد کے ساتھ محبت سے پیش آیا جاتا ہے، کسی کا استحصال نہیں ہوتا۔

مغرب نے متبادل تھیوری پیش کر دی، مشرقی نسائی ماہرین مرے ہوئے سانپ کی لکیر پیٹ رہے ہیں:

پدرسری تھیوری یا تو اس طرف ہانکتی ہے کہ افراد وسیع تر معاشرے کو تبدیل کئے بغیر اپنے جنسی تعصب اور مردانگی کے جارحانہ رویے کو ترک اور تبدیل کریں بصورت دیگر یہ عورتوں کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ مردوں کو توجہ کے لائق نہ سمجھتے ہوئے ان سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ اس طرح کے خیالات رکھنے والے لوگ بے چین اور ناخوش روحیں تو ہو سکتی ہیں لیکن یہ تبدیلی کا کوئی قابل عمل طریقہ پیش نہیں کر سکتے۔

جس چیز کو مردوں کا راج کہہ کر ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے وہ دراصل چند ‘الفامین’ ہیں جنکی تعداد کسی بھی معاشرے میں دوچار فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔ باقی مردوں کے بارے میں کہنا کہ انہیں عورتوں پر برتری حاصل ہوتی ہے ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر معاشروں میں عورتوں کو مردوں کی اکثریت سے بہتر سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ ایک خاتون کی کم ازکم جسمانی خوبصورتی اور تولیدی صلاحیتوں کی قدر ہوتی ہے۔ اس صفت کی وجہ سے ایک خاتون بےشمار لوگوں کو اپنی طرف متوجہ اورراغب کر سکتی ہے۔ ان میں ایسے کئی افرادہوتے ہیں جو شادی کیلئے رضامند اور زندگی بھر اس خاتون کے تحفظ، نان و نفقہ اور مالی معاونت کی ذمہ داری لے لیتے ہیں۔ خواتین کے مقابلے میں ‘بیٹا میلز’ کو عام طورپر کسی قابل نہیں سمجھا جاتا۔ کوئی خوبصورت خاتون ان سےشادی کیلئے رضامند نہیں ہوتی اور ڈھلتی ہوئی عمر کے ساتھ انہیں دھرتی پر بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔

خواتین کی اکثریت صرف ‘الفامردوں’ کو چاہتی ہے اور انکی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ سب خواتین کو یہ سہولت میسر آسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ‘الفا مرد’ عورتوں کی ایک بڑی اکثریت کو اپنی طرف راغب دیکھ کر انکے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور بدکاریاں بھی کرتے ہیں۔ اکثر عورتوں میں ‘الفا مردوں’ کو اپنانے کی خواہش اتنی شدید ہوتی ہے کہ وہ انکی بدسلوکی بھی برداشت کرلیتی ہیں لیکن ‘بیٹا مرد’ کی معمولی سی چیز برداشت نہیں کرتیں۔ ‘بیٹا مرد’ خواتین کی عدم توجہی کا شکار ہو کر بے راہ روی اور منشیات کے اڈوں کی طرف راغب ہوتے ہیں، ساری زندگی مجرد گزار دیتے ہیں یا خودکشی کر لیتے ہیں۔ کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو عورتوں کے سامنے ذلت اٹھانےکے بجائے خطرناک ملازمتیں مثلاً کوئلے کی کانوں میں کام کرنے کا انتخاب کرکے یا جنگوں میں حصہ لے کر جان دیتے ہیں۔ ہر معاشرے میں ‘بیٹا مرد’ صرف کام آتے ہیں، خرچ ہوتے ہیں انکی کوئی قدر نہیں ہوتی لیکن چند ‘الفا مردوں’ کی عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام اور طعنے ہر مرد کو سہنے پڑتے ہیں۔

پدرسری نظام معاشرت کی تھیوری انتہائی گمراہ کن تصورات پر مبنی ہے اوراس سے غلط فہمیاں پیدا ہونے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس سے مراد اگر قدیم زمانے اور حال میں جاری اشرافیہ کی روایات، مراعات، طاقت اور تسلط لی جائے تو درست بصورت دیگر اسے عمومی طورپر معاشروں میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرے ایک ہی وقت میں پدرسری، چند سری، استعماری، فرقہ وارانہ، سامراجی اور نوآبادیاتی نظام معاشرت کے حامل ہو سکتے ہیں لہذا صنفی درجہ بندی معاشرتی تفاوت کا صرف ایک ذریعہ ہے واحد ذریعہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب کچھ ماہرین سماجیات ظلم اور جبر کو صرف پدری سری نظام میں تلاش کرنے کے بجائے ہر معاشرتی مظہر میں تلاش کرتے ہیں اور اس کیلئے ‘ہمہ سری Kyriarchy’ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ان ماہرین کے نزدیک پدرسری نظام معاشرت کا مفروضہ مرچکا ہے اوراب صرف ‘ہمہ سری’ کا مفروضہ باقی ہے۔

‘ہمہ سریKyriarchy’ کی اصطلاح الزبتھ شسلر فیورینزا (Elisabeth Schussler Fiorenza) نے 1992 میں تخلیق کی۔ اس میں مختلف معاشرتی نظاموں کے باہمی رابطے، تعلق کی وجہ سے پیدا ہونے والے تسلط، جبر اور کسی فرد یا چند افراد کو دیگر رشتوں کی مناسبت سے ظلم اور استحصال کرنے میں حاصل ہوجانے والی مراعات اور استحقاق کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

پدرسری نظام کا مطلب صرف باپ یا بالغ مردوں کی حکمرانی لیا جاتا ہے لیکن ‘ہمہ سریKyriarchy’ کا تصور صنف سے بالاتر ہر جبر و ظلم کی شکل پر محیط ہے۔ اس میں جنس پرستی، نسل پرستی، اہلیت پسندی، عمر پرستی، ہوموفوبیا، ٹرانسفوبیا، طبقاتی تقسیم، بلوغت، معاشی ناانصافی، قید، تسلط، صنعتی پیچیدگیاں، نوآبادیات، سامراجیت، عسکریت پسندی، لسانیت، قومیت پرستی اور جبر کی ہر شکل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

‘ہمہ سریKyriarchy’ کے تحت ظلم، جبر اور جارحیت کو صنفی تفاوت کے اندر تلاش کرنے کے بجائے طاقت کے ہر سرچشمے میں تلاش کیا جاتا ہے خواہ وہ طاقت مرد کے ہاتھ میں ہو یا عورت کے ہاتھ میں۔ اسی طرح اس تصور کی رو سے تمام مردعورتوں کیلئے جارح نہیں ہوتے بلکہ صرف وہ مرد جنہیں خاندانی نسب، دولت، سیاسی طاقت، اعلیٰ عہدوں کی وجہ سے معاشرے میں مراعات حاصل ہوجاتی ہیں وہ دوسروں کو محکوم سمجھتے ہیں۔ یہ حاکمیت صرف عورتوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ انکے استحصال کا شکار معاشرے کے تمام افراد بنتے ہیں۔ یہ استحصالی صفات صرف اشرافیہ کے مردوں تک ہی محدود نہیں اشرافیہ کی عورتوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔

ایک مالکن عورت بھی اپنی نوکرانی کو ظلم اور جبر کا اسی طرح نشانہ بنا سکتی ہے جس طرح مرد اپنے نوکر کو بناتا ہے۔ اشرافیہ کی عورتیں اپنے ملازموں اورخدمتگاروں کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہیں جو مرد اشرافیہ کے لوگ کرتے ہیں۔ کسی ادارے کی سربراہ اگر کوئی ظالم عورت ہو تو وہ اپنے جونئیرز کے ساتھ عموماً وہی سلوک روا رکھتی ہے جو ایک ظالم مرد رکھتا ہے۔ اسی طرح سیاہ فام مرد شاید سیاہ فام عورتوں پر تو حکم چلا سکتے ہوں لیکن وہ سفید فام عورتوں پر حکم نہیں چلا سکتے، نچلی ذات کے مرداعلیٰ ذات کی عورتوں پر حکم نہیں چلا سکتے، مزدور پیشہ اور خدمتگار اپنی مالکن اور سربراہ پر حکم نہیں چلا سکتے۔۔۔۔۔ تنہا عقل کی امامت میں شروع ہونے والا یہ سفر کلیسا و ریاست کی رسہ کشی، فرقہ واریت، ہولناک عظیم جنگوں، سرد جنگ، ون ورلڈ آرڈر، آزادی، مساوات، ترقی، حقوق انسانی، نسوانی خودمختاری اورصنفی لڑائی سے ہوتا ہوا ظلم کے ہر مظہر کی تلاش کی طرف رواں دواں ہے۔

آسمانی ہدایت سے منہ موڑنے کے بعد اب ہر چیز صرف رنگ برنگے تجربات سے سیکھی جاتی ہے۔ اگر آج ایک تجربہ انسانیت کی فلاح وبہبود کا ضامن تصور ہوتا ہے تو کل اسے انسانیت کا دشمن اور قوم پر عذاب قراردیا جاتا ہے۔ معلوم نہیں ان تجربات میں کتنی اور خون کی ندیاں بہیں گی، کتنی اور آگ کی خندقیں عبور ہونگی، کتنے اورانسانوں کی ہڈیاں ٹوٹیں گی، کتنے اورغلام اور قیدی بنیں گے، کتنے اور جان سے جائیں گے؟ یہ سفر آگے کی طرف ارتقاء پذیر ہے یا ترقی معکوس؟ عام آدمی سمجھنے سے قاصر ہے لیکن عقیدہ ارتقاء پر ایمان رکھنے والے یہی نوید سناتے ہیں کہ سفر لازمی طور پر آگے کی طرف جاری ہے، تھوڑی مشکلات باقی ہیں اسکے بعد صرف آسانیاں اور راحتیں ہیں۔ اس کرہ ارض پر تسلط رکھنے والے جس جنت ارضی کا خواب دکھا رہے ہیں اس میں عام انسانوں کو کب داخلے کی اجازت ملے گی اسکے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اتنا ضرور سننے میں آتا ہے کہ مغرب میں ایک تھیوری اور تجربے کے فیل ہونے کے فوراً بعد دوسری تھیوری ایجاد کر لی جاتی ہے۔ مغرب کے ماہرین نے خود اعلان فرمایا ہے کہ ‘پدرسری’ کا سانپ مرچکا اور اسکی جگہ ایک نئی تھیوری ‘ہمہ سری’ لے چکی۔ مغرب کے ‘کوتاہ بیں مشرقی پیروکار’ اپنے آقا سے ہمیشہ پچاس، سو سال پیچھے چلنے کے عادی ہیں تاکہ آقا اور غلام کا فرق مٹنے نہ پائے۔ جو سانپ مغرب میں مرچکا، مشرق کے نسائی ماہرین ابھی تک اسی کی لکیر پیٹ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں فیمنزم کا مقصد: عورت کے حقوق یا ہم جنس پرستوں LGBT کے؟ - ڈاکٹر مریم عرفان
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20