مسلم تہذیب کا انتشار، زوال اور تجدید —- عمرانی تجزیہ

0

یہ تحریر دراصل گزشتہ مضمون (مسلم تہذیب کا عمرانی تجزیہ) کا تسلسل ہے۔ مسلم معاشرے آج جس انتشار، پسماندگی اور تذبذب کا شکار ہیں اس کے تناظر میں صدیوں کا سفر ہےجو زوال کی جانب لے گیا۔ عسکری بنیادوں پر انتظامی ڈھانچہ، عد م رواداری، تخلیق کے عمل سے عاری نظام تعلیم اور کمزور معاشی نظام اس دور زوال کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جدت پسندی اور روشن خیالی کا مزاحمتی رویہ اٹھارھویں صدی میں خال خال نظر آنے لگا۔ اس مختصر تجزیے کیلئے تاریخی تسلسل کا علم ہونا ضروری ہے۔ بارہویں اور تیرھویں صدی میں مسلم تہذیب پر مشرق سے منگول اور مغرب سے صلیبی حملہ آور ہوئے۔ صلیبی حملوں کو تو فلسطین و شام تک محدود کر دیا گیا مگر منگول ایک آفت بن کر نازل ہوئے۔ محض بیس برس میں سمرقند، بلخ، بخارا، خوارزم، ہرات، رے اور بالآخر بغداد اور دمشق مغلوب ہو کربرباد ہوئے۔ 1260ء میں عین الجالوت کے میدان میں مصری مملوکوں کے ہاتھوں منگولوں کی شکست نے اس طوفان کے آگے بند باندھا۔ اس تباہی میں بدنصیبی کا عنصر یہ تھا کہ منگول خانہ بدوش تھے اور انھیں شہری زندگی کا تجربی نہ تھا، لہذا وہ جہاں گئے پیچھے ملبے کے ڈھیر، تباہ شدہ سڑکیں، نہریں، زراعت اور خاکستر علمی مراکز چھوڑ گئے۔ مسلم علاقے معاشی و سیاسی ڈھانچے سے محروم ہو گئے۔

جلد ہی منگولوں نے اسلام قبول کر لیا اور پس منظر میں چلے گئے اور انکی جگہ تین مسلم سلطنتوں نے لے لی۔ مغرب میں عثمانی سلطنت، وسط میں صفوی اور مشرق میں مغل سلطنت۔ ان تینوں کا انتظامی ڈھانچہ منگولوں کی طرز پر یعنی عسکری تھا۔ حکمران جہاں ہوتا دارالخلافہ وہاں منتقل ہو جاتا۔ عسکری قیادت ہی انتظامی معاملات میں حاوی رہتی جسے مذہبی لوگوں کا ساتھ میسر رہتا۔ اب نظام تعلیم میں محض مذہبی تعلیم کے علاؤہ کسی حد تک تاریخ، جغرافیہ اور علم ریاضی کی گنجائش موجود تھی۔ اب معیشیت زراعت پر مبنی تھی اور زرعی معاشرے نسبتا زیادہ جمود کا شکار ہوتے ہیں۔ سترہویں صدی میں یورپ میں روشن خیال اور ترقی پسند سوچ سامنے آئی مگر یہ سوچ محض ریاستوں کے اپنے اندر ہی محدود تھیں۔ جب یورپ بہترین موجد اور فلسفی پیدا کررہا تھا تو عیسائیت و نو آبادیات کا فروغ جاری تھا۔ جس دور میں گلیلیو، جان لاک، نیوٹن اور سپائینوزا جیسی شخصیات تخلیقی کا م کر رہی تھیں تو دوسری جانب ریڈانڈینز، ایزٹک اور مایا تہذیب کو یورپی ممالک براعظم امریکہ میں نیست و نابود کر رہے تھے۔ جیسوٹ عیسائی مشنری سفید فام برتری کو عیسائیت سمیت نافذ کررہے تھے۔ پرتگالی مشنری تو اکبر کو عیسائیت سے روشناس کرانے ہندوستان تک آئے تھے۔ مختصرا، مغربی تہذیب کی ترقی کے دور میں بھی انسانیت سوز رویہ قائم رہا۔ تضادات ہمیشہ سماج کا حصہ رہے ہیں چاہے دور عروج ہو یا زوال مگر دیکھا یہ جاتا ہے کہ سماج کا اجتماعی نظم اور شعور رہنمائی کرتا ہے یا کوئی تنگ نظر سوچ۔ عثمانی اور ہندوستانی سلطنتیں جلد یورپی طاقتوں سے مغلوب ہو گئیں۔ صفوی سلطنت شیعیت کی نمائندہ بن گئی اور عثمانیوں سے نمرد آزما رہی۔ اس دوران مسلم معاشرے میں بیداری کی لہریں بھی اٹھیں مگر انھیں شدت پسند ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

ایران میں شاہ اسماعیل نے 1501ء میں صفوی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ اپنے وقت کی عظیم سلطنت تھی۔ اپنے وجود کو قائم رکھنے کیلئے اسے اثنا عشری شعیہ عقیدے کا سہارا لینا پڑا۔ اس دور میں فارس میں میر سید باقر المعروف میر داماد (1543-1631ء) جو مسلک کے اعتبار سے شیعہ عقیدہ رکھتے تھے، نے اشراقی مکتب اصفحان قائم کیا۔ انہوں نے ارسطو، ابن سینا اور شہاب الدین سہروردی کے خیالات کو ہم آہنگ کیا۔ فلسفہ اور منطق دونوں کو اپنے خیالات کا موضوع بنایا۔ انھیں ارسطو اور الفارابی کے بعد معلم ثالث کہا جانے لگا۔ ان کے کام کو ان کے شاگرد ملا صدرا(1571ءتا 1635ء) نے آگے بڑھایا۔ شیراز میں انکے مدرسے میں مذہب کے ساتھ تصوف، فلسفہ، کیمیا، طبیعات اور ریاضی جیسے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ علامہ باقر مجلسی (1628-1699ء) جو ملا صدرا کے شاگرد تھے، صفوی سلطان حسین کے دور میں شیخ الاسلام بنائے گئے۔ انکی تعلیمات کے زیراثرتصوف اور فلسفے کو صفوی سلطنت میں ممنوع قرار دے کر تعزیری سزائیں دی گئی۔ ملا صدراکے مکتب فکر کو زیر عتاب لایا گیا۔ سنی علماء کو نشانہ بنا کر فارس میں شدت پسندی کو راسخ کیا گیا۔ علامہ مجلسی کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ اسلام کے علمی عروج کو فروغ دینے والا فارس قوم پرستی اور شدت پسندی میں گم ہوگیا۔ قاچار سلطنت کے دور میں ایران جدت پسندی کی طرف واپس آنے لگا۔ ملکوم خان (1833-1908ء) اور آقا خان کرمانی نے اپنی تحریروں کے ذریعے بادشاہت کو آئینی ضابطوں کا پابند بنانے کی تحریک چلائی۔ اول الذکر آرمینیائی عیسائی اور ایرانی سفیر رہے جبکہ دوسری شخصیت بہائی مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ بالآخر اقتدار رضا شاہ پہلوی(1878-1941ء) کے حصے میں آیا۔ 1925ء کے بعد برطانوی اور مغربی رسوخ بڑھنے لگا۔ شرعی قوانین کو بدل کر جدت پسندی کی بنیاد رکھی گئی مگر مذہبی طبقے نے شدید مزاحمت کی۔ بعد ازاں بائیں بازو کے حامی بھی شہنشاہیت کے خلاف نبردآزما ہوگئے۔ رضا شاہ کے بیٹے محمد رضا (1919-1980ء) نے ایرانی قوم پرستی کے نظریے کو جدت پسندی کو سفاکیت کے ساتھ نافذ کیا تو ردعمل شدید تھا۔ یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ ساری مسلم دنیا میں جدت پسندی کو ارتقائی طریقے سے نہیں بلکہ انقلابی طریقے سے شدت کے ساتھ نافذ کیا گیا۔ اسکا ردعمل روائیتی حلقوں کی جانب سے منطقی تھا۔ بیسویں صدی میں پر اثر ایرانی دانشور علی شریعتی(1933-1977ء) نے اسلام کی سماجی بنیادوں کو بائیں بازو یا سوشلزم سے ہم آہنگ کیا۔ اس ضمن میں وہ حضرت ابوذر غفاری ر۔ ض کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ شریعتی نے نظام میں تبدیلی اور سماجی انصاف کی بات کی۔ نتیجتا وہ شاہ کے غیض و غضب کا نشانہ بھی بنے۔ مگر قرعہ فال مذہبی شخصیت روح اللہ خمینی(1902-1989ء) کے نام نکلا۔ شاہ کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں خمینی نے ولایت فقیہ کا تصور متعارف کروایا۔ روح اللہ خمینی نے ملا صدرا سے متاثر ہونے کا اعلان کیا مگر عملا علامہ مجلسی کی سوچ حاوی رہی۔ اس مذہبی اور سیاسی شیعہ انقلاب کا مثبت پہلو یہ تھا کہ جمہوریت کی ضرورت کو تسلیم کرلیا گیا تھا اگرچہ وہ مذہبی طبقے کے زیر اثر ہی ہے۔ منفی پہلو یہ تھا کہ ایران میں قوم پرستی کا متبادل شدت پسند مذہبی سوچ کو چنا گیا۔ آج ایران ایک پراکسی وار میں عرب خطے سے الجھا ہوا ہے۔ مغرب کے ساتھ تناؤ نے اسے بیرونی دنیا سے الگ کر رکھا ہے۔ با صلاحیت ایرانی معاشرے کی توانائیاں شدت پسندی کے بوجھ تلے مقید ہیں۔

عثمانی سلطنت اپنی عسکری صلاحیت جو ینی چری، یعنی شاہی فوج پر مشتمل تھی، کی بدولت اپنا رسوخ رکھتی تھی۔ عثمانیوں نےعلمی ترقی کی راہیں مسدود رکھیں تاہم روس کے خلاف وہ یورپ کی ضرورت بن گئے تو انکا زوال طول پکڑ گیا۔ 1826ء میں جاکر ہی سلطان محمود جدید اصلاحات کر پایا۔ بیسویں صدی تک آتے آتے عثمانیوں نے آئینی اصلاحات بھی کر لی تھیں مگر وہ اپنا زوال نا روک پائے۔ مصطفی کمال اتاترک نے 1924ء میں خلافت کا خاتمہ کر کے جدید ترکی کی بنیاد رکھی۔ اپنی شکست کو ترکوں نے مذہبی روایت پسندی، پسماندگی اور عربوں کی سیاسی مخالفت سے جوڑ لیا۔ مغربی نظام کو سیکولر ازم کے جبری نفاذ کے ساتھ مسلط کردیا گیا۔ مذہبی سوچ زیر زمین چلی گئی۔ آج ترکی ترقی یافتہ معیشیت، مغربی ثقافت اور عسکری صلاحیت کے ساتھ مسلم دنیا کی قیادت کا دعویدار ہے۔

عرب دنیا میں مصر، جہاں سب سے زیادہ عرب رہتے ہیں، سب سے اہم رہا ہے۔ عثمانی گورنر محمد علی پاشا(1769-1848ء) نے یہاں خودمختاری قائم کی۔ وہ جدیدیت کا حامی تھا مگراسے اپنی آمرانہ قوت سے نافذ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے خواتین کی تعلیم کیلئے پہلی بار ادارے کھولے اور عرب نشاۃ ثانیہ کے نام پر پہلی بار عرب طلباء کو یورپ حصول علم کیلئے بھیجا۔ فرانس نے ان طلباء کو بہت متاثر کیا۔ اس کے پوتے اسماعیل پاشا(1803ء-1895ء) نے مصر میں ترقیاتی منصوبوں کا اجراء کیا۔ یورپ کی مدد سے زراعت کو جدید خطوط پہ استوار کیا، ریلوے نظام کی بنیاد رکھی اور نہر سویز کی تعمیر مکمل ہوئی۔ ایک ڈکٹیٹر کی طرح اس نے منصوبوں کے معاشی بوجھ تلے برطانوی حاکمیت کو تسلیم کرلیا۔ روایت پسند طبقے کی جانب سے اسکی بھرپور مزاحمت کی گئی۔ رفاح التحطاوی(1801-1873ء) فرانس سے تعلیم حاصل کرنے والے اولین مصری طلباء میں سے تھا۔ مصر آکر انہوں نے مغربی کتب کے تراجم کا ادارہ قائم کیا- وہ والٹیئر اور روسو سے متاثر تھے۔ مدتوں بعد مصر میں فلسفے، انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کی گونج انکی تحریروں میں سنائی دی۔ شیخ محمد عبدہ(1849ء-1905ء) مصر کی متاثر کن علمی شخصیت تھے۔ وہ جامع الازہر سے فارغ التحصیل تھے۔ اپنی جدت پسند سوچ کا اظہار انہوں نے اپنے رسالے التوحید میں کیا۔ انتہائی اثر انگیز فکر شیخ کی یہ تھی کہ مسلم معاشرے میں اصلاح کیلئے انقلاب نہیں بلکہ موثر نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب قانونی اور آئینی نظام کو اسلامی تصورات سے ہم آہنگ کرکے سیاسی ڈھانچہ وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے علم کو منطق اور منطق کو اسلامی سوچ سے جوڑا۔ انہوں نے پیرس میں بھی کچھ عرصہ علمی کاموں میں گزارا۔ کیا جاتا ہے انھیں کے زیر اثر طویل مقاطعے کے بعد ابن خلدون کے مطالعے کی اجازت مصر کی درسگاہوں میں دی گئی۔ وہ بین الاقوامی مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کے پیروکار تھے۔ مصر میں بیسویں صدی کی ایک اصلاح پسند اور دلچسپ شخصیت محمد رشید رضا (1865-1935ء) کی ہے۔ وہ سلفی خیالات رکھنے والے غیر مقلد تھے مگر اہم بات یہ ہے کہ وہ شریعتی قوانین میں اصلاح اور سائینس کے فروغ کے حامی تھے۔ انہوں نے اپنے رسالے المنار کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مصر میں فقہ و سائینس کے فروغ کیلئے کالج بھی قائم کیا۔ وہ استصلاح، مصالح مرسلہ یعنی اجتہاد کی حمایت کرتے تھے۔ پہلی مرتبہ ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو انہوں نے مذہبی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی بات کی۔ ۔ حسن البنا(1906-1949ء) نے مصر اور عرب دنیا کی سب سے مضبوط سیاسی جماعت اخوان المسلمین کی بنیاد رکھی۔ اس جماعت کو سب سے زیادہ ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکی مضبوطی کی وجہ یہ تھی کہ حسن البنا نے اصلاح کیلئے عبادات کے بجائے سماجی اصلاح کو ذریعہ بنایا۔ اخوان نے سکول، کالج، کارخانہ اور ہسپتال قائم کیے۔ دوسری جانب انہوں نے جمہوری روایات کو عملا تسلیم کرکے سیاسی عمل میں حصہ لیا۔ سید قطب (1906ء-1966) کی مذہبی سوچ نے مصر اور اسلامی تنظیموں کو بہت متاثر کیا۔ انکی تفسیر قرآن، فی ظلال القرآن٫ بہت مقبول ہوئی۔ انہوں نے جدید درسگاہوں سے تعلیم حاصل کی اور امریکہ میں اعلی تعلیم کے بعد یورپ کا سفر بھی کیا۔ ابتداء میں وہ مغربی فلسفہ اور ادب سے متاثر رہے۔ جہاد کو دفاعی حکمت عملی قرار دیا مگر جمال عبدالناصر کی پالیسیوں سے اختلافات کے بعد انکے خیالات میں شدت آگئی۔ ناصر نے اخوان پر پابندی لگا کر انھیں زندانوں میں ٹھونس دیا۔ لبرل ڈکٹیٹر کے اس سیاسی رویے نے مصر میں اصلاح پسنداسلامی سوچ کی راہیں مسدود کردیں۔ نتیجاہ شدت پسندی کی صورت میں نکلا۔ سید قطب کو قیدو بند اور تشدد کے بعد بالآخر پھانسی دیدی گئی۔ اخوان پر پابندیاں عاید کردی گئیں۔ آخری دور میں سند قطب نے عرب قوم پرستی کو جاہلیت سے تعبیر کرتے ہوئے شریعت اور اسلامی ریاست کا تصور دیا۔ 1970ء کی دہائی کے بعد مسلم دنیا کی شدت پسند تنظیمیں ان کی سوچ سے بہت متاثر ہوئیں۔

برصغیر میں شمالی ہند مغل سلطنت کا حصہ تھا۔ اسکی انتظامی بنیاد منصبداری نظام پر تھی جسے اکبر کے دور میں مزید مضبوط کیا گیا۔ منصبدارعسکری اور انتظامی دونوں زمہ داریاں نبھاتا تھا اور ریاست اسے بدلے میں جاگیر عطا کرتی تھی۔ یہی منصبدار بااثر ہو کر مغل سلطنت سے الگ ہوگئے۔ اسی زوال پزیر انتظامی صورتحال سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کو نو آبادی کے حصار میں لے لیا۔ اورنگزیب کے عہد کے بعد شاہ ولی اللہ دہلوی(1703-1762ء) پہلی دانشور شخصیت تھے جنہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے زوال کو بھانپ لیا۔ انہوں نے روائیتی اسلام میں اصلاح کی سعی کی اور شیعہ سنی اختلافات کی خلیج کو بھی کم کیا۔ انہوں نے مرہٹوں کے بڑھتے ہوئے رسوخ کو کم کرنے کیلئے افغان حملہ آور احمد شاہ ابدالی کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے پیروئ سنت، جہاد کے ساتھ تجدید و تعقل پر زور دیا۔ مسلمان ایک اقلیت میں تھے لہذا انھیں اپنے سیاسی تشخص کی فکر لاحق ہوئی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے وقت ایک مصلح، جمال الدین افغانی ہندوستان میں تھے۔ انہوں نے یورپی نوآبادیات کے خلاف مہم شروع کی اور انگریزوں کے خلاف ہند مسلم اتحاد پر زور دیا۔ جلاوطنی کے دن انہوں نے ترکی اور فرانس میں گزارے۔ یورپی غلبے کے خلاف انہوں نے اتحاد بین المسلمین، اجتہاد اور عقلیت پسندی اپنانے کی تحریک چلائی۔ شیخ محمد عبدہ کے ساتھ مل کر انہوں نے “العروۃ الوثقی” جاری کیا۔ یہ جدیدیت کا علمبردار رسالہ تھا جلد بند کرنا پڑا۔ سرسید احمد خان (1818-1898ء) برطانوی ہند کے پر زور مصلح ثابت ہوئے۔ انہوں نے علیگڑھ جیسی ہمہ جہت تحریک شروع کرکے مغربی تعلیم کو مسلم معاشرے میں فروغ دیا۔ وہ تاریخ کے فلسفے میں ابن خلدون سے متاثر تھی یعنی تاریخ حکمرانوں کے کارناموں کا اندراج نہیں۔ سائینٹیفک سوسائیٹی کے قیام نے اردو تراجم کی بنیاد رکھی۔ انکے بہت سے خیالات سے اختلافات کیے جا سکتے ہیں مگر ادب، سیاست اور جدید تعلیم پر وہ آنے والے دور میں بہت اثرانداز ہوئے۔ علامہ محمد اقبال (1876-1938ء) بیسوی صدی کے فلاسفر اور شاعر تھے۔ انکا فکری اثاثہ اسلامی فکر کی تشکیل نو کی شکل میں ہے۔ تصوف کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے عقل کو رہنما تسلیم کر لیا۔ تصوف میں صدیوں بعد یہ نئی اصلاح تھی۔ مگر انکی فکری اساس کے بجائے سیاسی فکر کو پاکستان میں زیادہ جگہ دی گئی۔

مسلم دنیا کے تضادات اور ان کے حقائق

مسلم دنیا کو سب سے زیادہ متاثر 1970ء کے بعد چلنے والی مذہبی تحریکوں نے کیا۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ کو مغرب نے مذہب کی جنگ بنا کر اپنے مقاصد تو حاصل کر لیے مگر آج بھی مسلم دنیا پر شدت پسندی کا لیبل چسپاں ہے۔ دوسری جانب اصلاح پسند سوچ اس شدت پسندی کے خوف کا شکار ہے۔ اسلامی اقدار کو گزشتہ پانچ صدیوں میں محض سیاسی مفادات کیلئے حکمران طبقوں نے استعمال کیا۔ قوم پرستی اور شدت پسند مذہبی سوچ نے مسلم معاشروں کو تقسیم کرکے رکھا ہے۔ یہ دونوں طرز سیاست وقت کے حکمرانوں کی ضرورت تھی۔ پسماندہ انتظامی ڈھانچہ (پبلک ایڈمنسٹریشن), معیشیت اور نظام تعلیم کی تکون اورعدم رواداری کے رویے نے نا صرف جدت پسندی کی راہیں مسدود کیں بلکہ مسلم سماج کی توانائیاں زائل کردیں ورنہ ترقی پسند معاشروں میں نسلی و مذہبی تفریق سماج کو تقسیم نہیں کرتی۔ بدقسمتی سے جن حکمرانوں نے سیکولر اور ترقی پسند روایات اپنانے کی کوشش کی، ساتھ آمرانہ گرفت بھی نافذ کردی۔ شاہ ایران، جمال عبدالناصر وغیرہ اسکی مثالیں ہیں۔

اچھا انتظامی ڈھانچہ اہل افراد کیلئے ہمیشہ مواقع فراہم کرتا ہے۔ نسل یا مذہب راہ میں آڑے نہیں آتے۔ صفوی خاندان نے فارس کو شیعہ اور فارسی روایات کا لبادہ اوڑھا یا مگر وہ خود نسلا فارسی نہیں تھے۔ خود علامہ باقر مجلسی فارسی النسل نہ تھے۔ مصر کو جدید بنانے کا خواب دیکھنے والا اور عرب نشاۃ ثانیہ جیسا علمی سفر شروع کرنے والا حاکم مصر، محمد علی پاشا البانوی تھا۔ معروف عرب مصلح، شیخ عبدہ نسلا ترک تھے۔ فارسی ادب کا شاہکار، فردوسی سے شاہنامہ لکھوانے والا سلطان محمود غزنوی ترک تھا۔ مسلم ریاستیں رواداری کے ذریعے ہی اپنے تضادات کا خاتمہ کر سکتی ہیں۔ فرقہ واریت و نسلی تعصب کو بالائے طاق رکھ کر محروم طبقات کو قومی دھارے میں شامل کرنا واحد سیاسی و سماجی حل ہے جو رواداری کا متقاضی ہے۔ کیا ترکی اور دیگر عرب ریاستیں کرد مسلمانوں کو سیاسی مراعات دے سکتی ہیں؟ کیا صدام حسین نے عرب قوم پرستی کے نام پر ایران سے جنگ کی تھی؟ کیا کویت پر حملے کے وقت عرب قوم پرستی پس پشت چلی گئی؟ آج عرب وفارس چپقلش نے مسلم دنیا کو منقسم نہیں کیا؟ قومی ریاستوں میں ادارے مضبوط ہوتے ہیں افراد نہیں یہی انتظامی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ جدید معاشی ڈھانچہ ہی اصلاحات اور ترقی کیلئے سرمایہ مہیا کر سکتا ہے۔ جدید نظام تعلیم جو مغرب سے بھی مطابقت رکھتا ہو مگر مقامی سماج کی ضروریات پوری کرسکے، ہی پبلک ایڈمنسٹریشن اور معیشیت کو اہل افراد فراہم کر سکتا ہے۔ ان تینوں شعبوں کو رواداری ایک لڑی میں پروتی ہے۔ اسکی مثال ایک تکون کی سی ہے۔ یہ عوامل مل کر ہی علم، فسفہ، امن، خوشحالی اور ترقی پسندی کیلئے ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20