تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
انٹرویوزتازہ ترینسیاسیکالم

ایشیاء ٹائمز کے ممتاز جیو پولیٹیکل تجزیہ کار Pepe Escobar کی دانش سے گفتگو‎

by دانش ڈیسک 08/10/2020
written by دانش ڈیسک 08/10/2020
148

ایک ماہ قبل دانش ٹی وی نے انگلش زبان میں اپنے پروگرامز کا آغاز کیا۔ اس سلسلے کا پہلا پروگرام امریکہ کے معروف فلسفی و اسکالر نوم چومسکی کے انٹرویو پر مبنی تھا جس میں انہوں نے سامراجی طاقتوں کے کردار، نائن الیون، وار آن ٹیرر، مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے مفادات و عزائم، اسلامو فوبیا اور کشمیر میں بھارت کے مظالم پر کھل کر گفتگو کی۔ دوسرا پروگرام Max Blumenthal (امریکن جرنلسٹ و رائٹر) کا انٹرویو تھا جس میں انہوں نے فلسطین کے مسائل اور اسرائیل کی طرف سے نہتے فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی تفصیلات بیان کیں۔ تیسرا پروگرام ایشیاء ٹائمز کے جیو پولیٹیکل تجزیہ کار Pepe Escobar کا انٹرویو تھا جس میں انہوں نے نائن الیون کے بعد کے افغانستان، شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارت کے دوغلے کردار اور کشمیر پر گفتگو کی۔

ڈاکٹر جنید احمد

دانش ٹی وی کے انگلش پروگرامز کے موڈیریٹر ڈاکٹر جنید ایس احمد یونیورسٹی آف کیپ ٹائون، سائوتھ افریقہ سے ایسٹرن اسٹیڈیز میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ میں شعبہ قانون و پالیسی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ملکی و غیر ملکی اخبارات و جرائد میں سماجی و سیاسی موضوعات پر مضامین بھی لکھتے ہیں۔

Pape Escobar پچھلے بیس سال سے زائد عرصے سے پاکستان، افغانستان، ہندوستان، چین اور اس خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال پر بہت گہری نظر رکھتے ہیں۔ جب نائن الیون کا واقعہ ہوا تو وہ تورا بورا میں موجود تھے اور اپنی آنکھوں سے امریکی فوج کی طرف سے افغانستان میں بمباری ہوتی ہوئی اور لاکھوں معصوم لوگوں کی جانیں ضائع ہوتی ہوئی دیکھیں۔ اس خطے میں وار آن ٹیرر کے بعد بدلتی ہوئی سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال کو بھی وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ ان چند غیر ملکی باخبر صحافیوں میں سے ایک ہیں جو اس خطے کی صورتحال سے آگاہ رہنے کیلئے زیادہ وقت اسی علاقے میں گزارتے ہیں۔ وہ افغانستان اور پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے شہروں اور قصبوں کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔ وہ اس خطے کے تمام مذہبی، سیاسی لیڈران کے ساتھ غیر ملکی سفارکاروں سے بھی ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔

ان سے سوال کیا گیا کہ آپ اس خطے کا بہت عرصے سے مطالعہ کر رہے ہیں اور جانتے ہیں مودی کا انڈیا جو اب ایک بالکل مختلف قسم کا ملک ہے وہ کشمیر میں کیا ظلم و ستم کر رہا ہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکن ڈیپ اسٹیٹ کی ایماء پر ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم میں کس قسم کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے امریکن ڈیپ اسٹیٹ نے واضح طور پر کچھ عرصہ کیلئے محاذ آرائی اور متنازعہ امور اچھالنے کیلئے ہندوستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر ہائر کیا ہے۔ ماضی میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے امریکہ پاکستان سے ڈو مور، ڈو مور کے مطالبے کرتا تھا اور ہمارا شک ہے کہ اب امریکن ڈیپ اسٹیٹ انڈو پیسفک معاملات میں انڈیا اور نئی دہلی سے بھی یہی مطالبات کرے گا آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ تو Pape Escobar نے کہا کہ:

“جی ہاں یہ وہ معاملات ہیں جن کے بارے میں، میں نے ہندوستانی سفارکاروں سے بھی تبادلہ خیالات کیا ہے، وہ بہت تعلیم یافتہ لوگ ہیں مغرب اور جنوبی ایشیا ء کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ نیو دہلی میں مودی کی سربراہی میں بننے والی اور چلنے والی پالیسی خودکشی کے متراف ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہےکہ انڈو پیسفک حکمت عملی میں انڈیا برابر کا شریک بننے جا رہا ہے لیکن دراصل اس حکمت عملی میں انڈیا امریکہ کیلئے ایک سہولت کار بننے جا رہا ہے۔ اگر انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ اس عمل سے وہ امریکن ڈیپ اسٹیٹ سے خصوصی مفادات حاصل کر پائے گا تو یہ سوچ پاگل پن سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ امریکن ڈیپ اسٹیٹ کی پالیسی اسکی اپنی قومی سلامتی اور حکمت عملی کا حصہ ہے اور اس سے صرف اسی کے مفادات کا تحفظ ہوگا۔

دوسری طرف چین، روس اور ایران انڈیا کو پیسفک حکمت عملی میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اور آسٹریلیا اور جاپان، چین کو ایک حدود میں رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ سب باتیں ہر ایک پر عیاں ہیں اور انہیں جاننے کیلئے کسی تھنک ٹینک میں شامل ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے اور خود ہندوستان کے اندر ان باتوں کا علم رکھنے والے لوگوں کو بھی یہ بات حیرت میں ڈالتی ہے کہ انڈیا ایک طرف تو شنگھائی تعاون تنظیم میں چین اور روس کے ساتھ مل کر یوریشیا کے انضمام کی حکمت عملی میں حصےدار بنتا ہے اور دوسری طرف روڈ کے دوسرے کنارے پر مخالف کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے قسم کے دائو پیچ کا حصہ بھی بنتا ہے۔

مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ انڈیا کے پاس اسکی کوئی عقلی دلیل اور وضاحت نہیں ہے اور میرے ہندوستانی دوستوں کے پاس بھی اسکی کوئی عقلی توجیح نہیں ہے۔ ہندوستان میں سب لو گ بی جی پی کی داخلی ساخت اور سیاست کے حوالے سے ہی دیکھتے ہیں اور مودی اس خواب کا اسیر ہے کہ ٹرمپ اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں بہت سے متغیرات اور محرکات موجود ہیں جن پر ہندوستانی قومی مفادات کے تناظر میں نہیں سوچا جا رہا اور یہ لوگ اپنی پیٹھ میں خود ہی چھرا گھونپنے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے کسی متوازن حکمت عملی کی کبھی کوئی کوشش تک بھی نہیں کی۔

اس سلسلے میں روس اور چین میں ہونے والی بات چیت کے بعد انہوں نے مودی سے یہی کہا کہ یوریشیا کے انضمام کے حوالے سے آپ کو جس مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے وہ مہیا کر دی جائے گی اسکا وعدہ کیا جا رہا ہے اور امریکہ بھی تو آپ سے اسی قسم کے وعدے کر رہا ہے اور اگر آپ تجارت اورمعیشت کے حوالے سے ہماری ان آفرز کو قبول نہیں کریں گے تو بعد میں پچھتائیں گے۔ اب یہ آپ کے اوپر ہے کہ آپ کس آفر کو پسند کرتے ہیں اور قبول کرتے ہیں۔ اب میرے خیال میں معیشت اور تجارت کے حوالے سے یہ معاہدہ زیر تکمیل تھا اسی پر اسی سال دستخط ہونے تھے لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے یہ موخر ہو گیا۔ اب اس پر اگلے سال ہی دستخط ہونگے۔ یہ معاہدہ ڈرافٹ ہو چکا ہے اور اس پر آسٹریلیا، چین، جنوبی کوریا وغیرہ سب متفق ہیں لیکن صرف انڈیا ہی واحد ملک ہوگا جو شاید اس تجارتی معاہدے سے اپنے آپ کو الگ کرے گا اور یہ بات کس قدر احمقانہ اور قابل رحم ہوگی کہ وہ اپنے آپ کو تجارت کے لین دین سے الگ کر لیں گے۔

جہاں تک کشمیر کی بات ہے تو دو سال قبل میں کشمیر جانا چاہتا تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ میرے 2020سفر کی لسٹ میں کشمیر سب سے اوپر تھا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے میں کشمیر نہیں جا سکا۔ میں پہلے ہندوستان کے زیر کنٹرول سری نگر جانا چاہتا تھا، پھر میں لداخ جانا چاہتا تھا کہ وہاں جاکر تبت کے باشندوں کا مطالعہ کر سکوں اور انکے احوال اور سیاست کو جان سکوں۔ امید ہے اگلے سال ایسا ممکن ہو جائے گا اور پھر وہاں سے میں پاکستان کے کشمیر کا بھی دورہ کروں گا اور زمینی حقائق کا مطالعہ کروں گا۔ اس مطالعہ کے بعد سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد ہی میں کشمیر پر کوئی زمینی حقائق کے حوالے سے بات کر سکوں گا”۔

ترتیب و تدوین: وحید مراد

یہ مکمل گفتگو سننے کے لئے اس وڈیو پہ کلک کیجئے:

Facebook Comments Box
China and USAfeaturedmodi policyPepe EscobarUSA policy of Do Moreامریکہ چینایشیاء ٹائمز کے جیو پولیٹیکل تجزیہ کارمودی بھارت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 7) —- یاسر رضا آصف
next post
قدیم ہندوستان کی تاریخ: تہذیب، آریا سماج اور ہندوتوا کا ارتقاء — احمد رضا سلیم

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.