پاکستان اسٹیل کا المیہ —- لالہ صحرائی

3

بزنس ڈبونے والے چند بنیادی فیکٹرز میں سے جب کوئی ایک ٹریگر ہو جائے اور اسے بروقت نہ سنبھالا جائے تو باقی سب خود بخود ٹریگر ہوجاتے ہیں، ان میں پراڈکٹ کا معیار گرنے سے کھپت کا گھٹنا، مس مینجمنٹ کی وجہ سے کاسٹ آف پروڈکشن کا لمٹ سے بڑھ جانا، سکلڈ لیبر کا میسر نہ ہونا یا لیبر یونین کی بلیک میلنگ کا شکار ہونا، ہائر مینجمنٹ کی آپس میں چپقلش، آپریشنل نقصانات کا کوور نہ ہونا اور اکرُووڈ لائبلٹی کا ڈسچارج نہ ہونا شامل ہیں۔

میرے حساب سے پاکستان اسٹیل سفید ہاتھی نہیں، یہ سونے کا انڈا دینے والی مشین ہے مگر اس قوم کی طرح یہ بھی ایک بدقسمت چیز ہے جسے بد حال رکھنا ہر بزنس مائنڈڈ صاحبِ اقتدار کیلئے افضل رہتا ہے اور نان۔بزنس حاکموں کیلئے جان جوکھوں میں ڈالنے کی بجائے اسے بند کرنا ہی آسان نظر آتا ہے۔

اسٹیل مل کی ناکامی اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے اس پورے ماحول کو سمجھنا بہت ضروری ہے جس میں اسٹیل مل کام کرتی ہے، اس کے بغیر ہم حقیقی صورتحال کو نہیں جان سکتے۔

اسٹیل مل کیوں لگائی تھی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سرکاری انفراسٹرکچر، قومی تعمیرات اور انڈسٹریالائزیشن کیلئے لاکھوں ٹن گریڈڈ لوہے کی ضرورت تھی اور ہمارے پاس دیسی فاؤنڈریز کے علاوہ لوہا پگھلانے کا کوئی ایسا کارخانہ موجود نہیں تھا جو کنکریٹ بیسڈ پُلوں اور بڑی عمارتوں کو لائف ٹائم سپورٹ کرنے والا عالمی معیار کا ری۔رول۔ایبل مائلڈ اسٹیل مہیا کر سکتا ہو۔

مائلڈ اسٹیل کا کونسیپٹ یہ ہے کہ ایسا لوہا جو ایک حد تک نرم ہو، اسے دو انچ کے فریم میں انگریزی کے حرف U یا O کی شکل دی جائے تو نہ یہ ٹوٹے نہ ہی اسے کریک آئے، ایسا لوہا لائف ٹائم کیلئے ہر قسم کے وزن اٹھانے، دباؤ برداشت کرنے اور زلزلے کے جھٹکوں میں لچک کا مظاہرہ کرنے کی بہت اچھی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگر یہ غیر لچکدار ہوگا تو چھت کا وزن پڑنے یا زلزلے کا جھٹکا آنے پر ٹوٹ سکتا ہے، جہاں کہیں لینٹر کی چھتیں یا پُل گر جاتے ہیں وہاں پر غیر لچکدار سریا ہی لگا ہوتا ہے جس کا لوہا دیسی فاؤنڈریز میں تیار ہوتا ہے۔

اسی طرح بعض پُلوں پر سے گزرتے ہوئے ساتھ میں ہیوی ٹریفک بھی چل رہی ہو تو پل ہلتا ہوا محسوس ہوتا ہے، یہ ضرورت سے زیادہ لچکدار سریے کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کا لوہا بھی کسی دیسی فاؤنڈری کا ہی بنا ہوتا ہے، ایسا سریا ٹوٹتا تو نہیں لیکن اپنی لچک سے کنکریٹ میں کریک ضرور ڈال سکتا ہے جس سے پل بھی گرتا تو نہیں البتہ خطرناک حد تک ہلتا ضرور رہے گا۔

مائلڈ اسٹیل کی کمپوزیشن میں اٹھانوے فیصد iron-ore اور باقی دو فیصد میں تھوڑا تھوڑا کاربن، سیلیکون، مینگنیز، سلفر اور فاسفورس ہوتا ہے، اس میں کاربن اور مینگنیز کی مقدار کم و بیش ہو جائے تو لوہا ضرورت سے زیادہ سخت یا زیادہ نرم ہو جاتا ہے۔

یہ نرمی اور سختی yeilding force سے چیک کی جاتی ہے، یعنی ایک میٹر کا ٹکڑا اگر 40 KPSI فی انچ پریشر برداشت کر رہا ہے تو یہ پل کی چھت یا بلڈنگ کی چھت میں نہ تو ٹوٹے گا نہ ہی جھولا جھولائے گا، کیونکہ چالیس کلو پر سکوئیر انچ سے مراد چالیس ہزار پاؤنڈ فی مربع انچ پریشر بنتا ہے، جو زلزلے کے شدید جھٹکے کو بھی باآسانی پی سکتا ہے، یہ سریا گریڈ فورٹی g40 کہلاتا ہے۔

پھر ایسا سریا جو 60 kpsi کا پریشر برداشت کر رہا ہو وہ پلوں کے پائے اور ہائی۔رائز بلڈنگز کے ستونوں میں ڈلتا ہے جو ساٹھ ہزار پاؤنڈ فی مربع انچ پریشر برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے گریڈ سکسٹی g60 کہتے ہیں۔

مائلڈ اسٹیل گریڈ فورٹی اور سکسٹی کیلئے اجزائے ترکیبی ایک ہی رہتے ہیں لیکن سیلیکون، کاربن اور مینگنیز کی مقدار اوپر نیچے کرنے سے الگ الگ گریڈ متعین ہو جاتا ہے لہذا یہ ایک کلینیکل عمل ہے اسلئے مکمل سائنٹیفک لیب اور سائنٹیفک پراسس کا محتاج ہے۔

اس کے برعکس جہاں دیسی بھٹیوں میں لوہا پگھلایا جاتا ہے وہاں کسی بھی طرح مائلڈ اسٹیل کی طے شدہ کمپوزیشن پر پورا نہیں اترا جا سکتا، وجہ یہ کہ ان کا خام مال آئرن۔اور کی بجائے کباڑخانے کا ٹین ڈبہ، مکینیکل ملوں کی لیفٹ۔اوور، امپورٹڈ شریڈڈ سکریپ اور ری۔میلٹ۔ایبل شپ سکریپ ہوتا ہے جس میں سب اجزاء اپنی بنیادی کمپوزیشن کے مطابق تو ٹھیک ہوتے ہیں کیونکہ پہلے پہل یہ لوہا اپنے بنیادی اسٹینڈرڈ پر ہی بنا ہوتا ہے لیکن ری۔میلٹنگ کے پراسس میں جب یہ مسلسل دو گھنٹے تک الیون۔کے۔وی۔اے کے الیکٹرک اسپارک کی زد میں رہتا ہے اور پگھل کے پانی بن جاتا ہے تو اس کے کچھ اجزائے ترکیبی تحلیل ہو کے اُڑ جاتے ہیں اور اس اسٹیج پر یہ پتا بھی نہیں لگایا جا سکتا کہ کونسی چیز کتنی کم ہوگئی ہے۔

جہاں پرانے لوہے کو دیسی فاؤنڈریز میں پگھلایا جاتا ہے وہاں اس کی بنیادی کمپوزیشن کو بحال کرنے کیلئے ہر ڈھلائی میں رینڈملی کچھ سیلیکون اور مینگنیز ڈال دی جاتی ہے، میں اگر بھول نہیں رہا تو یہ مقدار دو سو اور سو گرام کے آس پاس ہوتی ہے، پھر بھی فورمین کو کچھ سختی نظر آئے تو وہ پگھلا ہوا لوہا سانچوں میں ڈالتے وقت اوپر لائم۔اسٹون۔پاؤڈر کا چھٹا مار دیتا ہے کیونکہ گرم لوہے پر چونا مارنے سے بھی وہ مائلڈ ہو جاتا ہے۔

یہی وہ لوہا ہے جس کی وجہ سے چھتیں گرتی ہیں یا پل ہلتے ہیں، یہ ہمارے ائیرپورٹ، ٹارمک، بَنکرز، اسلحہ ڈپوز، کالجز، ہسپتال، اسمبلی، کارخانے، ہائی۔رائز عمارتوں اور شاپنگ پلازوں کیلئے نہایت خطرناک چیز تھی۔

اب آپ قیام پاکستان کے ماحول میں جا کر دیکھیں کہ اس دور میں ایسا سائنٹیفک ادارہ نہ تو سرکار کے پاس تھا، نہ ہی پرائیویٹ سیکٹر کے پاس تھا جو گریڈڈ مائلڈ اسٹیل مہیا کرتا، لہذا ان قومی ضرویات کیلئے یا تو امپورٹڈ مال پر انحصار کیا جاتا یا پھر خودکفالت کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے ایک ہوم بیسڈ سائنٹیفکلی ایڈمنسٹریٹڈ اسٹینڈرائزڈ آئرن کمپلیکس بنایا جاتا۔

امپورٹیج پر ہونے والے زرمبادلہ کا اخراج ہماری معیشت کی برداشت سے بالکل باہر تھا اسلئے نوابزادہ لیاقت علیخان صاحب نے سٹیل مل بنانے کا عہد کیا جس پر بیس سال تک پلاننگ ہوتی رہی، بلآخر جب امریکہ نے تعاون سے معذرت کرلی تو سوویت یونین کی مدد سے سیونٹی۔ز میں اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔

اس سلسلے کا پہلا نقصان یہ ہوا کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ کام بیس سال بعد جا کے مکمل ہوا، جس کی وجہ سے pace آدھا رہ گیا کیونکہ بہت سی مارکیٹ دیسی فاؤنڈری نے کیپچر کرلی تھی، اور بعد میں وہی اس کی موت کا سبب بنی ہے۔

دوسرا نقصان یہ ہوا کہ آئرن۔اور کے مقامی ذرائع جو کالاباغ کی طرف موجود ہیں انہیں ڈویلپ کرنے کی بجائے آئرن۔اور بھی رشیا سے ہی منگوایا جاتا رہا، مجھے اس کا علم نہیں کہ مقامی کانکنی مہنگی پڑتی ہے یا کوئی اور وجہ ہے جو اپنے ذرائع ڈویلپ نہیں کئے گئے، لیکن ہوا یہی کچھ ہے، اس کا نقصان یہ ہے کہ اور آئے گا تو مل چلے گی ورنہ بند رہے گی اور خرچوں کا میٹر چلتا رہے گا۔

تیسرا نقصان یہ ہوا کہ ان بیس سالوں میں مقامی دیسی فاؤنڈری جسے فرنس کہتے ہیں اس نے میدان خالی دیکھ کے بہت جڑ پکڑ لی تھی، لہذا جس وقت اسٹیل مل وجود میں آئی تو اس کے مقابلے میں کراچی میں تین اور لاہور میں درجنوں فرنسز موجود تھیں، ان میں ایک کراچی والی اور تین چار لاہور کی کسی حد تک اپنی پراڈکٹ کوالٹی کو بھی اس چیز کے بالکل قریب لے آئی تھیں جو اسٹیل مل نے بنانا شروع کی تھی۔

چھوٹی فرنسز کا مال انگٹ کہلاتا ہے، جس کی کوالٹی اوپر بتا چکا ہوں، یہ لاہور میں اب بھی بنتا ہے، اس سے کافی بہتر سی۔سی۔بلٹ ہوتا ہے جو صرف چار پانچ ملیں بناتی تھیں، یہ کوالٹی میں ستر فیصد کے قریب اسٹیل مل کے بلٹ جیسا ہوتا ہے اور ساتھ ہی گڈانی میں شپ بریکنگ بھی ہو رہی تھی۔

اب چھوٹی فرنس سے لیکر شپ بریکنگ تک جتنا بھی ماحول آپ کے سامنے آیا ہے ان سب کی پراڈکٹس ری۔رول۔ایبل میٹیریل کہلاتی ہیں جو ڈاؤن۔سٹریم سیکٹر کی ری۔رولنگ ملوں میں جا کر کہیں اس سے گرڈر، ٹی۔آئرن، چینل، پٹی، چوکور سریا، گول سریا اور کہیں اس سے ٹوسٹڈ سریا بنایا جاتا ہے۔

مقاصد کیا تھے اور نتیجہ کیا نکلا؟
اسٹیل مل کا کردار یہ تھا کہ آئرن۔اور کو ریفائن کرکے پگھلائے اور g40 و g60 کی ییئلڈنگ فورس برداشت کرنے والا لوہا بنا کر دے تاکہ ڈاؤن۔سٹریم سیکٹر کی ری۔رولنگ انڈسٹری اس لوہے سے وہ مختلف اشیاء بنائیں جن کا اوپر تزکرہ ہوا ہے۔

اس لوہے کی کھپت کا تخمینہ ایک لاکھ ٹن ماہانہ لگایا گیا تھا لہذا اسٹیل مل کی پروڈکشن کیپیسٹی بھی ایک لاکھ ٹن ماہانہ یا سوا ملین ٹن سالانہ رکھی گئی تھی البتہ اس میں مستقبل کیلئے ایکسپینشن کی معقول پروویژن بھی موجود تھی جو اب بھی موجود ہے۔

ضیاءالحق کے دور تک اسٹیل مل بہت اچھی چل رہی تھی، اس کے باوجود مقامی ضروریات کو پورا نہیں کر پا رہی تھی، صرف کراچی اور لاہور کی بڑی ملوں کو ماؤتھ فل فیڈنگ کرنا بھی اس کیلئے ممکن نہیں تھا، یعنی ایک تو کھپت کے مقابلے میں پروڈکشن کم تھی، جسے فوری طور پر بڑھانا چاہئے تھا۔

پھر پالیسی سازوں نے ایک عجیب غلطی یہ کی کہ اپنی ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری کو فوقیت دینے کی بجائے اوپن ڈیلرشپ کا امتیازی قانون بنا دیا، یعنی ری۔رولنگ انڈسٹری سے مثبت بزنس ریلیشن۔شپ قائم کرنے کی بجائے خود کو نواب اور ان کو بھیک منگے سمجھ لیا اور بعینہٖ ٹریٹ بھی کیا۔

اس عجیب النسل پالیسی کے دو اجزاء ہیں جو آج بھی قائم ہیں، پہلا یہ کہ جو کوئی بھی ڈیلرشپ کیلئے اپلائی کرے گا، اسے مال دیدیا جائے گا، خواہ اس کے پاس ری۔رولنگ مل ہو یا نہ ہو، دوسرا یہ کہ اپنی پروڈکشن کو تمام ڈیلروں کے درمیان کوٹے کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا، جس نے جتنا کوٹہ لینا ہے وہ اپنی درخواست دے جائے، لیکن یہ ہم طے کریں گے کہ منظور کتنا کرنا ہے، پھر جس کا جتنا ماہانہ کوٹہ منظور ہوجائے گا، ہمارا جی چاہے گا تو اسے اتنا مال دے دیا کریں گے، ورنہ جب چاہیں گے جتنا چاہیں گے اتنا مال اٹھانے کا لیٹر بھیج دیا کریں گے۔

اس دور میں بڑی رولنگ ملوں کی پروڈکشن کیپسٹی ہزار ٹن ماہانہ اور چھوٹی ملوں کی پانچ سو ٹن ماہانہ سے زائد قطعی نہیں تھی، پھر کراچی و لاہور کی وہ ملیں جو گریڈ فورٹی و سکسٹی کے تحت ہونے والی سرکاری و نجی کنسٹرکشن کیلئے مال بناتی تھیں، ان کی تعداد کم و بیش سو یونٹ سے زائد نہیں تھی، ان کے علاوہ دو سو کے قریب چھوٹے چھوٹے یونٹ وہ تھے جو فرنس اور شپ پلیٹ کے لوہے سے عام پبلک کیلئے ان۔گریڈڈ مال بناتے تھے۔

اب کل ملا کر بات یہ ہے کہ پاکستان کی آئرن انڈسٹری میں نوے کی دہائی تک گریڈڈ اور ان۔گریڈڈ مائلڈ اسٹیل مہیا کرنے والے دونوں دھڑوں کا پروڈکشن والیم تقریباً ایک جیسا تھا، لیکن ان۔گریڈڈ والوں کا کام فرنسز اور گڈانی کی برکت سے ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا جبکہ گریڈڈ سریا مہیا کرنے والے کلی طور پر پاکستان اسٹیل اور سی۔سی۔بلٹ بنانے والوں کے محتاج تھے۔

اب ہوا یہ کہ اسٹیل مل کی ماہانہ پروڈکشن جو میرے اندازے کے مطابق تقریباً اتنی ہی تھی جتنی گریڈڈ رولنگ ملوں کی ڈیمانڈ تھی، لیکن یہ پروڈکشن ان ملوں کا منہ بھرنے کی بجائے کوٹہ سسٹم کے تحت سینکڑوں لوگوں میں تقسیم ہو جاتی تھی لہذا ہر مل جو ہزار ٹن ماہانہ کھپت رکھتی تھی اس کے حصے میں محض چار پانچ سو ٹن مال آتا تھا، باقی کا مال ٹریڈرز کو ملتا تھا اور وہ ٹریڈر بھی اپنا حصہ پھر انہی ملوں کو بیچتے تھے جو اسٹیل مل کی چوکھٹ پر بیٹھے ترلے کر رہے ہوتے تھے۔

بزنس ایتھکس کے اعتبار سے یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ ایک قومی ادارہ ہیں اور آپ کی ڈاؤن۔سٹریم انڈسٹری کی کھپت آپ کی پروڈکشن سے بھی زیادہ ہے، آپ کے پاس فالتو مال ہے بھی نہیں جو انڈسٹری کے علاوہ کسی دوسرے کو دے سکیں، اور یہ رولنگ انڈسٹری کے علاوہ کسی اور کے کام کی چیز بھی نہیں، تو پھر پہلا حق اس انڈسٹری کا ہی بنتا ہے جس کے کام کی یہ چیز ہے، ریٹ چاہے آپ اپنی مرضی کا رکھ لیں مگر مال تو حقدار انڈسٹری کو دیں، اس کے برعکس یہ کیا تک بنتی ہے کہ آپ پچاس فیصد مال اس ٹریڈر کو بھی بیچیں گے جس کے پاس سرے سے انڈسٹری ہی نہیں، اور اس نے بھی آگے اسی صنعتکار کو بیچنا ہے جسے آپ انکار کر رہے ہیں۔

اصل میں ان ٹریڈرز کو ڈیلرشپ ارباب اقتدار کی سرپرستی سے ملتی تھی، اور وہ اس سے پیسہ بناتے تھے، کیونکہ جس انڈسٹریل یونٹ کی ماہانہ پروڈکشن ایک ہزار ٹن تھی وہ یا تو اپنا پانچ سو ٹن چلا کے اگلی قسط کے انتظار میں مل بند کرکے بیٹھا رہے یا پھر ان ٹریڈرز سے خرید لے۔

اس طرزعمل سے قومی ادارے اپنی ساکھ نہیں بنا سکتے مگر چونکہ مفادپرستی کا عنصر اہل اقتدار میں نمایاں ہوتا ہے لہذا اپنے سپورٹرز کو نوازنے کیلئے یہی پریکٹس ہوتی تھی جس کا خمیازہ ادارے کے بعض سربراہان اور کچھ سیاسی عناصر کو سربازار بھگتنا بھی پڑا تھا۔

ان حالات میں کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ گریڈڈ رولنگ سیکٹر اس تکلیف دہ صورتحال میں خام مال کے دوسرے ذرائع دیکھنے پر مجبور نہیں ہو گا؟

یہ مجبور کرنا بھی اصل میں بڑے لوگوں کی اپنی ضرورت میں سے تھا تاکہ اس دولت کا ارتکاز ان کی طرف ہو جائے جو اسٹیل مل کی طرف جاتی ہے، اس کا جائزہ یوں ہے کہ:

متبادل زرائع میں بِلٹ کی امپورٹ ہمارے ہاں بند تھی تاکہ زرمبادلہ کے زخائر کو خسارہ نہ لگے، شپ بریکنگ کے مال سے کچھ جوڑ توڑ کرکے گریڈ فورٹی تو برآمد ہوجاتا ہے مگر سکسٹی نہیں بنتا، پھر آجاکے تیسرا آپشن فرنس کا ہی باقی رہ جاتا ہے کہ وہ گریڈڈ مال کا اگلا سورس بن جائیں۔

اوپر بتایا تھا کہ اوپن آرک فرنس میں لوہے کی ضروری پراپرٹیز مینٹین نہیں ہو پاتیں لیکن پچھلی صدی کے آخری عشرے میں پرائیویٹ سیکٹر نے نہایت سرعت کیساتھ اپنا سسٹم تبدیل کیا اور آرک کی جگہ انڈکشن فرنس کو لے آئے جس میں یہ کمپوزیشن بھی نوے فیصد تک مینٹین ہو جاتی ہے اور اوپن ڈائی کی جگہ بند ڈائی کے استعمال سے شکل بھی ہوبہو بلٹ جیسی بن جاتی ہے، یعنی جہاں نوے کی دہائی تک سی۔سی۔بلٹ والے صرف چار پانچ تھے وہاں مشرف کے آنے تک درجنوں ملیں سی۔سی۔بلٹ بنانے لگی تھیں جن میں بیشتر حکمرانوں ہی کی تھیں۔

پھر رواں صدی کے پہلے عشرے میں جب فارن انویسٹمنٹ بیسڈ پراجیکٹ اور ہائی۔ٹیک آرکیٹیکچرل کنسیپٹ آنے لگے، جو تقریباً ہر شہر میں پلازوں کی صورت میں ایکسرسائز ہوئے، پھر تعمیراتی پراجیکٹس کی نگرانی لیٹیسٹ کوالیفائیڈ انجینئیرز کے ہاتھ آتی گئی تو جدید ماہرین تعمیرات و رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز ان۔گریڈڈ اسٹیل کو منہ لگانا چھوڑتے گئے تو فرنسز کی اکثریت بھی نہ صرف اسی معیار پر آگئی جس پر پہلے صرف اسٹیل مل ہوتی تھی بلکہ انہوں نے اپنی اضافی کاسٹ کو کم کرنے کیلئے کمپوزٹ یونٹ بھی لگا لئے، یعنی اپنا بلٹ ٹھنڈا کرکے کسی دوسرے کو بیچنے کی بجائے فرنس کے آگے رولنگ مل بھی جڑ دی اور فرنس کا گرما گرم بلٹ سیدھا رولنگ مل سے پیل کے سریا بنا دیا۔
۔۔۔۔۔

موضوع کو سمیٹنے سے پہلے ایک ضروری عنصر ڈسکس کرنا باقی ہے، وہ یہ کہ پچھلی صدی کے آخر تک ہماری کل ملکی ضرورت لاکھ سوا لاکھ ٹن ماہانہ تھی جس میں امپورٹڈ شیٹ۔رول بھی شامل تھا، اسوقت چھوٹی فرنسوں اور رولنگ ملوں کی پروڈکشن پانچ سو اور بڑی فرنسوں اور رولنگ ملوں کی پروڈکشن ہزار ٹن ماہانہ تھی۔

اگلے بیس سال میں یعنی آج تک تمام بڑی فرنسوں نے اربوں روپے کی لاگت سے انتہا درجے کی اپگریڈیشن کی ہے جس میں لوہا پگھلانے کیلئے اپنا پاور پلانٹ، پھر فلی آٹومیٹڈ فرنس جو معیار کو قائم رکھے، پھر اس کے آگے اپنی آٹو یا سیمی آٹو رولنگ ملیں بھی لگا لیں، ان ملوں کی اکثریت حکمرانوں ہی کی ہے۔

دوسرا امپیکٹ یہ ہوا کہ جن فرنسوں کے پاس اپنی مل لگانے کی گنجائش نہیں تھی اور جن ملوں کے پاس اپنی فرنس نہیں تھی ان سب نے بھی ٹیکنیکل آلٹریشن اور سیمی آٹومیشن کرکے اپنی پروڈکشن کو ڈبل سے بھی زیادہ کر لیا ہے، یعنی جو ماضی میں ہزار ٹن بناتا تھا وہ اب دو سے ڈھائی ہزار ٹن اور پانچ سو والا ہزار سے بارہ سو ٹن تک بناتا ہے۔

تیسرا امپیکٹ یہ ہوا کہ بیشتر شپ بریکرز نے بھی اپنا منافع بڑھانے کیلئے اپنی ملیں لگا لیں، اس طرح سے جہاں ماضی میں تین سو ملیں ہوتی تھیں وہاں اب ڈبل کیپسٹی کیساتھ ساڑھے چار سو ملیں ہو چکی ہیں۔

اور چوتھا امپیکٹ یہ ہوا کہ آج ہماری کل ملکی کھپت سوا دو لاکھ ٹن ماہانہ تک پہنچ چکی ہے، اور یہی کھپت اگلے ایک عشرے میں چار لاکھ ٹن ماہانہ تک جا پہنچے گی، یہی گروتھ مدنظر رکھ کے اسٹیل مل کے پچھواڑے ایک بہت بڑی غیر ملکی اسٹیل مل بھی لگ چکی ہے، اس سے پچیس کلومیٹر پرے ایک اور نجی اسٹیل مل بھی موجود ہے، جو اپنا ماہانہ دس بارہ ہزار ٹن مال اکیلے کھپاتی ہے، باقی لوگوں نے کیسے اپگریڈیشن کی ہے یہ فینومینا بھی آپ کے سامنے ہے۔

یہ سب کچھ تو سامنے ہے مگر اسٹیل مل سامنے نہیں ہے، بالفرض اسٹیل مل سامنے آجائے تو اس سارے نظام کو دو نقصان ہوں گے، پہلا یہ کہ اس کی ٹکر کی کوالٹی اب بھی کوئی نہیں دے پائے گا، دوسرا یہ کہ کل ملکی کھپت سوا دو لاکھ ٹن ہے اور اکیلی اسٹیل مل کی پروڈکشن ایک لاکھ ٹن ہے، اس نے جگہ گھیر لی تو باقی لوگ اپنا مال کہاں بیچیں گے جن میں بیشتر سیاستدان ہیں۔

اسٹیل مل کا ڈیڑھ لاکھ ٹن ماہانہ کا گاہک آج بھی موجود ہے، میں آپ کو گیرنٹی دیتا ہوں، ان میں شپ بریکر بھی شامل ہے، کیونکہ اسے جہاز خریدنا ہر وقت وارے میں نہیں رہتا، لیکن ملیں تقریباً سب کے پاس ہیں، انہیں اسٹیل مل سپورٹ کرے تو یہ شپ بریکنگ سے پل۔آوٹ کرکے بلٹ پر آجائیں گے، دوسرا طبقہ ان رولنگ ملوں کا ہے جن کے پاس فرنس نہیں، اور شپ بریکنگ بھی نہیں۔

اسٹیل مل چل جائے تو جو درجنوں ملیں کمپوزٹ گرپ کی وجہ سے مال نہ ملنے کی بنا پر بند ہیں وہ سب راتوں رات چل جائیں گی، بلکہ کچھ لوگ نئی ملیں بھی ڈال دیں گے، اس کے علاوہ اسٹیل مل نے بیس سال قبل شیٹ۔رول بنانا بھی شروع کر دیا تھا، جسے عرف عام میں جستی چادر کہتے ہیں، موجودہ ملکی کھپت میں پچاس ہزار ٹن کے قریب شیٹ رول بھی شامل ہے، اس کی امپورٹ بند کریں تو یہ گاہک بھی اسٹیل مل کے ہاتھ میں آجائے گا۔

یہ سارا ماحول جاننے کے بعد اب آپ بہتر سوچ سکتے ہیں کہ جس ماحول میں پرائیوٹ سیکٹر اس قدر پھل پھول رہا ہو، وہی ماحول سٹیل مل کیلئے زہر کیوں بنا ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ مارکیٹنگ کی غلط پالیسی، پروڈکشن کا نہ بڑھانا تاکہ میدان پرائیویٹ سیکٹر کے ہاتھ میں رہے، اس مقصد کیلئے چئیرمین کی سیاسی بنیادوں پر تقرری تاکہ وہ سرکار کی مرضی کے فیصلے کرے، مینجمنٹ کی آپس میں چپقلش، مارکیٹ کی نسبت تین تین گنا تنخواہیں، پینشن، میڈیکل اور بیجا سہولتیں، سو کلومیٹر پر پھیلے ہوئے شہر کے کونے کونے سے ملازموں کو سرکاری بسوں میں بھر بھر کے لانا لیجانا، کوئی اپنی خطا پر ڈسمس ہوجائے تو لیبر یونین کی بلیک میلنگ، اور اس پر طرہ یہ کہ اکثریت فالتو ملازمین کی ہے جنہیں آتا جاتا بھی ککھ نہیں کیونکہ یہ نوابین سیاسی بھرتیوں پر آئے ہوئے ہیں۔

اس مارکیٹ کے اندر یہ گیرنٹی ہے کہ اسٹیل مل پروفیشنل طریقے سے چلائی جائے تو یہ آپریشنل لاسز کر ہی نہیں سکتی، کیونکہ اس کا پرافٹ مارجن باقی سب سے کئی گنا زیادہ ہے، اس کے پاس گاہک نہ آرہا ہو تو یہ دس ہزار روپیہ بھی ریٹ گرا سکتی ہے، اور ایسا کرنے سے چھوٹے یونٹوں کا کیپٹل ہی اڑ جائے گا جبکہ سیاستدانوں کے بڑے یونٹ بھی گھٹنوں پر آجائیں گے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے سب خوف کھاتے ہیں اور یہ حقیقت لاسٹ پی۔پی گورنمنٹ نے صرف پانچ ہزار روپے ریٹ گرا کے دکھائی ہوئی ہے، کسی بھی لوہے والے سے یہ بات کنفرم کی جا سکتی ہے۔

ان سب ایڈوانٹیجز کے ہوتے ہوئے یہ بھی گیرنٹی ہے کہ اس مل کو پی۔پی کے علاوہ کوئی بھی چلنے نہیں دے گا، وہ بھی کسی ثواب کیلئے لگاؤ نہیں رکھتے، ان کا اپنا ایک جداگانہ انٹرسٹ ہے، لہذا اس مل کا مستقبل تاریک ہی سمجھیں، سٹیل مل کو بیچنا چاہیں گے تو اتنا بڑا گاہک نہیں ملے گا، گاہک مل گیا تو یہ ادارہ جتنا اہم، بڑا اور قیمتی ہے، اس کی اصل قیمت سے آدھی بھی کوئی نہیں دے گا، اور عقل کی بات یہ ہے کہ جو بندہ جس پروویژن کے تحت اس مل کو خریدنے آئے گا، اسی پروویژن یا فیزیبلٹی کے تحت ہم خود کیوں نہیں چلا سکتے، چلاسکتے ہیں، مگر یہ بڑے پرائیویٹ سیکٹر کے مفاد میں نہیں، خدانخواستہ یہ مل جس دن بھی بکی یہ اپنے پرائیویٹ سیکٹر میں سے ہی کسی گروپ کو بکے گی، اور کوئی نہیں آئے گا۔

پھر بھی کیپ ہوپ فار دی بیسٹ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. لالا جی سٹیل مل پر اتنی مفصل رپورٹ پہلے کبھی نہیں پڑھنے کو ملی,, بہت خوبصورت تحریر..سلامت رہیں.

  2. لالا آپ ہر مضمون کو مکمل و مفصل تحریر کرتے ہیں ۔
    اختلاف کی گنجائش ہی نہیں رہی ۔
    ویری آنسٹ اینڈ ڈیٹیلڈ اوپینیئن ⚘
    اللہ تعالی ہمارے حال پر رحم فرمائے آمین
    یہ سیاہ ستدان تو اس کام سے رہے 😪

  3. برہان اصغر on

    قصہ مختصر ایک تگڑے ڈنڈے والے کی ضرورت ہے جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر پرائیویٹ سیکٹر کی منجی ٹھوکنے کی نیت سے اسٹیل مل چلائےکونکہ بغیر ڈنڈے کے تو کوئی چلانے نہیں دے گا

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20