وراثت اور دعا —— محمد خان قلندر

0

سدا بادشاہی تو اللہ کریم کی ہے، دنیا میں وہ جسے چاہے اقتدار عطا کر دے جس کے بظاہر اسباب و علل ایسے ہوتے ہیں کہ حاکم اسے اپنی ذاتی اہلیت و قابلیت کا پھل سمجھتا ہے۔

بہت سے حکمران گمراہ ہو کر فرعون، شداد اور نمرود کے نقش قدم پر خود کو حاکم مطلق سمجھنے لگتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ رعایا کے روزی رساں ہیں اور مخلوق کی زندگی ان کے ہاتھ میں ہے آئیے موجودہ چند اپنے حکمرانوں کے اقتدار دیکھتے ہیں۔

انسانی سماج کی بنیادی اکائ تو شادی ہے، اور شادی کے بعد پہلی اولاد۔۔۔۔۔ اس کی پیدائش کے وجہ سے میاں بیوی پہلی دفعہ ماں باپ بننے کی لذت سے آشنا ہوتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں تا حال پہلوٹھی کا بیٹا ہونا بہت بڑی نعمت سمجھا جاتا ہے تو آپ اندازہ کیجیئے کہ پچاس ساٹھ سال قبل کسی کے پہلا بیٹا پیدا ہوا، اور یا اگر بیٹیاں ہیں تو ان کے بعد بھی، پہلا لڑکا پیدا ہوا۔تو اس سارے خاندان کی خوشی کا کیا عالم ہوا ہو گا،بڑا بیٹا ہونا، یا بہنوں کے ساتھ اکیلا بھائ ہونا۔۔۔۔ برابر ہی ہوتا ہے۔

دادی، نانی، پھوپھیاں، خالائیں، چچی ممانی اور بڑی بہن، سب ہر وقت اس پر صدقے واری جاتی ہیں، اور یوں وہ ہوش سنبھالنے تک، بے پناہ توجہ حاصل کرنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے،بڑا ہونے کے ساتھ اسے بڑوں اور بزرگوں کی شفقت بھی ملنے لگتی ہے۔

ایسے بچے اپنے ہم عمر دوسرے بچوں کی طرح نارمل نہیں ہوتے،لیکن بزرگوں اور خاص طور باپ جسے اس کی وجہ سے،لڑکے کا باپ بننے کا شرف پہلی دفعہ حاصل ہوا، وہ اسے کتنی دعا دیتا ہے، اس فطری قربت کی وجہ سے ان کی یہ دعائیں اس بچے کی حفاظت کرتی ہیں،چاہے جتنا بھی غبی کیوں نہ ہو دوسرے ہم عصروں سے ممتاز رہتا ہے۔

ایسی زندہ مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔
میاں نواز شریف بڑے بیٹے ہیں، آصف زرداری اور عمران خان اکلوتے ہیں،اب میاں صاحب کے مرحوم والد میاں شریف صاحب نے سیاسی مرتبہ اس لئے خرید کے دیا تھا، کہ دونوں چھوٹے بھائیوں کی طرح خاندانی کاروبار چلانے میں نہ دل چسپی لیتے تھے نہ ان کی کامیابی کے امکان نظر آتے تھے،ویسے فرماں بردار بہت تھے۔

ان کی کمزوریوں کی وجہ سے انہیں محفوظ رہنے کی دعائیں بہت ملیں، ورنہ ان کے برادر خورد میاں شہباز شریف ان سے زیادہ قابل اور ہنر مند ہیں، لیکن یہ دعاؤں کا اثر ہی ہے کہ میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم بنے،پے در پے بونگیاں مارتے رہنے کے باوجود وہ ہر بار اقتدار میں واپس آتے رہے، اس بار شائد رعونت دعا سے بھاری تھی جو اتنے زیر عتاب ہیں۔

یہی حال عمران خان صاحب کا بھی ہے، ان کا اگر خاکہ بنایا جائے تو اس میں نہ خوش اخلاقی اور نہ ہی خوش گفتاری کے رنگ نظر آئیں گے،اکڑ، رعونت اور زعم ذات ٹپکتا دکھائ دے گا، لیکن ان کے سر پہ بھی ان کے ماں باپ اور بزرگوں کی دعاؤں کا سایہ فگن رہتا ہے۔

کرکٹ کے میدان سے شوکت خانم ہسپتال، پھر یونیورسٹی بنانے، اور سیاست میں، ان کی کامیابیاں ان کی ذات سے تو میل نہیں کھاتیں۔۔۔۔۔ یہ یقیناً دعاؤں کا اثر ہے۔

آصف زرداری کے ساتھ تو لگتا ہے دعاؤں کے بادل ہیں، ایف اے بھی پاس نہ کر سکنے والا جوان کیسے صدر پاکستان بنا، ہر چیز اس کی جھولی میں ڈال دی گئ، دس سال کی قید بھی ایسے گزار دی جیسے کسی ہاسٹل میں رہ کے تعلیم حاصل کر رہا ہو، لوگوں نے اسے جتنا دانشمند مشہور کر رکھا ہے حقیقت اس کے عین برعکس ہے، لیکن اسے بھی دعائیں لئے پھرتی رہئیں، اب دیکھنا ہے کہ انکی ذہانت، دولت اور سیاسی حکمت پھر غالب آتی ہے یا مشیت۔

مقصد تحریر احباب کو یہ گزارش کرنا ہے کہ یہ آپ کے محبوب رہنما کوئ غیر معمولی ہستیاں نہیں ہیں، انسان ہیں، دیوتا نہیں، بس مقدر اور کچھ دعائیں ان کے شامل حال ہیں، ان کو انسان ہی رہنے دیں، بھگوان نہ بنائیں اور نہ بھگوان بننے دیں۔

دنیا میں ہر انسان کو کسی نہ کسی طرح دوسرے انسانوں پے اختیار دیا جاتا ہے کہ یہ جہان امتحان و آزمائش ہے کون اس کو خود مختاری سمجھ کے اپنی ذاتی انا اور مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے اور کون اسے امانت سمجھ کے اللہ کی رضا کے لئے اس کی مخلوق کی بھلائ اور خدمت کرتا ہے۔

(Visited 42 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: