تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

وراثت اور دعا —— محمد خان قلندر

by دانش ڈیسک 18/06/2019
written by دانش ڈیسک 18/06/2019
65

سدا بادشاہی تو اللہ کریم کی ہے، دنیا میں وہ جسے چاہے اقتدار عطا کر دے جس کے بظاہر اسباب و علل ایسے ہوتے ہیں کہ حاکم اسے اپنی ذاتی اہلیت و قابلیت کا پھل سمجھتا ہے۔

بہت سے حکمران گمراہ ہو کر فرعون، شداد اور نمرود کے نقش قدم پر خود کو حاکم مطلق سمجھنے لگتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ رعایا کے روزی رساں ہیں اور مخلوق کی زندگی ان کے ہاتھ میں ہے آئیے موجودہ چند اپنے حکمرانوں کے اقتدار دیکھتے ہیں۔

انسانی سماج کی بنیادی اکائ تو شادی ہے، اور شادی کے بعد پہلی اولاد۔۔۔۔۔ اس کی پیدائش کے وجہ سے میاں بیوی پہلی دفعہ ماں باپ بننے کی لذت سے آشنا ہوتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں تا حال پہلوٹھی کا بیٹا ہونا بہت بڑی نعمت سمجھا جاتا ہے تو آپ اندازہ کیجیئے کہ پچاس ساٹھ سال قبل کسی کے پہلا بیٹا پیدا ہوا، اور یا اگر بیٹیاں ہیں تو ان کے بعد بھی، پہلا لڑکا پیدا ہوا۔تو اس سارے خاندان کی خوشی کا کیا عالم ہوا ہو گا،بڑا بیٹا ہونا، یا بہنوں کے ساتھ اکیلا بھائ ہونا۔۔۔۔ برابر ہی ہوتا ہے۔

دادی، نانی، پھوپھیاں، خالائیں، چچی ممانی اور بڑی بہن، سب ہر وقت اس پر صدقے واری جاتی ہیں، اور یوں وہ ہوش سنبھالنے تک، بے پناہ توجہ حاصل کرنے کا عادی ہو چکا ہوتا ہے،بڑا ہونے کے ساتھ اسے بڑوں اور بزرگوں کی شفقت بھی ملنے لگتی ہے۔

ایسے بچے اپنے ہم عمر دوسرے بچوں کی طرح نارمل نہیں ہوتے،لیکن بزرگوں اور خاص طور باپ جسے اس کی وجہ سے،لڑکے کا باپ بننے کا شرف پہلی دفعہ حاصل ہوا، وہ اسے کتنی دعا دیتا ہے، اس فطری قربت کی وجہ سے ان کی یہ دعائیں اس بچے کی حفاظت کرتی ہیں،چاہے جتنا بھی غبی کیوں نہ ہو دوسرے ہم عصروں سے ممتاز رہتا ہے۔

ایسی زندہ مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔
میاں نواز شریف بڑے بیٹے ہیں، آصف زرداری اور عمران خان اکلوتے ہیں،اب میاں صاحب کے مرحوم والد میاں شریف صاحب نے سیاسی مرتبہ اس لئے خرید کے دیا تھا، کہ دونوں چھوٹے بھائیوں کی طرح خاندانی کاروبار چلانے میں نہ دل چسپی لیتے تھے نہ ان کی کامیابی کے امکان نظر آتے تھے،ویسے فرماں بردار بہت تھے۔

ان کی کمزوریوں کی وجہ سے انہیں محفوظ رہنے کی دعائیں بہت ملیں، ورنہ ان کے برادر خورد میاں شہباز شریف ان سے زیادہ قابل اور ہنر مند ہیں، لیکن یہ دعاؤں کا اثر ہی ہے کہ میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم بنے،پے در پے بونگیاں مارتے رہنے کے باوجود وہ ہر بار اقتدار میں واپس آتے رہے، اس بار شائد رعونت دعا سے بھاری تھی جو اتنے زیر عتاب ہیں۔

یہی حال عمران خان صاحب کا بھی ہے، ان کا اگر خاکہ بنایا جائے تو اس میں نہ خوش اخلاقی اور نہ ہی خوش گفتاری کے رنگ نظر آئیں گے،اکڑ، رعونت اور زعم ذات ٹپکتا دکھائ دے گا، لیکن ان کے سر پہ بھی ان کے ماں باپ اور بزرگوں کی دعاؤں کا سایہ فگن رہتا ہے۔

کرکٹ کے میدان سے شوکت خانم ہسپتال، پھر یونیورسٹی بنانے، اور سیاست میں، ان کی کامیابیاں ان کی ذات سے تو میل نہیں کھاتیں۔۔۔۔۔ یہ یقیناً دعاؤں کا اثر ہے۔

آصف زرداری کے ساتھ تو لگتا ہے دعاؤں کے بادل ہیں، ایف اے بھی پاس نہ کر سکنے والا جوان کیسے صدر پاکستان بنا، ہر چیز اس کی جھولی میں ڈال دی گئ، دس سال کی قید بھی ایسے گزار دی جیسے کسی ہاسٹل میں رہ کے تعلیم حاصل کر رہا ہو، لوگوں نے اسے جتنا دانشمند مشہور کر رکھا ہے حقیقت اس کے عین برعکس ہے، لیکن اسے بھی دعائیں لئے پھرتی رہئیں، اب دیکھنا ہے کہ انکی ذہانت، دولت اور سیاسی حکمت پھر غالب آتی ہے یا مشیت۔

مقصد تحریر احباب کو یہ گزارش کرنا ہے کہ یہ آپ کے محبوب رہنما کوئ غیر معمولی ہستیاں نہیں ہیں، انسان ہیں، دیوتا نہیں، بس مقدر اور کچھ دعائیں ان کے شامل حال ہیں، ان کو انسان ہی رہنے دیں، بھگوان نہ بنائیں اور نہ بھگوان بننے دیں۔

دنیا میں ہر انسان کو کسی نہ کسی طرح دوسرے انسانوں پے اختیار دیا جاتا ہے کہ یہ جہان امتحان و آزمائش ہے کون اس کو خود مختاری سمجھ کے اپنی ذاتی انا اور مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے اور کون اسے امانت سمجھ کے اللہ کی رضا کے لئے اس کی مخلوق کی بھلائ اور خدمت کرتا ہے۔

Facebook Comments Box
دعامحمد خان قلندروراثت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تعلیم یافتہ دکھنے کے جدید طریقے: مولوی کو برا کہیں (۱) —- نعیم مشتاق
next post
رابعہ بصری —— صائمہ نسیم بانو

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

ادب، مادری زبانیں اور ادیب کا کردار —-...

26/02/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.