تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدسیاسیعلم و ادبکالم

انصاف، عوام اور جمہوریت کی حقیقت —– انور عباسی

by دانش ڈیسک 08/05/2024
written by دانش ڈیسک 08/05/2024
246

حالیہ سیاسی اتھل پتھل کے ہنگامے نے سنجیدہ اہل سیاست و اہل فکر کے ہاں جن مباحث کو زندہ کیا ہے ان میں نظام حکومت کی بحث بھی شامل ہے۔ اس پس منظر میں جمہوریت کے حوالے سے کچھ فکری لوازمہ پیش خدمت ہے کہ حکومت کے حصول کی جنگ کے ماحول میں اس ساری چاند ماری کو ایک علمی اور سنجیدہ تناظر فراہم کرکے کچھ طویل مدتی مثبت مکالمہ کیا جاسکے۔


آئیے ذرا انصاف جیسی اعلیٰ قدر کو جمہوری نظام میں تلاش کریں۔ وہ اعلیٰ ترین نظامِ حکومت جسے ’’جمہوریت‘‘ کا نام دیا گیا ہے کیا واقعی انسانیت کا نجات دہندہ ہے؟ کیا یہ نظام واقعی انسانیت کے دکھ درد اور غموں کا مداوا کر سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوجائے تو ہمیں اس دنیا میں اور کس چیز کی ضرورت ہوسکتی ہے؟ کیوں نہ ہم سب اسی جنت ِ گم گشتہ کے استحکام ہی کے لیے کوشاں رہیں جس کا نام ’’جمہوریت‘‘ ہے۔

ہم حکومت کی باقی اقسام سے صرفِ نظر کرتے ہوئے (جن میں بادشاہت (Monarchy)‘ استبدادیت (Despotism) اور اشرافیہ کی حکومت (Aristocracy) شامل ہیں) اپنی بحث کو صرف جمہوریت تک محدود رکھیں گے کہ یہی وہ نظامِ حکومت ہے جس تک انسان صدیوں کی جدوجہد کے بعد پہنچا ہے۔ اور مغربی اہلِ دانش کے نزدیک جمہوریت ہی وہ نصب العین ہے جس کی خاطر کسی قربانی سے گریز کرنا اُن کے نزدیک انسانیت دشمنی کے مترادف ہوگا۔ چنانچہ جمہوریت کے مخالفین، انسانیت کے دشمن تصور کیے جاتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کے بارے میں خود اہلِ مغرب اب کس نتیجہ پر پہنچ رہے ہیں۔ جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس میں تمام شہریوں کو یکساں حیثیت دی جاتی ہے اور سب کو انصاف کے یکساں مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ یہی خوبی بعض اہلِ دانش کو جمہوریت کی سب سے بڑی خامی نظر آتی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان اہلِ دانش کے نزدیک انصاف کی کیا حیثیت ہے مثلاً: افلاطون، انصاف کے متعلق لکھتا ہے:

’’I don't like Democracy anymore, it's because of Socrates | by Aryan Gulati | Apr, 2024 | Mediumمیں اعلان کرتا ہوں کہ انصاف طاقت ور کے مفاد کے سوا کچھ نہیں۔ دنیا میں ہر جگہ انصاف کا بس ایک ہی اصول ہے اور وہ ہے طاقت ور کا مفاد‘‘۔

اور ہم اگر یہ کہیں کہ افلاطون سے لے کر ہر معاشرے میں یہی کچھ ہوتا آیا ہے تو یہ کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ مزید لکھتا ہے:

’’انصاف ایک ایسا فن ہے جو دوستوں کو نوازتا اور دشمنوں کو رگیدتا ہے‘‘۔

افلاطون کے نزدیک جمہوریت کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ اس میں تمام شہریوں کو مساوی حیثیت دی جاتی ہے۔ وہ لکھتا ہے:

’’جمہوریت ایک تغیر پذیر طرزِ حکومت ہے جو انتشار اور افراتفری سے پُر ہوتی ہے اور مساوی و غیر مساوی لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے‘‘۔

قانون کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے افلاطون صاحب فرماتے ہیں:

’’قانون کا مقصد ان لوگوں کو خوش رکھنا ہے جو اسے استعمال کرتے ہیں‘‘۔

افلاطون عدل کے معاملے میں مساوات کا قائل نہیں۔ وہ ہر طبقہ کے لیے علیحدہ قانون کا حامی ہے۔ غلاموں کے بارے میں وہ اپنی کتاب قوانین (Laws) میں لکھتا ہے:

’’غلاموں کو وہی سزا ملنی چاہیے جس کے وہ مستحق ہیں۔ انھیں آزاد شہریوں کی طرح صرف سرزنش نہیں کرنی چاہیے ورنہ ان کا دماغ خراب ہوجائے گا‘‘۔

افلاطون کا شاگرد ارسطو بھی اپنے استاد کی طرح طبقاتی معاشرہ کا علمبردار ہے۔ اسے بھی مساوات کے تصور سے بڑی وحشت ہوتی ہے۔ وہ اپنی کتاب ’’سیاست‘‘ میں جمہوریت کو بدترین طرزِ حکومت قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:

’’جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے جس میں اقتدار نیچ‘ مفلس اور بیہودہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ یہ وہ آخری مکروہ ترین طرزِ حکومت ہے جو ہر شہری کو حکومت میں حصہ دار بناتا ہے‘‘۔

ارسطو کا تصورِ انصاف بھی افلاطون سے ملتا جلتا ہے وہ کہتا ہے کہ:

’’انصاف وہ وصف ہے جس کے ذریعے ہر فرد کو حسبِ حیثیت اور قانون کے مطابق حق ملتا ہے‘‘۔

دیکھیے یہاں ’’حیثیت‘‘ کی شرط لگا کر وہ عدل میں مساوات کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ غلامی کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر بہت واضح ہے:

’’کچھ لوگ فطرتاً آزاد پیدا ہوئے ہیں اور کچھ غلام۔ اور مؤخر الذکر کے معاملہ میں کثرتِ تعداد مفید بھی ہے اور منصفانہ بھی‘‘۔

وہ آزاد اور ’’شریف‘‘ لوگوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ان کثیر التعداد غلاموں کو آپس میں تقسیم کر کے انھیں کام پر لگا دیں اور ان کے روٹی کپڑے کا بندوبست کریں۔ اسی کتاب ’’سیاست‘‘ ہی میں وہ لکھتا ہے:

’’فہمیدہ اور کشادہ دل اشرافیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ غلاموں کو آپس میں بانٹ لیں۔ انھیں کام پر لگا ئیںاور جو ان کی ضرورت ہو اسے پورا کریں‘‘۔

اشرافیہ کو یہ حق صرف غلام مردوں ہی پر حاصل نہیں بلکہ ان کے بیوی بچے بھی ان کی ملکیت ہیں۔ ارسطو کہتا ہے:

’’غریب لوگ امیروں کے پیدائشی غلام ہیں۔ وہ بھی‘ ان کی بیویاں بھی اور اُن کے بچے بھی‘‘۔

انسان اور انصاف کے بارے میں افلاطون اور ارسطو کے ان تصورات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یورپ کے سرچشمۂ ہدایت یونان میں انصاف اور بنیادی حقوق کی کیا کیفیت ہوگی۔

کسی کو یہ گمان نہ ہو کہ انصاف اور جمہوریت کے متعلق یہ رائے صرف قدیم مفکرین ہی رکھتے تھے۔ نہیں، موجودہ جمہوریت کے بانی مفکرین تقریباً یہی رائے رکھتے ہیں۔ ولیم ڈیورانٹ تو ہمارے ہی عہد کا فلسفی مورخ ہے۔ اس کی شہادت سنیے۔ وہ اپنی کتاب نشاطِ فلسفہ (The Pleasures of Philosophy) میں لکھتا ہے:

والٹیر اور روسو اس انقلاب کے رہبر تھے اور انھوں نے آزادی اور مساوات کے نعروں کو قبولِ عام بخشا اور ان کی لَے پر متوسط طبقہ سیاسی غلبہ کی طرف قدم اٹھانے لگا۔ ابتدا میں آزادی کا مفہوم جاگیرداری ظلم سے نجات حاصل کرنا تھا اور مساوات کا مفہوم رئیسوںاور پادریوں کی لوٹ کھسوٹ میں تجارتی طبقہ کی شرکت تھی۔ گمان غالب ہے کہ شروع میں برادرانہ سلوک کا مفہوم بھی یہی ہوگا کہ رئیسوں اور پادریوں کے محلوں تک سرمایہ داروں‘ تاجروں‘ قصابوں‘ نان بائیوں اور مشعل سازوں کی آسانی سے رسائی ہوجائے۔ اِن لفظوں کے ساتھ ہر مفہوم وابستہ کرنے والوں کو شبہ بھی نہیں تھا کہ سب بالغوں کو اپنے احاطے میں لے لیں گے۔ عورتیں تو بالخصوص ان کے دائرۂ مفہوم میں شامل نہیں تھیں۔ انھیں یقین تھا کہ عورتیں اور مزدور ہرگز یہ نہیں سمجھیں گے کہ ان اصطلاحوں کا اطلاق ان پر بھی ہو سکتا ہے۔ جمہوری نظریہ کے خالق روسو کا خیال تھا کہ عورتوں اور جائیداد نہ رکھنے والے لوگوں کو سیاسی قوت اور اقتدار حاصل نہ ہو۔ یہ دونوں طبقے روسو کے نزدیک عوام کے زمرہ میں شامل نہیں تھے۔ انقلاب فرانس کی اسمبلی کے قانون کی رُو سے بالغ مردوں کے ۴؍۳ حصہ کو رائے دہندگی کی اجازت نہیں تھی۔

غور کیجیے کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں عورتیں اور مزدور رائے دہندگی سے ہی محروم ہیں۔ کیا یہ صورت اب کچھ بہتر ہوگئی ہے جبکہ عورتیں اور مزدور بھی رائے دہندگان میں شامل ہوچکے ہیں؟ وِل ڈیورانٹ لکھتا ہے:

Nashat Falsafa In Urdu By Will Durant ...آزاد تقابل (Free Competition) انحطاط پذیر ہے۔ کچھ عرصہ تک شاید یہ نئی تجارتوں مثلاً موٹروں کی تجارت کی شکل میں زندہ رہے لیکن تقابل ہر جگہ اجارہ داری (Monopoly) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ دکاندار جو کبھی آزاد تھا‘ آج ہر جگہ قاسم (distributor) کے شکنجے میں گرفتار ہے۔ اب وہ دکانوں کے سلسلے کے آگے بے بس ہے‘ حتیٰ کہ کوئی ایسا مدیر‘ جو اخبار کا مالک بھی ہے‘ اب ناپید ہے۔ کیونکہ ہر جگہ ہزاروں اخبار بہتر طریقہ پر ایک ہی جھوٹ کی اشاعت کرتے ہیں۔ کاروباری سرمایہ داروں‘ بنکروں اور ڈائرکٹروں کی تعداد کم ہو رہی ہے‘ لیکن لوگوں پر ان کا اختیار بڑھ رہا ہے۔ باغی متوسط طبقہ میں سے ایک نئی رئیسیت پیدا ہو رہی ہے۔ مساوات‘ آزادی اور اخوت اب سرمایہ داروں کے نصب العین نہیں رہے۔ متوسط طبقہ میں بھی اقتصادی آزادی سال بہ سال محدود ہوتی جارہی ہے۔ جب آزادی، تقابل، مساوات اور اجتماعی اخوت ختم ہونے لگے، تو سیاسی آزادی ایک فریبِ نظر ہے اور جمہوریت محض ایک خواب!‘‘

یہی مصنف کہتا ہے کہ جب تک معاشی مساوات نہ ہو‘ سیاسی مساوات اور جمہوریت محض فریبِ نظر ہی رہتے ہیں۔ امریکہ کی مثال دیتے ہوئے ول ڈیورانٹ لکھتا ہے:

غور کیجیے کہ امریکہ کی ابتدائی مساوات کس طرح ہزاروں اقتصادی اور سیاسی امتیازات کے نیچے دب کر رہ گئی ہے اور آج کل امیر اور مفلس کی درمیانی خلیج اتنی وسیع ہے کہ روما کی تہذیب کے بعد تاریخ کے کسی دور میں نظر نہیں آتی۔ رائے دہندگی کی مساوات سے کیا فائدہ‘ جب کہ طاقت ہی غیرمساوی طور پر منقسم ہوتی ہو اور سیاسی فیصلے‘ لوگوں کی اکثریت سے نہیں بلکہ ڈالروں کی اکثریت کی بنا پر کیے جاتے ہوں۔

آگے چل کر مصنف مذکور لکھتا ہے:

پیریکلس اور کلیون‘ اگرچہ وہ اور باتوں میں اختلاف رائے رکھتے تھے‘ لیکن اس بات پر متفق تھے کہ جمہوریت سلطنتوں کے لیے مفید نہیں ہے۔

جمہوریت سلطنتوں کے لیے کیوں مفید نہیں ہے؟ اس کی وجہ دراصل جمہوریت کے اندر کا تضاد ہے۔ جمہوریت کا یہ دعویٰ کہ اس نظامِ حکومت میں اکثریت کی حکومت ہوتی ہے محض دعویٰ ہی ہے۔ ڈیورانٹ اس سلسلے میں مزید لکھتا ہے:

اس ملک میں جہاں حکمران اقلیت عوامی حمایت (public mandate) کا لباس اوڑھتی ہے‘ ایک خاص طبقہ پیدا ہوجاتا ہے جس کا وظیفہ حکومت کرنا نہیں بلکہ اس منصوبہ کے لیے لوگوں کی منظوری حاصل کرنا ہوتا ہے جو حکمران اقلیت کو پسند ہو‘ ہم اس خاص طبقہ کو سیاست دان کہتے ہیں۔ ہم ان کا ذکر نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔

اب یہ اقلیت کس طرح حکومت حاصل کر سکتی ہے اس بارے میں یہی مصنف لکھتا ہے:

History Repeats: The 3 Lessons from ...عوام کسی کو نامزد نہیں کر سکتے کیونکہ وہ بدنظمی اور جہالت میں مبتلا ہیں۔ ان پر فقط اتنا بھروسا کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی نوازشوں کو عدل وا نصاف کے ساتھ تقسیم کریں گے۔ (مگر) ایک مختصر اور منظم اقلیت ایک طرف سارے ووٹ ڈال کر کسی انتخاب میں فیصلہ کن طاقت حاصل کر سکتی ہے۔ مشین اس لیے فتح پاتی ہے کہ وہ ایک بٹی ہوئی اکثریت کے خلاف ایک متحدہ اقلیت ہے۔ غالباً کارلائل کا یہی مطلب تھا‘ جب اس نے کہا تھا کہ ’’جمہوریت اپنی نوعیت ہی میں متناقض بالذات (self-contradictory) ہے۔ اس کا نتیجہ صفر ہے‘‘۔

اس جوشیلے جمہوریت پسند روسو نے کہا: صحیح جمہوریت نہ کبھی وجود میں آئی ہے نہ آئے گی۔ کیونکہ یہ بات فطری نظام کے خلاف ہے کہ اکثریت‘ اقلیت پر حکومت کرے۔ تمام سیاست منظم اقلیتوں کی باہمی رقابت پر مشتمل ہے۔ عوام محض تماش بین ہیں جو فاتح کی حوصلہ افزائی اور شکست خوردہ کی تضحیک کرتے ہیں۔ اس پیکار کے فیصلے اور انجام میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا۔

ان حالات میں رائے دہی بے معنی چیز ہے اور یہ فقط اس لیے جاری رہتی ہے کہ لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھی رہے کہ وہی قانون بناتے ہیں اور اس طرح اجتماعی نظام کی چولیں ڈھیلی نہ ہونے پائیں۔

ایک اچھی نمایش کسی بھی قسم کی سیاسی بیہودگی کو قابلِ قبول بنا سکتی ہے۔ انتخابات فریب اور شوروغوغا کا مقابلہ بن جاتے ہیں اور جس طرح اچھے دلائل میں شوروغوغا کم ہوتا ہے‘ حقیقت انتشار میں کھو جاتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں جمہوریت کا تماشا محض اس لیے جاری رکھا جاتا ہے کہ لوگوں کو بے وقوف بنایا جائے اور ان کو باور کرایا جائے کہ قانون ساز دراصل وہی ہیں! ان پر حکمرانی اور کوئی نہیں کر رہا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر حکمرانی کر رہے ہیں!! جی ہاں اپنے آپ پر حکمرانی!!چاہے یہ تصور کتنا ہی خلافِ عقل کیوں نہ ہو۔ اسی لیے پروفیسر الفرڈ کوبن (Alfred Cobban) اپنی کتاب (The Crises of Civilization) میں لکھتا ہے:

اس نظریہ کو اگر بنظر غور دیکھا جائے تو ’’عوام کے اقتداراعلیٰ‘‘ کا فریب نکھر کر سامنے آجاتا ہے۔ اگر سیاست کو نظری حیثیت سے نہیں بلکہ عملی حیثیت سے دیکھا جائے تو یہ مانناپڑے گا کہ حاکم اور محکوم کو ایک ہی تصور کرنا‘ عملی ناممکنات میں سے ہے۔ عملاً حکومت‘ افراد کے ایک طبقہ پر مشتمل ہوتی ہے اور رعایا‘ افراد کے دوسرے طبقہ کا نام ہوتا ہے۔ جب معاشرہ اپنی ابتدائی قبائلی زندگی سے ذرا آگے بڑھ جائے تو پھر حاکم اور محکوم کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔ یہ سمجھ لینا کہ دونوں ایک ہی ہیں‘ مملکت میں بدترین قسم کی آزادیٔ اختیارات پیدا کر دیتا ہے۔

یعنی فی الحقیقت کسی مملکت میں حاکم اور محکوم دو الگ الگ طبقے ہوتے ہیں۔ اگر رعایا محکوم ہے تو وہ بیک وقت حاکم نہیں ہو سکتی اور نظری طور پر ہم اگر یہ فرض کر لیں کہ دونوں ایک ہی ہیں تو حکمران طبقے کے ہاتھوں میں بدترین قسم کی آزادیٔ اختیارات آجاتی ہے‘ جس کا نتیجہ بدترین قسم کی آمریت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے الفریڈ کوبن اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

ہم اپنی دلیل کو دو فقروں میں سمیٹ لیتے ہیں۔ ڈیماکریسی کا اصول یہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں اقتدار اعلیٰ عوام کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمومی منشا (general will) اپنا مستقل وجود رکھتا ہے۔ اس نظریہ کو صحیح تسلیم کرنے کا منطقی نتیجہ آمریت ہے۔ تاریخ شروع سے آخیر تک یہی بتاتی ہے۔

اس سے قطعی طور پر کم از کم یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ حاکم اور محکوم دو الگ الگ طبقے ہیں اور یہ کہ لوگ اپنے آپ پر حکومت نہیں کر سکتے۔ مشہور فرانسیسی مفکر رینے گینوں (Rene Guenn) لکھتا ہے:

اگر لفظ جمہوریت کی تعریف یہ ہے کہ لوگ خود اپنی حکومت آپ قائم کریں تو یہ ایک ایسی چیز کا بیان ہے جس کا وجود ناممکنات میں سے ہے‘ اور جو نہ کبھی پہلے وجود میں آئی تھی اور نہ آج کہیں موجود ہے۔ ایسا کہنا ہی جمع بین النقیضین ہے کہ ایک ہی قوم بیک وقت حاکم بھی ہو اور محکوم بھی… حاکم اور محکوم کا تعلق دو الگ الگ عناصر کے وجود کا متقاضی ہے۔ اگر حاکم نہیں تو محکوم بھی نہیں۔ ہماری موجودہ دنیا میں جو لوگ (کسی نہ کسی طرح) قوت اور اقتدار حاصل کر لیتے ہیں ان کی سب سے بڑی قابلیت اس میں ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں یہ عقیدہ قائم کر دیں کہ ان پر کوئی حاکم نہیں بلکہ وہ خود اپنے آپ پر حاکم ہیں… عام رائے دہندگی کا اصولِ فریب دہی کی خاطر وضع کیا گیا ہے۔ (اس اصول کی رو سے) سمجھا یہ جاتا ہے کہ قانون اکثریت کی مرضی سے وضع ہوتا ہے اور اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ اکثریت کی یہ مرضی ایک ایسی شے ہے جسے نہایت آسانی سے ایک خاص رخ پر بھی لگایا جا سکتا ہے اور بدلا بھی جا سکتا ہے۔

یہ ذرا سوچنے کی بات ہے کہ دنیا کی اکثریت اور عظیم اکثریت کس طرح دھوکے میں مبتلا ہوگئی کہ ہم پر کوئی اور حکمرانی نہیں کر رہا بلکہ ہم پر دراصل ہم خود ہی حکمرانی کر رہے ہیں؟ کیا انسان باشعور ہستی نہیں؟ کیا اسے آسانی سے بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا؟۔۔۔ وِل ڈیورانٹ ان سوالات کا جواب یوں دیتا ہے:

نظریۂ جمہوریت نے یہ فرض کر لیا تھا کہ انسان باشعور حیوان ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے یہ بات منطق کی کسی کتاب میں پڑھ لی تھی‘ لیکن انسان ایک جذباتی حیوان ہے‘ جو کبھی کبھی باشعور بھی بن جاتا ہے اور اپنے جذبات کے ذریعہ وہ ہزاروں فریب کھا سکتا ہے۔ ممکن ہے لنکن کا یہ قول صحیح ہو کہ آپ لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ آپ ان میں سے اکثر کو بے وقوف بنا کر ایک بڑے ملک پر حکومت کرسکتے ہیں۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس کرئہ ارض پر ہر منٹ میں دو سو نئے احمق پیدا ہوتے ہیں اور یہ جمہوریت کے لیے بُرا شگون ہے۔

اس جمہوریت کا مستقبل کیا ہے؟ کیا رائے دہندوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری کی کوئی امید وابستہ نہیں کی جا سکتی؟ کیا ایسا ممکن نہیں کہ جوں جوں انسان زیادہ تعلیم یافتہ ہوتا جائے گا توں توں جمہوریت کی کامیابی کے امکانات بڑھتے جائیں گے؟ اس بارے میں ڈیورانٹ لکھتا ہے:

رائے دہندوں کی تعداد میں جتنا اضافہ ہوگا‘ اسی حد تک ان آدمیوں کا معیار جنھیں ہم اپنا نمایندہ منتخب کرتے ہیں اور ان صفات کا معیار جن کی بنا پر یہ انتخابات کیا جاتا ہے‘ پست ہوتا جائے گا۔ ہم اپنے چُنے ہوئے حکام سے کسی قسم کی عظمت اور دُور اندیشی کا مطالبہ نہیں کرتے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ اچھے خطیب ہوں اور ہمیں فاقوں سے نہ مرنے دیں۔ درحقیقت ہمیں اس بات کی پروا نہیں کہ ہم پر کون حکومت کرتا ہے۔ ہم اس بات کا بہت کم شعور رکھتے ہیں کہ ہم پر حکومت کی جارہی ہے جس طرح پہلے ہم یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ ہم جاگیرداروں کے ذریعہ مالیہ ادا کرتے ہیں اس لیے ہم کوئی ٹیکس نہیں دیتے۔

New Democracy Against Democracy - The Bulletوالٹیر ملوکیت کو جمہوریت پر ترجیح دیتا تھا کیونکہ ملوکیت کے لیے ہمیں ایک شخص کو تعلیم دینا ہوتی ہے اور جمہوریت کے لیے کروڑوں کو اور اس سے پہلے کہ ہم دس فی صدی کو تعلیم دیں‘ موت ان سب کو آن لیتی ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ شرح پیدائش‘ ہمارے نظریوں اور ہمارے منصوبوں کو اُلٹ پلٹ دیتی ہے۔ جو ’’کم لوگ‘‘ تعلیم حاصل کرتے ہیں‘ اُن کے کنبے چھوٹے ہوتے ہیں اور جن ’’زیادہ لوگوں‘‘ کے پاس تعلیم کے لیے وقت نہیں‘ اُن کے کنبے بڑے ہوتے ہیں۔ ہر نسل کے تقریباً سب گھروں میں علم کا حصول ان کی مالی اہلیت کے بس میں نہیں ہوتا۔ اس لیے سیاسی آزاد فکری ہمیشہ کے لیے بے سود ثابت ہوتی ہے۔

آخرکار یہ منصف اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ:

صرف جمہوریت ہی ناکام نہیں رہی بلکہ ہم خود بھی ناکام رہے ہیں۔ ہم نے طاقت حاصل کرنے کے بعد شعور و آگہی کو پختہ کرنے کی طرف سے غفلت برتی۔ ہم یہ سمجھ بیٹھے کہ کثرت، مقدار اور طاقت کا راز ہے۔ حالانکہ ہمیں زندگی کی ایک پست سطح کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔

اصل میں سوچنے کی بات یہ تھی اور ہے کہ ہم شعور و آگہی کو کیسے پختہ کریں۔ ڈیورانٹ یہ تو تسلیم کرتا ہے کہ اس معاملے میں ہم سے غفلت ہوئی اور یہ کہ ہمیں پست سطح زندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ غور کا مقام یہ ہے کہ یہ زندگی اس سطح سے بلند کیسے ہو سکتی ہے؟ آخرکسی حکومت کا حقِ حکومت کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ ہم یہ کس طرح فیصلہ کریں گے کہ فلاں حکومت عدل و انصاف سے کام لے رہی ہے اس لیے اس کا حقِ حکومت تسلیم کیا جانا چاہیے؟ وہ کون سی میزان ہے جسے پرکھ کر ہم یہ جان سکیں کہ فلاں کام مبنی بر انصاف ہے یا نہیں؟ بینتھم نے کہا تھا کہ انصاف یہ ہے کہ ہر شخص کو ایک ہی دفعہ شمار کرو اور کوئی بھی شخص ایک سے زیادہ نہ شمار کیا جائے۔ اگر انصاف کا یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو راشڈل کہتا ہے:

لیکن اس طرح مساوی تقسیم کرنے سے اگر تقسیم کی جانے والی چیز ہی کم ہو رہی ہو تو کیا کریں؟ اس وقت تو پھر ہمیں غیرمساوی اصول پر تقسیم کرنا ہوگی تاکہ کوئی چیز تقسیم کے قابل تو رہ سکے۔

تو کیا ہم یہ اصول اپنائیں کہ معاشرے میں غیرمساوی (unequal) تقسیم ہی ہمارا نصب العین ٹھہرے؟ کہیں ہم اس طرح پہلے سے زیادہ بے انصافی کے مرتکب تو نہیں ہوں گے؟ ایک نہایت ہی اہم اور بنیادی سوال تو یہ ہے کہ آیا انسان کو اقتداراعلیٰ حاصل ہونا بھی چاہیے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اسی سوال پر غور نہ کرنے کی وجہ سے انسان گوناگوں مصائب کا شکار ہے اور اسے اصل عدل و انصاف کہیں سے نہیں مل رہا؟ قبل اس کے ہم اس سوال کے جواب کی طرف آئیں‘ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مغربی اہل فکرودانش کے خیالات سے مزید مستفید ہوں۔ انسان کی ناکامیوں کا رونا روتے ہوئے H.J. Mencken اپنی کتاب Treatise on Right  and Wrong)    میں لکھتا ہے:

تمام ناکامیوں میں سب سے بڑی ناکامی خود انسان کی ہے۔ اس انسان کی جو سب سے زیادہ مدنی الطبع حیوان اور سب سے زیادہ عقل مند ہے۔ اور وہ ناکامی یہ ہے کہ وہ اپنے لیے آج تک کوئی ایسا نظام وضع نہیں کر سکا جسے دُور سے بھی‘ اچھی حکومت کہا جاسکے۔ اس نے اس باب میں بڑی بڑی کوششیں کی ہیں۔ بہت سی ایسی‘ جو فی الواقعہ محیرالعقول ہیں اور بہت سی ایسی جو بڑی جرأت آزما تھیں۔ لیکن جب ان کی عملاً تنفیذ کا وقت آیا تو نتیجہ حسرت و یاس کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ نظری طور پر حکومت کا خاکہ کھینچ لینا اور بات ہے اور عملی طور پر اسے نافذ کرنا اور بات۔ نظری طور پر حکومت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ افرادِ مملکت کی ضروریاتِ زندگی مہیا کرنے کا ذریعہ ہے اور اربابِ حکومت‘ عوام کے خدام ہیں لیکن درحقیقت حکومت کا فریضہ عوام کی خدمت نہیں بلکہ۔ سلب و نہب ہوتا ہے۔ اس باب میں مختلف اسالیبِ حکومت میں سب سے زیادہ ناکام‘ نظامِ جمہوریت رہا ہے۔ جمہوری نظام کے اربابِ حل و عقد خوب جانتے ہیں کہ حکومت کی بنیاد معقولیت پر ہونی چاہیے لیکن ان کا جذبۂ محرکہ کبھی معقولیت پسند نہیں ہوتا۔ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ جو عنصر بھی باہر سے زیادہ دبائو ڈال سکے‘ اس کا ساتھ دیا جائے۔ چنانچہ اس ہتھکنڈے سے‘ وہ ان لوگوں کے توسط سے جو فی الحقیقت عوام کے دشمن ہوتے ہیں‘ غیرمختتم عرصہ تک برسرِاقتدار رہتے ہیں۔

آخر انسان جو سب سے زیادہ عقل مند اور مدنی الطبع ہے وہ ایک انصاف پسند معاشرہ تشکیل دینے میں کیوں ناکام رہا‘ اِس کی اصل وجہ ایک مشہور اطالوی مدّبر (Mazzini)  کی زبانی سنیے: (ذہن میں رہے کہ یہ مفکر کوئی مسلم مفکر نہیں ہے)

اس میں شبہ نہیں کہ عام رائے دہندگی کا اصول بہت اچھی چیز ہے۔ یہی وہ قانونی طریق کار ہے جس سے ایک قوم تباہی کے مسلسل خطرات سے محفوظ رہ کر‘ اپنی حکومت قائم رکھ سکتی ہے۔ لیکن ایک ایسی قوم میں جس میں وحدتِ عقائد نہ ہو‘ جمہوریت اس سے زیادہ اور کیا کر سکتی ہے کہ وہ اکثریت کے مفاد کی نمایندگی کرے اور اقلیت کو مغلوب رکھے۔ ٭۱ ہم یا تو خدا کے بندے بن سکتے ہیں یا انسان کے۔ وہ ایک انسان ہو (ملوکیت) یا زیادہ (جمہوریت) بات ایک ہی ہے۔ اگر انسانوں کے اوپر اور کوئی اقتدار اعلیٰ نہ ہو تو پھر کون سی چیز ایسی رہ جاتی ہے جو ہمیں طاقتور افراد کے تغلب سے محفوظ رکھ سکے؟ اگر ہمارے پاس کوئی ایسا مقدس اور ناقابلِ تغیر قانون نہ ہو جو انسانوں کا وضع کردہ نہ ہو‘ تو ہمارے پاس وہ کون سی میزان رہ جاتی ہے جس سے ہم یہ پرکھ سکیں کہ فلاں کام یا فیصلہ عدل پر مبنی ہے یا نہیں۔ خدا کے علاوہ جو بھی حکومت قائم ہو اس میں نتائج کی حقیقت ایک ہی رہتی ہے۔ خواہ اس کا نام بوناپارٹ رکھ لیں یا انقلاب (Revolution)۔ اگر خدا درمیان میں نہ رہے تو اپنے زمانۂ سطوت میں ہر ایک مستبد بن جائے گا… یاد رکھیے کہ جب تک کوئی حکومت خدا کے قوانین کے مطابق نہیں چلتی‘ اس کا کوئی حق مسلّم نہیں۔ حکومت تو منشائے خداوندی کی ترویج و تنفیذ کے لیے ہے۔ ٭ اگر وہ اپنے اس فریضہ کی سرانجام دہی میں قاصر ہے تو تمہارا یہ حق ہی نہیں بلکہ فریضہ ہے کہ ایسی حکومت بدل ڈالو۔

تو لیجیے صاحب! جمہوریت بھی گئی اور ساتھ اپنے پورے علمِ سیاسیات کو بھی لے گئی۔ علومِ انسانی میں کون سا شعبہ ہمیں اس دنیا میں امن و سکون سے رہنے کے لیے رہنمائی دے سکتا ہے۔ سائنس کے بارے میں  C.G. Jungلکھتا ہے:

Science has destroyed even the refuge of the inner life. What was once a sheltering haven has become a place of terror.
یعنی سائنس نے تو ہماری قلبی زندگی کو بھی تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ کبھی جو ہمارے لیے خطرے سے بچنے کے لیے جائے پناہ تھا‘ اب خوف و دہشت کی جگہ بن کر رہ گیا ہے۔

فلسفہ کے بارے میں ڈاکٹر مور کی شہادت ہم دیکھ چکے ہیں کہ فلاسفہ کا تو کسی چیز پر بھی اتفاق نہیں۔ وہ تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ ’’خیر‘‘ کیا ہے اور ’’شر‘‘ کیا اور جس نے بھی یہ بتانے کی کوشش کی وہ یہ بتانے سے قاصر رہا کہ ہم ان کو ڈھونڈیں کہاں؟

جمہوریت کے بارے میں گمان ہوچلا تھا کہ شاید اہلِ سیاست نے ہمارے لیے فردوسِ گم گشتہ ڈھونڈ نکالی ہو، مگر سیاسیات میں بھی انسان اتنا ہی بے بس و بے کس نظر آیا جتنا علومِ انسانی کے دیگر شعبوں میں۔ وہ انسان جو شعور و عقل رکھتا ہے اور سب سے زیادہ ذہین ہے‘ جس نے زمین کی فضا سے باہر نکل کر دوسرے سیاروں کو مسخر کر لیا ہے‘ جو فطرتاً مدنی الطبع ہے مگر وہ اپنے لیے کوئی لائحہ عمل، کوئی اچھا نظامِ قانون کیوں نہیں وضع کر سکا؟ آخر انسانی علم ناکام کیوں رہا؟ ناکامی کی وجہ کیا ہے؟
(انور عباسی کی کتاب “ہدایت کی تلاش” سے)

 

Facebook Comments Box
AristocracyC.G. JungdemocracyDespotismJusticeMonarchypublic mandateRevolutionThe Crises of Civilizationارسطوافلاطونانصافجمہوریتروسوطرز حکومتعوام اور جمہوریتملوکیتوالٹیرول ڈیورانٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
گاتھک لیڈی: سامراجی آرکیٹکچر اور مقامی احساس کمتری —- طلحہ شفیق
next post
ڈاکٹر غلام جیلانی برق: علمی تعلق کی روداد —- زبیر حفیظ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.