تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتراجمتنقیدعلم و ادبفلسفہ

مادی مابعدالطبیعات — ڈاکٹر غلام شبیر

انگریزی سے ترجمہ: ناصر فاروق

by دانش ڈیسک 02/04/2024
written by دانش ڈیسک 02/04/2024
294

یہ جدید تہذیب، جس نے انسان کے لیے بے مثال طاقت، ترقی اور خوشحالی حاصل کی ہے، اس کی موروثی ساخت میں ایک نقص ہے، جواسے پے در پے ناقابل برداشت بحرانوں کی زدمیں لے آتا ہے۔ اس کی وجہ وہ رویہ ہے جو وحی کے خلاف شدید ردعمل سے پیدا ہوا۔

چاہے ہم اس جدید تہذیب کی فکری بنیادوں، اصولوں، سیکولر اخلاقیات اور اقدار سے متفق ہوں یا اختلاف کریں، ہم سب اس کے آخری بحران میں یکساں طور پر شریک ہیں اور اس کے ثمرات برابرسمیٹ رہے ہیں۔ جب ڈیکارٹ کا یہ اعلان “عقل خود اپنے پیروں پرکھڑی ہوسکتی ہے” یورپی تہذیب کا منترا بن گیا، عقل محض نے مذہب کو ختم کردیا۔ اس طرح اس روشن خیالی کی تحریک نے سائنسی انقلاب کو جنم دیا، جس کے تسلسل نے صنعتی انقلاب برپا کیا۔ اس انقلاب نے اپنے فائدے کے لیے مادیت پرستی کا پرچار کیا، اس کے فروغ میں بھرپور حصہ لیا، اسے مغربی جدیدیت کی خوبی اور خامی دونوں کہا جا سکتا ہے۔ ایک طرف اس نے انسانیت کو بے مثال طاقت اور خوشحالی دی اور دوسری طرف انسان کو اس کے اخلاقی محرک سے محروم کردیا۔

اب جدید انسان کا زعم تعمیری اور تخریبی صلاحیتوں کے امتزاج کو جنم دینے والا تھا۔ مذہب کے ماضی میں سمٹ جانے کے بعد، نسل پرستانہ سرمایہ داری کی آمد — یعنی، اخلاقیات کے ساتھ بدعنوان سماجی اقتصادی ڈھانچے کا ظہور ایک پیشگی نتیجہ تھا۔

تخلیقی قوت سے متصف انسان کا فطرت کے قوانین اور وسائل پرتصرف مقدر ٹھیرا۔ لیکن وہ ‘قطعیت’ جو وحی کے دائرے میں ہے، اُسے حاصل کرنا آدمی کے بس سے باہرٹھیرا۔

تہذیبوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اخلاقیات سےعاری انسان زمین پر سب سے خطرناک نوع ہوسکتا ہے۔ اس کی خود ساختہ ذہانت دنیا کی بقا اور اس میں زندگی کا امکان داؤ پر لگا دیتی ہے۔ زمین پر زندگی پانچ بار معدومیت کا مشاہدہ کرچکی ہے،

مذہب انسان کی اندھی طاقت اور خود پرستی پر لگام ڈالنے کے لیے کیا کرسکتا ہے؟

تہذیبوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اخلاقیات سےعاری انسان زمین پر سب سے خطرناک نوع ہوسکتا ہے۔ اس کی خود ساختہ ذہانت دنیا کی بقا اور اس میں زندگی کا امکان داؤ پر لگا دیتی ہے۔ زمین پر زندگی پانچ بار معدومیت کا مشاہدہ کرچکی ہے، پانچویں بار تقریباً 60 ملین سال پہلے۔ اب ہمیں اس بات پرغور کرنا چاہیے کہ حد سے زیادہ کاربن کے اخراج اور تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اور وہ ہمارے سیارے پر کیا تباہی مچانے والے ہیں۔ نوم چومسکی کہتے ہیں: “جوہری ہتھیاروں اور موسمیاتی تبدیلیاں اس حقیقت کی کافی گواہی ہیں کہ انسان ایک ارتقائی غلطی ہے۔” اس کا تبصرہ تخلیق کے وقت خدائی فیصلے کے ساتھ ایک حیرت انگیز مماثلت کی بازگشت کرتا ہے۔ “بے شک ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے، لیکن انسان نے اسے اٹھانے کا ارادہ کیا، بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا” (33:72)۔

یہ “ذمہ داری” عقل اور ارادے کے ذریعہ انسان کو ایک منصفانہ اخلاقی سماجی عالمی نظام قائم کرنے کا اہل بناتی ہے۔ قرآن اہل کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں (3:64) کو اس ذمہ داری میں حصہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔

لہذا، آج ہم وہ “کاٹ” رہے ہیں جو یورپی نشاۃ ثانیہ، مسیحی اصلاحی تحریک، اور ویسٹ فیلیا کے امن کی فکری بنیادوں میں بویا گیا تھا، جس نے مذہب کو سماجی و اقتصادی اور سیاسی شعبوں سے الگ کردیا تھا۔

جدید انسان کے اخلاقی کھوکھلے پن نے اس کے نقطہ نظر کو ناقص اور ترجیحات کو اس قدر مسخ کردیا ہے کہ وہ بے پایاں خواہشات کے تاریک سمندر میں غوطے کھارہا ہے۔

انسان مریخ تک سفرکررہا ہے جبکہ زمین کے معاملات پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔ عقل محض نے زندگی کے اخلاقی مقصد کوپس پشت ڈال دیا ہے، اورجدید انسان کی کاوشوں اور کامیابیوں کو فرینکنسٹین کے عفریت میں بدل دیا ہے۔ لہٰذا، انسان کی سماجی زندگی کا تیزی سے بگاڑ اور انحطاط ہو اور/یا ماحولیاتی آفات، دونوں ہی مادیت پرست مابعدالطبیعات پر مبنی بدعنوان سماجی و اقتصادی ڈھانچے کا نتیجہ ہیں۔

قرآن انسان کوراست بازی کے لیے مکمل راہ عمل بتاتا ہے جو ہماری تہذیب کے تحفظ اوربقا کے لیے کافی ہے۔

اسلام کی آمد کے وقت انسان کی حالت زار، جیسا کہ قرآن مجید میں نقشہ کھینچا گیا ہے، جو کچھ اس طرح ہے: “خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزّہ چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔” (30:41)۔ یہ آج کے لیے شیاد زیادہ موزوں اوربرمحل ہے۔ جدید انسان نے بے لگام حصولیت، خود پرستی اور عسکری و ثقافتی اور معلوماتی بالادستی کے ہاتھوں جوہری ہتھیاراور آب و ہوا کے بحرانات پیدا کیے ہیں، اوراس کے اہم ستون بدعنوان سماجی اقتصادی ڈھانچے پرکھڑے ہیں۔ ان تمام خرابیوں کا علاج سماجی اقتصادی اور سیاسی معاملات کے لیے مذہب سے رجوع کرنا ہے۔

تخلیق کے وقت، خدا نے انسان کے سامنے ایک مقصد رکھا تھا کہ مساوات یعنی خدا کی نظر میں سب انسان برابرہیں، اسے سماجی اقتصادی اور سیاسی ترتیب میں ظاہر ہونا چاہئے۔ اس درپیش صورت حال کے مقابلہ میں ناکامی صرف مسلمانوں کی ناکامی نہیں ہے۔ درحقیقت یہ پوری انسانیت کی ناکامی ہے۔ کیا ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں؟

ڈان، مارچ 29، 2024 میں شائع ہوا۔

Facebook Comments Box
Dr. Ghulam ShabbirMaterial Metaphysicsمادی مابعدالطبیعات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تاریخ فلسفہ اسلام پہ چند اہم کتب:  ڈاکٹر اعجاز الحق اعجاز
next post
ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کی تباہی میں سامراجی پالیسیوں کا کردار

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.