تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

ہوگئی شام، گر گئے دام: لبنٰی سعدیہ

by ویب ڈیسک 02/06/2017
written by ویب ڈیسک 02/06/2017
131

ایک پرانی کہانی:
اقبال کوئلے کا کاروبار کرتا تھا۔ روز کندھے پہ کوئلے سے بھری بوری لاد کر گلی گلی آواز لگاتا اور شام میں خالی بوری اور بھری ہوئی جیب لیکر شاداں فرحاں گھر لوٹ آتا، جہاں اسکی بیوی اور بچے اسکے لائے ہوئے، رزقِ حلال سے لطف اندوز ہوتے۔ پھر یوں ہوا کہ ملک میں گیس دریافت ہوگئی اور جگہ جگہ گیس پائپ لائن بچھا کر لوگوں کے گھروں میں گیس پہنچائی جانے لگی۔ اقبال کے علاقے میں بھی لوگوں نے گیس لگوانی شروع کردی۔ پہلے ایک گھر نے کوئلہ لینا ترک کیا پھر دوسرا پھر تیسرا اور یہ سلسلہ دراز ہی ہوتا گیا۔ اقبال کی بوری خالی ہونا اور جیب بھرنا بند ہوگئی اور ایک دن اقبال بھی اس علاقے میں نظر آنا بند ہوگیا۔
ایک دن ایک صاحب کا چولہا خراب ہوگیا، بازار کسی کاریگر کو دیکھنے گئے تو دکان میں اقبال نظر آیا، ’ارے اقبال کوئلے والے؟ تم یہاں؟‘
اقبال خوشدلی سے ہنسا، ’اب کوئلے والا نہیں جی، چولہے ٹھیک کرنے والا، کوئلے کا کاروبار اب کہاں!، پیٹ نے روٹی مانگ کر دوسرا ہنر سکھا دیا‘
ــــــــــــــــ
بات سمجھ آئی؟ اللہ سب کا ہے۔
انسان کی پیدائش پانی سے ہوئی ہے، ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے ہر ماحول میں رنگ جاتا ہے
عزم و ہمت ہو تو راستے بہت۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
آج کل سوشل میڈیا پہ ’ترکِ ثمر مہم‘ عروج پہ ہے۔
کیا ہوا؟ کوئی پریشانی؟
اچھا پیشانی پہ پڑے بل ہٹائیں ہم سادہ الفاظ میں بتاتے ہیں
جی تو ہم پھلوں کے سہ روزہ بائیکاٹ کی بات کررہے ہیں
ہمارا ذاتی نقطہء نظر پوچھیں تو ہمیں نا تو اس مہم سے فائدہ ہوتا نظر آرہا ہے نا نقصان
مگر اہلیانِ رخِ کتاب پہ تو، دائیں بائیں والوں نے ایسا غدرمچا رکھا ہے گویا کھانے والا پھل نا ہوا کلہاڑی کا پھل ہوگیا
ـــــــــــــــــــ
بائیکاٹ کے حامی کہتے ہیں، ’کہیں سے تو پہلا قدم اٹھانا ہوگا‘
مخالف طنز کرتے ہیں، ’تو برانڈڈ مال سے شروع کیجیے نا‘
حامی کہتے ہیں، ’برانڈڈ غریب کا مسئلہ نہیں، پھل تو غریب کھانا چاہتا ہے رمضان میں‘
مخالف ہنسی اڑاتے ہیں، ’تو ٹھیلے والا بھی تو غریب ہے بیچارہ، منڈی کے بڑے بیوپاریوں کا بائیکاٹ کرو‘
حامی کہتے ہیں، ’تو ٹھیلے والے کو کچھ رقم دے دیں‘
مخالف سوال اٹھاتے ہیں، ’یعنی ایک محنت کش کو بھکاری بنا دیں؟‘
حامی کہتے ہیں، کہیں نا کہیں، کچھ تو اثر ہوگا‘
مخالف اکساتے ہیں، ’تو جا کر حکمرانوں کا گریبان پکڑو، مکمل فرق پڑے گا‘
ـــــــــــــــــــــ
یہ حامی مخالف کا کھیل چلتا رہے گا۔ ہماری نظر میں اسکا سیدھا سا حل ہے
جو لوگ حامی ہیں اور پھل بائیکاٹ کے زریعے گراں فروشوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں وہ پھل نا خریدیں۔
جو لوگ مخالف ہیں اورغریب ٹھیلے والے کی غربت پہ اشک بہا بہا کر فیس بک کو نہلا رہے ہیں وہ اپنی ضرورت سے دگنا پھل خرید لیں
اوربائیکاٹ کرنے والوں کو ہدیہ کردیں کہ وہ بھی افطار میں مزے اٹھالیں آپ کے زریعے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حامی بائیکاٹ میں کامیاب
پھل فروش کمانے میں کامیاب
اور مخالفین پھل فروشوں کی عملی امداد میں کامیاب
تینوں خوش
ہپؔی اینڈنگ
ـــــــــــــــــــ
آپ مذاق سمجھ رہے ہیں؟ جی نہیں ہم بے حد سنجیدہ ہیں
کیسے؟
بتاتے ہیں۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــ
کچھ عرصہ پہلے حکومت نے موبائل کارڈ پہ ٹیکس بڑھا دیا۔ ایسے ہی فیس بک پہ نعرہ باز مہم چلائی گئی اور ٹیکس واپس لینے کے لئے ایک مخصوص تاریخ کا اعلان کیا گیا کہ ان تاریخوں میں اپنا موبائل بند رکھ کر احتجاج درج کرائیں۔ ہمارے دس بارہ ایکسٹرا آفیشنٹ اسٹوڈینس نے ہمیں بار بار تحریری پیغام بھیج کر یاد دہانی کرائی کہ ان تاریخوں میں موبائل بند رکھنا ہے۔
ان تاریخوں میں ہم نے اپنے تمام پیغام بھیجنے والے طلبہ و طالبات کو مس کال دی
’سب کا موبائل ’آن‘ تھا
ــــــــــــــــــــــــ
جناب! آپ کسی کام کے حامی ہوں یا مخالف
آپکی حمایت یا مخالفت ’عملی‘ ہونی چاہیے ’کتابی‘ اور ’زبانی‘ نہیں
آپ کے خیال میں آپ کا بائیکاٹ گراں فروشی پہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ دل و جاں سے بائیکاٹ کیجیے
یاد رکھیں جیت یقین کی ہوتی ہے، تعداد کی نہیں۔۔۔
ـــــــــــــــــــــ
آپ کو لگتا ہے یہ بائیکاٹ غریب کی روزی مار دے گا۔ مگر مچھ کے آنسو بہانا بند کیجیے۔ غریب کی جیب آپ کے اشکوں سے بھرنے والی نہیں۔ جائیے اور اے سی مال سے پھل خریدنے کے بجائے دھوپ میں کھڑے ہوکر غریب کے ٹھیلے سے خریدیے
یہ سوچنا بند کیجیے کہ کسی کے بائیکاٹ سے کوئی بھوکا مر جائے گا
ابتدائے دنیا سے آج تک نا جانے کتنے پیشے بنے اور ختم ہوگئے
ایک پیشہ ختم ہوا تو دوسرا آگیا
زندگی کا پہیہ رکتا کبھی نہیں ہے
حیرت ہے کہ آپ تین دن کے بائیکاٹ سے سہمے جاتے ہیں!!
جناب!جو کوئی کچھ کرنا چاہتا ہے
اسے کرنے دیجیے
آپ اپنا کام کیجیے مگر عملی، الفاظ کی جادوگری نہیں۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
معلمہ ریاضی، لبنیٰ سعدیہ عتیق

Facebook Comments Box
پھل بائیکاٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
داستان گو —- قسط نمبر 4 — ادریس آزاد
next post
فروٹ بائیکاٹ مہم اور پاکستانی سنڈروم – محمود فیاض

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.