
1. Melanges de philosophie juive et Arabe
سلیمان منک کی یہ کتاب 1859ء میں پیرس سے شائع ہوئی۔ اس میں اصل مآخذ سے استفادہ کرتے ہوئے یہودی اور مسلمان فلاسفہ کے افکار کا سیر حاصل تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے پیرس میں موجود اہم دستاویزات سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ کئی اہم دستاویز وہ برلن سے اپنے ساتھ پیرس لے آیا تھا یوں اسے یہ موقع فراہم ہواکہ وہ اتنی اہم کتاب مرتب کرسکے۔ اگرچہ کئی مقامات پہ تشنگی کا شدید احساس ہوتا ہے مگر الفارابی، ابن سینا، اور ابن رشد کے حوالے سے اس نے بہت سی وقیع آرا کا اظہار کیا ہے، البتہ اس کا یہ کہنا کہ امام غزالی نے اسلامی دنیا میں فلسفے کو وہ دھچکا پہنچایا جس سے وہ آج تک سنبھل نہیں سکا (اس کااظہار وہ اس سے پہلے بھی اپنی کتاب Dictionaire des scienes philosophique میں کرچکا تھا) درست نہیں ہے۔
2. Geschichte der Philosophie des Mittelelters
یہ ڈاکٹر البرٹ اسٹاکل کی جرمن زبان میں 1864ء میں شائع ہونے والی کتاب ہے جس کی دوسری جلد میں کچھ عرب فلاسفہ کے بھی حالات اور فلسفیانہ تصورات ملتے ہیں۔ اسے ابتدائی سطح کی ایک اچھی کاوش قرار دیا جاسکتا ہے مگراس کی ایک خامی یہ ہے کہ اس میں بنیادی مآخذ سے استفادے کی بجائے لاطینی ثانوی مآخذ کو پیش نظر رکھا گیا جس سے بہت سی اغلاط نے راہ پکڑی۔ مزید یہ کہ اس میں ابتدائی دور کے کچھ عرب فلاسفہ کو نظر انداز کردیا گیا۔
3. Geschichte der Philosophie im Islam

یہ ہالینڈ کے فلسفی ڈاکٹر ٹی جے ڈی بوئر کی کتاب ہے جو 1901ء میں جرمنی کے شہر سٹٹگارٹ سےشائع ہوئی۔ اس کے بہت سی زبانوں میں تراجم ہوئےہیں۔ اس کا پہلا اردو ترجمہ ڈاکٹر سید عابد حسین نے “تاریخ فلسفہ اسلام” کے عنوان سے کیا جو 1927ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شائع کیا۔ اس کا ایک اردو ترجمہ مرزا محمد ہادی نےبھی کیا جو دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن نے 1929ء میں شائع کیا۔ ڈاکٹر سید عابد حسین کا ترجمہ ادارہ ثقافت اسلامیہ نے بھی شائع کیا ہے۔ اس کتاب سے قبل مغرب میں تاریخ فلسفہ اسلام پر چند کتب کا تذکرہ اوپر آچکا ہے۔ ان کے علاوہ ڈیٹریسی Dietrici، دو گوئیےde Goeje، ہوٹسما Houtsma، آگسٹ میولرAugust Muller، منکMunk، نولڈکےNoldke اور رینان Renan کی بھی اسلامی فلسفے کی تاریخ پہ تحریریں موجود تھیں۔ مگر یہ سب تاریخ فلسفہ اسلام کو منضبط اور تدریجی ارتقا کے لحاظ سے پیش نہیں کرتیں اور فلسفہ اسلام کے تمام ادوار کو مدنظر نہیں رکھتیں۔ جب کہ ڈی بوئر کی اس کتاب میں ایک داخلی وحدت کا اہتمام نظر آتا ہے۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں پہلی دفعہ ایسے حالات و واقعات کی بھی نشان دہی کی گئی ہے جن کی وجہ سے مسلمانوں میں فلسفیانہ فکر پیدا ہوئی۔ اگرچہ اس میں بعض اغلاط کا پایا جانا حیرت کی بات نہیں مگر مجموعی حیثیت سے یہ کتاب اسلامی فلسفے کی تاریخ پر سب سے پہلی باقاعدہ اور مستند کتاب ہے۔
4. The Development of Metaphysics in Persia
یہ علامہ محمد اقبال کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو انھوں نے 4 نومبر 1907ء کو میونخ یونیورسٹی میں جمع کرایا اور یہ لوزاک اینڈ کمپنی لندن نے 1908ء میں شائع کیا۔ اس میں علامہ اقبال نے ایران میں مابعدالطبیعیات کے تاریخی اور فکری ارتقا بہت عمدگی سے پیش کیا ہے۔ اس کے پہلے حصے میں قبل از اسلام ایران میں مابعدالطبیعیات کے ارتقا کو موضوع بنایا ہے جب کہ دوسرے حصے میں ایران کے مسلمان فلاسفہ کے مابعدالطبیعیاتی تصورات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ بہت سے مستشرقین نے اس کتاب کو سراہا ہے اور اسے اپنی نوعیت کا اولین کام قرار دیا ہے۔ اس کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔
5. Allgemeine Geschichte der Philosophie
ولہلم ونڈٹ کی مرتب کردہ یہ کتاب 1909 ء میں برلن سے شائع ہوئی۔ یہ عمومی تاریخ فلسفہ کی کتاب ہے مگر یہاں اس کا ذکر کرنے کی خاص وجہ یہ ہے کہ اس کا ایک باب اگناز گولڈزیہر کا تحریر کردہ بعنوان Die islamische und die jüdische Philosophie des Mittelalters ہے جس میں اس نے اسلامی فلسفے کی مختصرمگر جامع تاریخ بیان کی ہے۔ اگرچہ وہ اس دوران میں وہ بہت سے تسامحات کا بھی شکار بھی ہوا ہےمگر مجموعی طور پہ یہ باب واقعی قابل مطالعہ ہے۔

6. Arabic Thought and Its Place in History
یہ برطانوی مستشرق ڈی اولیری کی کتاب ہے جو 1922ء میں لندن سے شائع ہوئی۔ اس کا اردوترجمہ مولوی احسان احمدنے”فلسفہ اسلام” کے عنوان سے کیا جو 1946ء میں دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن نے شائع کیا۔ اسی کتاب کو بک ہوم نے بھی 2003ء میں شائع کیا۔ یہ کتاب تفصیلاً فلسفہ اسلام کے تاریخی ارتقا کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں مسلمان فلاسفہ کے تصوّرات کڑی سے کڑی ملا کرمنطقی انداز میں بیان کیے گئے ہیں اور ان عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جن کی وجہ سے مسلم فکر اپنی مخصوص شکل میں سامنے آتی ہے۔
7۔ “تاریخ فلاسفۃ الاسلام فی المشرق والمغرب”
مصر کےمحمد لطفی جمعہ نے یہ کتاب 1909ء میں لکھنا شروع کی جب وہ یونیورسٹی آف لیون فرانس میں تھے۔ 1927ء میں قاہرہ سے شائع ہوئی۔ اردو ترجمہ ڈاکٹر میر ولی الدین نے کیا جو دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن نے 1941ء میں شائع کیا۔ اس میں کندی، فارابی، ابن سینا، امام غزالی، ابن باجہ، ابن طفیل، ابن رشد، ابن خلدون، اخوان الصفا، ابن الہیثم، ابن عربی اور ابن مسکویہ کے حالات زندگی، ان کی تصانیف اور ان کے فلسفیانہ تصورات الگ الگ ابواب کی شکل میں درج کیے گئے ہیں۔
8. A History of Muslim Philosophy
بلند پایہ دانشوراور اقبال شناس ایم ایم شریف کا تعلق لاہور کے میاں شاہ دین ہمایوں، سر محمد شفیع خاندان سے تھا۔ ان کی مرتب کردہ اس کتاب کی پہلی جلد 1962ء میں جرمنی کے شہر وزباڈن Wies Baden سے شائع ہوئی جب کہ دوسری جلد 1966ء میں اسی شہر سے شائع ہوئی۔ اس میں خود مرتب اور دیگر پاکستانی اور غیر ملکی مصنفین کےتاریخ فلسفہ اسلام کے آغاز سے علامہ محمد اقبال تک وقیع مضامین ہیں۔
9. Histoire de la philosophie islamique
فرانسیسی مستشرق اور فلسفی ہنری کوربن کی یہ کتاب1964 ء میں شائع ہوئی۔ اس کا انگریزی ترجمہ History of Islamic Philosophy کے عنوان سے 1993ء میں راؤٹلج نے شائع کیا۔ اس اہم کتاب کا اردو ترجمہ ابھی تک نہیں ہوسکا۔ اس کا پیش لفظ 1962ء میں تہران میں لکھا گیا۔ ایران کے سید حسین نصر اور شام کے عثان یحیی ٰ نے اس کتاب کو لکھنے میں مصنف کی بہت مدد کی۔ یہ کتاب اسلامی فلسفے کے عمیق مطالعات پیش کرتی ہے۔ ہنری کوربن نے اس کے علاوہ اسلامی فلسفے اور تصوف پہ اور بھی کتب لکھیں جن میں The Man of Light in Iranian Sufism جو شہاب الدین سہروردی کے فلسفہ اشراق پہ ہے اور Avicenna and the Visionary Recital میں بو علی سینا کے فلسفے کے صوفیانہ پہلووں کو موضوع بنایا گیا ہے خاص طور پہ قابل ذکر ہیں۔
10. A History of Islamic Philosophy
یہ لبنانی مصنف ماجد فخری نے تحریر کی جو امریکی یونیورسٹی بیروت میں پروفیسر ایمریطس تھے۔ یہ کتاب 1970ء میں شائع ہوئی۔ اسلامی فلسفے کو بہت عمیق اور بلیغ انداز سے بیان کرتی ہے۔ بہت سے پیچیدہ مسائل کو بہت صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔ اس میں الکندی سے علامہ محمد اقبال تک سبھی بڑے فلاسفہ اسلام کے حالات و افکار پر بہت عمدہ اسلوب میں لکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی فلسفے پہ ان کی اور بھی کتب ہیں جن میں Ethical Theories in Islam جو 1991ء میں شائع ہوئی، Philosophy, Dogma and the Impact of Greek Thought in Islam جو 1994ء میں شائع ہوئی بہت اہم ہیں۔ الفارابی اور ابن رشد پہ بھی الگ سے کتب تحریر کیں۔
11. History of Islamic Philosophy
سید حسین نصر اور اولیور لی مین کی مرتب کردہ یہ کتاب 2001ء میں راؤٹلج (Routledge) سے شائع ہوئی۔ اس میں محض اسلامی فلسفے کی تاریخ ہی بیان نہیں کی گئی بلکہ اسلامی فلسفے کے بنیادی اور نمایاں اجزا کو عمدگی سے پیش کیا گیا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی فلسفہ مغربی فلسفے سے کس حد تک مختلف ہے۔ اس میں فلسفے کے الگ الگ شعبوں مثلاً مابعدالطبیعیات، منطق، علمیات، سیاسی فلسفہ، سائنس، تصوف، اخلاقیات، جمالیات، فلسفہ قانون اور الگ الگ ملکوں کے لحاظ سے بھی مسلم فلسفے کی تاریخ پیش کی گئی ہے۔
12. A Cambridge Companion to Arabic Philosophy
پیٹر ایڈمسن اور رچرڈ سی ٹیلر کی مرتب کردہ یہ کتاب 2004ء میں کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی۔ انیس ابواب پہ مشتمل ہے۔ یہ محض عرب فلسفے پہ مشتمل نہیں بلکہ اس میں ایرانی فلسفے پہ بھی مضامین ہیں جو سید سجاد رضوی اور حسین ضیائی نے تحریر کیے ہیں۔ اس میں صرف نمایاں ترین مسلم فلاسفہ ہی کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کتاب مختصر مگر جامع طریقے سے مسلم فلسفے کا احاطہ کرتی ہے۔
13. Islamic Philosophy from Its Origin to the Present: Philosophy in the Land of Prophecy
سید حسین نصر کی یہ کتاب 2006ء میں نیویارک یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں مصنف نے جامع انداز میں اسلامی فلسفے کی پوری تاریخ بیان کی ہے۔ مصنف اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلامی فکر کا مرکز و محورتو وحی ہی ہے مگر وحی کے ہوتے ہوئے فلسفیانہ غور و فکر کی کس قدر گنجائش ہے اور اس غوروفکر کے ممکنہ اسالیب کیا ہو سکتے ہیں؟ یعنی فلسفہ وحی کی ڈومین میں کیسے فنکشن کرتا ہے۔ مصنف اسلامی فکر کو اسلامی تہذیبی روایت کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مصنف نے اہل فارس کی فلسفے کے میدان میں کارکردگی کو خاص طور پہ موضوع بحث بنایا ہے۔ مصنف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی فکرو فلسفے کے پاس بہت کچھ ایساہے جس سے مغربی دنیا استفادہ کرسکتی ہے۔
14. Islamic Philosophy A-Z
پیٹر ایس گراف اور اولیور لی مین کی اس کتاب میں جو 2007ء میں ایڈن برگ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی اسلامی فکر کے تقریباً سبھی دبستانوں اور اہم فلسفیوں کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس میں مسلم فلسفے پر یونانی فلسفےکے اثرات کا بھی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور مسلم دنیا میں آباد یہودی فلسفیوں کے مسلم فکر پر اور ان کے افکار پر اسلامی فکر کے اثرات کا بھی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
.15 مسلم فلسفہ و فکر عہد بہ عہد
یہ محمد کاظم کی تحریر کردہ کتاب ہے جو مشعل بکس لاہور سے 2008ء میں شائع ہوئی۔ اس کے آغاز میں مصنف نے یونانی فلسفے کی روایت بیان کی ہے نیز اسلام سے پہلے عربوں کی تہذیبی و فکری زندگی کا جائزہ پیش کیا ہے اور ان عوامل کا جائزہ لیا ہے جو اسلامی دنیا میں فلسفے کے آغاز و ارتقا کا باعث بنے۔ یہ کتاب الکندی سے لے کر علامہ اقبال تک تمام اہم مسلمان فلاسفہ کے افکار کے تجزیے پہ مشتمل ہے۔ اس کا اسلوب بہت دلنشیں اور اس میں بہت سے دقیق فلسفیانہ مسائل کو بہت آسان فہم انداز میں پیش کیا گیا ہےتاکہ فلسفے کا ایک مبتدی بھی اسے سمجھنے میں دقت محسوس نہ کرے۔
16. The Story of Islamic Philosophy
سلیمان حسین بشیر کی یہ کتاب یونیورسٹی آف نیویارک پریس سے 2011ء میں شائع ہوئی۔ اس میں مصنف نے اسلامی فلسفے کے متعلق روایتی نقطہ ہائے نظر کو چیلنج کیا ہے۔ اس میں مصنف نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ نقطہ نظر کہ اسلامی فلسفہ شروع سے ارسطو کے تابع رہا ہے جزوی طور پہ ہی درست ہے۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ افلاطون کے متصوفانہ فلسفے نے مسلم فکر کے دھاروں کو کس حد تک متشکل کرنے میں حصہ لیا ہے۔ اس میں مصنف نے مسلم فکر خاص طور پہ ابن طفیل کی حی ابن یقضان کی جامعیت کی تعریف کی ہے کہ کس طرح اس میں عقلیت، تصوف اور مذہب کے دھارے آپس میں بہت عمدگی سے آمیخت ہوگئے ہیں اور زندگی کا ایک خوبصورت اور جامع رخ سامنے آتا ہے۔
17. Philosophy in the Islamic World: A History of Philosophy Without Any Gaps
پیٹر ایڈمسن کی یہ کتاب 2016ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے شائع ہوئی۔ اس اہم کتاب کے تین حصے ہیں اور یہ باسٹھ مقالات پہ مشتمل ہے۔ پہلا حصہ The Formative Period کے عنوان سے ہےجس میں اکیس مضامین ہیں۔ ان میں The Straight Path: Philosophy and Islam اور Special Delivery: Al Ghazali خاص طور پہ اہم ہیں۔ دوسرا حصہ Andalusia کے عنوان سے ہے۔ اس میں جن مسلمان فلسفیوں پر مضامین ہیں ان میں ابن حزم، ابن باجہ، ابن طفیل، ابن رشد، ابن عربی، ابن خلدون شامل ہیں۔ اس حصے میں بہت سے ان یہودی فلسفیوں کا بھی تفصیلی ذکر ہے جو اسلامی فلسفے سے متاثر ہوئے یا جن کے افکار نے مسلم فلسفے پر اثرات مرتب کیے۔ تیسرا حصہ The Latter Tradition کے عنوان سے ہے جس میں رازی، سہروردی، رومی، ملا صدرا کے علاوہ بہت سے دیگر فلسفیوں پہ بائیس مضامین ہیں۔ اس میں ایک مضمون مسلم خواتین مفکرین کے تعارف پر بھی ہے۔ برصغیر پاک وہند کے فلاسفہ کا تعارف بھی دیا گیا ہے۔ ایک مضمون For One and One for All: Muhammad Abduhu and Muhammad Iqbal کے عنوان سے بھی ہے جس میں محمد عبدہ اور علامہ محمد اقبال کی جدت پسندی کا عمدہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
18. Islam: A Contemporary Philosophical Investigation
یہ عمران اعجاز نے لکھی ہے جو یونیورسٹی آف مشی گن امریکہ میں پروفیسر ہیں۔ راؤٹلج نے 2018ء میں شائع کی۔ اس میں بہت خوبصورتی سے اس مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے کہ عقیدے کو فلسفے کی مدد سے کیسے سمجھا جاسکتا ہے اور یہ کس حد تک مفید ہے۔ کیا عقل اور عقیدے میں بعد المشرقین ہے؟ اس کتاب میں یہی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایسا نہیں۔ اگر ہم عقیدے اور فلسفے کو سطحی نہیں بلکہ گہرے غور و فکر سے دیکھیں تو ان میں بہت سے مشترکہ منطقے دریافت ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
19. The Formation of Post Classical Philosophy in Islam
یہ فرینک گرفل کی کتاب ہے جو 2021ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی۔ مصنف کے مطابق اسلامی فلسفے کے کلاسیکل دور کے فوراً بعد کا وقت ایک قسم کی تاریکی کا دور سمجھا گیا ہے، جس میں اسلامی فلسفے کے ایک طویل تنزل کا آغاز ہوا۔ جب کہ فرینک گرفل اس روایتی دانش کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، جسے “پوسٹ-کلاسیکل” دور کہا جاتا ہے اسے بعض مصنفین نے ناانصافی سے ملامت کیا اور نظرانداز کیا ہےجب کہ حقیقت یہ ہے کہ پوسٹ کلاسیکل دور میں بھی “کلام” اور “حکمت” دونوں میں یونانی فلسفے سے استفادے کا سلسلہ جاری رہا۔
انسائیکلو پیڈیا
20. The Biographical Encyclopedia of Islamic Philosophy
اولیور لی مین کا مرتب کردہ یہ انسائیکلوپیڈیا 2006ء میں شائع ہوا۔ اس میں تین سو سے زائد مسلمان فلسفیوں کے حالات اور فلسفیانہ تصورات پیش کیے گئے ہیں۔
21. Encyclopedia of Islamic Philosophy
دو جلدوں پہ مشتمل یہ انسائیکلوپیڈیا جو سید حسین نصر نے مرتب کیا تھا اسے 2020ء میں سہیل اکیڈمی لاہور نے شائع کیا ہے۔
