’’آوازِمسعودلِلہ‘ مسعود اسلم لِلہ کی منفرد اور دلچسپ آپ بیتی ہے۔ یہ مصنف کی پہلی کتاب ہے۔ اپنے دلکش اور سادہ اسلوب اور خوبصورت نثر قارئین کی بھرپور توجہ حاصل کرلیتی ہے۔ مسعود اسلم لِلہ کا شگفتہ اندازِ بیان اور واقعات کی دلچسپی ’’آوازِمسعودلِلہ‘‘ کو قابل مطالعہ بنا دیتی ہے اور قاری کتاب شروع کرنے کے بعد اسے ختم کیے بغیر چھوڑ نہیں سکتا اور یہ خوبی بہت کم کتابوں میں موجود ہوتی ہے۔
’’سفیرحق گوئی‘‘ کے عنوان سے پبلشر فرخ سہیل گوئندی ’’آوازِمسعودلِلہ ‘‘ کے تعارف میں لکھتے ہیں۔
’’میں نے سینکڑوں کتابیں پڑھی اور درجنوں لکھی ہیں مگرزیرنظرکتاب میں ہرباب پڑھنے کے بعدایک نئے تجسس نے جنم کیاکہ What Next?۔ ہر انسان اپنی زندگی میں جن تجربات سے گزرتاہے، اس کی اپنے حوالے سے اہمیت ہوتی ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اپنی داستانِ حیات قلم بند کرنے میں کامیا ب ہوتے ہیں کہ اس کے لیے صاف شفاف زندگی اورحق کوحق کہنے کی صلاحیت رکھنا بنیادی شرط ہوتی ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہو تی۔ میرے نزدیک اپنی زندگی کے تجربات، مشاہدات، ہجرت، دلچسپ واقعات اور دنیا بھر کے سفر کی داستان رقم کرکے مسعوداسلم لِلہ صاحب نے عام انسان پراحسان کیاہے جو متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے اس انسان کے تجربات کو مشعل راہ بنائے گا جو جاگیردارانہ، پر تشدد سماجی اور سرکاری نظام سے الجھ کراور بظاہر ناقابل شکست بندھوں کوتوڑ کرایک پرُامن، انصاف، دوستی اورانسانی اقدارکے علمبردار معا شرہ کا اک کامیاب فرد بن جاتاہے۔ مسعوداسلم لِلہ کی خودنوشت خوددار، سچے، بہادر اور ایمان دارشخص کی داستان ہے۔ ان کا اندازِ بیان اور تحریر متاثر کن ہے، جبکہ تجربات، مشاہدات اور سفرمنفرد ہی نہیں دلکش بھی ہے، اور بہتی ندی کے پانی کی طرح شفاف بھی! مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب اپنا ایک منفرد مقام بنائے گی اور کتب بینوں کابہترین ساتھی ثابت ہوگی۔ ‘‘
شاعر، ڈرامہ نگار، کالم نگار، سفرنامہ نگارامجد اسلام امجد کا ’’آوازِ مسعودلِلہ ‘‘ کے بارے میں کہنا ہے۔
’’سفر نامے اورخودنوشت کے کی میرے نزدیک سب سے پہلی اور بنیادی خوبی اس کی ریڈیبلیٹی یعنی خود کوپڑھوانے کی قوت اور تحریک ہوتی ہے، اوردوسری خوبی اس کا سپیچ ردھم یعنی آہنگ گفتار ہوتا ہے۔ باقی سب باتیں اگر ثانوی نہیں تو انکے بعد ضرور آتی ہیں۔ تحریرکا متن، مواد، ماحول، مزاج اور مصنف کی شخصیت اس میں تنوع تو ضرور پیدا کرتے ہیں، گر قاری کی دلچسپی کو قابو میں رکھنے والے عناصر متذکرہ بالا ہی ہیں۔ مسعودلِلہ صاحب کی اس کتاب کا کچھ حصہ میری نظر سے گزرا ہے، جس کی سادگی، سچائی، جزیات نگاری اور بول چال کے انداز کی حامل بے ساختگی اچھی لگی۔ خاص طور پر ان کی منظر نگاری کی صلاحیت بہت متاثرکن ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس کتاب کو شوق اور دلچسپی سے پڑھا جائے گا اور ہم ایک اچھے نثرنگار کو ادبی دنیا کا حصہ بنتے دیکھ سکیں گے۔ ‘‘
معروف ناول، افسانہ، سفرنامہ، ڈرامہ اورکالم نگار مستنصرحسین تارڑ کی رائے ہے۔
’’خود نوشتوں میں شاید روسی کی خودنوشت’’اعترافات‘‘ کا سب سے زیادہ حوالہ ملتاہے۔ روسونے آغازمیں لکھا ہے کہ وہ روزِمحشرخداکوکہے گاکہ میں نے یقینا ایک بے راہرو زندگی بسر کی لیکن دیکھ میں نے اپنے بارے میں مکمل سچ لکھا ہے۔ ہمارے ہاں معاشرہ آپ کومکمل کیا جزوی سچ بھی نہیں لکھنے دیتا۔ خودنوشت کیاہے؟ کچھ ظاہرکرنا، کچھ پوشیدہ رکھنا، کوئی درکھول دینا، کوئی دربندرکھنا۔ کوئی خواب دکھانااورکوئی خواب بھول جانا۔ مسعوداسلم لِلہ کی خودنوشت میں بھی کچھ ایسے ہی آثار ہیں۔ وہ لکھنا جانتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان کی یہ خودنوشت دلچسپی سے پڑھی جائے گی۔
مسعوداسلم لِلہ ’’اپنی سوانح حیات کیوں تحریرکی؟‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔
’’خودنوشت، بائیوگرافی یاآٹوبائیوگرافی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ دوسرے آپ کی سوانح حیات تحریرکرتے ہیں یا آپ خود اپنی آپ بیتی لکھتے ہیں۔ سقراط سے لے کرآج تک کی نامورہستیوں کے بارے میں ہم انہی دوذرائع سے جان پائے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سقراط کے بارے میں ہمیں کسی کوکچھ معلوم نہ ہوتااگراس کاشاگردافلاطون اس کی زندگی کے بارے میں نہ لکھتا۔ اسی طرح سرسیدکے بارے میں ہماری معلومات ادھوری رہتیں، اگران کے دوست الطاف حسین حالی ’’حیات جاوید‘‘ تحریر نہ کرتے۔ کسی نے چرچل سے پوچھاکہ تاریخ انہیں کس اندازسے یادکرے گی؟ چرچل نے جواب دیا:’’چونکہ میں خود اپنی تاریخ رقم کروں گا اس لیے مجھے یقین ہے کہ تاریخ مجھے میری مرضی کے مطابق ہی یادرکھے گی۔
‘‘اسی طرح ابراہم لنکن نے کہاتھا:
’’ زندگی کے حوالے سے اپنے تجربات، مشاہدات اورخیالات شیئر کرتے رہاکریں، ہوسکتاہے کہ آپ کا آئیڈیا کسی انسان کی روح میں جان ڈال سکے۔ ‘‘ جیسے موٹروے کاانٹرچینج آپ کوایک راہ سے دوسرے راستے اورپھر آپ کی منزل کی طرف لے جاتاہے اسی طرح میری زندگی کی کہانی آپ کوکچھ آپ بیتی اورکچھ ہم سب کی مشترکہ یادوں سے گزارتی ہوئی نظرآئے گی۔ میری داستان جدوجہد، خودداری، مسکراہٹوں، آنسوؤں اورعزم کاقصہ ہے جس میں شرارتوں سے لے کرکینسرجیسے مرض سے نبردآزماہونے کے باوجود حوصلہ اوررب پربھروسے کی پرچھا ئیاں صاف نظرآئیں گی۔ میں نے یہ کوشش ضرور کی ہے کہ اس کی زبان اورالفاظ آپ کے لیے دلچسپی اورکشش کاباعث ہوں کیونکہ الفاظ کی حرمت نہ ہوتی تو الہامی کتابوںکی ضرورت بھی پیش نہ آتی، میں نے یہ کوشش بھی کی ہے کہ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اورامارت وغربت کی تفریق کو بالائے طاق رکھ کرلکھی جانے والی یہ کتاب زندگی کی تلح حقیقتوں اورمسائل سے نڈھال افرادکوبارگراں محسوس نہ ہوبلکہ اس کے ابواب یاچندسطورہی انہیں حوصلہ اورسہارافراہم کرسکیں۔ میری داستانِ حیات قارئین کوزمان ومکان کی وسعتیں سمیٹ کرگزرے ہوئے واقعات کی روشنی میں روزآئندہ کودیکھنے میں مدد دے گی۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ میں بچپن، جوانی، سروس، ہجرت اوراللہ کے گھرسے لے کرافریقی جنگلوں تک پھریورپ سے امریکا، کینیڈا تک ملک ملک، قریہ بہ قریہ، شہربہ شہرہونے والے تجربات، واقعات اورسانحات سے جوبھی فہم وشعورحاصل ہوا، اسے شیئرکرنے کی کوشش کی ہے جویقینا آپ کی دلچسپی کاباعث ہوگا۔ ‘‘
’’آوازِمسعودلِلہ‘‘ ایک عام آدمی کی کامیابیوں، ناکامیوں، مشکلات اورخوشیوں کابیان ہے۔ جس کا شگفتہ اندازاوردلچسپ واقعات قاری کی توجہ کتاب سے ہٹنے نہیں دیتے۔ مسعوداسلم کی تحریرسے عام آدمی کوحوصلہ بھی ملتاہے، یہ اقتباس ملاحظہ کریں۔
’’ میں خود کو اس خوش قسمت قبیلے کا فرد سمجھتا ہوں جن کی زندگی مسلسل جدوجہدسے تعبیرہوتی ہے۔ میرے گروہ کے لوگ ہرطرح کے حالات سے گزرتے ہیں لیکن اللہ کی دی ہوئی توفیق سے ہر مشکل کاسامناہمت وجرأت مندی سے کرتے ہیں اور صبر کی چادراوڑھ لیتے ہیں جبکہ ہر کامیابی، خوشی، ترقی اورسربلندی میں عاجزی وشکر کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ یہ سب منجانب یزداں ہوتا ہے۔ میں کوئی بہت نامور شخصیت ہوں اور نہ ہی گمنام شخص، کوئی ارب پتی ہوں اور نہ ہی کوئی مفلوک الحال تارک الدنیا انسان، بہت زیادہ جذباتی ہوںاور نہ ہی کوئی سرد مزاج بے حس آدمی جس کی اپنی کوئی رائے، کوئی جذبات واحساسات نہ ہوں۔ مہربان رب نے بہت ساری مہمات، اونچ نیچ اورجدوجہد سے گزارنے کے باوجود کبھی مجھے پسپا یا بے بس نہیں ہونے دیاہرمرحلے ہرقدم پرسرخرو کیا۔ بہت سے غیر معمولی اور دلچسپ واقعات نے میری زندگی کے کینوس پراپنے رنگ بکھیر ے، وہی سب کچھ آپ تک پہنچانا میری خواہش ہے۔ ‘‘
والد گرامی نے صاحبزادے کانام ایاز اسلم رکھا، جس پرایک پڑھی لکھی پھوپھی تاج بی بی نے مدلل اعتراض کیا۔ ’تم نے اپنے بڑے بیٹے کا نام ایک بادشاہ کے نام پر محمود رکھا ہے جس کے غلام کا نام ایاز تھا اب چھوٹے بیٹے کا نام اس غلام کے نام پر رکھنا مناسب نہیں ہے۔‘‘ لہٰذا پھوپھی ہی کا تجویز کردہ نام مسعود اسلم ر کھ دیا گیا۔ تیسری کلاس میں مسعودسرکاری اسکول میں داخل کیے گئے۔ پہلے ہی دن ماسٹرشاہ محمد سے واسطہ پڑا جو صورت شکل سے افریقی اور بول چال سے جانگلی لگتے تھے۔ ماسٹرشاہ محمد کے پڑھانے کا انوکھا انداز ملاحظہ کریں جو ہمارے تعلیمی نظام کا مذاق ہے۔ ’’ ایچ ای این معنی ککڑ جی آئی آرایل معنی چھوئر(یعنی لڑکی) Buffaloمعنی مج (بھینس) وہ گرل نہیں Grill بولتے تھے اور لڑکی کو چھوئر ترجمہ فرماتے تھے اسی طرح مرغ کو مقامی زبان میں ککڑ کے نام سے یاد فرماتے تھے۔ بفلو یعنی بھینس کومجھ نے نام سے یاد فرماتے تھے۔ ماسٹر شاہ محمد کا یہ نصب العین تھا کہ ہربچے کی روزانہ مولابخش سے تواضع کی جائے گی۔ چاہے کوئی بھی جواز تلاش کرنا پڑے۔ ان کا فلسفہ اور فرمان تھا ’چھوراں نوں کھچ کے رکھوتے چوں چاں نئیں کردے‘۔ اگر کوئی بڑی گستاخی ہوجاتی یا دو روز تک کوئی ہوم ورک نہ کرتا تو وہ پوری کلاس کے سامنے مجرم کو اپنی کرسی پر بٹھاتے اور ٹانگیں اوپر کو اٹھا کر جائے مخصوصہ پرمولابخش سے مرمت کے ذریعے اپنی تسکین کے ساتھ باقی کلاس کے لیے عبرت کا سامان بھی مہیا کرتے۔ ‘‘
یہ انداز تدریس جائے عبرت ہے۔ ماضی میں والدین تعلیم کے آغاز پراستاد سے کہتے تھے کہ ’’گوشت ہمارا ہڈیاں آپ کی‘‘ اور آج بھی اکثر علاقوں میں مار کوہی تعلیم کا بہتر انداز سمجھاجاتاہے اورآئے دن استادکے قہرسے بچے کے شدیدزخمی ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں بہت سے بچے مارکے ڈر سے حصول علم سے دور ہوجاتے ہیں۔
2019ء میں جب مسعود صاحب اپنے بیٹے یوسف کو ڈزنی ورلڈلے گئے تووہاں چھک چھک کرنے والا انجن نمائش کے طور پرکھڑا تھاجس کے ساتھ لوگ تصویریں بنارہے تھے اور اہلکاراس کی تاریخ بتارہاتھاجبکہ مسعودلِلہ سوچ رہے تھے کہ اس انجن کے آخری ایام کی عبرتناک تاریخ ان سے زیادہ کون بتاسکتاہے۔
’’ کالے انجن کی نہ صرف آوازخوفناک تھی بلکہ اس کی شکل بھی کسی رقیب روسیاہ کی طرح کسی کونہیں بھاتی تھی اوپرسے کالاسیاہ دھواں اور وہ بھی اتنی وافرمقدار میں چھوڑتا کہ لگتا شدید آندھی آگئی ہے۔ دھوئیں کی پہنچ بھی دور تک تھی، چلتی گاڑ ی کے باوجود بوگیاں یوں دھواں دھار ہوجاتیں کہ اچھا بھلا سفید شلوار قمیص میں ملبوس مسافرمنزل پر سیاہ ماتمی لباس میں پہنچتا۔ خواہ وہ خوشی کی تقریب میں ہی کیوں نہ شریک ہونے جارہا ہو لیکن یہ قسمت پر منحصر تھا کہ کوئی اسے اس سفرکے بعدشناخت بھی کر پاتا ہے کہ نہیں۔ سبک رفتاری بے مثال تھی اس پروضع داری غالب تھی اس لیے یہ اپنی مروت میں گھنٹوں تک مقامی ڈیروں پر کھڑی کردی جاتی۔ یہاں تھل کے علاقے میں پانی کی بڑی قلت تھی لہٰذا مقامی لوگ ڈرائیور اور ٹی ٹی سے انڈوں اور مرغیوں کے عوض پانی بھی حاصل کرتے۔ ٹکٹ خریدنے کا رواج نہ ہونے کے برابر تھا۔ ٹی ٹی سے بند مٹھی کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہی تمام سفری تقاضے پورے ہوجاتے تھے۔ طلبا پر مشتمل کئی گروہ بھی تھے اور کئی مقامی چوہدریوں کو بھی میں نے بغیر ٹکٹ پورے پروٹوکول کے ساتھ سفر کرتے دیکھا۔ ‘‘
مسعوداسلم لِلہ واقعات کے بیان کے دوران ہماری سیاست پرطنزکے تیربھی بڑے دلچسپ انداز میں برساتے ہیں۔ ’’بیوی سے مارکھاکر شیخی بگھارنے والے صوبیدار کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
’’ ویسے صوبیدار صاحب کا اتنا قصور بھی نہیں تھاکہ انہوں نے جنرل یحیٰی خان کی انڈر کمانڈ کام کیا ہوا ہوگا۔ جو آدھا ملک گنوا کر بھی نشے کی حالت میں فتح کا جشن منا رہا تھا اور اس جنرل امیرعبداللہ نیازی کے انڈر کام کیا ہوگا جودشمن کے سامنے ہتھیار پھینک کر بھی اپنا کلہ اونچا رکھتا تھا۔ ‘‘
اسی طرح مزار پر حاضری کے موقع پرلِلہ صاحب نے کسی شخص کی دیکھا دیکھی وضو کیا، اس نے قبر کو سجدہ کیا تو انہوں نے بھی کیا، اس نے باآواز بلند کہا ’یا پیرا، فقیر، میں یتیم، مسکین، خالی ہتھ نہ گھلیں‘ اب والدین کے حیات ہونے کے باوجودانہوں نے بھی سب دہرادیا۔ اس نے اپنی زوجہ ثریابی بی کانام لے کراس سے شرسے محفوظ رہنے کی دعا کی اوراولاد نہ ہونے کاشکوہ کیا۔ انہوں نے بھی پورے خضوع وخشوع سے ثریابی بی کے شرسے پناہ مانگی اور آٹھ سال کی عمر میں بے اولاد ہونے کی شکایت بھی کردی۔ حالانکہ نہ انہیں ثریابی بی سے کوئی شکایت تھی اور نہ اس عمر میں باپ بننے کا شوق تھا۔ وہ تمام عمر قبر کو سجدہ کرنے پر شرمندہ رہے۔ لیکن اس پر مسعود اسلم صاحب نے کیا کمال کا تبصرہ کیاہے۔
’’ میں تو ساٹھ کی دہائی کے آخرمیں اور بہت کم عمری اورلاشعوری طور پر کسی کی تقلید کرتے کرتے دربار پر موجود قبر کو سجدہ بھی کرآیا اور الٹ پلٹ دعائیں بھی مانگ آیااورشعورآنے پرتمام عمراپنے کیے پرشرمندہ رہا مگرآج اکیسویں صدی میں آکسفورڈ کا پڑھا لکھا پاکستان کا وزیراعظم عمران خان سترسال کی عمرمیںمزاروں پر سجدے کرکے اورپیرنی کی روحانی ہدایات پرملک کانظم ونسق چلارہاہوتوپاکستانیوں کی توہم پرستی سے نکلنے کاخواب خواب ہی رہ جائے گا۔ ‘‘
لِلہ میں بڑوں کی محبت اور محفلیں مسعوداسلم کو بہت پسند تھیں جن میں بیٹھ کر زندگی کے تجربات اور دانش مندانہ باتیں سننے کوملتیں۔ یہاںایک اجتماعی جگہ ہوتی جسے مقامی زبان میں دارا کہا جاتا۔ یہاں سب مل کر بیٹھتے اور اپنی اپنی داستانیں سناتے، پیارمحبت سے اپنے دکھ سکھ شیئر کرتے۔ کسی کی وفات پر انہیں داروں پر دریاں بچھا کر تعزیت، قرآن خوانی اوردعاؤں کا اہتمام کیا جاتا۔ یہی دارے شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے استعمال ہوتے۔ دارا ایک مکمل ادارہ تھا جسے ٹی وی اسکرین اور موبائل کی چھوٹی اسکرینوں نے ہڑپ کرلیا ہے۔ اب انسا ن اپنے سچے واقعات دارے پر نہیں سناتے بلکہ اس کی جگہ پیشہ ور ماہرین سوشل میڈیا پر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلیے افواہیں پھیلاتے ہیں، غیرمصدقہ اطلاعات اور خبریں جاری کرتے ہیں، سنسنی اورہیجان کوفروغ دیتے ہیں اور جھوٹ کو پروان چڑھاتے ہیں حالانکہ سوشل میڈیا جدید دور کی ایک نعمت وسہولت ہے جسے ہم مثبت طریقے سے استعمال نہیں کرپارہے۔
’’آوازِمسعودلِلہ‘‘ میں مصنف بدلتی دنیاکاذکرکچھ یوں کرتاہے۔
’’ میں اس لحاظ سے بڑا خوش قسم ہوں کہ میں نے ایک زندگی میں دوزندگیاںجی ہیں۔ اپنی زندگی میں دوصدیاں آتے اور جاتے دیکھی ہیں۔ انیسویں اوربیسویں صدیوں کے بدلنے کے دوران دنیابھی بدل گئی۔ لوگوں کے رویے، مزاج، رہن سہن، سوچ و فکر، تفریح کے ذرائع، خوشی اورترقی کے معیارات رسم ورواج حتٰی کہ کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھے کے طورطریقے اورمعمولات تک بدل گئے ہیں۔ میں نے اورمیری نسل کے لوگوں نے مٹکے کاپانی بھی پیاہے اورفریج سے بھی، کنویں کاپانی بھی اور منرل واٹر بھی۔ ساگ، مکئی اورباجرے کی روٹی بھی کھائی ہے اوربرگرسے بھی لطف اندوز ہوئے ہیں، ٹی وی اورفلم کی سکرین پربلیک اینڈوائٹ نشریات بھی دیکھی ہیں اوررنگین ایچ ڈی تصاویربھی، بیلوں سے ہل چلتے دیکھے اور جدید ٹریکٹروں سے بھی، دار ے بھی دیکھے اورکمیونٹی سینٹرزبھی۔ ہم وڈوانی کرنے روڑی پربھی گئے اور جدید واش رومزکی سہولت سے بھی مستفیہوئے جہاں جدیداور حساس سینسرزکے ذریعے نشیب وفرازکوبہرہ ورکردیاجاتاہے۔ میں نے دیہاتی زندگی بھی انجوائے کی اورشہری زندگی بھی گزاری، گویاایک جیون میں دوزندگیاں گزاریں۔ ‘‘
اپنے آبائی علاقے لِلہ کی خصوصیات مصنف کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔
’’لِلہ کویہ سعادت حاصل ہے کہ یہاں بہت بڑی بڑی روحانی شخصیات ہوگزری ہیں جن کی نسل صاحبزادگان کی صورت میں علم ونورکی روشنی سے منورہے اوران روحانی بزرگوںکامعاشرے میں علمی، سماجی اورعملی لحاظ سے کردار اتنا شاندار اور موثر ہے کہ دور دور سے لوگ ان کے مرید ہونے چلے آتے ہیں۔ ان کی خانقاہوں پراہل فکرونظراورہرفقہ کے علمائے کرام اور اساتذہ کی ایسی محفلیں ہوتی ہیں کہ جس کے علم و دانش کافیض دوردورتک پھیل جاتاہے۔ جہاں لِلہ کی دھرتی نے کئی حافظ قرآن اور اہل فکر پیدا کیے وہیں یہ سرزمین کڑیل، بہادر اورسخت جان لوگوں کی دھرتی مانی گئی۔ معمولی باتوں پر جھگڑااورقتل وغارت لِلہ کی ایک اوروجہ شہرت ہے۔ کسی گھر میں کھانے کو کچھ ہوناہو، ایک سے زیادہ بندوقیں اوردیگرآتشیں اسلحہ ضرور ہوگا۔ ‘‘
مسعود اسلم لِلہ نے 1987ء میں پنجاب یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرزکی ڈگری حاصل کی اور پھر پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا۔ انکی پہلی تقرری بطورسوشل ویلفیئر آفیسرہوئی اورمانانوالہ ضلع شیخوپورہ میں پوسٹنگ بھی ہوگئی۔ وہاں ڈپٹی ڈائریکٹر طاہربٹ تھے جو چھ فٹ طویل قامت باریش نفیس انسان تھے۔ مسعوداسلم نے دلچسپ واقعہ بیان کیاہے۔
’’وہاں مقامی زمیندار اور این جی اوکے صدرریاض خان نے اپنے ڈیرے پردعوت کااہتما م کیا۔ طاہربٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر چوہدری مزمل اور چند ضلعی افسران کے ہمراہ تشریف لائے۔ ریاض خان صاحب نے بہت ہی پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ بکروں سے لے کر دیسی مرغ، تندورکی روٹیاں، آم سمیت لاتعداد ڈشیں دسترخوان پرسجی ہوئی تھیں۔ مہمان خصوصی طاہر بٹ کوخاص طور پرتمام ڈشیں پیش کی گئیں۔ موصوف نے پورے بکرے کی چانپیں، دیسی مرغ کی کم ازکم درجن بھی ٹانگیں، پلاؤ اور دیگر ڈشوں کے ساتھ وہ بے رحمانہ اور پرشوق سلوکی کیاکہ دیکھنے والوں کی عقل حیران رہ گئی۔ جب آموں کی باری آئی تو اتنا کچھ کھانے کے باوجود بٹ صاحب نے نہ صرف دو تین درجن آم نوش فرمائے بلکہ لسی کا پورا جگ بھی پی گئے۔ کھانے کے بعد جب ریاض خان کے ملازم نے ٹوتھ پکس پیش کیں توبٹ صاحب نے پوچھا یہ کیا ہے؟ ملازم نے کہا سرجی یہ ٹوتھ پکس ہیں۔ اس پر بٹ صاحب نے فریایا، اوئے کو جھیا میں کھادا کیہ اے جیہٹرا دنداںوچ پھس گیا اے۔ (یعنی بے وقوف میں نے کھایا کیا ہے جو دانتوں میں پھنس جائے۔ ‘‘
اس پوسٹنگ کے دوران مقامی ایم پی اے اور ایم این اے کے ذریعے جعلی سرٹیفیکیٹ سے گرانٹ حاصل کرتے۔ جعلی ثابت ہونے پرمحکمہ کے ڈی جی کواپروچ کرکے معاملہ دبا دیاجاتا۔ اسی طرح بین المال سے جہیز فنڈز کے لیے مقامی سیاسی لوگوں کی وساطت سے درخواستیں چلی جاتیں اور چیک بن کرآجاتے۔ مگرمسعودصاحب ذاتی طور پر انکوائری کرنے لگے توعجیب انکشافات ہوئے۔ ’’مقامی این جی اوکے صدر کی سماجی خدمات سے بہت متاثر ہوئے۔ وہ حج پرتشریف لے گئے تو انہوں نے واپسی پردرخواست کی کہ انہیں ایئرپورٹ سے ریسیوکروں۔ میں نے معصومانہ خواہش پر خوشی کا اظہار کیا اوراپنے انسپکٹرز کو حاجی صاحب کوجہازسے باہرلانے کا ٹاسک دے دیا۔ حاجی صاحب آتے ہی مجھ سے بغلگیر ہوئے، مبارکباد وصول اور الگ ہوتے ہی غلاف میں لپٹاہوایک قرآن مجید مجھے تھما دیا۔ اس سے عظیم تحفہ بھلا اور کیا ہوسکتا تھا۔ لیکن مجھے یاد آیا کہ میں توباوضو نہیں ہوں لہٰذا میں نے حاجی صاحب سے کہا کہ ابھی آپ اسے اپنے ہی پاس رکھیں اور سامان کی فکر نہ کریں حاجی صاحب رازداری سے مجھے ایک طرف لے گئے اور کان میں سرگوشی کی۔ ’’سے پکڑ لیں، اس میں دو گھڑیاں رکھی ہیں جو وہ کسٹم والوں سے چھپانا چاہتے تھے۔ ‘‘ یہ بات سن کر میرا جسم سن ہوگیا اور نہ صرف حاجی صاحب کے مذہبی حلیے، کردار، این جی او کی خدمات کاجوبت میرے ذہن میں تھا وہ دھڑام سے ریت کی دیوار کی طرح گرگیا۔ اس کے بعد کسی حاجی کوریسیوکرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ ‘‘
’’آوازِمسعودلِلہ ‘‘ آپ بیتی بھی ہے اورجگ بیتی بھی، اس میں سفرنامہ کالطف بھی اورشخصی خاکوں کابھی اورسیاسی، معاشرتی ومذہبی انتہاپسندی، کرپشن اوربدعنوانی کے چشم دید واقعات بھی مسعوداسلم صاحب نے پیش کیے ہیں۔ جن کے نتیجے میں بالآخر انہیں وطن کو چھوڑ کر کینیڈ امنتقلی کا فیصلہ کرنا پڑا۔ مسعوداسلم جب میو ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر تھے، اس وقت ڈاکٹر منیرالحق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ باریش اورپانچ وقت کے نمازی تھے۔ اس کاعبرتناک واقعہ انہوں نے بیان کیاہے۔
’’مجھے ایم ایس آفس سے ایک چٹ موصول ہوئی کہ فلاں انجکشن اپنے میڈیکل اسٹورسے لے کرفوراً ایم ایس آفس بھجواؤں۔ میں نے ان کے اسٹاف آفیسرکوفون کیا کہ یہ کس مریض اورکس مرض کے لیے ہے کیونکہ زکواۃ فنڈز سے ادویات دینے کا ایک طریقہ کار ہے۔ اسٹاف آفیسر نے کہاکہ ایم ایس صاحب مصروف ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ انجکشن بھیجنے کاکہاہے، انکوائری کرنے کانہیں، یہ انجکشن ایڈیشنل سیکریٹری کو بھیجنا ہے، لہٰذا فوری بھجوایا جائے۔ میں خودچٹ لے کر اپنے کنٹریکٹرکے میڈیکل اسٹور پر چلا گیا اور انجکشن کی قیمت اورنوعیت دریافت کی۔ دکاندار نے بتایا کہ ٹیکے کی قیمت بیالیس ہزار روپے اور یہ جنسی عمل کے لیے استعمال ہوتاہے۔ میں نے واپس آکر ایم ایس آفس فون کیاوہاں سے جواب ملا آپ خود آفس آئیں۔ میں نے چٹ کی فوٹوکاپی کراکے اپنے پاس محفوظ کرلی۔ ایم ایس کے دفتر میں داخل ہوا تو وہاں کئی سینئر ڈاکٹرز اور پروفیسرز میٹنگ کے سلسلے میں موجودتھے۔ ایم ایس نے مجھے دیکھتے ہی چڑھائی شروع کردی کہ اب تم میری انکوائری کروگے۔ منیرالحق کی آنکھیں لال ہوگئیں، بھنویں تن گئیں غصے میں میٹنگ کے شرکاء سے جن کی اکثریت مجھے جانتی تھی، کہنے لگے: ’’میں نے اس کو بیٹا بنایا تھا، یہ میرا باپ نکلا۔ ‘‘ میں نے کہا ’’غریبوں، یتیموں اور نادار مریضوں کے لیے زکواۃ فنڈ سے ایڈیشنل سیکریٹری کے لیے بیالیس ہزار روپے کاسیکس کا قیمتی ٹیکہ لے کردوں توبیٹا اور انکار کروں تو باپ!‘‘ انہوں نے شدیدغصے میں اپنے پی اے کوحکم ددیا کہ فوراً سیکریٹری سوشل ویلفیئر کو فون ملائے اور مجھے کہا کہ جائیے کل آپ کا ٹھکانا کہیں اور ہوگا۔ ‘‘
ایک اورواقعے نے مسعوداسلم کوسمجھادیاکہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں اقتدارکس کے پاس ہے۔
’’چھوٹے بھائی محبوب کی رسالپورمیں کیڈٹ شپ کے دوران میں ہرہفتہ رسالپورچلا جاتا، جہاں میرے دوست نشاط شیخ کے بھائی میجرناصرآئی ایس آئی میں تعینات تھے۔ ایک بار میں وہاں ٹھہرا ہوا تھا کہ کہنے لگے تیار ہوجاؤ قاضی حسین احمد کے بیٹے کے ولیمے میں جانا ہے وہاں میری ڈیوٹی لگی ہوئی ہے اور بہت سے وی وی آئی پیز وہاں آرہے ہیں۔ ہم دونوں پہنچے تووہاں لاتعداد سیاسی قائدین اورجرنیل آئے ہوئے تھے۔ جب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل آصف نوازجنجوعہ کی گاڑی آئی تو احساس ہوا کہ حکمران کون ہیں۔ سب کچھ جیسے رک سا گیا ہو اتنا پروٹوکول، اتنی دہشت، اتنا خوف کا ماحول تھا کہ خدا کی پناہ۔ کچھ لمحوں بعد صدر اسحاق خان آئے تواسی آرمی چیف کواس جانب استقبال کے لیے لپکتے دیکھا تاہم یہ محض آئینی اور روایتی تھا۔ صدراسحاق خان اور جنرل آصف نوازجنجوعہ کی بارعب شخصیت اور وقار دبدبہ دیکھنے کے بعد ویسے مجھے بعد میں آنے والے صدور اورچیف جچتے ہی نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد کئی وزیراعظم آئے لیکن بھٹو کی سحرانگیز شخصیت کے آگے اکثر بے وقعت لگے بلکہ اس پروقار عہدہ کی تذلیل کا باعث بنے۔ ‘‘
ایک دلچسپ اقتباس ملاحظہ کریں۔ مسعوداسلم کے بھائی رشیدزمبابوے میں پاکستان ایمبسی میں پاکستانی کمیونیٹی کے مسائل، پاسپورٹ و ویزاکے انچارچ آفیسر تھے۔ انہوں نے مسعود صاحب کوزمبابوے بلایا۔ اس وقت پاکستان کے سفیررفعت مہدی نے سفارت خانہ کی جانب سے زمبابوے کی مسلمان کمیونیٹی کوضیافت دی۔
’’سفیر صاحب نے رشید بھائی کو ہدایت دی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صرف حلال گوشت استعمال کیاجائے۔ رشید بھائی نے نہ صرف ہوٹل منیجرسے خود بات کی اور اسے حلال فوڈ کی حساسیت کااحساس دلایا۔ جب اس سے حلال گوشت کے تصور اور لوازمات کا پوچھا تو اس کاجواب اطمینان بخش تھاکہ مسلمان حلال گوشت اور یہودی خدا کے نام پرذبح شدہ یعنی کوشرگوشت کو ہی ترجیح دیتے ہیں اس کے علاوہ ہرقسم کے گوشت کوحرام قراردیتے ہیں۔ ہر طرح کی تسلی کے بعد فائیو اسٹار ہوٹل کو کھانے کا آرڈر دے دیاگیا۔ ایک روز پہلے رشید بھائی نے منیجرسے ظہرانہ کے متعلق تمام امور پر تبادلہ خیال کیا اوراس بات پر زور دیاکہ گوشت سو فیصد حلال ہوناچاہیے۔ دعوت کے روز چاک وچوبند ویٹرز نے کھاناآراستہ کرنا شروع کر دیا۔ سفیررفعت مہدی اور رشید بھائی بہترین انتظامات پرخوشی سے سرشارتھے۔ تاہم بیگم رفعت مہدی نے رشیدبھائی کوایک طرف لے جا کر پوچھا کہ آپ کواطمینان ہے کہ سارا فوڈحلال ہے؟ انہیں شک ہے کہ وہ پورک یعنی خیزیرکاگوشت ہے۔ جب عملے کے لوگوں نے بھی تصدیق کردی تورشید بھائی کے تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی، انہوں نے جنرل منیجر کو جا پکڑا کہ حلال گوشت کی ہدایات کے باوجودغیرحلال فوڈ کیوں سرو کیا گیا؟ منیجر نے انتہائی اعتمادسے جواب دیا۔ ’’میں خود انتظامات کی نگرانی کرتا رہا ہوں اورجہاں تک سورکی ڈش رکھنے کی بات ہے تو وہ ہماری مہمان نوازی اور فراخ دلی ہے جوبغیرکسی اضافی ادائیگی کے مہیا کی گئی ہے۔ ہم نے سورکوبطورخاص ملازمین کی ڈیوٹی لگا کر مسلمانوں کی طرح چھری پھیر کر ذبح کیا اور اس میں ہمیں بہت دقت کابھی سامنا کرنا پڑا۔ کہ سور کو ذبح کرنے کی غرض سے لٹانے کے لیے بہت سے افرادکوشریک ہوناپڑا۔ آپ ابھی بھی خوش نہیں ہیں جبکہ ہم نے یہ ڈش مفت سرو کی ہے۔ ‘‘مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ ڈشز اٹھوادی گئیں اورمہمانوں کو کانوں کان خبرنہ ہونے دی۔ ‘‘
’’آوازِمسعودلِلہ‘‘ میں مصنف نے کئی ایماندار آفیسرزکابھی ذکرکیا۔ جو شاندارانداز میں سروس مکمل کرکے ریٹائرہوئے اوربہت سے ریشہ دوانیوں کے باوجود ملازمت چھوڑ گئے یافارغ کردیے گئے۔ انہوں نے ملک کے تین حکمرانوں محمدعلی جناح، ذولفقارعلی بھٹو اوربے نظیر بھٹوکوبہترین قرار دیا۔
مسعود اسلم لِلہ کی شادی انیس جنوری 1994ء کوہوئی۔ ان کے پانچ بچے ہیں۔ بیگم نے فائن آرٹس میں ماسٹرز کیاہے۔ حالات سے تنگ آکر مسعود اسلم صاحب نے بالآخر کوچ کا فیصلہ کیا، لکھتے ہیں۔
’’میری اہلیہ ریحانہ کالج لیکچرر جیسے مقدس پیشے سے وابستہ تھیں لیکن سروس کے دوران نظاماتی کمزوریوں کے تلخ تجربات، معاشرتی رویوں، گھریلوں حالات، معاشی صورتحال اورسرکاری اداروں میں بدبودارسیاسی وعسکری مداخلت نے ہم دونوں کو ہجرت کے بارے میں سوچنے پرمجبورکردیا۔ ویسے بھی درخت ہجرت نہیں کرتے، پرندے ہی ہجرت کرتے ہیں، لیکن ہجرت کوئی معمولی عمل نہیں ہوتا، یہ سوچ کرہی دل دہل جاتاہے۔ ماں باپ جیسی عظیم ہستیوں، خاندان اور دوست احباب کو خیرباد کہنا آسان نہیں ہوتا۔ اپنے وطن کی سرزمین سے جداہوناجس میں آپ کے بزرگوں اور پیاروں کی قبریں ہوں ایک مشکل ترین فیصلہ ہوتاہے۔ لیکن حالات اس نہج پر پہنچ جائیں جب زمین تنگ ہونامحسوس ہونے لگے، انصاف کی نفی ہوناشروع ہوجائے جوزندگی کے لیے آکسیجن کادرجہ رکھتی ہے، جب آپ اپنے سامنے ظلم وناانصافی ہوتی دیکھیں اور کچھ کربھی نہ سکیں توپھرہجرت ہی بہترراستہ ہے۔ ‘‘
مسعوداسلم لِلہ کی کینیڈا ہجرت، وہاں آبادہونے کی داستان بھی بہت دلچسپ ہے۔ مجموعی طور پراس قابل مطالعہ کتاب کی دلچسپی صفحہ اول سے آخرتک قائم رہتی ہے اورپڑھنے والاکسی مرحلے پربوریت کاشکار نہیں ہوتا۔ جمہوری پبلی کیشن نے ’’آوازِمسعودلِلہ‘‘ روایتی حسن سے مزین کی ہے۔ بہترین سفید کاغذ، عمدہ کمپیوٹرکتابت اورجلدبندی، خوبصورت سرورق کے ساتھ صفحات پرمشتمل کتاب کی قیمت نوسوننانوے روپے بہت مناسب ہے اوراس عمدہ کتاب کی اشاعت پر پبلشرفرخ سہیل گوئندی مبارک بادکے مستحق ہیں۔
