Connect with us

سفرنامہ

واپس نہ جا وہاں —— عزیز ابن الحسن

Published

on

"کیا خلقت تھی کہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔۔۔۔ وہ یادوں ہی یادوں میں دور تک گیا۔۔۔۔ اور اس نے وہ اعلانات کیے جوایسی ساعت میں کیے جاتے ہیں کہ اس ساعت میں تو وقت اورمعاشرہ دونوں ہیچ دکھائی دیتے ہیں اور محبت کاراستہ جادواں نظر آتا ہے۔ اس ساعت کو اس نے ایک اداسی کے ساتھ یاد کیا” (انتظار حسین)

گزشتہ ہفتے سے آپنے آبائی علاقے میں ہوں اس دفعہ کا پھیرا تقریبا آٹھ نو برس بعد ہوا ہے۔ یا تو سارا سارا دن گھر میں بہنوں بھانجوں اور بھتیجوں کے ساتھ بیٹھا رہتا ہوں یا شاموں راتوں کو شہر کی دیکھی بھالی گلیوں سڑکوں اور اپنے پرانے محلے کے نواحی کوچوں میں آوارہ پھرا کرتا ہوں۔ شہر کی گلیاں اور پرانا محلہ دیکھ کر شدتِ نابرداشت سے آنکھیں بند کر لیتا ہوں تاکہ یہاں کے نئے نقشے تخیل میں بسے بچپن اور لڑکپن کے گلی کوچوں کے تصور کو خراب نہ کریں۔ میں ان در و دیوار اور کوچہ و بازار کو خوب پہچانتا ہوں مگر مجھے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں اب میرے لئے شناسائی کی چمک کم کم جاگتی ہے۔

قریہ و بازار سڑکیں اور گلیاں وہی ہیں بعض جگہ پہلے سے وسیع اور کہیں کہیں کچھ تنگ بھی ہوگئی ہیں مگر دونوں اطراف میں مارکیٹیں دکانیں اور مکان اتنی تیزی سے پھیلے اور بازار اس تیزی سے بھرے ہیں کہ بہت سے پہچانے ہوئے راستے بھی آسانی سے پہچانے نہیں جاتے۔ کسی شہر کو گوگل میپ پر دور سے دیکھنے پر جس طرح سڑکیں اور گلیاں ایک دوسرے میں الجھی لکیروں کی طرح نظر آتی ہیں اسی طرح شہر میں جانے پہچانے راستے میرے لئے اب ایک دوسرے میں گڈمڈ دھاگے بن کے رہ گئے ہیں لیکن باہر گم ہوتے راستوں کو کئی دفعہ یاداشت میں محفوظ نقشے کی مدد سے آنکا اور اکثر درست منزل پر پہنچا مگر پرانی شناختیں اکثر بدلی بدلی سی نظر آئیں۔ جس تراہے پر لمبے سبز کرتے اور عمامہ والے حکیم ابراہیم صاحب کا دواخانہ اور اس کے بائیں طرف لالہ خادم کا لکڑی کا ایک بڑا سا ٹال ہوا کرتا تھا وہ سب ملیا میٹ ہوکر وہاں کھمبیوں کی طری نئی دکانیں اتنی تیزی سی اگ آئی تھیں کہ پہلی نظر میں ہزاروں دفعہ کے گاہے ہوئے اس راستے کو بھی پہچان نہیں سکا۔ کافی دیر تک یقین نہ آیا کہ یہ وہی سڑک کہ جسے بچپن سے لے کر لڑکپن تک ہزاروں مرتبہ قدموں سے لتاڑا اور سیکڑوں دفعہ سائیکل کے پہیوں تلے روندا ہے۔ اس سے آگے نہ فیروز برف فروش کی دکان نظر آئی نہ کہیں نیما دھوبی کے استری خانے کا نشان ملا اور وہ جو چوب و چِگل والے شیدو مکرانی کی بڑی سی گارگاہ تھی جس کے دوسری طرف اس کے باپ نے لکڑی کا خراد لگا رکھا تھا اس کا بھی کہیں پتا نا تھا۔ بس سڑک کے دونوں اطراف میں موبائل فون کی دکانیں ہی دکانیں تھیں۔ حیران و ششدر کچھ دیر کھڑا یہ سب دیکھتا رہا اور پھر سر نیہوڑائے وہاں سے تیزی سے نکل گیا!

 نظر پر بار ہو جاتے ہیں منظر
جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو

ایک صبح موٹرسائیکل پکڑا اور نواب شاہ روڈ سے نکلتے اپنے پیدائش کے گاؤں گیارہ چک کی طرف جا نکلا۔ تیس پینتیس برس بعد اپنے پرانے گاؤں گیا تھا سڑک لمبا موڑ کاٹ کر بائیں ہاتھ مڑی تو سڑک اور اس کے کنارے کا قبرستان خوب جانا پہچانا لگا مگر آگے کچھ نہیں۔ قبرستان کی آبادی بڑھ چکی تھی پرانی قبریں ڈھے گئیں اور نئ آباد ہوچکی تھیں۔ پرائمری اسکول کے پاس جہاں بہت بڑا تالاب ہوا کرتا تھا جس میں بچے اپنی تختیاں دھوتے چھٹی کے وقت ڈبکیاں لگاتے ایک دوسرے پر پانی پھینکتے تھے وہ خشک پڑا تھا البتہ اسکول کی عمارت قدرے بہتر ہوگئی تھی۔

86 -1985 میں محمد خان جونیجو کی ایک اسکیم کے تحت قائم نئی روشنی اسکول میں بطور استاد میری پہلی ملازمت کا آغاز ہوا پوسٹنگ کا مرحلہ تھا جن دو چار جگہوں پر آسامیاں خالی تھیں ان میں ایک گیارہ چک بھی تھا اپنے بچپن کے اس گاؤں سے روزگار کا آغاز کرنا مجھے نیک شگون لگا تھا۔ اس کے بعد دسیوں ملازمتیں تبدیل کیں مگر یہ اس کچے کوٹھوں اور گرد میں اٹے راستوں والے گاؤں کی دھول کی برکت ہی تھی کہ اللہ نے ہر بعد والا مرحلہ میرے لئے پہلے سے بہتر رکھا۔ سابقہ زندگی کے نشیب و فراز اور ملازمتوں کے اتارچڑھاؤ دیکھتے ہوئے اللہ سے واثق امید ہے کہ بچی کچھی عمر بھی زندگی کے ابتدائی و وسطی حصے کی نسبت بہتر گزرے گی۔

گیارہ چک کے جس پرانے مکان والے محلے میں عمر کے ابتدائی دوچار سال گزرے تھے وہاں امی کی ایک منہ بولی بہن، جنہیں ہم خالہ بی بی کے نام سے پکارا کرتے تھے، کا بِنا برآمدے کے کچے کوٹھوں والا ایک گھر تھا جس کے بڑے سے صحن میں ہم بچے سارا سارا دن ہلڑ مچایا کرتے تھے۔ کچی مٹی کی دیواروں پر بارش کی کنواری بوندیں پڑنے کے بعد اٹھنے والی مٹی کی سوندھی خوشبو سے پہلی آشنائی اسی گھر میں ہوئی تھی۔ شاید اسی لیے ساری زندگی اپنی مٹی اپنی زمین اپنی ثقافت اپنی موسیقی اپنی زبان و تہذیب اور اپنا ادب ہی ترجیح اول رہے

شدہ است سینۂ ظہوری پر از محبتِ یار
برائے کینہ اغیار در دلم جا نیست

خالہ بی بی گھر کے احاطے میں ایک درخت کے نیچے بابا مولوی کرم داد کی چوبی نماز چوکی مستقل پڑی رہتی تھی جسکی پائنتی پاس پیتل کا پانی بھرا کروا دھرا ہوتا تھا۔ نور کے تڑکے بابا مولوی کرم داد کے قرآن پاک کی پر سوز تلاوت سے سارا گھر گونجا کرتا تھا۔ یہ گھر اب بھی کم و بیش انہی حدود میں موجود تھا۔ گھر کے عقب سے آکر بیرونی دیوار کے ساتھ سے گزتا ایک کھالا (واٹر کورس) تھا جسے نصف صدی بعد اب بھی اسی طرح پایا اسے دیکھ کر ویسی ہی خوشی ہوئی جیسے کسی ہمدم دیرینہ کے ملنے پر ہوتی ہے۔ اس پر نظر پڑتے ہی بچپن میں اس کے گدلے پانیوں میں نہاتے ہوئے جسم پر لگنے والی گیلی مٹی کے لمس کے احساس نے پچاس برس بعد بھی جسم میں طراوت سی دوڑا دی۔ ایک اعتبار سے یہ کھالا گاؤں کی چند ایک باقی بچی پرانی شناختوں میں سے ایک ثابت ہوا۔

فروری کا وسط ہے مگر اسلام آباد کے برعکس یہاں کی دھوپ میں اب ایک گوارا سی تیزی آچکی ہے۔ چمکیلی رسیلی دھوپ میں بہتے کھالے کے ایک طرف پہلے ہی کی طرح اہل قریہ کے گھر اور مکان ہیں تو دوسری طرف دور تک پھیلے کھیت ہیں۔ ان میں گندم کی ہری بھری فصلیں خوب لہکی نظر آئیں۔ سرسوں کے پیلے پھولوں کی بسنتی خوشبو البتہ اپنے آخری دموں تھی۔ انھیں کھیتوں میدانوں کے بیچ بچپن کے زمانے میں باغ علی کا ایک آموں کا باغ ہوا کرتا تھا۔ تپتی گرمی کی صبحوں دپہریوں اور شاموں میں بڑے بھائی کبھی کندھے پر جال ڈالے کبھی چَھرہ پندوق پکڑے اپنے دوستوں کے ساتھ ان زمینوں میں تیتر کے شکار پر جایا کرتے تو ان کے پیچھے پیچھے موسم کی سختی کے احساس سے بےپروا ایک دس گیارہ سالہ بچہ بھی نوکیلے کانٹوں والی جھاڑیوں میں درانہ میلوں تک ننگے پاؤں بھاگا پھرتا تھا۔ آج وہ سب یاد کرتے ہوئے جھرجھری سی آرہی تھی: سود و زیاں کے خیال سے خالی اور رنج و محن کے تصور سے آزاد وہ کیسا زمانہ تھا جب نہ سردی کی کوئی پرواہ تھی گرمی کا خوف، نہ تکھاوٹ کا کوئی پتا تھا نہ وقت کے گزران کا کوئی احساس تھا!

اس کھالے کے کنارے والے گندم کے کھیت سے واپس پلٹا تو گاؤں کے وسط میں پرائمری اسکول میں طلبا کے زور زور سے پڑھنے کی آوازیں کانوں میں آئیں۔ کسی سحر زدہ بچے کی طرح کھنچتا ہوا اسکول کے اندر چلا گیا۔ صحن نما میدان میں زمین پر بیٹھے پڑھتے بچوں اور درختوں کے نیچے منڈلی جمائے اساتذہ کرام سے ملاقات ہوئی۔ انہیں اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی کے استاد کی آمد کا جب پتا چلا تو بہت تکریم کی۔ انہیں جب بتایا کہ اسلام آباد کی یونیورسٹی کا یہ استاد اسی گاؤں کی مٹی کا پتلا ہے تو ان کی سرخوشی دیدنی تھی۔ انہوں نے گاؤں کے خالص دودھ کی بنی چائے پلائی جسکا سواد انکی محبت نے دونا کر دیا تھا۔

گاؤں میں ایک نئی چیز بہت بڑے زیرتعمیر ہائی اسکول کی عمارت تھی۔ معلوم ہوا کہ راجہ پرویز اشرف جب وزیراعظم بنا تھا تو چونکہ اس کی ابتدائی زندگی سانگھڑ کے اسی گاؤں میں بسر ہوئی تھی اس لیے اس نے اپنے چک نمبر 11 کو یہ تحفہ دیا تھا۔ یہ بڑا اسکول، پانی کا فلٹر پلانٹ اور بجلی کے بڑے بڑے کھمبے اور گیس پائپ لائین اسی کے دور میں اس گاؤں میں آئے تھے۔ اپنے سابقہ گاؤں کے ساتھ راجہ پرویز اشرف کا یہ پیار دیکھ کر دل سے اس کے لیے دعائیں نکلیں کہ اس نے اپنی جنم بھومی کو بھلایا نہیں۔ اس گاؤں کی یادوں سے جڑی ایک اور شے عالم لوہار کی جگنی ہے۔ عالم لوہار اور اس کی جگنی سے پہلی آشنائی بھی اسی گاؤں میں ہوئی تھی۔ یہ سارے منظر تازہ کرکے دل میں جذب کئے اور چند گھنٹوں میں اس طلسم نگر کے گرباد سے نکل آیا۔

بچپن کے دور کا کچھ حصہ اسی چک کے قریب ہی کی ایک اور گوٹھ میں گزرا تھا۔ اُن دور کی یاد تازہ کرنے کیلیے ایک ڈیڑھ گھنٹہ وہا ں کا چکر لگایا۔ یہ کوئی باقاعدہ گوٹھ نہیں بلکہ کھیتوں کے بیچوں پیچ لوڑھا (کانٹے دار جھاڑیوں کی باڑ) سے گھری سَر کی بنی چھونپڑیوں والے دوچار گھروں کی کچی سی بستی تھی جسکا نام "شفیق گوٹھ” بتایا گیا۔ پچاس برس پہلے بڑے بھائی نے یہاں ایک خراس (پنجابی "کھراس”، بیل چکی) لگا رکھا تھا۔ بھائی کے ساتھ کبھی کبھار میں بھی یہاں آیا کرتا تھا۔ شفقیق گوٹھ چلا تو گیا مگر اسے پہچان بالکل نہیں پایا سارا منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ لوڑھا کے باہر سے کسی مکین کو پکارا، قادر بخش نامی ایک ادھیڑ عمر مقامی سندھی ہاری باہر نکلا اور”ڀلی ڪري آیا، سائین!” کہتے ہوئے اس نے استقبال کیا۔ پوچھا کہ "یہاں کبھی کوئی کھراس بھی لگایا گیا تھا”؟ ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا

"بالکل بالکل، میں جب دس برس کا تھا یہاں اس جگہ ایک کھراس ہوا کرتا تھا ہم لوگ اپنے بیل ساتھ لاتے اور کھراس میں جوت کر اپنی گندم پیسا کرتے تھے”

میں نے بتایا کہ وہ کھراس میرے بھائی کا تھا۔ قادر بخش کو یقین نہ آ رہا تھا کہ ایک آدمی پچاس سال بعد صرف اس لئے یہاں آیا ہے کہ اپنے بچپن کی گوٹھ کو ایک نظر دیکھ لے۔ شفیق گوٹھ کے اس ہاری سے ملاقات کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ قادر بخش سے باتیں کرتے ہوئے میں نے بھی خود کو بالکل ساختہ طور پر سندھی بولتے پایا۔ اس روز اپنی بھولی بسری سندھی ازخود تازہ ہونے پر بہت مسرت ہوئی تھی!

شہر میں پرانے دوست اس دفعہ بہت کم نظر آئے۔ زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ میں یہاں آیا تو اکبر کو یہاں نہ پایا۔ اپریل 19 میں خبر آئی تھی کہ اکبر معصوم نہیں رہا۔ 1986میں مستقل طور پر اپنا پیارا سانگھڑ چھوڑنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے اپنے شہر کو اکبر سے خالی پایا۔ اس گلی کی طرف مڑا جہاں اکبر کا گھر تھا مگر اس کے در و دیوار دیکھے بنا لوٹ آیا اکبر کہ یہ اشعار دیر تک پیچھا کرتے رہے:

سُن، ہجر اور وصال کا جادو کہاں گیا
میں تو کہیں نہیں تھا مگر تُو کہاں گیا

جب خیمۂ خیال میں تصویر ہے وہی
وہ دشتِ نامراد وہ آہو کہاں گیا

بستر پہ گر رہی ہے سیہ آسماں سے راکھ
وہ چاندنی کہاں ہے، وہ مہ رُو کہاں گیا

جس کے بغیر جی نہیں سکتے تھے، جا چکا
پر دل سے درد، آنکھ سے آنسو کہاں گیا

پھر خاک اُڑ رہی ہے مکانِ وجود میں
اے جانِ بے قرار، وہ دل جُو کہاں گیا

اٹھی تھی دل میں یاد سی معصومؔ کیا ہوئی
چمکا تھا جو خیال میں جگنو کہاں گیا

جب اکبر زندہ تھا اس زمانے میں لاہور سے سانگھڑ آنے پر میرے وقت کا بڑا حصہ اپنے بھتیجوں بھانجوں کے گھر سے زیادہ اکبر کے پاس گزرتا تھا۔ صبح دس بجے کے قریب اس کے پاس چلاجاتا اور رات گئے سونے کے لئے خاتون فاطمہ ہائی سکول کے قریب بھائیوں کے گھر لوٹتا۔ شہر میں نہ کسی اور سے ملنے کو جی چاہتا نہ کہیں اور جانے کو من کرتا تھا بلکہ پورے شہر میں کوئی اور ٹھکانہ نظر ہی نہ آتا تھا۔ مگر اب جب کہ اکبر نہیں تھا سارا شہر باہیں پھیلائے سامنے پڑا تھا سو اس دفعہ شہر میں خوب آوارہ گردی کی۔ موٹرسائیکل اٹھاتا اور بلا مقصد کہیں بھی کھوجانے کیلیے کسی بھی گلی میں گھس جاتا اور کہیں سے کہیں سے جا نکلتا۔ ہر کوچہ کسی طلسم آباد کی طرح دامن دل کھینچتا اور ملال کی گرد سے بھر دیتا۔

اس دفعہ موتی مسجد والے اس محلے سے بھی گزرا میرے بچپن میں جس کی مرکزی سڑک کے دونوں طرف آمنے سامنے، باہر نکلے لکڑی کے چجھوں والے دو چوبارے ہوا کرتے تھے۔ معلوم نہیں کیوں دائیں طرف والے مسجد کے ساتھ والے چوبارے سے بچپن میں بہت ڈر لگتا تھا۔ دماغ کے کسی گوشے میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ اس چوبارے کے بڑے سے کالے چھجے پر اللہ میاں رہتا ہے اس کی نظر پڑ گئی تو ہاتھ لمبا کرکے نیچے سے اچک لے گا۔ کبھی مجبوری میں گزرنا پڑتا تو آنکھیں نیچے کئے دبے پاؤں وہاں سے اس طرح تیزی سے گزرتا کہ کہیں اسے پتہ نہ چل جائے۔ آج جب وہاں سے گزرا تو یہ سڑک دونوں اطراف میں بھرے پرے بازار کا منظر پیش کر رہی تھی۔ ادھیڑ عمری میں اب بچپن کے تخیل سے اگرچہ مکمل طور پر واقعیت کی روشن دنیا میں آ چکا تھا مگر پھر بھی لاشعوری طور پر کنکھیوں سے چوبارے والی اس جگہ کی طرف ضرور دیکھا کیا جس کا چھجا تو کجا پرانے چوبارے کا نقشہ بھی کہیں باقی نہ رہا تھا۔ اب سڑک کی دونوں اطراف دوکانیں ہی دوکانیں تھیں مگر پچاس سال پہلے جمے اس خدائی گھر کے نقشے کو کیسے تخیل سے کھرچ کر پھینکا جائے یہ میں نہیں جانتا! اب خوب معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے کوئی گھر، سرا کوئی جا اس سے خالی نہیں وہ ہر مکان سے ماورا ہے مگر ایک کودکِ نادان کے خیال کردہ اللہ میاں کے تصور کو اس بلند و بالا چھجے سے الگ کرنا اب بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ تخیل میں آباد طلسم کدے واقعیت زدگی کی مٹی گارے میں سّنی ہوئی باہر کی دنیا کی بنسبت بلاشبہ زیادہ پائیدار ہوتے ہیں! ہم انسانوں کا تصور خدا بسا اوقات ایسا ہی ہوتا ہے: اپنی متخیلہ صورتوں کے پیکر کا بنایا ہوا خدا! استغفراللہ

اے برون از وهم و قال و قیل من
خاک بر فرق من و تمثیل من

مگر سوال ہے کہ فرق و تمثیل میں ثموئی ہوئی خیال و خواب میں آباد دنیا، اسکے مکین، افراد اور اشیا کس "زمان و مکان” کے اندر واقع ہوتے ہیں ان کی تعمیر کس مٹی گارے سے ہوتی ہے اس میں تغیر و تبدل کا اصول کیا ہے عالمِ خیال کا تحت و فوق اور حد و تحیّز کیا ہے اس میں وقت کے گزران کا پیمانہ کیا ہے اس کے بننے بگڑنے کا "مادہ” کتنی اور کونسی جگہ گھیرتا ہے؟ کاش ان سوالوں کا جواب ملے تو خارجی زمان و مکان میں تحیّز کی کچھ گتھیاں بھی سلجھ جائیں۔ لیکن خارجی زمان و مکان بھی کیا واقعی خارج میں موجود ہیں، یہ ایک الگ معمہ ہے!

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

چھجے والے چوبارے سے سیدھی جاتی گلی سے دائیں طرف چڑھائی چڑھتی گلی یا دو بل کھاتی گلیاں پیچھے کی طرف سے ہوکے گزریں تو بائیں ہاتھ ایک مسجد آتی ہے جس کی تعمیر کی پرانی رودادوں میں حافظ محمد اکبر کا لکھا یہ جملہ بچپن میں کبھی پڑھا تھا کہ بگولوں کی اس گزرگاہ پر کبھی ایک پرانی ادھ گِری چھت والی کوٹھڑی سی تھی جس پر دن میں چمکادڑ الٹی لٹکتیں اور جس کے دوسرے کونے میں کتیا نے بچے دے رکھے تھے۔ بارشوں اور گرد بادِ روزگار سے جب یہ کوٹھڑی ملیا میٹ ہوگئی تو عام انسانوں کی سی نیک و بد شہرت والے حافظ صاحب نے یہ جگہ صاف کرکے سن 50 کے عشرے میں یہاں ایک کچی سے محراب کی نیو رکھی تھی جو آگے چل کر مدرسۂ قاسم العلوم نام کی ایک پوری عمارت بنی اور”چھوٹی مسجد” کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس مسجد کے مینارے سے سہج سہج اترتا، اطراف محلہ میں پھیلتا، اپاہچ ماشکی بابا کی مغرب کی اذان کا ایک مخصوص لحن سات آٹھ سال کی عمر کے زمانے سے یادوں میں اتنا گہرا پیوست ہے کہ آج پچاس سال بعد اسکی بازگشت سوتے میں بھی یوں سنائی دیا کرتی ہے جیسے ابھی کل کی بات ہو۔ نا کانوں سے ماشکی بابا کی مغرب کی اذان کا وہ لحن محو ہوتا ہے نہ اس مسجد کے قرب میں واقع اپنے آبائی گھر کے چولھے پر شام کو دھری بڑی آپا کے ہاتھوں بگھار لگی مونگ کی دال کی ایک خاص خوشبو شامعہ سے الگ ہوتی ہے۔ بڑی آپا، جو فی الاصل ماں جیسے ریشم کے پیار والی میری بھابھی ہے، اپنے اسی سالہ بوڑھے جسم کو بیساکھی کے سہارے گھسیٹتے ہوئے ہمارے بچے کھچے گھرانے کیلئے آج بھی رحمت کا سائبان ہے۔ پچپن والی مغرب کی وہ اذان، بگھار لگی مونگ کی دال کی وہ مہک اور بڑی آپا اس گھر سے جڑی میری اولین پرملال یادوں کا انمول حصہ ہیں۔

پچھلے پھیروں کی طرح اس دفعہ بھی سوچتا رہا کہ اپنی اس مسجد میں نیند میں ڈوبی فجر کی ایک ویسی ہی نماز پڑھ پاؤں جیسی بچپن میں صبح کے وقت ابا کی کڑک دار آواز سے جاگنے کے بعد مسجد میں جا کرسوتے جاگتے رکوع و سجدے کے ساتھ پڑھا کرتا تھا اور موقع پاتے ہی پھر وہیں خس کی کُھری چٹائی پر سو جایا کرتا تھا۔ مگر یہ اس دفعہ بھی یہ نہ ہوسکا۔ ہوتا بھی کیسے؟ مسجد کی طرف جاتے یا وہاں سے نکلتے ہوئے اس گھر کے سامنے سے گزرنا پڑتا ہے جسے آخری دفعہ 1995 میں تب دیکھا تھا جب ابا کے انتقال کے بعد اس گھر کو بڑے بھائی نے ایک ہندو گھرانے کے ہاتھ فروخت کردیا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن، بیسیوں دفعہ سانگھڑ میں آنے کے باوجود پھر کبھی اس گلی اس سڑک اور اس محلے سے گزرنے کی ہمت پیدا نہیں کرسکا جو چغتائی روڈ سانگھڑ کے نام سے معروف تھا جس پر یہ گھر واقع ہے۔ بتانے والے بتاتے تھے کہ نئے مالکوں کے آنے کے بعد اندر سے اس گھر کا سارا نقشہ تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں باورچی خانہ تھا وہاں کرشن بھگوان کی مورتی سجی ہے۔ جہاں امی کا نماز والا تخت پوش بچا رہتا تھا اب وہاں گئو سیوا ہوتی ہے قرآن کی تلاوت کے بجائے اب وہاں سانجھ سویرے بھجن سنائی دیتے ہیں۔ اپنے گھر کی اس ہیئت کذائی کا سن کر مجھے یہ بات سمجھ میں آئی تھی کہ مذہب صرف زندہ انسانوں کا نہیں ہوتا بلکہ بے جان مکان درودیوار کی بناوٹ گھر کے نقش و نگار اور اس کے رسم و رواج تک اپنے مکینوں کے معتقدات کے رنگ میں رنگ جایا کرتے ہیں۔ یہی تو کلچر ہے۔ اپنے آبائی گھر کی اس ‘کلچرل ٹرانسفارمیشن’ نے مجھے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زبان ادب آرٹ موسیقی اور کلچر وغیرہ کو سیکولر کہنے والوں کے فریب سے نکال دیا تھا۔

سنا ہے کہ اس مکان میں اب صرف باہر کی سڑک پر جھانکتی دو پرانی کھڑکیاں ہی اپنی سابقہ حالت پر باقی رہ گئی ہیں جو شاید اپنے پرانے مکینوں کو ڈھونڈا کرتی ہیں۔ اب میں اپنے اس آبائی محلے اور گھر کے سامنے سے گزرنے کی اذیت سہنے کی ہمت نہیں کرپاتا کہ مبادا اس در و دیوار پر نظر پڑے اور میں پتھر کا ہوجاؤں۔ اس لیے چھوٹی مسجد میں فجر کی نماز پڑھنا اس دفعہ بھی رہ گیا!

اپنے آبائی علاقے محلے اور بچپن کے گھر کو دیکھنے کی خواہش ہونا ایک فطری بات ہے لیکن گزشتہ 25 برس میں اس گلی سڑک پر سے گزرنے یا چغتائی روڈ محلے میں جانے سے قصداً اس لئے گریزاں رہتا ہوں کہ کہیں اپنے اس مکان پر نظر نہ پڑجائے جہاں میرے گھرانے کے درجن بھر افراد میں سے کسی نے بچپن لڑکپن اور جوانی گزار کے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھا، کیّوں نے شادیاں کیں اور بچوں کے ساتھ کھیلے جہاں امی ابا نے اپنے پوتوں اور نواسوں کی منہ چومے؛ جہاں سخت گرمیوں کی راتوں میں تیز ٹھنڈی ہوائیں اوڑھی ہوئی چادریں اڑا لے جاتیں، جس میں گرمی کی امس بھری راتیں موتیا کی مہک سے معطر رہتی تھیں؛ جہاں کی قدیم ترین یادوں میں نسیم بیگم کا گانا ‘چندا توری چاندنی میں جیا جلا جائے رے’، لتا کا ‘ہوا میں اڑتا جائے مورا لال دوپٹہ ململ کا’، اور شمشاد بیگم کا ‘کبھی آر کبھی پار لاگا تیرِ نظر’ گونجتے ہیں۔ جہاں امی کا صبح کے وقت موٹے حروف والے جہازی سائز کے قرآن پاک کی تلاوت کرنا، انپڑھ ہونے کے باوجود بات چیت میں بےساختہ سیف الملوک کے اشعار بطور محاورہ بولنا اور راتوں کی منڈلی میں بھائیوں کا مولوی غلام رسول عالمپوری کی ‘احسن القصص’ لحن سے پڑھنا یادوں میں آج بھی اسی طرح نقش ہے۔ چغتائی روڈ پر واقع یہی وہ گھر تھا جس سے 1987 میں پہلے امی کا اور 1995 میں ابا کا جنازہ اٹھا تھا اور پھر ہم سب جیتے جی اس گھر سے جنازوں کی طرح اٹھ آئے تھے۔ ۔ ۔ !

بچپن کے سپنوں اور یادوں سے جڑے پرانے محلے مکان گھر ڈیوڑھیاں دالان برآمدے کمرے اور ان کمروں کے طاقچوں، چھتیوں او کارنسوں پر رکھی پرانی چیزیں جب ہم سے جدا ہوجاتی ہیں تو وقت کے گزران سے آزاد ہوکر وہ ہمیشہ کیلیے اسی حالت میں پتھرائی رہ جاتی ہیں جہاں امتداد زمانہ سے پہلے وہ آخری بار دیکھی گئ ہوتی ہیں۔ وہ گھر وہ مکان پھر محض اینٹ گارے اور پتھر کے ڈھیر نہیں رہتے اور نہ ان میں رکھے پلنگ میز کرسیاں اور چوبی جائے نمازیں تانبے کے گلاس تام چینی کے بادیے مٹی کے آبخورے اور پیتل کے کٹورے پھر بے جان اشیاء کے ٹکڑے رہتے ہیں بلکہ یہ سب یاد خزانے کا حصہ بنکر ہمیشہ کیلیے زندہ ہوجاتے ہیں۔ یہی سبب تھا کہ آئندہ کبھی اس گلی محلے سے گزر اس مکان کی طرف نظر کرکے تخیل میں بسے اس خانۂ طلسمات کو آلودہ کرنے کو دل نہیں مانا۔

اسی گھر کے قریب ہی وہ پرائمری اسکول ہے جہاں ستمبر 1969 میں پہلی کلاس میں داخل ہوا اور مئ 1974 میں پانچویں کلاس تک رہا تھا۔ اس دفعہ چالیس پنتالیس سال کے بعد اس اسکول میں بھی جانا ہوا۔ اسکول کا قریب ترین راستہ وہی میرے آبائی گھر سے بائیں طرف مڑتی سڑک والا تھا جس کے نکڑ والے مکان پر میرے پچپن میں مٹی کے تیل سے جلنے والا ایک پوسٹ لمپ لگا ہوا تھا۔ میں اس راستے سے بچ کر گزرنے کیلیے دوسری طرف کا لمبا چکر کاٹ کے اسکول پہنچا تھا۔ اسکول کی گول گھومتی بیرونی دیوار وہی تھی اندر کمروں اور برآمدے کی ترتیب بھی وہی مگر کلاس روم جو ہمارے دور میں کمرہ جماعت کہلاتے تھے، اب پکی اینٹوں کے بن چکے تھے جبکہ ہمیں اپنے اسکول کے کمروں کی دیواروں کو کچی مٹی اور گارے سے اپنے ہاتھ سے پوتنے کا شرف حاصل ہے۔ ممکن نہیں کہ ٹاؤن نمبر 2 کے اس پرائمری اسکول کا کوئی طالب علم اب ہمارے اس شرف کو کبھی چھین سکے گا!

اسکول کے موجودہ ہیڈ ماسٹر اور دیگر اساتذہ بڑی محبت سے ملے۔ اپنے اس تکونے کمرہ جماعت میں بھی گیا جہاں سے پانچویں جماعت کے امتحان کے روز میں اساتذہ کے لئے پانی لانے کیلیے اپنے گھر جاکر سب رنگ ڈائجسٹ میں "اقابلا” پڑھنے میں ایسا محو ہوا تھا کہ امتحان کا ہوش ہی نہ رہا تھا۔ یاد آنے پر بھاگم بھاگ اسکول پہنچا تو امتحان لینے کیلیے باہر سے آئے اصحاب کب کے رخصت ہو چکے تھے۔ ۔ ۔ 😊

اسکول میں یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ہمارے اُس وقت کے استاد سائیں مشتاق کا مدتوں پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ اسکول میں باقی سب کچھ نیا تھا لیکن سرس (شرینہہ) کا وہ درخت اب بھی اسی طرح اپنی جگہ باہیں پھیلائے کھڑا تھا جس کی چھاؤں میں بیٹھ کر پچاس برس پہلے ہم اتنی اونچی آواز میں پہاڑے یاد کرتے اور گنتی پڑھا کرتے تھے کہ گردو پیش کے گھر ہماری "دو دونی چار، دو تیا چھے” کے شور سے گونجنے لگتے تھے۔ معلوم نہیں کہ اُس زمانے میں گنتی سکھانے والا وہ "گنتارہ” (Abacus) اب بھی اسکولوں کہیں استعمال ہوتا ہے یا نہیں جس کی دس افقی سلاخوں میں دس دس رنگارنگ گولے تھے جنہیں ایک ہاتھ کی انگلی سے کھسکا کر ایک بچہ زور سے ایک۔ ۔ ۔ ۔ دو۔ ۔ ۔ ۔ تین۔ ۔ ۔ ۔ پڑھتا اور باقی بچے اسکی اقتدا میں سر ملا کر گنتی یاد کیا کرتے تھے!

اسی روز سانگھڑ میں اپنے ہائی سکول اور کالج میں بھی جانا ہوا۔ معلوم ہوا ہمارے ایک پرانے نوعمر دوست اور آجکے معروف سندھی لکھاری نواز کنبھر آج کل ڈگری کالج، سانگھڑ کے پرنسپل ہیں۔ وہ کالج میں اپنے طلبا کے پاس لے گئے ان کے سامنے کالج کی اپنی چالیس سال پرانی یادیں اور اپنی موجود اسلامی یونیورسٹی کے تجربات بیان کرنے کو کہا اور پھر لوٹتے ہوئے سانگھڑ کالج کا مجلہ المنصورہ کا اکبر معصوم نمبر بھی دیا۔ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ نواز کنبھر کالج کے انتظامی امور نبھانے کے ساتھ ساتھ طلباء و اساتذہ سے خوب ربط رکھتے ہیں۔ اُس روز ایک بجے کے بعد جب کنبھر صاحب کو باقاعدہ کالج گیٹ پر اس لئے چوکیدار بن کے کھڑے دیکھا کہ طالبعلم باہر نہ بھاگیں اور آخری وقت تک کلاسوں میں رہیں تو مجھے سندھ میں تعلیم کی خراب حالت کے عمومی تاثر پر ہنسی آگئی۔ بھئی ہوگی سندھ میں تعلیم گراوٹ کا شکار، لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ انہی گراوٹ والے تعلیمی اداروں میں رپٹتا لڑکھتا یہ ناچیز طالب علم آج ملک کی ایک بڑی یونیورسٹی میں اپنے شعبے کے نگران کے منصب تک آپہنچا ہے اس طرح کی بیسیوں مثالیں اور بھی ہیں۔

مجھے کبھی کہیں تقریب میں یا کسی شخصیت کے ساتھ فوٹو بنوانے کا شوق نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بعض اوقات کئی یادگار لمحے محفوظ نہ کرنے پر پچھتاوا بھی ہوتا ہے۔ اس روز کالج اور ہائی اسکول میں وہاں کے اساتذہ اور ان پرانی درسگاہوں میں میرے ہمرکاب ساتھی نے اپنے طور پر فوٹو بھی بنائے لیکن اپنے پرائمری اسکول میں اپنے دور کی واحد آخری نشانی خزاں رسیدہ مگر آمد بہار کا اعلان کرتے سرس کے تازہ پتے اور شاخیں دیکھ کر تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور پچاس سال کے بعد اس کے نیچے، خود کہہ کر، بالاہتمام فوٹو بنوائے۔ کچھ ہی دنوں کی بات ہے کہ سرس کی شاخیں اور ڈنڈیاں ایک پھونک کی تاب نہ رکھنے والے نرم و ملائم ریشوں سے بنے ہلکے زرد و سبز پھولوں سے بھر جائیں گی اور گرمی کی دوپہریں اور شامیں ان پھولوں کی خوشبو سے مہکنے لگیں گی۔ اپنے پچپن اور نوعمری کے ان تعلیمی اداروں کا یہ دورہ سانگھڑ کے ایک محبت کرنے والے دوست ریاض منصوری کی معیت میں ہوا اور اس دوران اکثر و پیشتر فوٹو بنانے کا فریضہ بھی انہوں نے ہی انجام دیا تھا۔ کاش منصوری صاحب کبھی سرس کی پھولوں کی بھینی بھینی خوشبوئیں بھی کسی تھیلی میں باندھ کر مجھے بھیج سکیں!

اس دفعہ سانگھڑ کے جن چند نئے پہلوؤں نے بطور خاص بہت محظوظ کیا وہ بیرونجات اور شہر کے نواح کے مناظر تھے۔ باکھوڑو چوٹیاری اور کھپرو روڈ کی اطراف دور تک پھیلی ہری بھری فصلیں اور انکو سیراب کرتی باکھوڑو نہر سے نکلتی راجباہوں میں پانی کی جھالیں ہوں یا 9، 10 چک روڈ پر سیم نہر کنارے کے کھلیان یہ سب میرے لیے کشش کا خاص باعث تھے۔ ان دنوں موسم بہار کی آمد ہے پیڑ پودوں پر تازہ پتے اور شگوفے پھوٹ رہے ہیں۔ شہر سے باہر نکلتے ہی سڑک کے دونوں اطراف دور دور تک پھیلے سرسبز کھیت ان میں بہتے مٹیالے پانی کے کھالے، لہلہاتی گندم کی دانوں بھری بالیاں، کماد کے سیاڑوں اور کھیلیوں میں اونچے اونچے گنے کے لاٹھیں، ان کی طرف جب بھی نظر اٹھی لوٹنا بھول گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ شہر کے اندر کے مناظر سے کہیں زیادہ یہ کھیت کھلیان کھالے نالے فصلوں کے بالے اور ان میں سنسناتی سانجھ سویرے کی ٹھنڈی ہواؤں میں اس دفعہ الگ ہی نشہ پایا!

ابتدائی عمر کے بعد گاؤں دیہاتوں میں اگرچہ بہت کم وقت گزرا ہے لیکن ادھر کچھ عرصے سے خود مجھ پر یہ کیفیت گویا انکشاف کے طور پر وارد ہوتی رہی ہے کہ بھری آبادیوں اور بڑے شہروں کی نسبت سے میرے محسوسات و اعصاب کھلے میدانوں اور کھیت کھلیانوں میں زیادہ سرشار رہتے ہیں۔ نواب شاہ میں ایک دوست نے کہا کہ "آؤ تمہیں یہاں کے بحریہ ٹاؤن کی سیر کراتے ہیں”۔ عرض کیا کہ "بحریہ ٹاؤن تو اس دل کو کبھی لاہور اور پنڈی کا بھی خوش نہیں آیا، یہاں جاکر میں کیا کرونگا”۔ شاید اسی لیے اپنے سانگھڑی گوٹھائی گرائیں برادرم شریف اعوان کے بار بار کے تقاضے کے باوجود اس دفعہ کراچی جانے کو بھی بالکل من مائل نہ ہوا۔ ہاں اگر وہ اپنے گاؤں تین چک میں ہوتے تو شاید میں وہاں ان کے پاس اُڑا جاتا۔ گوٹھوں باڑاریوں اور جھوکوں وسیبوں سے یہی دلبستگی تھی کہ ایک دو دن بہن کے پاس جو نواب شاہ میں رکا تو وہاں بھی صبح شام کا زیادہ وقت سانگھڑ روڈ والی معروف نہر گجرا واہ کے کنارے ہی کٹا۔

سکھا دی مستی موسم نے سب کو طرز دل بازی
نگاہ حسن بالا علان اک ایماے پنہاں ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس دفعہ سانگھڑ کے دوستوں میں کسی سے کوئی خاص ملاقات نہ ہوئی۔ ہوتی بھی کیسے اور کس سے ہوتی؟ اکبر معصوم نہ رہا تھا حسن وسان کا انتقال ہوچکا تھا، ماسٹر عبدالرشید کہ جنکی چار آنہ لائبریری کی کتب بینی نے ہم سب کو اسکول کالج کے دنوں میں ہی خراب کرکے ان حالوں پہنچایا تھا ان کے بارے میں بھی پتہ چلا کہ کب کے مرحوم ہوچکے ہیں۔

ایسے شہر میں اب میں کرتا بھی تو کیا کرتا؟

غم کا زور اب میرے اندر نہیں رہا
اس عمر میں اتنا ثمر ور نہیں رہا

اس گھر میں جو کشش تھی گئی ان دنوں کیساتھ
اس گھر کا سایہ اب میرے سر پر نہیں رہا

واپس نہ جا وہاں کہ تیرے شہر میں منیرؔ
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا!

اب جبکہ شہرِ مالوف کا یہ سفر اختتام کو پہنچ رہا ہے اور واپسی کا وقت قریب آن لگا ہے آپکو اس ان دلی احوال میں شریک کر کے کل واپسی کی گاڑی پر سوارہونے کو ہوں۔ وہ شہر پیچھے رہ گیا جس کے قریہ و بازار میں یادوں کی دھول اڑا کرتی ہے

ہر گلی کوچہ تھا بستی کا پراچہ کی د کان
دھجئیں ہوکے اڑے بسکہ گریباں میرے

ہر دفعہ کی طرح اس مرتبہ بھی وہ سفر جو سرخوشی سے شروع ہوا تھا اب اداسی پر ختم ہو رہا ہے۔ میرا قصباتی شہر سانگھڑ رومانی داستانوں کے سے اسرار رکھنے والے جنگل بیلے مکھی جھیل اور دریائے نارہ کی ثقافت کا امین، سندھی اردو پنجابی اور سرائیکی بولنہاروں کی ایک کہکشاں، چار تعلقوں (تحصیلوں) کا ایک ضلع، سندھ کا ایک تاریخی شہر اور میری جنم بَھوَن ہے۔ بیسویں صدی کے چھٹے دہے کی ابتدا میں یہاں پیدا ہوا تھا آٹھویں عشرے کے وسط میں روزگار کے تعاقب میں یہاں سے "نیا جنم پانے” کیلیے لاھور جا نکلا تھا اور 1995 سے تادم تحریر اسلام آباد اور حسن ابدال کے مابین روزانہ کی آوت جاوت رکھتا ہوں۔ جب لاہور میں تھا تو سانگھڑ کا چکر سالانہ بنیادوں پر لگا کرتا تھا، پنڈی پہنچا تو سانگھڑ کا پھیرا دو چار سال بعد لگنے لگا لیکن اس دفعہ آٹھ نو سال کے بعد یہاں آنا ہوا۔ یہاں آنے سے مہینوں پہلے سانگھڑ میرے لئے بہجت و سرور کا ایک طلسم کدہ ہوا کرتا ہے مگر یہاں سے لوٹتے وقت یہ شہر ہجر و ملال کا قریہ بن جاتا ہے۔

یہاں باہیں پھیلائے اڑتا ہوا آتا ہوں اور رنج و اندوہ کی گرد میں لپٹا یہاں سے واپس جایا کرتا ہوں۔ ہر دفعہ آئندہ یہاں نہ آنے کے عہد باندھتا ہوں مگر اپنے مسکن پر پہنچتے ہی یہاں کی گرم راتوں کی ٹھنڈی ہوائیں دل کو کھینچنے لگتی ہیں۔ دیگر اسباب کے علاوہ ہوسکتا ہے کہ یہ امی ابا اور تین بھائیوں کی ان قبروں کی مٹی کی پکار کا اثر ہو جن کا نشان بھی اس دفعہ بمشکل ہی ملا تھا۔

پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں! 

Advertisement

Trending