آغاز ہی میں غزل کا ایک شعر یاد آتا ہے:
؎ غزل میں اس کو ستم گر کہا تو روٹھ گیا
چلو، یہ حرفِ ملامت لگا نشانے پر
ہائے، کیا زمانہ تھا کہ ایک غزل چھیڑتا تھا تو دوسرا کہتا تھا:مجھے ساز دینا___مگر یہ عمرِ رفتہ کی بات ہے، عہدِ گذشتہ کا ذکر ہے___لمحۂ موجود کی کہانی اور ہے، موجوں کی روانی اور ہے۔ بیسویں صدی کے پل کے نیچے سے جتنا پانی گزرنا تھا، گزر چکا ہے۔ اب ایک اور دریا کا سامنا ہے۔ یہ وقت کا دریا ہے، سمے کا سمندر ہے، اکیسویں صدی کا سیلابِ بلا ہے، اور اس میں ہماری زندگی کا کنول تیرتا ہے۔
ہم اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں___یہ بات اتنی اہم نہیں ہے۔ یہ محض اتفاق ہے، وقت کا جبر ہے، خوبیٔ تقدیر ہے، شومئی قسمت ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ ہم تو اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں لیکن کیا اکیسویں صدی بھی ہمارے سینے میں سانس لے رہی ہے۔ یہ سوال، زندگی کی ہر قدر، ہر ادا اور ہر رنگ کے بارے میں کیا جا سکتا ہے لیکن سرِ دست ہم سوال کا دائرہ محدودکرتے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا نئی غزل، نئی صدی کی ترجمان ہے یا وہی میل اور وہی سنگِ نشاں ہے کہ جو تھا؟
دوشیزۂ غزل کی زلفوں کے اسیر اور نگاہوں کے قتیل تو اس کا جواب وہی دیں گے جو اقبال نے کہا تھا:
؎ آج بھی اس دیس میں عام ہے چشمِ غزال
اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں
لیکن مجھ جیسے نونیاز کو جانے کیوں اقبال کا ایک اور شعر یاد آ رہا ہے اور وہ یہ کہ:
؎ نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہی شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں
لیجیے، ہم تو سوال کے جواب کی تلاش میں نکلے تھے لیکن غزل کا جادو سر چڑھ بولنے لگا ہے۔ آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا ہے، ایک اور شعر یاد آ گیا ہے:
؎ خبر تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی
نہ تو تو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی
اب ایک سوال پیدا ہو گیا ہے کہ مجھے ’اشعارِ قدیمہ‘ ہی کیوں اُمڈ اُمڈ کے یاد آتے جا رہے ہیں:
؎ بھری آتی ہیں آج یوں آنکھیں
جیسے دریا کہیں ابلتے ہیں
کہیں ایسا تو نہیں کہ ویرانہ ٔ دل میں صرف گنجِ دیرینہ ہی کی گنجائش ہے، گرہ میں صرف یہی مال ہے، یہی دردِ تہِ جام ہے اور یہی ظرفِ قدح خوار ہے یا کوئی اور معاملہ ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میں چوں کہ فیس بک سے پردہ کرتا ہوں، اس لیے تازہ ترین احوالِ شاعراں سے بے خبر ہوں___لیکن پہلے غالب کی زبان میں میرا عذرِ لنگ سن لیجیے جو میں نے فیس بک کے حوالے سے تراش رکھا ہے:
؎ کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
یہ بالکل ایک ذاتی نوعیت کا عذر ہے:
روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ!
مجھے ابھی ابھی خیال آیا ہے کہ میں خود ابھی پرانی صدی میں سانس لے رہا ہوں، آئینِ نو سے ڈرتا ہوں اور طرزِکہن پہ اڑا ہوا ہوں، فیس بک سے گریز کرتاہوں، اس لیے اشعارِ تازہ سے محروم ہوں:
نہ تھا اگر تو شریکِ محفل، قصور میرا ہے یا کہ تیرا
قصور، شاید میرا اپنا ہی ہے کہ میں نے خود کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا اور مجھے معلوم ہی نہیں کہ علم و ادب کا پیراڈائم شفٹ ہو گیا ہے(واہ، کیا بھاری بھرکم الفاظ، میں نے تحریر میں سموئے ہیں۔ ) اب ایک بٹن دباتے ہی، پلک جھپکتے ہی، شعر دنیا کے ایک کونے سے، دوسرے کونے تک جا پہنچتا ہے___لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک دل سے، دوسرے دل میں اترتا بھی ہے؟ شاید ایسا نہیں ہے۔ اخبار کی سرخی کی طرح، ایک روز شعر کا خوب چرچا ہوتا ہے مگر رات گزرتے ہی، شعر دنیائے سخن سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک روز محفلِ سخن کو گرمائے رکھتا ہے مگر محسوس یہ ہوتا ہے شعر کا معاملہ بھی شمع جیسا ہی ہے کہ جس سے مخاطب ہو کر شاعر نے کہا تھا:
اے شمع! تیری عمرِ طبیعی ہے ایک رات
عمرِ طبیعی ایک رات ہی سہی مگر اس ایک رات میں ایک ہزار لائکس کی لذت، دلِ شاعر کے لیے ’الف لیلہ‘ کی داستان سے کم نہیں۔
کالم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی زندگی ایک روزہ ہوتی ہے، یہی اصول فیس بک کی شاعری پر بھی لاگو ہوتاہے۔ پرانے زمانے میں بگڑے شاعر، مرثیہ نگار بن جاتے تھے، آج کل کالم نگار بن جاتے ہیں___یہ ایک اور بحث ہے جس کی جانب سرِدست اشارہ ہی کافی ہے۔
بات یہ ہے کہ غزل میں اچھا شعر نکالنا، کوئی کمال نہیں ہے کیوں کہ آدھا مضمون تو پہلے ہی سے ’فی بطنِ قافیہ‘ موجود ہوتا ہے۔ قافیہ خود ایک امکان ہے، مدہم نوائے سروش ہے، لطیف سا مضمونِ غیبی ہے۔ اصل مسئلہ تو مضمونِ تازہ کا ہے، شکارِزندہ کا ہے۔ یہ لذت صرف ان شاعروں کو نصیب ہوتی ہے جن کے سینے میں شاعر کا دل ہوتا ہے، جن کا تخیل بلند پرواز اور جن کا مطالعۂ کائنات وسیع ہوتاہے اور جنہیں انتخابِ الفاظ رسوا نہیں کرتا۔ صرف وہ اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرتے ہیں، لوحِ ایام پر تحریر ہوتے ہیں اور نوشتۂ دیوار بنتے ہیں جن میں سادگی، اصلیت اور جوش ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں، بابِ سخن کُھلا ہے اور اب بھی کتابوں میں خال خال، تازہ گلابوں جیسے شعر نظر آ ہی جاتے ہیں لیکن جو اشعار مذکورہ خصوصیات سے عاری ہوتے ہیں، وہ محض فیس بک کی دیوار پر چسپاں ہو کر قاری سے رحم کی اپیل کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ زمانۂ حال کو ایک نئے حالی کی ضرورت ہے:
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
فی الحال، آج کا نقاد بے معنی اور لایعنی مباحث میں الجھا ہوا ہے اور شاعر قافیے کی ورزش میں مصروف ہے۔ شاعر شہر آشوب سے بے نیاز ہے اور آشوبِ ذات سے برسرپیکار ہے۔ شاعر کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ دورنِ خانہ کیا ہنگامے ہو رہے ہیں، ہمسائے کے گھر میں کیسی آگ لگی ہے، کیسے کیسے فتنے سر اٹھا رہے ہیں، آسمان سے کیسی بلائیں نازل ہو رہی ہیں اور درخانہ پر کیسی کیسی آفتیں دستک دے رہی ہیں، تاریخ کتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جغرافیہ کیسے اپنی صورت بدل رہا ہے، آئینۂ ایام میں کس کی ادائیں نظر آ رہی ہیں، اور لوحِ ایام پر کیا مضمون تحریر ہے؟؟؟ آج کے اکثر شاعران سب باتوں سے بے نیازہیں مگر آج کا نقاد جب کسی شاعر کو خراجِ تحسین پیش کرتاہے تو ’’عصری حسیت‘‘ کا تذکرہ ضرور کرتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جب تک اکیسویں صدی میں حالی کا ہم پلہ اور ہم مرتبہ نقاد ظاہر نہیں ہوتا، تب تک ’مقدمۂ شعروشاعری‘ کا مطالعہ کیا جائے اور ’ہجر میں وصال‘ کے مزے لیے جائیں!
آخر میں غزل کا ایک شعر دوبارہ یاد آ گیا ہے:
؎ غزل میں اس کو ستم گر کہا تو روٹھ گیا
چلو یہ حرفِ ملامت لگا نشانے پر
