ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی سرسبز پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع بستی میں ایک چرواہا رہتا تھا۔ چرواہا نوجوان اور شرارتی تھا اور آئے روز اسے کوئی نہ کوئی شرارت سوجھی رہتی۔
ایک دن بستی والوں نے کچھ فاصلے سے گونجتی ہوئی آواز سنی۔ کوئی چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:
“میری مدد کرو، میری بھیڑوں کو بچاؤ۔ شیر آ گیا۔۔۔ یہ مجھے اور میری بھیڑوں کو کھا جائے گا۔ شیر آ گیا بستی والو!”
گاؤں والے بھاگم دوڑ آواز کی سمت بھاگے اور بستی کے دوسری طرف چراگاہ میں پہنچ کر دیکھا کہ ساری بھیڑیں صحیح سلامت ہیں۔ اور شیر آنے کی صدا لگانے والا چرواہا ایک طرف کھڑا اپنے چہرے پر شیطانی ہنسی سجائے کھڑا ہے۔ بستی والے خوب برہم ہوئے اور چرواہے کو کوستے بستی کو واپس لوٹے۔
چند دن بعد بھی، پھر سے بستی والوں کو “شیر آگیا، شیر آ گیا” کی صدائیں سنائی دیں۔ بستی والی پھر سے بھاگے بھاگے آئے۔ لیکن پھر کسی شیر کو نہ پا کر، چرواہے کے ہاتھوں اپنا مزاق بنتے دیکھ کر مایوسی، خفت اور شرمندگی سے نڈھال بستی کو واپس پہنچے۔
کچھ دن بعد، تیسری بار بھی چرواہے کی وہی گھسی پٹی صدا، “شیر آ گیا، شیر آ گیا.” کی صدا سنائی دی۔ تاہم اس بار بستی والوں نے مکمل طور پر اپنی ذہن سازی کر لی تھی اور اب کی بار اس کی کوئی فریاد نہ سننے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔ لیکن ایک گھر کی دہلیز پر ایک خواتین، جو اندر موجود خاتون کی پھیریاں گن رہی تھیں، گویا ہوئیں:
“اڑیے چل ویکھ تے سہی۔ ہورے ایس واری سچا ای کلپدا ہووے”.
یہ سن کر دوسری خاتون بھی چادر اوڑھ کر دہلیز والی خاتون کے ساتھ بھاگی بھاگی پہاڑی پر پہنچیں۔ انہیں جاتا دیکھ کر باقی بستی والے بھی بھاگم بھاگ پہنچے، اور چرواہا اسی روایتی شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے کھڑا تھا۔
کئی سال گزر گئے، یہی معمول چلتا گیا۔ ہر ہفتے چرواہا آواز لگاتا، ہر ہفتے گاؤں والے دوڑے آتے۔ کوئی تبدیلی نہ آئی سوائے اس بات کے کہ چرواہے کی شیطانی مسکراہٹ ایک تکانی تیوڑی میں بدل چکی تھی۔
چرواہے نے ایک دن بستی بدلنے کا فیصلہ کیا اور اپنا یہی عمل نئی بستی میں دہرایا۔ اور پھر وہ بستیاں بدل بدل کر اپنا پرانا پرینک دہراتا، اور جب ایک بستی سے اکتا جاتا تو اگلی بستی پہنچ جاتا۔ حتیٰ کہ ایک دن خداؤں کی بستی میں جاپہنچا۔ خداؤں میں تاہم، اس بات سے کافی برہمی پائی گئی اور انہوں نے جادوئی بندش کر دی کہ اب یہ چرواہا تا وقت انتہائے کائنات یہی عمل دہراتا رہے گا۔ حالانکہ اس جادوئی بندش سے ذرہ بر بھی شیر والے چرواہے کے معمول میں فرق نہیں پڑا۔
وقت گزرتا گیا۔ اور یہ واقعہ اس تسلسل سے وقوع پذیر ہوا کہ کچھ رد و بدل کے ساتھ لغاتی کتابوں کی زینت بن گیا۔
آج بھی چرواہا اسی طرح آواز لگاتا ہے۔ اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ:
“سامنے کیمرا لگا ہے۔ دیکھ کر ہاتھ ہلا دیں۔”
اور لوگ ہر بار چلے آتے ہیں۔ یہ جان کر بھی کہ تمام جنگلی حیات کثرت شکار کے باعث اور جنگل کثرت تراش کے باعث ناپید ہو چکے ہیں۔ صرف یہ سوچ کر کہ:
“اڑیے چل ویکھ تے سہی۔ ہورے ایس واری سچا ای کلپدا ہووے”۔
