Connect with us

تازہ ترین

فرد اور سماج: تعلق کی جہتیں ——– عمر فرید ٹوانہ

Published

on

ایک پنجابی مقولہ ہے،
دھیاں سب دیاں سانجھیاں ہوندیاں نیں
بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔

ہم دیہاتوں میں رہنے والے، مال وراثت کی بولی سمجھتے ہیں۔ یوں سمجھ لیجیئے یہ مقولہ ایک طرح دیہاتی سماجی عقیدہ ہے۔ جو زبان کھان میں زندہ بچ رہا ہے۔ گو ہمارے اندر ایک نظریہ سے متعلق کوئی خوبی نہ ہو لیکن اگر وہ ہماری ماں بولی کا حصہ ہے تو وہ کسی نا کسی نہج پر ہمارے وجود کا حصہ ضرور رہا ہے۔ ہاں کہہ سکتے ہیں مر چکا ہے کہ معاملات میں اس کی اب جھلک موجود نہیں۔

اپنی کمائی پر نظر دوڑائیے۔ انسان دوسرے حیوانوں کے برعکس اپنی خواہشات و ضروریات کو بصورتِ بوجھ ڈھوتا ہے۔ کیوں؟
کیونکہ ہم جتنی دور تک دیکھ سکتے ہیں، اتنی ہی گہرائی میں سوچ بھی سکتے ہیں۔ ایک آدمی گھر سے فِکر معاش مارا نکلتا ہے۔ وہ دن بھر اپنے جیسوں سے معاملات کرتا ہے۔ شام کو گھر لوٹتا ہے۔ وہ اپنے ہمراہ کیا لایا؟

کوئی بھی آدمی جو گھر سے کمانے نکلتا ہے، وہ ناآسودہ فکر ہوتا ہے۔ گویا خود میں مُرجھایا ہوا لیکن حصولِ تازگی کو مستعد۔

ہم لفظوں کی دنیا میں چل رہے ہیں اور زبان انسانی تخلیق ہے۔ گویا معنویت فرد کی ملکیت ہے، معاشرہ کی نہیں۔

وہ فرد جو گھر سے ناآسودہ فکر نکلا۔ اپنے کام کی جگہ پر پہنچا اور کام میں جُت گیا۔ اگر کام کی جگہ کا ماحول انسان دوست نہیں اور بندہ کو قدم قدم پر مشکلات درپیش ہیں، تو اسکی ناآسودگی کم ہونے کی بجائے سِوا ہوگی۔ وہ مزید مُرجھا جائے گا۔ ظاہر ہے پیداوار اور کوالٹی متاثر ہوگی۔ ان مشکلات کی وجہ سے فرد کے اندر کس چیز کی کمی واقع ہوئی؟
خوشی کی؟
یا تازگی کی؟

آپ کے خیال میں سو کام کرنے والوں میں سے کتنے ایسے ہونگے جنہیں کام "کرنے میں” خوشی ملتی ہوگی؟ ضرورت کے مارے کام کرنے والے کو کام میں خوشی نہیں ملتی بلکہ یہ معاوضہ یا اجرت کا وصول پانا خیال ہے جو وجود میں احساسِ خوشی کا باعث بنتا ہے۔ گویا ایک انسان کی اصل ضرورت، احساسِ تازگی ہے۔ مزید آسان لفظوں میں یوں کہہ لیجیئے کہ بڑی بڑی کمپنیز کو اپنے ملازمین کی غمی خوشی سے خاص سروکار نہیں ہوتا بلکہ انہیں اوقاتِ کار کے دوران اپنے افراد کی "تازہ دمی” درکار ہوتی ہے۔ وہ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی داخلی پالیسیز مرتب کرتے ہیں۔ ایک انسان دوست ماحول مہیا کرتے ہیں۔

اب یہی مثال اٹھا کر ایک ایسے انسان کی زندگی میں لے جائیے، جو اپنے گھر کا فقط یوں سربراہ ہے کہ اسے اپنے گھر والوں کے لیے احساسِ تازگی و خوشی دونوں کو کمائی کی صورت لانا ہے۔ ایک گھر کے سربراہ کا کام ایک کمپنی کے سربراہ سے زیادہ مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے اپنے افراد کی غمی و خوشی کے اثرات سے فرار ممکن نہیں۔

ایک آدمی جو ایک گھر کا سربراہ تھا، وہ فوت ہوگیا۔ اس نے اپنے پیچھے جو کچھ بھی چھوڑا وہ اسکے پسماندگان کے لیے وراثت کہلایا۔ ایک مرنے والے آدمی کی ذاتی ملکیت وراثت بنتے ہی مشترکہ ملکیت شمار ہوگئی۔ پہلے اس ملکیت پر ایک آدمی کو کُلی حقِ تصرف حاصل تھا۔ جبکہ اب دو، چار یا چھ جتنے بھی پسماندگان پیچھے بچے ہیں، ان سب کو اس ملکیت میں حقِ تصرف حاصل ہوگیا ہے۔ ہر کوئی اپنے خیال خواہش کے مطابق فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ مشترکہ ملکیت پر حقِ تصرف حاصل ہوتے ہی دو بھائیوں میں بھی باہم ایک بداعتمادی اور خوف کی سی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بادشاہ کے مرتے ہی، ہنستا بستا ملک اچانک میدان جنگ بنتا رہا ہے۔ تخت کے لیے بھائی بھائی کا گلہ کاٹتا رہا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے دیہاتوں میں ہوتا آرہا ہے۔ گویا انسانی حقِ تصرف وہ جواز ہے جو ہمیں ایک اتھارٹی (تحکیم) کی طرف لے جاتا ہے۔

اگر کسی مرحوم بادشاہ کے دو بیٹوں کی مثال لی جائے تو ان میں اتھارٹی تلوار رہی ہے، جبکہ معاشرہ تب بھی موجود تھا۔
اگر کسی قدیم دیہاتی بڑے جھگڑے کی بات کی جائے، گویا قتل وغیرہ کی تو اس میں بطور آخری حربہ بیٹیوں کے ذریعہ معافی مانگنا، دلوانا رائج تھا۔ گویا یہ ایک طرح ہماری تحکیم(ثالثی) رہی ہیں۔
قصہ المختصر اتھارٹی کوئی طلسم نہیں بلکہ انسانی حقِ تصرف کی بنیاد پر کھڑی ایک عمارت ہے۔ دوسرے لفظوں میں اتھارٹی یا تحکیم ایک طرح کی "سانجھ” ہوتی ہے۔ جس کی مسلسل باہم آبیاری اخلاقی طور پر انسانوں نے خود پر فرض کررکھی ہو۔ جس کی عزت یا حیا ہر دو فریق کرتے ہوں۔ یا جس سے دونوں فریق دبتے ہوں۔

معاشرہ اور سماج کے متعلق ہمارے ہاں کچھ خاص معنوی تفہیم موجود نہیں۔ اکثر ان دونوں کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ دو مختلف درجات ہیں۔ تعلقاتی اور تعاملاتی دنیا کے دو مختلف طبق ہیں۔ کیسے؟

فرد اور معاشرہ دو الگ حقیقتیں ہیں۔ اسے دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ تشخص اور معاشرت دو باہم مقابل حقیقتیں ہیں۔ مثال کے طور پر میں ایک معاشرہ کا فرد ہوں۔ معاشرہ مجھ پر کچھ پابندیاں، کچھ ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔ بدلہ میں میں اس سے حقوق چاہتا ہوں۔ اپنا تحفظ چاہتا ہوں۔ اصل میں حقوق نام ہی طلبِ تحفظ ہے۔ اور یہ طلبِ تحفظ ہر دو طرف سے ہے۔ گویا ایک معاشرہ کو اپنے افراد کے تحفظات کا آئینہ دار ہونا چاہیے اور ایک فرد کو اپنے معاشرہ کے تحفظات کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ جیسے ایک حیوان کو دوسرے حیوان سے باہمی خوف کی بنا پر تحفظ درکار ہے۔ طلبِ معاشرت(تحکیم) ہماری حیوانی عادت ہے۔ بہتر ہے عادت کی تعریف بھی کرتا چلوں کہ عادت سے میری مراد کیا ہے۔

تسلسل جو ایک وجود میں رواں ہوجائے، روانی کو کسی بھی جوڑ سے پکڑ لیجیئے، آپکو ابتدائی اور اختتامی سِرا کی بقدر جثہ سمجھ تو آجائے گی لیکن حقیقت میں کبھی بھی، کوئی ایک بھی سِرا ہمارے ہاتھ میں نہیں رہا ہوتا۔

مثال کے طور پر آج ہزار رنگی معاشرت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔ ہم بڑی آسانی کے ساتھ اپنے معاشرہ کےمحرکات و مقاصد کا تعین کرسکتے ہیں۔ لیکن کیا یوں کرتے ہوئے ہم زمین پر معاشرت کی اصل ابتدا کی جانکاری رکھتے ہیں؟ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے معاشرہ کے محرکات و مقاصد کو ہم نے اپنے معاشرہ کی بُنت سے کشید کیا ہے۔ انواع کا باہمی احساسِ خوف معاشرت کی اساس ہے، یہ خیال تفہیمِ معاشرہ کے ضمن میں ایک دریافت ہے۔ گویا عادت وہ حرکت ہے، جس کے محرکات و مقاصد، انسان اسکے بہاۏ میں بہتے ہوئے، دریافت کرتا ہے۔ عادت خود میں مطالبہ دریافت سے بےنیاز ہے۔ یہ ہمارا احساسِ اظہار ہے جسے ہم باہم تقسیم در تقسیم کرتے، سمجھتے چلتے ہیں۔

خیر اب اپنے ماحول کے تناظر میں فرد اور معاشرہ نامی دو حقیقتوں کے ممکنہ تعلقات و تعاملات دیکھئیے۔
1۔ فرد اور معاشرہ کے باہمی تعاملات و تعلقات
2۔ فرد اور فرد کے باہمی تعاملات و تعلقات
3۔ معاشرہ اور معاشرہ کے باہمی تعاملات اور تعلقات
اور سب سے آخر میں وہ جس کے ذریعہ ہمیں بات آگے بڑھانی ہے۔
4۔ گھر (سماج) اور معاشرہ کے باہمی تعاملات اور تعلقات۔

اوپر ایک پنجابی اکھان درج ہے۔ اسکے متعلق میں نے لکھا کہ یہ ایک سماجی عقیدہ ہے۔ سماج کو سمجھنے سے پہلے ہمیں سماجی عقائد کو سمجھنا ہوگا۔ فرض کیجیئے آپکے خاندان میں ایک دانا بزرگ گزرے۔ انکے کچھ اقوال کچھ عادات کا آپکی شخصیت پر کچھ ایسا سحر چھایا کہ آپ نے ان سے وہ تعلیمات و عادات بطور ورثہ محفوظ کرلیں۔ آپ اکثر کہتے سنتے ہونگے، وڈی اماں کہا کرتی تھی، یا وڈے ابا جی کہا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ ایسے ہی کلمات، کچھ خاص عادات و اطوار وغیرہ۔ گویا،

ہمارے زبان و بیان میں سے، اجداد کی باقیات الصالحات کی صورت ایک ابھرتا ہوا تشخص، جو کسی موہوم دائرہ کی طرح انفرادی سطح پر ہمارے تشخص کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوتا ہے، میں اسے سماج کہتا ہوں۔ میں اسے گھریلو تہذیب بھی لکھتا رہا ہوں۔ اسے گھروں کی تہذیب بھی کہا جاسکتا ہے۔

یہ معاشرہ سے کیسے الگ ہے؟
سماج کے معاشرہ سے جدا ہونے کی اولین دلیل کہ سماج فقط فرد اور فرد کے باہمی تعلقات و تعاملات سے عبارت ہے۔ ایک سماج کسی معاشرہ کی طرح اپنے افراد سے جدا ایک الگ حقیقت کی حیثیت سے قیام نہیں رکھتا۔ گویا سماج کے پاؤں نہیں ہوتے۔

فرد اپنے ملک معاشرہ سے باہر بھی جاسکتا ہے۔ فرد اور معاشرہ کے مابین تعلق صوابدیدی "زیادہ” ہے۔ جبکہ سماج ہمیشہ اپنے فرد کے ساتھ چمٹا ہوا ملتا ہے۔

ایک معاشرہ کے اپنے فرد سے بہتر تعلق و معاملہ کرنا کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے فرد کو اسکے انفرادی تحفظات کے ساتھ ساتھ، سماجی تحفظات کے تناظر میں بھی سمجھے۔ یوں سمجھئیے کہ اگر سورج(معاشرہ) کی روشنی کو زمین (فرد) تک پہنچنا ہے تو اسے بادلوں(سماج) میں سے چَھن کر آنا پڑے گا۔

Advertisement

Trending