تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

قنوطیت یا رجائیت: ایک نیا انداز نظر ——— منور رشید

by ویب ڈیسک 23/03/2017
written by ویب ڈیسک 23/03/2017
119

سادہ الفاظ میں ناامیدی یا پرامیدی انسانی نفسیات کے دو ایسے پہلو ہیں جن پر انسان شعوری یا لاشعوری طور پر عمل کی محدود استعداد رکھتا ہے۔ انسانی نفسیات اور تجربات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کی ایپلیکیشن سے حاصل ہونے والے نتائج آپ کے احساسات کی تسکین کے حوالے سے تو تقریباﹰ یکساں ہوتے ہیں لیکن ان سے حاصل ہونے والے عملی نتائج کی نوعیت کافی حد تک ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اب انسان ان دونوں میں سے کس کا انتخاب کب، کیوں اور کیسے کرتا ہے اس کا دارومدار مکمل طور پر حالات اور واقعات پر ہوتا ہے۔ لیکن قنوطیت اور رجائیت کے تقابل میں اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت سب سے زیادہ ہے کہ اس کھیل کے پیچھے کونسی طاقت کارفرما ہے جو انسان کو ان کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ کیا یہ رویے محض نفسیاتی احساس کی تسکین کا موجب ہیں یا ان کی بنیاد پر واقعی انسان اَپنے تشکیل کردہ مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

میرے نزدیک نفسیاتی طمانیت کا احساس یا تسکین دونوں رویوں کا ایک جزوِ لاینفک ہے جو کہ اسکے اطلاق کے ہوتے ہی حاصل ہو جاتا ہے۔ اصل میں مقصد کے حصول کی خواہش ہی طاقت کا وہ منبع ہے جو پس پردہ ان کے انتخاب میں ایک تحریک کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ مقصد اپنی ذات میں مثبت اور منفی دونوں نوعیت کا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر انسان اگر پرامیدی میں ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور ناامیدی میں دو قدم پیچھے تو یہ محض ایک عمل نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں اقدامات کے پیچھے ایک خاص مقصد کا حصول کارفرما ہوتا ہے۔ اور بات جہاں حصول مقصد کی ہو وہاں امید یا نا امیدی کی حیثیت اپنی ذات میں ثانوی ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر بطور ایک ملک کے حکمران پرامید ہیں کہ آپ کسی ملک پر حملہ کرکے فتحیاب ہو سکتے ہیں تو آپ حملہ کر سکتے ہیں اور شاید کامیابی سے بھی ہمکنار ہو جائیں۔ لیکن آپ کی رجائیت یا پرامیدی آپ کے لیے ہمیشہ فتح کا باعث ہی بنے اسکی ضمانت آپکو کوئی نہیں دے سکتا۔ آپ خود بھی نہیں۔ آپ اپنی تمام تر رجائیت کے باوجود بھی شکست سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اسکے برعکس اگر آپکی قنوطیت آپ کو اس حملے سے دور رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اسے آپ کی ناکامی تصور کرنا بھی سراسر غلط ہوگا کیونکہ دونوں صورتوں میں محرک ایک مقصد کا حصول تھا۔ جہاں آپکی رجائیت نے آپکو حملے کے بعد فتح کی امید دی وہیں قنوطیت سے بھی ایک واضع مقصد کی تکمیل ہوئی ہے۔ وہ مقصد اس حملے سے شکست کی صورت میں ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کا ہو سکتا ہے۔ بلکہ ہوسکتا ہے یہاں قنوطیت زیادہ فائدے کا باعث بنے کیونکہ رجائیت آپکو اقدام کرنے کے لیے آمادہ تو کرسکتی ہے لیکن نتائج کی کوئی بھی ضمانت دینے سے قاصر ہوتی ہے جبکہ اسکے برعکس قنوطیت ایک محتاط حکمت عملی کے طور پر نتائج کی ضمانت کافی حد تک دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس مثال میں جو غور طلب بات ہے وہ امید یا نا امیدی کا احساس نہیں بلکہ دونوں کی بنیاد پر کیے گئے فیصلوں سے حاصل ہونے والے نتائج ہیں۔ جو کہ آپ کو دونوں میں سے کسی ایک کے بھی انتخاب سے یکساں طور پر حاصل ہو جاتے ہیں۔ جس طرح فتحیابی سے جڑے فوائد باعث مسرت ہوتے ہیں اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں شکست سے جڑے نقصانات باعث رنج وغم ہوتے ہیں اور زیادہ اہمیت اور توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔. پس اگر فتح کی امید میں آگے بڑھنا ایک مثبت قدم ہے تو شکست کے خطرے سے بچنے کے لیےآگے نہ بڑھنا بلکہ دو قدم پیچھے ہٹنا بھی ایک انتہائی مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
جدید طب کی دنیا میں جب آپ کا معالج آپ کے لیے کوئی دوا تجویز کرتا ہے تو اس کے سائیڈ ایفیکٹس کو یہ دلیل دے کر نظرانداز کرنے کے لیے کہتا ہے کہ دوا سے حاصل ہونے والے فوائد اس سے ہونے والے نقصانات سے کہیں ذیادہ ہیں لہذاٰ آپ کو دوا کھانی ہوگی لیکن جہاں دوا سے ہونے والے نقصانات بھی فوائد کے ساتھ ساتھ نمودار ہونا شروع کردیں اور بیمار کو مزید بیمار کردیں تو ان مزید نقصانات سے نمٹنے کے لیے مزید دوائیں تشخیص کر دی جاتی ہیں اور امید دی جاتی ہے کہ سب خیر ہوگی۔ اور اگر کوئی تجربہ کار معالج ہو تو وہ دوائی بدل دیتا ہے یا مکمل طور پر بند کر کے پرہیز کا مشورہ دے دیتا ہے۔ اب ایسے حالات میں انسان رجائیت اور قنوطیت کے مخمصوں میں پھنس جاتا ہے۔. اور اسکے لیے ایک بہترین فیصلے تک رہنمائی صرف اس دوا کے استعمال سے ہونے والے فوائد اور نقصانات کی ناپ تول ہوتی ہے اور یہ ہی اسکا اولین مقصد بن جاتا ہے۔ رجائیت اگر آپ کو زہر کھانے پر آمادہ کر دے تو یقیناﹰ نقصان دہ ہے اور قنوطیت پرہیز پر آمادہ کردے تو فائدے کا باعث بن جاتی ہے۔
انسانی رویے اپنے مقاصد کے محتاج ہوتے ہیں اور ہر مقصد ایک نئے رویے کا متقاضی ہوتا ہے۔ گویا امید یا ناامیدی مطلقا درست یا نادرست رویے نہیں بلکہ انکی افادیت اور نقصان کا انحصار صورتِ حالات پر ہے۔ وہ انگریزی میں کیا کہتے ہیں “ون سائز ڈز ناٹ فٹ آل” ۔۔۔۔

Facebook Comments Box
رجائیتقنوطیت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
چترال کے جنگلات اور صوبائی حکومت — ظفراللہ
next post
معیشت کی دوسری بیماری   معیشت اور عوام کا نصیب: (5)  لالہ صحرائی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.