تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

شوہرکرے پوجا —- غزالہ خالد

by دانش ڈیسک 10/06/2020
written by دانش ڈیسک 10/06/2020
123

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم بغیر ماسک پہنے گاڑی میں بیٹھ کر جہاں جی چاہتا گھوما پھرا کرتے تھے نہ کسی کرو نا کا ڈر تھا اور نہ ہی کوئی خوف تھا۔

یعنی یہ کوئی تین ماہ پہلے کی بات ہے کہ ایک دن ہم بلوچ کالونی کے پل پر سے گذر رہے تھے اور حسب عادت کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے ہر عبارت ، بل بورڈز اور دیواروں پر لکھے طرح طرح کے اشتہارات پڑھنے میں مگن تھے کہ اچانک ہماری نظر ایک عجیب قسم کے اشتہار پر پڑی دیوار پر کالی سیاہی سے بڑا بڑا لکھا تھا “شوہر کرے پوجا” اور نیچے کسی عامل بابا کا نام اور موبائل نمبر درج تھا بچپن سےاب تک “محبوب آپکے قدموں میں” “کالے علم کی کاٹ” کے ماہر جادوگر یا پھر “جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے” قسم کے اشتہار تو بہت پڑھے تھے لیکن “شوہر کرے پوجا” پہلی بار پڑھنے کو ملا بڑی حیرت ہوئی کہ آخر بابا جی ایسا کیا کرتے ہوبگے کہ شوہر پوجا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوگا برابر میں بیٹھے اپنے شوہر کو یہ اشتہار دکھا یا تو انہوں نے یہی کہا کہ جب تک بے وقوف بننے والے موجود ہیں بنانے والے بھی موجود رہیں گے ظاہر ہے یہ سب لوگوں کو بےوقوف بنانے کے ڈھکوسلے ہی ہیں ۔ میاں کی بات سنتے سنتے یونہی خیال آگیا کہ “شوہر کرے پوجا” اور دماغ میں گھنٹیاں سی بجنا شروع ہوگئیں پتہ چلا کہ ہم سنگھاسن پر بیٹھ چکے ہیں اور شوہر تھالی لئے سامنے کھڑے ہیں ابھی اوم شانتی اوم ہونے ہی والا تھا کہ شکر ہے گاڑی کے برابر میں ٹینکر نے زوردار ہارن بجا دیا اور ہم حقیقت کی دنیا میں توبہ توبہ کرتے واپس آگئے۔

ہمارے خیال میں ان عاملوں باباؤں کو سر چڑھانے میں خواتین کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ویسے تو ضعیف الاعتقادی میں مرد حضرات بھی کم نہیں لیکن وہ خواتین کے مقابلے میں پھر بھی بہت کم ہیں اور اسکا سب سے بڑا سبب مذہب سے دوری ہے۔ دین کی سمجھ نہ ہونا، قرآن کو سمجھ کر نہ پڑھنا، ہندوانہ رسم و رواج پر عمل کرنا خواتین کو وہمی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری چیز ہمارا معاشرتی نظام زندگی جس میں مرد جو یقیناَ اپنے کنبے کا سربراہ ہوتا ہے اور اس کی توجہ حاصل کرنا عورت نے اپنا حاصل زندگی بنا لیا ہے۔

عورت مرد کی بھرپور توجہ کی خواہش مند ہوتی ہے، وہ مرد باپ بھی ہوتا ہے اور بھائی بھی۔ پھر جب زندگی کی گاڑی آگے رواں دواں ہوتی ہے تو شوہر ملتا ہے اور شوہر کی توجہ کی طلب میں عورت کہیں تک بھی جاسکتی ہے۔ وہی شوہر کسی کا بیٹا اور بھائی بھی ہوتا ہے یعنی بیوی کے علاوہ مزید رشتے اس کی توجہ کے منتظر ہوتے ہیں اور یوں اس کھیںچا تانی میں زندگی کی گاڑی عدم توازن کا شکار ہوجاتی ہے۔ تعلیم کی کمی، مذہب سے دوری اور ضعیف الاعتقادی عورتوں کو بابوں اور عاملوں کے در تک لے جاتی ہے جو ان کی جہالت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پتہ نہیں اس قسم کی عورت مرد کو ہمیشہ اپنا مطیع کیوں دیکھنا چاہتی ہے؟ عمر گذرنے کے ساتھ ساتھ پرانے زمانے کےسچے واقعات اور قصہ کہانیوں سے لیکر ” میرا جسم میری مرضی” اور ” کھانا خود گرم کرو” تک کے سفر میں یہی سمجھ میں آیا ہے کہ عورت شاید یہی چاہ رہی ہے کہ صرف اس کی بات مانی جائے تب ہی شاید بات “پوجا” تک جا پہنچی ہے۔

قصور عورت کا نہیں معاشرے کا ہے جس میں سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ شوہر مجازی خدا ہے مطلب اس کی ہر فضول بات مانو اور اس کے سامنے زبان نہیں چلاؤ چاہے وہ تمہارے سامنے غیر لڑکیوں کے ساتھ گھومے پھرے، ناجائز کام کرے، کبھی مذہب کے نام پر بیوی کو گھر میں گھونٹ دے، کبھی بیکار کے شک کر کر کے بیوی کی زندگی اجیرن بنادے، کبھی بیوی کو پیسے پیسے کو محتاج کردے اس کی اور بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ کرے لیکن بیوی کو چپ رہنا ہے۔۔۔ کیوں بھئی کیوں چپ رہے؟

اس لیے کہ اسے یہ کہہ کر رخصت کر دیا گیا تھا کہ “اب اس گھر میں واپس نہ آنا” یا “اب شوہر کے گھر سے تمہارا جنازہ ہی نکلے گا” اس قسم کے ماحول کی پروردہ لڑکیاں جب شوہر کی توجہ حاصل نہیں کر پاتیں یا غلطی سے کسی آوارہ گرد کے ساتھ بیاہی جاتی ہیں تو پھر بھکاریوں کی طرح ادھر ادھر بابوں اور عاملوں کے گرد منڈلاتی ہیں کہ شاید جادو ٹونے سے ان کے حالات بہتر ہو جائیں۔

سارے درس تمام نصیحتیں لڑکیوں کے لیے ہوتی ہیں جو اس کے پیدا ہوتے ہی” ہائے پرایا دھن ہے” کہہ کہہ کر اس کے سامنے کی جاتی ہیں اسی لئے نوبت یہاں تک پہنچی ہے ۔ مرد کی زمہ داریاں کیا ہیں؟ بیوی بچوں پر خرچ کرنے کا کتنا ثواب ہے؟ بیوی کے کیا کیا حقوقِ ہیں؟ مردوں کو بہت کم گھرانوں میں بتایا اور سکھایا جاتا ہے ۔ایک عقل مند مرد بہترین طریقے سے گھر کو بآسانی سنبھال سکتا ہے۔

گھر کے ماحول زہر آلود اور نفرت زدہ ہوں تو نتیجہ بھی برا ہی نکلتا ہے آج کی عورت برابری مانگتی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ خود اپنے شوہراور گھر کی ایک ایک بات اپنی ماں اور بہنوں کو بتاتی ہے لیکن شوہر کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی بیوی کی کوئی بات اپنی ماں اور بہنوں سے کرلے۔ اب برابری کہاں چلی جاتی ہے؟ ویسےایک بات تو ماننی چاہیے کہ مرد بیچارے بہت کم اپنی بیوی کی برائیاں کرتے نظر آتے ہیں جبکہ ہر دوسری عورت محفلوں میں یا اپنے میکے میں اپنے شوہر کی برائیاں کرتی پاتی جاتی ہے۔

گھر ایسے ہی نہیں بس جاتے قربانی، ایثار اور محبت کے ٹریفک کو ون وے نہیں بلکہ دو طرفہ چلانا پڑتا ہے دل بڑا کرنا پڑتا ہے کچھ منوانے کے لیے پہلے خود سر تسلیم خم کر نا پڑتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے جڑے رشتوں کی بھی عزت کرنی ہوتی ہے ان کو ان کا مقام دینا ہوتا ہے امیری غریبی، خوشی غمی میں ہاتھ مضبوطی سے تھامنا ہوتے ہیں پھر کسی ببںگالی بابا یا عامل کی ضرورت نہیں رہتی ویسے بھی شوہر پوجا کرتے نہیں عزت و محبت کرتے اچھے لگتے ہیں۔

Facebook Comments Box
featuredبیویشوہرعورتغزالہ خالد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
چنگ چی اور ہنر مند کے قتل کی کہانی —- خرم شہزاد
next post
زمین کی دوری و محوری گردش اور قران —- شہباز بیابانی

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.