تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترین

وا صف علی واصف کی برسی‎ ——– عینی نیازی

by Editor Daanish 17/01/2020
written by Editor Daanish 17/01/2020
98

کتنے خوش بخت اور بانصیب ہو تے ہیں وہ لوگ جن کے گھرانوں میں یا آس پاس ایسی پڑھی لکھی درویش صفت شخصیت موجود ہو جو فہم و فراست اور زمانہ شناس ہو۔ صیح اور غلط کا مفہوم جانتی ہو۔ ٹھیک مشورہ دے۔ دنیا کی حقیقتیں آپ پر خلوص نیت و سچائی کے ساتھ واضح کر دے۔ ایسی شخصیت کے گرد ایک مقناطیسی ہالا ہوتا ہے جو آپ کو خود بخود اپنی کے جانب کھنچتا چلا جاتا ہے۔ ہر کوئی ان کے قریب رہنا چاہتا ہے ان سے با تیں کرنا چاہتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت واصف علی واصف کی تھی۔ انھیں قریبی اور خونی رشتوں کا بہت پاس تھا ان کو فا ئدہ اور آسانی دینے کی حتیٰ ٰلاامکان کوشش کرتے تھے اپنے کیا غیر بھی ان کے ارد گرد رہنا چا ہتے تھے اس درویش کی باتیں سنتے تھے مشوروں پر عمل کرتے تھے۔ ایسے پرُخلوص انسانوں کی ہر دور میں سخت ضرورت رہی ہے اور آج کے زمانے میں تو کچھ زیادہ ہی کمی محسوس ہوتی ہے اب جب کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے تو ان کی کتابیں افکار و شاعری ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں ہمیں چا ہئے کہ انھیں پڑھیں اور دنیا کے مسا ئل و چیلنجز کا سامنا واصف علی واصف کے افکار کی رو شنی میں کریں۔

واصف علی واصف 15 جنوری 1929ء کو ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم خوشاب میں حاصل کی۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھے۔ میڑک تک اپنے اسکول میں اول پوزیشن لیتے رہے۔ اسلامیہ کالج اور پھر پنجا ب یونیورسٹی سے انھوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا ایک ہونہار طالب علم کی حیثیت سے ساتھ ہی دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔ ہاکی بہت اچھی کھیلی۔ یونیوسٹی سے ایوارڈ آف آنرز سے نوازا گیا۔ 1954ء میں سول سروس کا امتحان پاس کیا۔ پو لیس ٹرینگ حا صل کی لیکن ان کی طعبیت تعلیم و تدریس کی جانب مائل تھی اس لئے استاد کی حیثیت سے کیرئیر کا آغاز کیا۔ ایک مقامی کا لج میں بحیثیت استاد پڑھانے لگے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنا کالج کھول لیا جہاں علم کی روشنی ہر خاص و عام کے لئے تھی۔ نادار طالب علموں پر خصوصی توجہ دیتے مالی مدد بھی فرماتے تھے۔  واصف علی واصف پڑھے لکھے روشن خیا ل دنیا کو سچ جھوٹ کی کسوٹی پر پرکھنا جا نتے تھے۔ وہ ایک صاف ستھرے نفیس اور گریسفُل شخصیت کے سا تھ جدید اور مشرقی لباس پہنتے تھے۔ جس میں صوفیانہ وقار جھلکتا تھا۔ ان کی شخصیت، عقیدت مندوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا تھا۔ انھوں نے درویشی مزاجی کے سا تھ زندگی کو بہت بیلنس سے گزاری۔ دین و دنیا ساتھ لے کر چلے۔

ایک استاد کے ساتھ ساتھ واصف علی واصف ایک کالم نگار، شاعر اور صوفی بھی تھے۔ آپ نے انڈیا بریلی شریف میں نیاز احمد سے بعیت لی اور تصوف کی راہ اپنائی۔ آپ کی تحریروں میں صوفیانہ رنگ نمایاں ہیں۔ آپ کا صوفیانہ کلام پاکستان کے تمام بڑے گلوگاروں نے بڑی عقیدت سے سنایا۔ صوفیانہ کلام کے ساتھ ساتھ واصف علی واصف نعت گو شاعر بھی تھے۔ اللہ اور حضورر ﷺ کے سچے عاشق تھے۔ اس لئے نعتوں میں آقا کریم ﷺ کی سچے عشق کی تڑپ محسوس ہوتی ہے۔

بقول واصف علی واصف۔

تری یاد کا ولی ہوں
کہ میں واصف علی ہوں

واصف علی واصف نے لگ بھگ تیس کتابیں لکھی جن میں قطرہ قطرہ قلزم، بات سے بات، دل دریا سمندر، حرف حرف عقید ت، ذکر حبیب، مکالمہ شامل ہیں۔ آ پ کی چند قیمتی افکار جو آج کے زمانے میں بھی لاگو ہیں اور ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں۔

جتنا تم اللہ سے راضی ہو اتنا اللہ تم سے راضی ہے۔

خوش نصیب ہے وہ جو اپنے نصیب پر راضی ہے۔

جو شخص سجدوں میں روتا ہے اسے تقدیر پر نہیں رونا پڑتا۔

اگر تمھاری اولاد تم سے را ضی ہے تو تمھاری دنیا بن گئی اگر والدین راضی ہیں تو آخرت بن گئی۔

غم چھوٹے انسان کو کھا جاتا ہے بڑے انسان کو بنا جا تا ہے۔

پریشانی خیالات سے پیدا ہوتی ہے اچھے خیالات رکھئے ۔

اور پاکستان کے حوالے سے فرما تے تھے کہ

پا کستان نور ہے اور نور کو کبھی زاوال نہیں۔

واصف علی واصف کو پاکستان سے بیحد محبت تھی۔ نوجوانی میں امرتسر میں قا ئد اعظم کے ساتھ مسلم لیگ میں شامل تھے اور پاکستان کے لئے جد و جہد بھی کی۔ آج جس طرح ہمارا معاشرہ شدت پسندی، نفرت، جھوٹ، بناوٹ کی دلدل میں گھرا ہوا ہے اگر واصف علی واصف کے دیئے ہوئے افکار زندگی کو پڑھیں اور عام کیا جائے تو ہمارے سماجمی ذہن و قلب کو بدلا جا سکتا ہے کیونکہ آپ کے افکار سوچ بدلنے کا جادو رکھتے ہیں۔ واصف علی واصف کی تحریریں اخبارات میں کالم کی شکل میں شا ئع ہوتی تھی۔ جنھیں پڑھنے والے قارئین کی لمبی فہرست زندگی کے ہر طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

واصف علی واصف کی حیات میں عقیدت مند مسا ئل کے حل کیلئے آپ کے پاس آتے تھے اور سر خرو ہو کر جاتے تھے۔ آپ مالی طور پر بھی ان کی امداد کیا کرتے اور آپ کی با تیں دکھی دلوں پر مرہم کا کا م کرتی تھیں۔ نہ صرف عام طبقے سے تعلق رکھنے والے بلکہ کئی معتبر و اعلیٰ شخصیات بھی آپ کی محفلوں میں شامل ہوتیں۔ آپ بناء کسی غرض و مفاد کے سب کے قریب تھے آپ مختصر اقوال میں بڑے کام کی باتیں کہہ جاتے تھے گویا دریا کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر جا نتے تھے۔ اسی درویش صفت کا قول ہے کہ

سفر پر نکلنے کا کمال ہے کہ آخری منزل تک پہنچنا۔

انھوں نے 18 جنوری 1993ء کو زندگی کو خیر آباد کہا۔ واصف علی واٖصف کے کلام کو انگریزی اور دیگر زبانوں میں ڈھالا جا رہا ہے۔ ان پر تھیسس لکھے گئے اور پی ایچ ڈی کی جا رہی ہے وہ روشنی کا مینارہ تھے اور ان کی تحریریں ہمیشہ سیکھنے والوں کے لئے مشعل راہ رہیں گی۔

بقول واصف علی واصف

کچھ لوگ زندگی میں مردہ ہو تے ہیں اور کچھ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔

Facebook Comments Box
برسیحضرت واصف علی واصفکلامکلامِ واصفواصف علی واصفواصف علی واصف کی برسیواصفیات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
کیا کیانہ دیکھا، اردو کا طویل ترین، چشم کشا انٹرویو ——– نعیم الرحمٰن
next post
پان کی رنگین داستان ——– اظہر عزمی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.