تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادب

امجد اسلام امجد کی نظم ۔۔۔ آخری حصہ

by ویب ڈیسک 11/03/2017
written by ویب ڈیسک 11/03/2017
174

یہاں ایک نیا کردار داخل ہو گیا ہے، اور وہ ہے شاعر، نظم کا مصنف۔ اپنی اندرونی تکمیل کے مراتب سے گزر جانے کے بعد وہ اچانک سوجھی ہوئی بات ایک مصرعہ بن کر شاعر کی طرف لوٹ آئی تاکہ اِس کی لفظی تشکیل کا عمل بھی شروع ہو سکے۔ ہر تخلیقی تجربہ جمالیاتی شعور کے لیے خو اب کی طرح ہوتا ہے جسے وہ بیدار ہو کر اظہار دینے کی جدو جہد کرتا ہے۔ یہاں بھی شاعر اپنے فنی شعور کے ساتھ فعال تو ہے مگر مراحلِ اظہار اُس کے اختیار سے باہر ہیں۔ اُس ایک مصرعے کی انگلی پکڑ کر نظم کو درکار تکنیکی دروبست تک رسائی حاصل کرنے کا عمل وہ ایک مجذوبانہ انداز میں کر رہا ہے۔ ’رواں بحر ‘ میں نظم کے تکنیکی بہاؤ کی طرف اشارہ ہے، اور ’جانے کس لہر میں ‘کے ٹکڑے میں وہ تخلیقی وفور مجسم ہو گیا ہے جس سے نظم بننے کا سارا عمل گویا حالتِ جذب میں ہو رہا ہے۔ ’بحر‘ اور ’لہر‘ کو بہت چابک دستی سے استعمال کیاگیا ہے۔ ’بحر‘سمندر بھی ہے جس سے اظہار پانے والی چیزیں اُس کی گہرائی، روانی اور قوت کا مظہر بھی ہوتی ہیں یعنی یہ عارفانہ گہرائی اور عاشقانہ passionکی یکجائی کا مقام ہے جہاں اظہار کا ایک ہمہ گیر نظام اخفا کی لازمی شمولیت کے ساتھ بر سرِکار ہے۔ اسی طرح ’بحر‘نظم کا ریاضیاتی آہنگ بھی ہے جو معنی کو اُس کی بلندی اور گہرائی سمیت تاثر بنا دیتا ہے، اور تخلیقی شعور کے احوال کو ایسا اظہاری تسلسل فراہم کرتا ہے جس کا ساتھ صرف احساسات دے سکتے ہیں ، ذہن نہیں۔ ’لہر‘کی بھی دو پرتیں ہیں۔ ایک تو یہ بحر کی مناسبت سے ہے، اور دوسرے یہ ایک تخلیقی تجربے کی مائل باظہار حرکت کا استعارہ ہے جسے سہارنا تو ممکن ہے لیکن سنبھالنا ، محال۔ پہلی صورت میں ’لہر‘ ایک جز یا رکن ہے بحر کا ، دوسرے زاویے سے یہ بحر کا جز نہیں ہے، اُسے زندہ رکھنے والی طاقت ہے۔ دو لفظوں کو دو متضاد نسبتوں کے ساتھ برتنا، عمدہ درجے کی صناعی کا مظہر تو ہے ہی، اِس سے تخلیقی احوال کے مرکز میں موجود اُس نقطئہ وحدت کی طرف بھی اشارہ ہو جاتا ہے جہاں تکنیک اور passionایک دوسرے میں مدغم ہیں۔ ’شہرِ امکان‘اس’بحر‘کے ساحل پر واقع ہے جہاں سمندر اپنے اثرات کو قابلِ اظہار بننے کے لیے جمع کرتا رہتا ہے۔ غالب نے ’دشتِ امکاں‘میں امکان کو نون غنہ کے ساتھ باندھا ہے، جبکہ امجد نے ’شہرِ امکان‘میں نون اعلانیہ استعمال کیا ہے۔ پرانے قاعدے کی رو سے امکان سے پہلے اضافت آجائے تو نون کا اعلان درست نہیں۔ غالب نے اس قاعدے کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ قیامت دکھائی کہ نون غنہ کی اندرونی گونج کی مدد سے دشت سے مناسبت رکھنے والی لا انتہا یک رنگی اور امکان میں پائے جانے والے غیر محدود پھیلاؤ کو آواز اور تصویر بنا کر دکھا دیا، اور اِدھر امجد کا کمال یہ ہے کہ ایک قاعدے کو توڑ کر نون کے اعلان سے شہر کا بھرا پُرا ہونا دکھا دیااور امکان اور اظہار کی نسبت کو بھی گویا مجسم کر دیا۔ اظہار دراصل امکان کی خودنمائی کا نام ہے۔ لہذا تخلیقِ شعر کا یہ مرحلہ بھی ممکنات تک عاجزانہ رسائی کے بغیر اتمام کو نہیں پہنچتا۔ شاعر ’شہرِ امکان‘ کا شہری نہیں ہےبلکہ اُس سے ایک مسافرانہ تعلق رکھتا ہے۔ اِس بات کو امجد اسلام امجد نے ’اجنبی مسافر‘ کہہ کرپوری طرح کھول دیا ہے۔ یہاں اجنبی کا مطلب یہ نہیں ہےکہ آنے والا مسافرخود شہرِ امکان کے لیے اَنجانا ہے،بلکہ مراد یہ ہے کہ شاعر ہزار مرتبہ اس شہر کی سیاحی کر چکا ہے لیکن پھر بھی ہر دفعہ یہ شہر اتنا بدل جاتا ہے کہ وہ خود کو مستقلا اجنبی پاتا ہے۔اس شہر کی ہر چیز بس ایک بار نظر آنے کے لیے ہے، دوسری نگاہ میں اس کی جگہ کوئی نئی چیز دکھائی دیتی ہے۔ امکان اسی منظر کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے لیے اجنبی ہو۔ اجنبی ہونا شہرِ امکان میں داخلے کی شرط ہے۔شاعر نے اجنبی ہونے کا ضابطہ پورا کرتے ہوئے جب شہرِ امکان کے صدر دروازے یعنی ’بابِ اظہار‘ پر دستک دی تو ایک ایک کر کے بہت سے دروازے کھلتے چلے گئے۔ یہ situation اظہار میں موجود تنوع اور تہہ داری کو ظاہر کر رہی ہےلگتا ہے کہ اظہار محض ایک دروازہ کھل جانے سے عبارت نہیں ہے بلکہ بے شمار دروازوں کے وا ہونے کا تسلسل ہے یہاں غالب کا ایک مطلوب شعر یاد آ رہا ہے جس نے امجد اسلام امجد کو بھی ضرور اپنی لپیٹ میں لیا ہوگا :

دل کو اظہار ِ سخن اندازِ فتحُ الباب ہے

یاں صریرِ خامہ غیر از استکاکِ درنہیں

’بابِ اظہار‘ پر دستک کے نتیجے میں ایک سے ایک نیا دروازہ کھلنے کی صورتِ حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اظہار کے داخلی میکانکس mechanicsبہت مربوط مگر پیچیدہ ہیں۔ یہ ایک ایسا کل ہے جس کے اجزا مسلسل حرکت میں رہتے ہیں اوراِس کل کو کسی نقطے پر مکمل نہیں ہونے دیتے ۔ ہر اظہار کے ساتھ اخفا سایے کی طرح لگا رہتا ہے، اور وہ اظہار ناقص ہے جو اپنے حصے کی پوشیدگی کو بھی منتقل نہ کرے۔ اِن لائنوں میں یہ دکھایا جا رہا ہے کہ خود اظہار کا عمل بھی کسی بیان یا ذہن میں مکمل نہیں ہوتا، اور ادراک اِس کا ایک پڑاؤ ہے، منزل نہیں۔

روشنی چلمنوں سے نکلنے لگی

ہم کھڑے رہ گئے، راہ چلنے لگی

نظم بننے لگی

      دیکھنے میں کیسا شفاف منظر ہے کہ ’’روشنی چلمنوں سے نکلنے لگی‘‘۔ تاہم اِس سادہ سی بات میں ایک بہت بڑا نقطہ مخفی ہے اور اِس شفاف منظر میں ان دیکھا پن بھی گندھا ہوا ہے۔ باطن، ظاہر ہو کر بھی باطن ہی رہتا ہے۔ چلمنوں سے روشنی نکلنے کے منظر میں اسی اٹل اصول کو تصویر کر دیا گیا ہے۔ اب اسے سہلِ ممتنع نہ کہیں تو کیا کہیں ! ذرا ادبی اصطلاح میں کہا جائے تو تخلیقی امکانات کا اظہار بھی امکان ہی کی طرح ہوتا ہے اور اظہار در اظہار کا تسلسل رکھتا ہے، تخئیلی وسعت پذیری کے ساتھ ، معنی کی گونا گوں تشکیلات کے ساتھ اور احساس کی متحرک تہہ داری کے ساتھ ! مختصر یہ کہ ایک تخلیقی تجربہ اظہار میں آجانے کے بعد اپنے مخاطب کا تجربہ بن جاتا ہے۔ شاعری اوراُس کے قاری کے درمیان یہ نسبت اگر پوری طرح فعال نہیں ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ یا تو اظہار ناقص ہے یا قاری، نا اہل۔ شاعری میں دوڑتی ہوئی تخلیقی اور احوالی رو کو جذب کیے بغیر فقط اُس کا مفہوم سمجھ لینا کسی بھی پہلو سے کافی نہیں ہے شعر کا اہل قاری شاعر ہونے کے احوال ضرور رکھتا ہےچاہے شاعر بننے کا فیصلہ نہ کرے۔ یعنی یہ ایسا شاعر ہے جو شاعری نہیں کرتا۔ امجد اسلام امجد کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ یہ اپنے قاری میں تخلیقی احوال بھی منتقل کر دیتے ہیں۔ خیر ، یہ تو ایک جملئہ معترضہ تھا ، بات یہ چل رہی تھی کہ نظم جس تخلیقی وفور اور تکمیلی روانی کے ساتھ بننے کے مراحل سے گزری، اظہار کی اقلیم میں آکر بھی وہ وفور اور روانی اپنی اصلی کیفیت میں برقرار رہی حیرانی کی جو لہر نظم کو اظہارکےساحل تک لاتی ہے، وہ پھر واپس نہیں پلٹ جاتی بلکہ اظہار میں شامل ہو کر اُس کے تسلسل اور پھیلاؤ کا سبب بن جاتی ہے۔ حیرت، تخلیقی احوال کی وہ امانت ہے جس میں خیانت کرنے سے اظہار کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے جس مخفی پن کے تجربے سے حیرت وجود میں آتی ہے وہی جوہرِ اظہار ہے۔ چلمنوں سے نکلتی ہوئی روشنی میں یہی تخلیقی اصول امجد نے ایک منظر کی طرح دکھا دیا کہ روشنی جتنی ظاہر ہے اُس سے کہیں زیادہ اوجھل ہے۔ یہ چلمنیں اظہار کی مربی بھی ہیں اور اخفا کی محافظ بھی۔ اِن سے چھن کر نکلتی ہوئی روشنی ہی وہ نظم ہے جس کے بننے کی روداد سنائی اور دکھائی جا رہی ہے۔ ہونے سے بننے کا یہ سفر اظہار کے پڑاؤ پر ختم نہیں ہوا۔ یہ پڑاؤ شاعر کی منزل ہے، نظم کی نہیں، یہاں مسافر رک جاتا ہے اور سفر جاری رہتا ہے۔ یہی ہمارا تصورِ ’ آمد ‘ ہےکہ تخلیقی وجدان سے اٹھنے والی لہر شاعر کو شرابور کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتی ہے۔

                  ’’نظم بننے لگی‘‘میں تخلیقی تجربے اور اُس کے مزاج اظہارکے مربوط بیان کے ساتھ المناکی کی ایک ایسی رو دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جسے ذہن کوئی جواز دینے سے قاصر رہتا ہے۔ ذہن سبب اور نتیجے کی منطق کا قیدی ہے ، اور ایسے احساسات کو نہیں سمجھ سکتا جن کا واقعاتی سبب یا تو غائب ہو یا پھر اُس خاص کیفیت سے معمول کی مناسبت نہ رکھتا ہو۔ اطمینان کی situationسے اضطراب کشید کرنے کا عمل ، اور نشاطیہ تجربے کے المیہ بن جانے کا حال اِس کے لیے غیر مانوس ہے نشاط و الم کے ذہنی اور حسی امتیازات سے اوپر اٹھ کر ایک مشترکہ کیفیت دریافت کر لینا کسی بامعنی اور پُر احوال تخلیقی تجربے کا منتہیٰ ہے جو اچھے سے اچھے شاعر کی دسترس سے عموماً باہر رہ جاتا ہے ۔ اِس نظم کی آخری لائنیں یہ واضح کر دیتی ہیں کہ جمالیاتی طمانیت کا جوہر حُزنیہ ہوتا ہے۔ جو نشاطیہ المناکی کو جنم نہیں دیتا وہ ایک خوب صورت مگر بانجھ عورت کی طرح ہے۔اسی نظم میں نہیں بلکہ اپنی کئی اور نظموں میں بھی امجد اسلام امجد حزن وسرخوشی میں ایسی احساساتی وحدت پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جسے محسوس کر لینے سے احساسات کے درمیان نئی نئی نسبتوں کا ظہور ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ نسبتیں ہیں جن کے درمیان ذہن خود کو بے بس اور غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے ذہن کی یہ بے بسی بھی تخلیقی تجربے کے مراحلِ تکمیل میں حزن کی شمولیت کا ایک ثانوی مگر ضروری سبب ہے۔ جمالیاتی طمانیت (fulfilment) کے تکمیلی مدارج کا ذکر آگیا ہے تو ایک اصولی بات کہہ دینی چاہیےیہ طمانیت حزن کے خلاق مشاہدے اور تجربے سے میسر آتی ہے، اور اس کی تکمیل ، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، ایک گہرے احساسِ حزن پر ہوتی ہےجو نشاط کو بھی مکمل کر دیتا ہے تاہم بڑے جمالیاتی احوال و اظہار کی بھی ایک مضبوط روایت ہےجہاں حزن کی جگہ مجذوبانہ وارفتگی اُسی تجربے میں موجود بلندی کے عناصر کو مسلسل حالتِ عروج میں رکھتی ہے۔ تخلیقی عمل یا جمالیاتی واردات کہیں گہرائیوں کی series کی طرح ہوتے ہیں اور کہیں بلندیوں کے تسلسل کی مثال۔ اسی لیے اپنے اپنے احوال کی مناسبت سے کوئی شاعر غواص بن جاتا ہے، جیسے میر اور کوئی پرواز کا ہنر سیکھ لیتا ہے، جیسے حافظ۔ اور کسی میں غواصی اور پرواز دونوں یکجا ہو جاتی ہیں، جیسے رومی۔ امجد گو کہ میر کی روایت کے شاعر نہیں ہیں لیکن اِ ن کا تخلیقی مزاج غواصی کا ہے۔ اِ ن کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ ایسے شفاف پانیوں میں غوطہ زن ہوتے ہیں کہ ان کی غواصی کے سارے مراحل سطح ِ آب پر بھی منعکس ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے یہاں گہرائی بھی مبہم نہیں ہوتی۔ یہ اپنی جگہ بڑی نادر چیز ہے کہ اخفا کی فطرت پر وجود پانے والی گہرائیاں ابہام کی فضا سے باہر نکل آئیں ۔        ختم شد

 

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں اور دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کیجئے

 

 

Facebook Comments Box
Amjad Islam Amjadاحمد جاویدامجد اسلام امجدشعری تنقید
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی –انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 2
next post
اپنی سوچ اپنا ایمان اپنی قبر ۔ محمود فیاض

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...

06/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.